اٹلی ہے دیکھنے کی چیز(قسط12)۔۔سلمیٰ اعوان

ویٹی کن سٹی

o شاہی قلعے جیسی بلندو بالا پُرہیبت دیوار کے سائے میں چلتی سیکورٹی کے لام ڈور والے سلسلوں سے گزرتی لائن کے سلسلے اکتاہٹ کے ساتھ ساتھ دلچسپی لئیے ہوئے بھی تھے۔
o ڈریس کوڈ کی پابندی لازمی امر ہے۔
o Sistine chapelکو بلاشبہ میوزیم کا دل کہا جاسکتا ہے۔
o مائیکل اینجلو کی خیال آفرینیوں پر ہنسی اور لطف دونوں نے مزہ دیا۔

tripako tours pakistan

تو آج کیتھولک عیسائیوں کے مکے مدینہ کا دیدار کرنا تھا۔ شوق کی فراوانی تھی۔ عقیدت کا رنگ تھا۔ روم میں میرا تحفہ خاص تھا جو آج میں وصولنے جا رہی ہوں۔
ایزو لینا سے بات ہوگئی تھی۔ ناشتے اور کنگھی پٹی سے فراغت کے بعد میں نے تھوڑی دیر کے لئے اٹلی پر لکھی ہوئی کتاب کھولی جسے میں نے کل وکٹر ایمونیل دوم کی یادگار سے نکل کر دوسری جانب کی سڑک کے کنارے بنی چھوٹے چھوٹے کھوکھے نما دکانوں سے ایک طرح کوڑیوں کے بھاؤ خریدی تھی۔ کتابوں کا ڈھیر دکان کے سامنے فٹ پاتھ پر بکھرا ہوا تھا۔ سانولا سلونا منحنی سے جسم کا نوجوان جس سے بات کر کے جانی تھی کہ بنگلا دیشی ہے، اس سارے کھلارے کی چھانٹی کرنے اور اسے ترتیب دینے میں لگا ہوا تھا۔ میں نے خالی کرسی گھسیٹ کر خود بھی اِس ڈھیر میں سے ہیرے موتی ٹٹولنے شروع کر دیئے تھے۔

مجھے انار کلی کے فٹ پاتھ یاد آئے تھے۔ اپنا وہاں جانے اور پھولا پھرولی کاجنون یاد آیا تھا۔ بھاؤ تاؤ کرنے اور پھر شاپروں کو بھر کر لانے کے نشے کے سرور کی ہلچل یاد آئی تھی۔ اس وقت میں اُسی ناسٹلیجائی کیفیت میں ڈوبی ہوئی تھی۔ مطلب کی چند کتابیں نکل آئی تھیں۔ قیمت کا تو میزان الرحمن بولا۔
”جو مرضی دے دیں۔ بسم اللہ کرنی ہے۔ آپ جیسی خاتون کا پیسہ برکت والا ہوگا۔ آج میرا پہلا دن ہے۔ دو دن پہلے دکان لی ہے۔ آج اسے سجا رہاہوں۔“
کتابیں تو میں نے ایک یورو اور دو یور و کے حساب سے ہی خریدیں۔ تاہم بیس یورو بنگلا دیشی بیٹے کو بونی کے شگن کے طور پر دئیے۔
”اللہ برکت ڈالے گا۔ زندگی میں رزقِ حلال کمایا اور کھایا ہے۔“
کتاب کھولنے سے جو سامنے آیا ہے اسے پڑھ رہی ہوں۔

تقریباً ایک سو ایکڑ پر مشتمل آزاد خود مختار ایک بڑے ملک کے پایہ تخت روم کے اندر ہی دنیا کا سب سے چھوٹا ملک جس کے اپنے مسلح فوجی دستے، اپنا ڈاک کا نظام، ہیلی پیڈ، منی ٹرین اسٹیشن، ریڈیواسٹیشن، اپنا یور سکہ جس پر پوپ بینڈکسٹBenedictxvi سولہواں کند ہ ہے۔ سیاسی طر پر طاقتور۔ 1.1بلین رومن کیتھولک لوگوں کا روحانی مرکز۔ پوپ ویٹی کن سٹی کا بیک وقت روحانی اور سیکولر لیڈر ہے۔ صدیوں سے وہ کنگ پوپ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ویٹی کن کے رہائشی تقریباً ساڑھے نو سو کے قریب ہیں اور 3000 کے قریب لوگ یہاں کام کرتے ہیں۔
ایک مضبوط چھوٹی سی ریاست۔
وقت دیکھا۔ نو بج رہے تھے۔ فوراً اٹھی۔
”ویٹی کن سٹی دیکھنا ہے۔ کتابوں کی دکانوں پر جانا ہے۔ شام کسی خوبصورت پیازے میں گزارنی ہے اور پرسوں اس خوبصورت شہر سے رخصت ہونا ہے۔“
میں سوچوں سے باتیں کرتی گویا ایک طرح اڑی جا رہی تھی۔
ایزولینا نے محبت بھری نظروں سے دیکھا۔ اس کی پیشانی چومتے ہوئے اس میں آگے بڑھ کر قریبی سیٹ پر بیٹھ گئی۔

اب اگر ذہن کہیں ویٹی کن کی تاریخ میں الجھا ہوا تھا تو آنکھوں نے بھی ساتھ دینا ضروری سمجھا تھا کہ بند ہو کر کامل یکسوئی سے تاریخ کی بھول بھلیوں میں الجھنے لگی تھیں۔
بس تاریخ تو ابھی اتنی ہی پڑھی گئی تھی کہ منزل آگئی۔
بصارتوں میں جونہی وہ مانوس سی عمارت آئی۔آنکھوں میں قندیلیں سی جل اٹھیں۔کھیتولک عیسائیت کے اِس مرکز اور پاپائے روم کے بیانات سے اکثر و بیشتر پرنٹ و الیکڑونک میڈیا کے توسط سے خاصی مانوسیت رہی ہے۔

سچی بات ہے اب یہ تو مجھے یہاں آکر پتہ چلا تھا کہ پوپ اتوار کو اپنا دیدار کرواتے ہیں۔اس دن ٹکٹ ویکٹ بھی فری۔اب عقل پر بندہ ماتم ہی کرئے گا کہ ویک اینڈ پر روم آنے سے گریز جان بوجھ کر کیا۔
بس نے عین سینٹ پیٹرز سکوائر سے جب موڑ لیا تو میں نے سوچا ”ہائے اللہ اسے تو یہیں اُتارنا چاہیے تھا۔“
یقینا اُسے اپنے اسٹاپ پر رُکنا تھا۔خاصا چلنا پڑا۔ایک دھوپ کی تیزی اوپر سے چھتری بھی وہ کہ بچے کا کھلونا جان پڑے۔گردوپیش کے حُسن کو دیکھتے ہوئے پھردھوپ کی جوانی پر نظر ڈالی۔ ایسی شباب سے بھر ی ہوئی تھی کہ فوراً کھول کر سر پر تاننے والی چھتری تو اُس پلی ہوئی بلی کے سامنے کسی بچونگڑی کی طرح نظر آئی۔بس سر اور چہر ہ بچ گیاتھا چلو یہی غنیمت۔چھتری کو سنبھالنا کونسا آسان۔یہ تو بیگ میں گھسڑ جاتی ہے۔
عین سکوائر کے سامنے آکر میں نے چھاؤں میں بیٹھ کر ڈیرے ڈال لئیے کہ پہلے تو جی بھر کر اسے دیکھنا مطلوب تھا۔نقشے پڑھنے کی ضرورت تھی۔

میرے سامنے ایک وسیع قطعہ ء زمین پر ستونوں پر کھڑی دائیں بائیں سیمی سرکل میں گھومتے برآمدوں سے سجی عمارتیں مرکزی عمارت کو گویا اپنے حصاریا دوسرے لفظوں میں اپنے تحفظ میں لینے کا تاثر دیتی تھیں۔
ٹکٹ کیلئے لمبی قطاریں تھیں۔دھوپ کیسے سارے میں پیر پسارے بیٹھی تھی۔یاسر پیرزادہ یادآیا تھا۔گذشتہ سال کا اُسکا کالم سامنے آگیا تھا۔یہی مہینہ جب وہ لکھتا تھا ویٹی کن میں تو لگتا ہے۔ سورج جیسے سوا نیزے پر آیا ہوا ہے۔تو آج بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔
پانی کی ایک بوتل خالی کرکے میں اٹھی کہ اب کمر ہمت باندھوں کہ گوڈے نے ایک کڑاکا بجایا۔

”ہائے جوانی۔اندر سے ایک آہ سی نکلی۔ساتھ ہی وہ سکھ بھائی یاد آگیا۔جسنے میری طرح ایسا ہی نعرہ بلند کیا تھااور بعد میں رازدرانہ انداز میں خود سے کہا تھا۔جو تیر میں نے جوانی میں مارے وہ مجھے معلوم ہی ہیں۔“

پر میں نے تو کہا تھا کہ بھئی میری ٹانگوں نے تو بڑے تیر مارے۔بیچاریوں نے میرے شوق کے بڑے ستم سہے۔ میلوں چلنا تو کوئی بات ہی نہ تھی۔ سچی بات اب مجبوری ہے۔
اب 2000کمروں پر پھیلے وہ پرسرار کہانیاں اور راز جو ویٹی کن کی دیواروں نے سنبھالے ہوئے ہیں۔ان کے بارے جاننا اور ان چیزوں کو دیکھنا کیسا دلچسپ اور سنسنی خیز تجربہ ہوتا جسے اب کرنا زبانی کلامی اور لفظوں کے راستوں سے تو ممکن ہے ہاں ذرا ٹانگوں سے کچھ مشکل ہے۔ مگر جی کرتا تو ہے۔

جی چاہتا تھا کہ کِسی کی منت کروں کہ وہ یا میرا ٹکٹ لے لے۔ یا مجھے اپنی جگہ دے دے۔جگہ دینے کی درخواست کا احمقانہ مطالبہ خود مجھے بڑا کمینہ سا لگا۔ اور ٹکٹ کیلئے دھوپ میں پینڈا مارتی لائن تک پہنچی۔رکاوٹی جنگلے کے پار کھڑی پھینی سی ایک لڑکی سے درخواست کی۔ جس انداز میں مجھ بیچاری کی پذیرائی ہوئی اُس نے چلّو بھر پانی میں ڈوب مرنے والی بات یاد دلادی تھی۔لڑکی نے بے حد عجیب سی نظروں سے مجھے یوں گھورا تھا جیسے کہتی ہو۔
”کیوں لوں تمہارا ٹکٹ۔تمہاری کیا ٹانگیں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ اتنی تو ہٹی کٹی لگ رہی ہو۔“
”چلو میاں سیدھے سبھاؤ لگو قطار میں۔“

بعد میں جب اس کے مشکل مراحل سے گزری تو احساس ہوا کہ دو نمبریوں کی یہاں کہاں گنجائش ہے؟ایسے حربے صرف ہمارے ہاں ہی چلتے ہیں۔بہرحال کام تو وہاں ماردھاڑ کے سے انداز میں ہورہا تھا۔
سکوائر میں رکاوٹی جنگلوں کی باڑوں میں مقید لائنیں جیسے تیز واک کے سے انداز میں چلتے ہوئے سیکورٹی کے لمبے چوڑے مرحلوں سے گزرتی جاتی تھیں۔پر خدا جھوٹ نہ بلوائے۔ایک تو میوزیم جیسے اللہ میاں کے پچھواڑے۔وہ لمبی لائن شاہی قلعے جیسی بلندوبالاپُر ہیبت دیوار کے سائے میں چلتی۔ کہیں ٹکٹ کا پہلا ٹریک کہیں دوسرا۔ اوپر سے سیکورٹی کی لام ڈور والے سلسلوں کے ساتھ ساتھ ڈریس کوڈ کی بھی سختی۔ کیا مجال کوئی ننگے بازؤوں والی من چلی حسینہ یا ِشارٹس پہنے کوئی دلبر سا ہیرو پذیرائی پا جائیں۔ یوں قطار میں سے نکال کر پھینک دیئے جاتے ہیں جیسے دودھ میں سے مکھی۔

اب اگر کہیں یہ جان جاتی کہ” سلک دی لائن “والا سلسلہ سو تکلیفوں سے نجات کا باعث ہے۔انٹرنیٹ سے دُوری ہم بڈھوں کیلئے بڑی اذیتوں کا باعث ہے۔دُنیا اب ہماری نہیں نوجوانوں کی ہے۔چلو شکر اپنے جٹکے پن کے باوجود یہاں تک پہنچ ہی گئے۔آگے بھی رب سوہنا کرم کرے گا۔بڑے شوخ و چلبلے رنگوں کے لباس زیب تن کیے سوئس دربان سنگی مجسموں کی مانند ایستادہ تھے۔
تو صبر کا پھل بڑا رسیلا اور میٹھا تھا کہ جب کانسی کے ایک بھاری بھرکم عظیم الشان دروازے سے اندر قدم رکھا تو اوپر والے کیلئے شکرگزاری کے احساسات نے جذبات کو بڑا رقیق سا کررکھا تھا۔
”ارے میں اور یہ سب۔“

وہیں ایک جادوئی سحر جیسی دنیا میں داخلہ ہورہا تھا۔دنیا کی سب سے چھوٹی خودمختار سلطنت کا عجائب گھر جو آپ پر آرٹ کی دنیا کے اسرار کھولتا ہے۔جہاں دنیا کے عظیم مصور آپ پر ایمان اور آرٹ،عیسائیت اور کلچر،خدا اور انسان کے درمیانی سلسلوں کی گھتیاں کھولتے چلے جاتے ہیں۔
اِس میوزیم کا بننا بھی بس ایک اتفاقی واقعہ ہی تھا کہ 1506کی بات ہے ایک بہت پرانا مجسمہ Laocoonteانگوروں کے باغ کی ایک پہاڑی سے ملا تو محقق لوگوں کے ساتھ لاطینی مصنف پلینی Plinyنے بھی اس کی عظمت اور قدامت کی تصدیق کی۔
پس اِسے ویٹی کن میں سجا دیا گیاجہاں پہلے ہی پوپ جولیس دوم کے بہت سے نوادرات جمع تھے۔کوئی اٹھارویں صدی کے وسط میں اسے دو حصّوں میں تقسیم کیا گیا۔پوپ کے محلات اور دوسرا یہ میوزیم۔
تو اب میں خود سے پوچھتی ہوں کہ مجھے داخل کس میں ہونا ہے؟مصری حصّے میں؟ کوئی خواہش نہیں کہ مصر، عراق کی سیاحتوں سے رجی پجی اور مصری اور میسوپوٹیمیائی تہذیبوں سے خاصی شناسائی رکھتی ہوں۔سو اِس دنیا میں تو ہرگز نہیں جانا۔ اب کھڑی ایسی سوچوں میں گھر گئی ہوں۔کچھ لوگوں کو ایک گلیارے میں داخل ہوتے دیکھ کر انکے پیچھے ہولیتی ہوں۔
کیا بات تھی اُ س دنیا کی جہاں داخل ہوئی تھی۔ بڑی کلاسیکل قسم کی عمارت کا آنگن ہے۔محرابی گزرگاہوں والے برآمدوں میں ٹھنڈک،سکون اورشانتی سی جیسے اُتری ہوئی ہے۔قدامت پور پور میں رچی بسی زمانوں کی خوشبو اپنے اندر بسائے ہوئے ہے۔

میں نے ذرا سا سستانا چاہا تھا۔پودوں کے پاس دھرے سنگی بینچ پر بیٹھ کر سکون سے دائیں بائیں جدھر دیکھتی ہوں آرٹ کی دنیا آباد ہے۔مجسمے ستونوں کے ساتھ ایستادہ ہیں۔اٹھتی ہوں۔ قریب جاتی ہوں۔ کہیں نیپچونNeptune،کہیں Hellenistic،کہیں اپالو اور کہیں Laocoomگروپ نے یارڈ کو سجا رکھا ہے۔یہ یونانی اور رومن تہذیبوں کے نمائندے ننگے دھڑنگے۔بولوں تو کیاکہ اظہار کرنامشکل ہورہا ہے کہ فتووں سے ڈر لگتا ہے۔
ہاں البتہ عقیل رُوبی بے طرح یاد آیا ہے۔جس کی دُنیایونانی کرداروں سے آباد رہتی تھی۔

اب نقشہ کھول لیا ہے۔مصری حصّہ قریب دکھتا ہے۔اس سے بچنے کے چکر میں ڈیلا پگما میں نکل گئی۔کیا بات تھی؟بے اختیار ہی ہنسی نے نہال سا کردیا۔سامنے سرسبزو عریض لان کلاسیکل قسم کی عمارتوں کو گھیرے میں لئیے ہوئے آنے کی دعوت دیتا تھا۔قبل مسیح کانسی کے فرکون کو دیکھنے لگی۔مجھے اس کی خاک سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ ہے کیا بلا؟دفع کرو۔سور ج چمک رہا ہے۔ہوا بہت مزے کی ہے۔میں اب کسی سے مدد چاہوں گی کہ وہ میری راہنمائی کرے۔
چلو اللہ رازق اور مددگار ہے۔انڈین لوگ مل گئے۔اُدھیڑ عمر مسٹر و مسز پُونم رائے روم میں ہی رہتے ہیں۔بریلی سے آئے ہوئے بھانجا اور اسکی بیوی کو سیر کروانے لائے تھے۔پہلے تو خوب باتیں ہوئیں۔نواز شریف کے بڑے دلدادہ تھے۔

میری خواہش پر کاپی پر لکریں کھینچ کھینچ کر چیزوں کو وضاحت سے بتا دیا کہ بس دو چیزیں دیکھ لو۔زیادہ کھپنے کی ضرورت نہیں۔یہاں تو آرٹ اور تہذیبوں کا سمندر ہے۔ بندہ باریکیوں میں پڑا تو گیا۔مگر انہوں نے Pinacoteca دیکھنے کی سفارش کی کہ وہ قریب ہی تھا۔
تو اِن پیارے سے لوگوں سے رُخصت ہوتی ہوں۔Pinacotecaکو جانے والے راستے پر بڑھتے ہوئے اُس عمارت کی طرف بڑھتی چلی جاتی ہوں جو ایک خوبصورت اور شاندار سے پورٹیکو کے ذریعے مرکزی عمارت سے جڑا ہوا ہے۔ اک ذرا رک کراپنے چاروں اور دیکھتی ہوں۔

یہ کچھ ویسی ہی دنیا ہے جو میں ابھی اکیڈیمیہ وینس میں دیکھتی آئی ہوں یا اُس سے بڑھ کر ہے۔فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔میں تو شارٹ کٹ چاہتی تھی مگر جانتی ہی نہ تھی کہ یہ آرٹ کا پورا جنجال پورہ ہے۔کمروں کا پھیلاؤ اور انکا اندر ہی اندر ایک دوسرے میں گُھسے چلے جانا۔اب بندے کیلئے کہیں ممکن تھا کہ وہ آرٹ کے اِن خزانوں سے آنکھیں بند کرلے۔نہیں مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ کیا کروں اور کیسے اِس دنیا سے نکلوں جو جٹ جپھا ڈال رہی ہے۔

سچ تو یہی تھا کہ ان سے آنکھیں بچا کر نکل جانا کتنا مشکل تھا کہ کہیں بہار جیسے شوخ و شنگ رنگ،کہیں دھیمے میٹھے اور کہیں پھیکے رنگوں کی بارش بھگو بھگو کر شرابور کررہی تھی۔وہ برس رہی تھی۔راستہ روک رہی تھی اور مجھے بھگوتی چلی جارہی تھی۔ونچی کا شاہکار سینٹ جروم جیسے کسی دشت تنہائی کا اسیر۔Giotto اور بلینی دونوں اپنی انتہائے معراج کو پہنچے ہوئے۔دونوں کے فن سے آنکھیں چرانا کہیں ممکن تھا۔

چہروں کا ایک ایک نقش، ایک ایک خم واضح کررہی تھی۔زنجیروں کی حدبندیاں تو قریب جانے میں مانع تھیں۔ڈھیروں ڈھیر کمرے بس جو چیز باعث راحت تھی وہ کمروں میں بیٹھنے کا شاہانہ قسم کا اہتمام تھا۔
میں لطف اٹھا رہی تھی۔مریم کی جنسی تعلق سے آزاد حاملہ ہونے کی تصوراتی صورتوں کی آگاہی سے جو بڑی ہی موہ لینے والی تھی کہ اِس تصور نے نہ صرف کام کو انفرادیت دی بلکہ اس کی وسعتوں میں بھی نئے رخ تھے۔
Raphael rooms تک پہنچنے میں تین بار رُک رُک کر تھوڑا آرام اور تھوڑی منہ ماری کی تھی۔باداموں اور کاجو کے چھوٹے لفافوں کی سیکورٹی سپاٹ پر وضاحتیں کرنی پڑی تھیں کہ جناب انہیں لے جانے دیں وگرنہ ایسا نہ ہو آپ کو لینے کے دینے پڑ جائیں۔

ان کمروں کا رُخ دوسری جانب جا نکلتا تھا۔سچ تو یہ ہے کہ رافیل اور اس کے ساتھیوں کاکام حد درجہ متاثر کن تھا۔سولہویں صدی کی ابتدائی دہائیوں کا نمائندہ یہ کام جسے رافیل اور اُسکے ساتھیوں نے فریسکوٹیکنیک استعمال کرتے ہوئے نشاۃ ثانیہ کے دور کے کام کو زندہ و جاوید کردیا۔چوکھٹوں کی بس چھتوں کو ہاتھ لگانے ہی کسر باقی تھی۔ کمروں کی محرابی صورت دیتی دیواروں پر آرٹ کے کیا شاہکار نمونے بکھرے ہوئے تھے کہ پلکیں جھپکنی مشکل تھیں۔
بہت سے ایسے موضوعات تھے جنہوں نے آنکھوں کو جکڑا ہوا تھا مگر انکا تعلق کِس پس منظر سے ہے اس سے کوئی شناسائی نہیں تھی۔لطف اندوزی رنگوں،کرداروں،انکے رویوں اور ماحول کے ساتھ فنکارانہ چابک دستیوں کے ہاتھوں ضرور ہورہی تھی۔

البتہ بورگوروم میں آگ لگنے کے واقعے کی عکاسی بڑی واضح تھی۔میرے نزدیک مقدّس سیکرامنٹSarcament(جس میں شادی بیاہ کے موقع پر شراب اور روٹی پر جھگڑے کی شکل)کی کیا شاندار عکاسی تھی۔آسمانی اور زمینی زندگی کے رنگ،تصور کی بلند پروازی۔خدا تو کہیں دھرتی کے پادریوں جیسا ہی نظر آتا تھا۔
جی چاہتا تھا وقت کی ٹنل میں گُھس جاؤں۔اس دور میں چلی جاؤں جہاں وہ موٹی آنکھوں والا رافیل لگتا تھاThe school of Athens پینٹ کررہا ہے۔
سارا کمرہ گویا علم کے اعتراف میں سرنگوں تھا۔سچائی اور دلیل کی عظمت کو سلام پیش کرتا تھا۔کلاسیکل فلاسفی سے مذہب کی طرف کا راستہ عیسائیت سے پہلے اور بعد کا عہد زندہ و تاباں تھا۔یہ شاہکار ایتھنر کے مکتبہ فکر کے عظیم مفکروں ارسطو،افلاطون وغیرہ کو خراج پیش کرتے تھے۔1520 The Tramsfiguration کا اسکا یہ کام ابھی تکمیل کو نہیں پہنچا تھا کہ وہ فوت ہوگیا۔اِسے بعد میں اس کے شاگردوں نے مکمل کیا۔

رافیل بہت جلدی مرگیا صرف 37سال میں اور اس کے چاہنے والے اُس کا یہی شاہکار اٹھائے روم کی گلیوں میں ماتم کرتے پھرتے تھے۔
کتنا وقت میں نے وہاں گزارا۔مجھے اس کا خود احسا س نہیں تھا۔
Sistine chapelدراصل اِس میوزیم کا دل ہے۔پوپ کا ذاتی چیپل یہی وہ جگہ ہے جہاں جب وہ مرتا ہے اُسے رکھا جاتا ہے اور یہیں نیا پوپ منتخب ہوتا ہے۔یہاں Michelangeloکا کام ہے۔ اور کیا شاہکار کام ہے۔ بائبل کی پہلی کتاب اس کے سارے سبق یہاں جسکا جی چاہے وہ پڑھ لے۔ساری بات تو ہدایت اور روشنی کی ہے۔
خدا کو دیکھنا بڑا انوکھا تجربہ تھا۔میرے تصوراتی خدا سے خاصا مختلف۔بوڑھے تو دونوں تھے۔ مائیکل اینجلوMichelangelo کا خدا البتہ بہت جلال والا دکھتا تھا۔میں نے اپنے کا سوچا۔
”نہیں بھئی وہ تو مجھے بڑا نرم خو سا نظرآتا ہے۔محبت سے لبالب بھرا۔ ہمدرد اور غمگسار دوست جیسا۔ گلے شکوے کر لو۔ غم وغصے کا اظہار کر لو۔ آدم اور خدا کے درمیان تعلق کی ڈور۔

کیاخیال آفرینی تھی۔دونوں کے بڑھے ہوئے ہاتھوں کی انگشت شہادت کا ملاپ آسمان اور زمینی کرّے کا ایک دوسرے کی طرف جُھکاؤ۔واہ کیا کھلا ڈلا معاشرہ ہے۔خدا کو اپنے جیسا بنا کر رکھ لیا ہے۔
ممتاز مفتی کے خدائی تصور کی من وعن ایسی ہی تصویرہے۔ چاند،ستاروں اور زمین کی پیدائش کے عمل کے ساتھ آدم اور حوا کی پیدائش جنت سے نکالے جانے کا منظر۔نوح اور سیلاب۔

مزہ آرہا تھایہ سب دیکھتے ہوئے۔آدم اور خدا کے درمیان تعلق کے مختلف انداز۔سب کی شکلوں سے تعارف ہوا۔حضرت علی، حضرت امام حسین اورحسن سے بغداد میں تصویری تعارف ہوگیا تھا۔بغدادیوں کی بھی افتاد طبع کی داد دینی پڑتی ہے۔کیا خوبصورت اور دلآویز سی صورتیں بنا کر دیواروں پر ٹانگ دی ہیں۔
The Last Judgment کی مجھے خاک سمجھ آنی تھی اگر ایک گروپ اپنی گائیڈ سے اس کا پس منظر نہ سُن رہا ہوتا۔اور میں انکے پاس نہ کھڑی ہوتی۔مائیکل اینجلو کو اِسے بنانے کیلئے کہا گیا تھا۔کہہ لیجئیے یہ قیامت کا منظر ہے۔حضرت عیسیٰ کی دوبارہ آمد اور خد
ا کا یومِ حساب۔روحوں کا اٹھنا اور اپنی قسمتوں کا فیصلہ سننا۔یہی وہ دن کہ جب کوئی جنت اور کوئی دوزخ میں جائے گا۔ایک افراتفری کا عالم۔حضرت عیسیٰ اپنے ممتاز ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے مقدروں کے فیصلے کرتے ہیں۔
ایک سحر کی سی کیفیت سے نکلنے میں کافی دیر لگی۔خدا کا شکر تھا یہاں سے سینٹ پیٹرز سکوائر کاجانے کا راستہ تھا۔جس سے میں سکوائر میں آگئی۔

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply