پیپلز پارٹی کے جانباز سیاسی ورکروں کے نام(2)-اطہر شریف

اس تحریک میں 200 افراد ہلاک ہوئے ۔ ضیا الحق کے مارشل لاء نے پاکستان کی سیاسی بنیادیں ہلا دی جو آج تک پاکستان بھگت رہا ہے۔ amnesty international human right
human right watch,asia watch .the new york post,the sun , bbc dawn.the daily telegraph کے مطابق 1978 سے لے کر 1985 تک 35000 سے 40000 افراد
کو قید کیا گیا۔ 2077 افراد کو کوڑے مارے گۓ ۔175 افراد کو پھانسی دی گئ۔ مظاہروں کے دوران 800 سے 900 افراد کو مارا گیا۔ تاریخ سکتہ کی حالت میں تھی دنیا سیاست میں کسی سیاسی پارٹی نے جمہوریت کے لیے اتنی قربانیاں نہیں دی ہو گئ۔ جتنی پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور پارٹی کی اعلی قیادت نے دی۔ پروفیسر غفور مرحوم سے پوچھا تو بولے اگر بھٹو فوراً دوبارہ الیکشن کا اعلان کر دیتا تو وہ زیادہ نشستیں جیت سکتا تھا۔ بہرحال مارشل لاء کا جواز نہیں تھا کیونکہ نئے انتخابات اور نگران حکومت پر اتفاق ہو گیا تھا۔ جنرل ضیا الحق کی حلیف اول جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور اپنی کتاب “اور الیکشن نہ ہو سکے” میں لکھتے ہیں کہ یکم جولائی 1977 کو لاہور کے ایک کثیر الاشاعت روزنامے میں ایک غیر معروف تنظیم “وطن پارٹی” کی جانب سے صفحہ اول پر درج ذیل اشتہار شائع ہوا۔

“الیکشن دوبارہ ہوں یا سہ بارہ، جو سیاست دان اپنے پیدا کیے ہوئے مسائل کو حل نہیں کرسکتے وہ وطن کی معاشی بدحالی، عوامی مشکلات اور خانہ جنگی کے رجحانات کو کیا حل کرسکیں گے۔ مانگی ہوئی عقل، پیسہ، ہتھیار اور نظام، زندہ قوموں کی نشانیاں نہیں ہوتیں۔ اس سیاہ دن کو پاکستان میں جمہوریت کا گلہ گھونٹ کر ملک میں فرقہ واریت، جبر، علاقائیت اور دہشت گردی کا بیج بویا گیا تھا۔ہم ہر سال پانچ جولائی کو یوم سیاہ مناتے ہیں لیکن اس بات پر غور نہیں کرتے کہ 5 جولائی 1977 ہماری زندگیوں میں کیوں آیا تھا اور یہ اب تک ختم کیوں نہیں ہوا-5 جولائی 1977 کا سبق یہی ہے کہ سیاست میں نظریات کو واپس لایا جائے، برداشت کے کلچر کو فروغ دیں، جمہوریت کا سفر اپنے گھر مطلب ا پنی جماعتوں سے شروع کریں۔ایک سبق ان کے لئے بھی جو سب کو سبق پڑھاتے ہیں۔48 برسوں میں آپ نے نہیں دیکھا کہ جمہوریت کی ٹرین کو جب بھی آمریت کی پٹری پر چلانے کی کوشش کی جائے گی تو وہ کسی بھی وقت حادثہ کا شکار ہو سکتی ہے۔ دنیا کے پہلے ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی پیدائش 25 جولائی 1978 کو برطانیہ میں ہوئی تھی مگر ہمارے لیے یہ امر انتہائی خوش کن اور اطمینان کا باعث ہونا چاہیے کہ پاکستان کی فوجی لیبارٹری ایک برس قبل جولائی 1977 ہی میں اس قابل ہو چکی تھی کہ سیاسی ٹیسٹ ٹیوب بے بیز کی پیدائش کے اچھوتے اور منفرد تجربے کو کامیابی سے ممکن بنا سکے-5 جولائی 1977 اگر پاکستان کی تاریخ میں نہ آتا تو آج کا پاکستان بہت مختلف ہوتا۔ پاکستان میں دہشت گردی نہ ہوتی پاکستان میں فرقہ واریت نہ ہوتی پاکستان میں برادری ازم نہ ہوتے- پاکستان میں ہیرون کلچر نہ ہوتا پاکستان میں کلاشنکوف کلچر نہ ہوتا- پاکستان میں رشوت کلچر نہ ہوتا پاکستان میں اقرا پروری اس طرح نہ ہوتی جس طرح آج کی حالت میں ہے- پاکستان آج ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک ہوتا۔ پاکستان قرضہ لینے کی بجائے دینے کی پوزیشن میں ہوتا – بھٹو کی نظریات پر عمل کرتے وقت پاکستان اسلامی ممالک کا لیڈر ہوتا اسلامک ممالک کا اپنا ایک اسلامک بینک ہوتا ہے جس کا ہیڈکوارٹر پاکستان میں ہوتا۔- تیسری دنیا بھٹو کا نظریہ آج عمل پذیر ہوتا جس کی وجہ سے پاکستان ایک ترقی یافتہ مملک کی صف میں کھڑا ہوتا- پاکستان روزگار کی تلاش میں بیرون ملک نہ جاتے الٹا ان ممالک سے لوگ روزگار کی تلاش میں پاکستان میں آتے ہیں-اس ترقی کو روکنے کے لئے ،پاکستان کو ایک خود مختار ملک بننے سے روکنے کے لیے 5 جولائی 1977 کا دن پاکستان کی
جنہوں نے اپنے آج کو ہمارے آج کے لیے قربان کر دیا سلام

جاری ہے

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply