• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • چند سوالوں کے جواب جو قومیت پر فخر والے مضمون پر پوچھے گئے/ندا اسحاق

چند سوالوں کے جواب جو قومیت پر فخر والے مضمون پر پوچھے گئے/ندا اسحاق

مجھ سے چند سوالات پوچھے گئے قومیت پر فخر والے آرٹیکل پر، یہ جواب میری محدود نالج کے مطابق ہیں، آپ سب کے ساتھ شیئر کررہی ہوں، شاید آپ کے کسی کام آجائیں۔

۱- کیا قومیت پر فخر کی وجہ ذہنی کمزوری یا جذباتی محرومی ہے؟

زیادہ تر تو ایسا ہی ہوتا ہے کہ قومیت پر فخر آپ کی ذہنی کمزوری اور جذباتی محرومی کی وجہ سے ہوسکتا ہے(یقیناً ہر کیس میں نہیں)، یا پھر آپ کی زندگی میں مقصد کی کمی، کچھ ایسا کیا ہی نہیں آپ نے جس پر آپ اپنے متعلق اچھا محسوس کرسکیں۔ جو لوگ بڑی پکچر نہیں دیکھ سکتے، خاص کر جومنطق کا سہارا لے کر اپنے جذبات کو سمجھ نہیں سکتے اور محسوس نہیں کرسکتے تو انہیں کبھی علم نہیں ہوتا کہ وہ کیوں اس فخر والے خالی جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ نالج سے ذہن میں موجود اندھیرا مٹ جاتا ہے، بلکل ایسا ہی ہے، لیکن صحیح نالج بہت ضروری ہوتی ہے، اور اکثر صحیح نالج تک پہنچنا ایک پراسس ہوتا ہے۔ اس لیے میں کہتی ہوں کہ اپنے نظریات پر ہمیشہ سوال اٹھائیں اور ان سے جذباتی طور پر نہ جڑیں اور یہ سب پریکٹس سے آتا ہے۔

۲-فخر (pride) اور خودی (ego) میں فرق کیسے سمجھا جاسکتا ہے؟

خودی یعنی کہ ایگو آپ کی نفسیات کا اہم جز ہے، جب تک آپ زندہ ہیں یہ بھی زندہ ہے، نیوروسائنس کی ریسرچ بتاتی ہے کہ انسان جب موت کے قریب ہوتا ہے، دماغ جب مرنے لگتا ہے تو پہلے وہ حصہ بند ہوجاتا ہے جہاں سے ”ایگو“ کا تصور جنم لیتا ہے۔ ایگو آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے ہوتی ہے، آپ کے وجود کو اس بڑی لازوال لامحدود کائنات میں موجود ہونے کا احساس دیتی ہے، اور یہ کہ آپ کون ہیں اور اس دنیا میں آپ کی کیا جگہ ہے۔

اب اگر فخر اور خودی میں فرق کرنا ہے تو بہت ممکن ہے کہ اس طرح کیا جاسکے: خودی آپ کا ”سینس آف سیلف“ ہوتا ہے، جو کہ ہر انسان کے اندر موجود ہوتا ہے کہ وہ کون ہے اور اس دنیا میں اسکی کیا جگہ ہے۔ جبکہ فخر ایک ”جذبہ“ ہے جو کسی بھی مقصد کو حاصل کرکے آپ محسوس کرتے ہیں (فخر کو ہم خودی کو تسکین دے کر محسوس کرتے ہیں، جیسے کہ کوئی خواہش جسے پورا کرکے آپ کی خودی کو تسکین ملتی ہے) خودی جب فخر محسوس کرتی ہے تو اسے اس دنیا میں اپنے “اہم” ہونے کا احساس ہوتا ہے کہ وہ بیکار یا فضول نہیں۔ فخر محسوس کرنا غلط نہیں، اور ویسے بھی آپ کے جسم میں آنے والے جذبات کو آپ کنٹرول نہیں کرسکتے۔ لیکن اس فخر کی وجہ سے دوسروں کو کمتر سمجھنا قابلِ غور مسئلہ بن جاتا ہے، کیونکہ جب تک آپ برتر محسوس کرتے رہے آپ مزے میں ہونگے لیکن جس دن آپ سے برتر کوئی آگیا تو پھر آپ کو تکلیف کا سامنا ہوسکتا ہے۔اور ایسی باتوں پر فخر کرنا جنہیں حاصل کرنے کے لیے آپ نے کوئی جدوجہد نہیں کی جو آپ پر لاگو کردی گئیں جیسا کہ زبان اور ثقافت، یہ تو اور بھی زیادہ قابلِ غور اور پریشانی والی بات ہوجاتی ہے۔

۳- کیا سوشل میڈیا قوم پرستی کو ہوا دے رہا ہے یا واقعی شعور بیدار ہورہا ہے؟

بہت مشہور انویسٹر چارلی منگر کی ایک بات مجھےبحیثیت نفسیات کی طالب علم ہونے کے، بہت پسند آئی کہ ”ماڈرن دنیا یا پھر کیپٹلزم“ کو ”لالچ“ نہیں بلکہ ”حسد“ (envy) چلا رہی ہے۔ سوشل میڈیا نے فائدے دیے ہیں لیکن ہر اچھی چیز کے ساتھ اسکے نقصانات بھی آتے ہیں اور کبھی کبھار نقصانات اچھائی پر حاوی بھی ہوجاتے ہیں، یہ صرف قوم پرستی نہیں بلکہ ہر منفی چیز کو ہوا دے رہا ہے، یہ بھی ”حسد“ کے ایندھن پر چلتا ہے۔ سوشل میڈیا سے عام انسان کا فائدہ اٹھانے کا وقت شاید جاچکا ہے (میں غلط بھی ہوسکتی ہوں لیکن میرے مطابق فائدہ صرف وہ اٹھا سکتے ہیں جو تنقیدی سوچ “کریٹیکل تھنکنگ” رکھتے اور “منفی سوچ” کو پراسس کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، کیونکہ ایلگوریتھم آپ کو ٹارگٹ کرے گا اور آپ کو کتنا شعور ہے یہی اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ آپ سوشل میڈیا سے کتنا فائدہ اٹھا سکتے ہیں البتہ آپ کو نفسیاتی درد دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے الگوریتھم) کیونکہ ابھی کا سوشل میڈیا “شعور” کا تو علم نہیں البتہ محض “خواہشات” اور “حسد” کو اجاگر کرتا ہے۔ میں جب بھی یوٹیوب پر ریلیز دیکھتی ہوں تو ہنسی بھی آتی ہے اور خوف بھی کہ کس قدر ہر ریل آپ کے اندر “ڈیزائر” اور “حسد” کو پیدا کررہی ہے۔

اکثر کچھ قوموں سے نفرت کی وجہ “حسد” بھی ہوسکتی ہے کہ وہ فلاں قوم ہمارا حق کھا کر آگے نکل گئی، اور سوشل میڈیا اسکو اور بھی ہوا دیتا ہے۔ یا پھر آپ کا رشتہ دار آپ سے آگے نکل گیا، آپ بہت ممکن ہے حسد کی دھیمی آگ پر جل رہے ہیں اور اسکا غصہ بہت ممکن ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی خاص نظریہ، قوم یا ثقافت پر نکال کر اپنے جذبات کا اظہار کررہے ہیں۔

میں دکھی بھی ہوتی ہوں اور سوچ میں بھی چلی جاتی ہوں کہ کیا ان ریلیز کو دیکھنے والے اس بات سے آگاہ ہونگے کہ انسانی ذہن کیسے کام کرتا ہے؟ کیا وہ جانتے ہونگے کہ کیسے انکے اندر ڈیزائر فیڈ کی جارہی ہے، کیسے دوسروں کو خاص کر رشتہ داروں اور دوستوں کو عالیشان زندگی گزارتا دیکھ ان کے اندر حسد کی دھیمی آگ جنم لے رہی ہے جو انہیں وقت کے ساتھ جلا کر راکھ کردے گی۔ کیا وہ جانتے ہیں کہ ڈیزائر کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ان کے ذہن کی ایک خصوصیت (feature ) ہے جسکو قابو میں رکھنا کتنا ضروری ہوچکا ہے آج کی اس دنیا میں۔

julia rana solicitors london

خیر! یہ بہت گہرا موضوع ہے، سوشل میڈیا نے ہمارے ”جذباتی دماغ“ (limbic brain) کو ٹارگٹ کیا ہے، اور جب “لمبک برین” محرک ہوجائے پھر منطق سے خود کو سمجھا پانا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ منفی سوشل میڈیا کے دور میں ”مثبت“ اور ”تنقیدی سوچ“ کے ساتھ رہنا بہت ضروری ہوگیا ہے (یہ دونوں ساتھ چل سکتی ہیں)۔ سوشل میڈیا پر ہر انسان اور ہر انفارمیشن کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنا ضروری ہے، اس آرٹیکل کو بھی جو میں اس وقت لکھ رہی ہوں کیونکہ جذبات، خودی، احساسات جیسے تجربات کو الفاظ بیان کرنے میں ہمیشہ ناکام رہتے ہیں، ہم مجبور ہیں الفاظ کے ذریعے نہ دکھنے والے احساسات کو بیان کرنے پر، اس لیے سوشل میڈیا پر ہر چیز پر ”تنقیدی نگاہ لازم“ اور ”جذباتی لگاؤ“ تقریباً صفر ہونا چاہیے۔ بورنگ کتابیں پڑھنا، خود کو سوچنے کا موقع دینا(کیونکہ سوچنا نایاب ہوتا جارہا ہے)، اچھے رشتے قائم کرنا، حقیقی زندگی میں ”تجربہ“ لینا بہت اہم ہوچکا ہے۔

Facebook Comments

ندا اسحاق
سائیکو تھیراپسٹ ،مصنفہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply