عقیدائی دانش سےبچیے/قاسم یعقوب

لفظ ’’عقیدائی‘‘ اب ایک محدود مفہوم میں استعمال ہونے لگا ہے، حالاں کہ ہر وہ سوچ، عمل یا تصور جو کسی پہلے سے طے شدہ نظریے کے تحت ہو، عقیدتی کہلاتا ہے۔ اگر کوئی شخص حقائق کو اپنے ذہنی سانچے کے مطابق جانچتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ عقیدتی انداز فکر رکھتا ہے۔ عقیدہ صرف مذہبی نظریے کو ماننے کا نام نہیں بلکہ ہر وہ یقین جو کسی تعصب، مخصوص نتائج یا محدود نظریات کے زیرِ اثر پیدا ہو اور مسلسل ایک ہی طرح کے نتائج پیدا کرتا جائے دراصل عقیدتی پیمانوں سے اشیا کو دیکھنے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ایسا شخص یا تو اپنے پختہ نظریات کے مطابق حقائق کو پرکھنے کی کوشش کرتا ہےیا پھر وہ نتائج چاہتا ہے جو اس کے تصوراتی فریم سے ہم آہنگ ہوں۔
’’عقیدتی سوچ‘‘ کسی ایک طبقے تک محدود نہیں۔ چاہے کوئی مذہبی ہو، سیکولر، لادینی، جمال پرست یا آزاد خیال ،ہر شخص مخصوص سانچوں کا اسیر ہو کر بنے بنائے تصورات کی ’کاربن کاپیاں‘پیدا کر سکتا ہے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے، کیسے جانا جائے کہ کون عقیدائی انداز سے سوچتا ہے؟ اس کا ایک آسان سا فارمولا یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے خیالات میں یکسانیت ہو، ایک ہی تصورِ حیات کی دُہرائی (Repetition) ہو ۔سننے یا پڑھنے والا پہلے ہی جانتا ہو کہ فلاںشخص فلاں مسئلے پر کیا رائے رکھتا ہو گا تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ ایک ہی ذہنی سانچے میں سوچتا ہے۔ اس کے سامنے جو بھی سوال رکھا جائے گا، اس کا جواب اسی متعین فریم کے اندر سے نکلے گا جو اس کے ذہنی ڈیزائن کا حصہ بن چکاہے۔ وہ جو بھی سوچے گا اسی قبیل کا کوئی اور نتیجہ سامنے آئے گا۔
عقیدائی دانش خطرناک حد تک ہمارے سماج میں سرایت کر چکی ہے۔ یہ مورچہ بند ذہنی ڈیزائن ہوتے ہیں جو صدیوں کی فکری محنت اور جبر سے بنے ہوتے ہیں۔ پہلے یہ ذہنی ڈیزائن اتنے سخت اور متعین نہیں تھے مگر اب انھوں نے مکمل عقیدتی شکل اختیار کر لی ہےاور مختلف لیبلز کے ساتھ پورے سماج کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔

عقیدائی دانش اشیا کو صرف سیاہ و سفید (Black & White) میں دیکھتی ہے ،یعنی یا تو کوئی چیز مکمل درست ہے یا مکمل غلط۔ حالاں کہ خیالات، نظریات، تاریخ، حتیٰ کہ سائنسی نتائج بھی صرف دو خانوں میں نہیں بانٹے جا سکتے۔ زندگی ہزاروں رنگوں پر مشتمل ہےاور ہر رنگ کی اپنی رنگت اور معنویت ہے، جو زندگی کی رعنائی کا عکس ہے۔ ہر منظر ایک کثیر رنگی نظارہ ہوتا ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ اسے صرف سیاہ یا سفید کے عدسے سے دیکھا جائے۔ پہلے سے طے شدہ نظریات اور خیالات ہمیشہ چیزوں کو بلیک اینڈ وائٹ ہی میں دیکھیں گے، مگر غیر عقیدتی دانش ہر رنگ کی قدر کرتی ہے اور انھی رنگوں کی آمیزش سے نئی فہم اور نئے نتائج سامنے لاتی ہے۔ ہر منظر نئے رنگوں کے ملاپ سے ایک مختلف جہت کو ظاہر کرتا ہے۔

julia rana solicitors

لہٰذا رنگوں کی رنگینی کو تسلیم کیجیے اور عقیدتی (یعنی جامد و طے شدہ) دانش سے پرہیز کیجیے۔ ورنہ اس حمام میں سب ’’ایک جیسے‘‘ہو جاتے ہیں۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply