ڈپریشن اپنے آغاز میں تھا جب میراموت کاقدیمی خوف عودکرآیااور میں باربار مرنے کامنظرتصورمیں لانے لگی۔ ان دنوں میں سرکاری فلیٹ اورزبیر زیادہ تراٹلی اور ڈیرے کے درمیان سفرمیں رہتاتھا۔مجھے دونوں تک جانا مشکل تھا۔اٹلی ویزہ اور سسرالی ڈیرہ دلچسپی مانگتاتھا۔ میرے پاس دونوں دستیاب نہیں تھے۔ تنہائی اور جدائی البتہ وافرمقدار میں تھے اور تخیل ان دنوں ایسارواں اورزرخیزتھاکہ ذراسے بخارپر بھی اپنی موت کامنظرسامنے لے آتا۔
میں اپنی کوکھ میں کتنی جلدی مرجانے والے بچے کویادکرکے اکیلی روتی اور اعصابی کھنچاؤ کی بدولت ہرچیزسے بے زار رہاکرتی تھی۔
موت کسی کی بھی ہواس پر اکلوتاعزادار اچھا نہیں لگتا۔بین کرنے والااورسننے والا ایک ہی شخص نہیں ہوناچاہیے۔ایک روئے تودوسرابھلے ڈھارس نہ دے مگرسنے توسہی۔اپنے بین سننے والی میں اپنی آواز سے ڈرڈرجاتی تھی۔ مگر رونے سے روکنے والا کوئی نہ ہوتا۔مردصرف ہوندکاسانجھی اورمالک ہے۔نہ ہونے کادکھ صرف عورت کادکھ سمجھا جاتا ہے۔کچھ عورت نے ہزارہاسال سے نہ ہوندکواپناراز بناکر چھپاکررکھ لیاتھا۔ننھی ننھی لاشوں کو لوتھڑے بن کر بہتے دیکھنا کتنا تکلیف دہ ہوسکتاہے یہ بتایاہی نہیں۔کسے بتاتی؟ مردکواندرمرجانے والے خوابوں کی لاش بھوت بن جانے کا فہم ہی نہیں۔اسے یہ شعورہی نہیں کہ پورا باپ کا اور ادھورا ماں کا ہوتاہے۔کبھی عورتوں نے کہا ہی نہیں ۔زندگی کے کولہومیں بیل کی طرح جتی عورتوں نے اس دکھ پررونارویاہی نہیں۔پورے وجود جنم دینے والیوں نے اسے اچھوت سمجھ لیا، خودتو اس سے بچ کر چلتیں پودے اورپھلواری تک کواس کے سائے سے بچارکھاکہ پرچھاویں سے سوکھ نہ جاویں۔آدھ ادھوری بے شناختی جنس کی لاشیں کہیں سے خون بن کر بہتیں اور کہیں سے پانی بن کر گالوں پر نمکین لکیریں بناتی رہتیں۔وہ جسے تسلی اورسہاراچاہیے تھااسے الزام اور فاصلہ مل گیا۔ایک لمحہ تھاجب مجھے لگا میں اس فلیٹ میں روروکر مر جاؤں گی اور کسی کو پتہ نہیں چلے گا۔ہمسائیوں کو بوآئے گی اوردروازہ توڑکر مجھے نکالاجائے گا۔جانے میں کس حال میں ہوں گی اور کن ہاتھوں کن آنکھوں اور زبانوں کانشانہ بنوں گی۔ جانے کیسے من میں بات آٹھہری کہ زبیرکے ہوتے ہوتے مرجاناچاہیے تاکہ وہی بروقت تدفین کردے ورنہ لوگ توجانے کیسی کیسی تہمت دھریں اوربات کریں۔
موت آتی توجانے کب ہے لیکن لائی توجاسکتی ہے، سو اس کوشش میں پاگلوں کی طرح جٹ گئی۔
زبیرپہلے پہل عورتوں کی عمومی دھمکی سمجھا، پھر اسے لگاکہ موت اور اس کے مراحل پر میری گفتگو کاحصہ بننا شاید معاملہ سنبھال دے۔
سو وہ میری باتوں کا جواب ہنسی مذاق میں دینے لگا۔
یار زبیر جب میں مرجاؤں گی توتم مجھے کہاں دفن کرو گے؟
اپنے گاؤں میں۔
ایک ناپسندیدہ اورویران جگہ پر غیر مطلوبہ مُردوں کے درمیان تاقیامت ہونے کے احساس نے مجھے موت کاخوف بھلادیا۔گھبراہٹ یہ تھی کہ جن کے درمیان زندہ رہنا پسند نہیں ان کے درمیان مستقل کیسے رہاجاسکتاہے۔
میں نہیں رہوں گی اتنے پینڈو اور جاہلوں کے درمیان، مجھے کسی پڑھی لکھی جگہ پسندیدہ لوگوں کے بیچ میں دفن کرنایار
وہ ہنسنے لگا۔شیکسپئر کے ساتھ دفن کردوں؟ زمین خرید لوں وہاں؟ یاغالب کے ساتھ دفن ہوناپسند کروگی؟
مجھے آئیڈیاکافی پسندآیاسو پرجوش ہوکر کہا۔
ہاں ہاں یہ اچھاآئیڈیاہے ۔کیاتم زمین خرید سکتے ہووہاں؟
یار مجھے الجھن ہوتی ہے ایک تو تارے نہیں ہوں گے، پھر بندے بھی سارے ان پڑھ۔میراگزارا نہیں ہونازبیر ۔میں نے فیصلہ سنادیا۔
لیکن آپ تووہیں دفن ہوں گی جہاں میں ہوں گا، میرے پاس بوسال میں کیونکہ ہماراقبرستان وہیں ہے۔
کوئی دیکھتاکہ اس وقت مجھے اس کا اپنی موت کاذکر کرنابھی نہیں ڈراسکا۔
لیکن یاروہ توتم لوگوں کاقبرستان ہے یار، میں وہاں دفن نہیں ہوسکتی۔
مجھے جھنجھلاہٹ ہوئی۔تب تو میں اس کے لوگوں اور اس کے علاقے کواس طرح اپنانے کوتیار نہیں تھی کیونکہ اس کاعلاقہ اورلوگ مجھے اپنا نہیں رہے تھے۔
تو اب یہ آپ کابھی قبرستان ہے مانی، جومیراہے وہ تمہارا ہے۔
مجھے غصہ آیا۔
میں تو نہیں دفن ہوں گی اس کے قبرستان میں۔میں تواپنے قبرستان میں ہوں گی۔میں کیوں بھلاان گنواروں کے قبرستان میں پڑی رہوں اوراردگرد قدیم پنجابی بولنے والے، کسانوں میں گھری رہوں گی۔( بھول گئی کہ بیوروکریٹ اورجج سارے بھی ادھر ہی ہوں گے۔)لیکن میرا قبرستان کون سا ہے؟ نانا، ماموں ،خالائیں اور پھپھو تو مرادوال میں ہیں۔دادااورتایااور چاچو ہریا میں۔نانی دادی، قاسم اورخالہ منڈی کے بڑے قبرستان میں ہیں۔میں کن کے ساتھ رہوں گی؟ مرادوال تو ننھیالی گاؤں ہے بھلا کوئی ننھیال میں بھی دفن ہوتاہے۔ددھیالی گاؤں میں تواب کوئی رہتانہیں ۔تایاکی قبر گم ہوگئی تھی تو ابو کتنی وحشت سے پھرتے رہے کچھ دن۔
منڈی والا قبرستان تو بہت گھنے درختوں والاہے لیکن نانی کے ساتھ قاسم ہے، جگہ نہیں ملے گی۔قبرستان پکی قبروں سے بھرتاچلاجارہاہے۔ہائے پھر میں کہاں دفن ہوں گی۔میں تو اسلام آباداورپنڈی رہتی ہوں۔لیکن یہاں تو مقامی لوگ دفن ہوتے ہیں۔یہاں کون آئے گا مجھ پر فاتحہ پڑھنے۔فاصلے رکھنے والا شہر ہے یہ تو۔میرا تو قبرستان ہی کوئی نہیں۔میں صدمے سے روپڑی۔زبیر بے چارہ میراسر اپنے سینے سے لگا کر چپ کرواتارہتا۔
اچھاجہاں کہو گی وہیں دفن کردوں گا تمہیں۔
وہ اس سٹیج سے بھی گزرآیاتھاجہاں میری موت کاذکراسے خوفزدہ کرتا تھا۔مرنے کی اتنی کوششیں میں اس کے ہوتے ہوئے کرچکی تھی کہ وہ بھی بے حس ہوگیا۔بعض اوقات صاف کہہ دیتا تم شوق پوراکرلومرنے کا۔
یہ جنگ صرف قبرستان کی لوکیشن پر نہیں رکتی تھی، اسے مینواور بعدازموت رسومات پر بھی ڈھیرساری کنفرمیشنز چاہییں تھیں۔ کھانے میں کیابنے گا اور کیا وہ میرے مرنے پرروئے گا جیسے سوالات ہماری روزمرہ ٹیلی فونک اور بالمشافہ گفتگو کاموضوع رہتے۔ انھی دنوں میں نے اپنے فیس بک وغیرہ کے پاسورڈ اس سے شیئر کیے اور اپنے زیورات کی تقسیم بارے وصیت بھی دہراتی رہی۔
لیکن تدفین چونکہ ایک مشکل امرتھااور ابدتک کے لیے جائے قیام تھی سو یہ ایک بارہا اور ہرزاویے سے زیربحث رہنے والا موضوع بنی رہی۔اس کااصراررہاکہ وہ مجھے اپنے قبرستان میں دفن کرے گااور مجھے وحشت لاحق رہی کہ نہیں وہاں نہیں۔میں ان زندوں سے متاثر نہیں تھی پھر مُردوں سے متاثر کیسے ہوجاتی۔لیکن دفن ہونے کی کوئی دوگززمین مجھے قبول بھی تو نہیں ہورہی تھی۔کسی زمین اس کے مُردوں کواپنانا ایک وحشت انگیزخیال تھا۔بھلے وہ مکہ ہی کیوں نہ ہو۔اورپھر 2019 کے 27 مارچ نے جیسے سارے مسئلے حل کردیے۔اگرچہ اسے حل ہونے میں بھی دوتین سال لگ گئے۔ ایک اورادھوری لاش کے لوتھڑے نالی میں اور نشان دل ودماغ میں بن گئے تو وحشت پہلے سے سواہوگئی۔ زمین کاایک ٹکڑا میرے باپ کاآخری مسکن بن گیاتو میرے دل کی دیواریں ہی نہیں چھت بھی ڈھے گئی۔ کتنی مدت مجھے اپنی موت اورادھورے خواب تویاد ہی نہ رہے۔یادتھاتو بس ایک پورا، جس کے ہونے سے میں تھی، میراپوراکنبہ ہی نہیں میری دنیااورمیری ہستی کایقین بھی تھا۔ جس کی چراغوں جیسی آنکھوں اور روشن دماغ ڈھانپ دینے والی مٹی میراسب سے بڑاخوف بن گئی۔ موت کوواحد راستہ سمجھنے والی اپنی موت کی شائق اور باپ کی موت سے منکر ہی نہیں خداسے لڑنے بیٹھ گئی۔تین کامل سال کبھی باپ سے بے وقت مرجانے کی لڑائی، کبھی خدا سے چیختی چلاتی احتجاج کرتی ہوئی مٹی کی اس ڈھیری سے آج بھی گریزاں جوزندگی کی سب سے بڑی حقیقت بن کر گھر کے کتنے قریب موجود ہے۔جسے نظراندازکیے ہوئے میں اس شہرکے چپے چپے پر با پ کے نشان ڈھونڈتی رہتی ہوں لیکن نہیں جاتی تواس مٹی کی ڈھیری کو نہیں جاتی۔ وہ مٹی میرے دل کاسب سے بڑازخم بن گئی جورستاہی رہتاہے۔لیکن اسی مٹی نے میرامسئلہ حل بھی کردیا۔مجھے معلوم ہوگیاکہ میراقبرستان کون سا ہے۔

زبیر مجھے میرے ابو کے پاس دفن کرنا میں صرف وہاں خوش رہوں گی۔ میرے ابومجھے سمجھتے ہیں، ان کے ساتھ میں تاقیامت باتیں کرسکتی ہوں اورمجھے زیرزمین بھی وحشت نہیں ہوگی۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں