محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ایک ایسا نام ہے جو بول کر یا سن کر مسرت اور دکھ جیسے دونوں جذبات کیفیت پر طاری ہو جاتے ہیں۔ مسرت اور خوشی اس لیے کہ سن کر فخر محسوس ہوتا ہے اس بیٹی پر جس نے اپنے والد شہید ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار کے ایوانوں سے لیکر جیل کی کالی کوٹھری تک جاتے دیکھا جنہوں نے کم عمری میں بھٹو صاحب سے سیاست سیکھی خاموشی سے انکے ساتھ رہ کر انکے نظریے کو ان کی سوچ کو اپنے اندر سمو لیا۔اور پھر جب بے رحم وقت کے ہاتھوں ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کر دیا گیا تو ایک نہتی، کمزور اور کمسن لڑکی ہو کر بھی کس بہادری دلیری کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا۔ اسیری کے دنوں میں بھٹو صاحب نے محترمہ بے نظیر کو لکھا کہ آپ تب تک اپنی مٹی کا دفاع نہیں کر سکتے جب تک اسکی مہک سے واقف نہ ہوں-
شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد محترمہ مٹی کی محبت میں روٹی، کپڑا، مکان مانگ رہا ہے ہر انسان کا نعرہ لیکر عوام میں اتریں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 21 جون 1978 کو اپنی بیٹی بے نظیر بھٹو کو سالگرہ کے موقع پرمیری سب سے زیادہ پیاری بیٹی کے عنوان سے خط لکھا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بے نظیر بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں قید میں ہوں اور اپنی بیٹی کو کیا تحفہ دے سکتا ہوں-میں تمہیں تحفہ تک نہیں دے سکتا لیکن عوام کا ہاتھ تحفے میں دیتا ہوں- بھٹو نے بیٹی کو مخاطب کیا اور کہا کہ دادا اور دادی نے مجھے فخر اور غربت کی سیاست سکھائی جو میں اب تک تھامے ہوئے ہوں- میں تمہیں پیغام دیتا ہوں کہ صرف عوام پر یقین رکھو اور ان کی فلاح کے لیے کام کرو اور جنت تمہاری والدہ کے قدموں تلے ہے-زندگی محبت کاملہ ہے، فطرت کی ہر خوبصورتی کے ساتھ اظہار عشق کیا جاتا ہے، مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ یا پس وپیش نہیں ہے کہ میرا سب سے زیادہ جذباتی عشق اور جذبات خیز یاجسم میں جھرجھری پیدا کردینے والا رومانس عوام کے ساتھ رہا ہے، سیاست اور عوام کے درمیان کبھی نہ ختم ہونے والی شادی ہوئی ہے، یہی وجہ ہے کہ آدمی ایک سیاسی جانور ہے اور ریاست یا مملکت ایک سیاسی تھیٹر ہے- اللہ تعالیٰ کی جنت تمہاری والدہ کے قدموں تلے ہے سیاست کی جنت عوام کے قدموں تلے ہے، ، میں بیس سال سے زیادہ ہنگامہ خیز برسوں سے اس سٹیج پر رہا ہوں، مجھے یقین ہے کہ مجھے اب بھی کوئی رول ادا کرنا ہے، مجھے یقین ہے کہ لوگ اب بھی چاہتے ہیں کہ میں سیاست کے سٹیج پر رہوں، لیکن اگر مجبوراً مجھے سیاسی سٹیج سے علیحدہ رہنا پڑا تو میں تمہیں اپنے احساسات کا تحفہ دیتا ہوں میرے مقابلے میں تم زیادہ بہتر طور پر جنگ لڑ سکو گی، تمہاری تقریریں میری تقریروں سے زیادہ فصیح وبلیغ ہوں گی عوام کے ساتھ تمہاری وابستگی مساوی طورپر مکمل ہوگی تمہاری جدوجہد میں زیادہ تو انائی اور جوانی کا جوش ہوگا، تمہارے اقدامات زیادہ جرائت مندانہ ہوں گے میں اس انتہائی مقدس مشن کی برکتیں تمہیں منتقل کرتا ہوں صرف یہی تحفہ میں تمہاری پیدائش کی سالگرہ پر دے سکتا ہوں۔
1988 میں بینظیر بھٹو کو انسانی حقوق کی خدمات پر BRUND KROISKY ایوارڈ سے نوازا گیا – 1989 میں لبرل انٹرنیشنل ادارے نےایس فریڈم ایوارڈ دیا ۔1989 میں ریڈ کلف کی طرف سے PHIBEFA ایوارڈ دیا گیا۔مراکش کا سب سے بڑا GRAND CORDON DE WISSAL ALAOUI ایوارڈ 1989 مں دیا گیا -انیس سو پچانوے 1995 میں لاس اینجلس امریکہ کے میر کی طرف سے سے شہر کی اعزازی چابی محترمہ بینظیر بھٹو کو دی گئی-THE GALLU SHUIN HONORARY AWARD ٹوکیو میں 1996 میں دیا گیا۔ 1990 ميں یونی فحیم کی طرف سے THE NOVEL FOUNDATION AWARD دیا گیا۔
1996 میں بوسینا کے صدر کی طرف سے GOLDEN MEDAL DRAGON OF BOSNIA AWARD دیا گیا۔
اکسفورڈ یونین کی پہلی خاتون پاکستانی سٹوڈنٹ جس نے یہ اعزاز 1976 میں حاصل کیا۔گینیز بک آف دی ورلڈ کارڈ 1996 میں بینظیر بھٹو کو دنیا کی پہلی 50 اہم خواتین میں شامل کیا گیا۔
اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم اور دنیا کی سب سے کم عمر وزیر اعظم 35 سال کی عمر میں وزیراعظم
1993 اور 1996 میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں 20 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری جو کہ پچھلے چالیس سال کا ریکارڈ توڑ دیا ۔
بینظیر بھٹو واقعی ہی چاروں صوبوں کی زنجیر وفاق کی علامت تھی روشنی کی کرن تھی ا-پنی شہادت سے صرف چند روز پہلے بےنظیر بھٹو نے کہا کہ گیدڑ کی طرح ڈر کر لمبی عمر حاصل کرنے کی بجائے شیر کی کی طرح سینہ تان کا آگے پڑھتے ہوئے جان دینا میرے لیے باعث فخر ہوگا بینظیر کی شہادت پاکستان کے بہت بڑے المیوں میں سے ایک ہے- اپنے باپ کے پھانسی گھاٹ سے کوئی دو کلومیٹر دور بھٹو کی بیٹی کو شہید کر دیا گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہادت کا رتبہ پانے کے بعد ایک افسانوی کردار کی شکل اختیار کر گئی –
محترمہ بینظیر بھٹو روزانہ اپنے قاتلوں کو للکارتی تھی -قاتلوں کو اپنی بندوق کی طاقت پر اسے اپنی قربانی کی طاقت پر ناز تھا۔ بھٹوز ظلم کو نہیں مانتے – بینظیر بھٹو کی 54 سالہ زندگی کے ابتدائی 24 سال چھوڑ کر کر باقی تیس سالوں میں دو مرتبہ کا اقتدار کے سوا سیاسی اور ذاتی دکھوں کی تسلسل ہی ہے مجموعی طور پر اسے ایک دکھ بھری زندگی کہا جاسکتا ہے ہے جسں نے اپنے ملک اور اپنی عوام کے لیے لئے قربانی دی۔
بینظیر بھٹو نہ صرف بے نظیر لیڈر ایک دانشور بھی تھیں انہوں نے مختلف کتب لکھیں
بینظیر بھٹو نے جو کتب لکھیں ان کے نام
1-دی گیدرنگ سٹارم 1983 the gathering Storm
2-ڈاٹر آف ڈیسٹنی 1988 daughter of destiny
3-ڈاٹر آف ایسٹ 1989 daughter of East
4-
Reconciliation: Islam, Democracy, and the west
15 February 2008
بی بی شہید کی سیاست اور انداز سیاست کی بات بھی نرالی تھی وہ آج بھی مقبولیت کے اس درجے پر ہیں جہاں تک پہنچنے میں طویل مسافت طے کرنا پڑتی ہے۔ آج بھی پاکستانی سیاست بھٹوز کے انداز سیاست کے گرد گھوم رہی ہے-
-لیکن وہ ایک بہادر قوم پرست باپ کی بہادر قوم پرست انتہاہی نڈر بیٹی تھی-
محترمہ نے زندگی میں بہت عروج و زوال دیکھا نے ایک مختلف زندگی گزاری ہے محترمہ نے اپنے ہاتھوں سے اپنے پچاس سالہ باپ کی اور دو جواں سال بھائیوں کی تدفین کی۔
دنیا کا کوہی مذہب کوہی قانون کوہی عدالت بیٹی کو باپ سے گلے ملنے سے نیہں روکتی ۔ لیکن یزید ابن یزید کنیز زینب کو اپنے باپ سے ملنے سے منکر ہے ۔ کنیز زینب بےبس بے آسرا ہوہی۔ لیکن اس بےبس بے آسرا کنیز زینب پاکستان کے محکوم اور پسے ہوہے لوگوں کی ولولہ اننگیز قیادت کرتے ہوہے دو دفعہ پاکستان کی خدمت کرنے کے وزیر اعظم بنتی ہے-بینظیر بھٹو پاکستان کے میزائل پروگرام کی بانی.معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے کہا ہے کہ ایٹمی قوت کا سہرا ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام کا آغاز بینظیر بھٹو کے دور میں ہوا ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ ذوالفقارعلی بھٹو بہت بڑے محب وطن تھے،ایٹمی قوت کا سہرا ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے جنہوں نے مجھ جیسے نوجوان پر بھروسہ کیا۔ ہم نے ایٹم بم پر 1974 میں اور میزائل ٹیکنالوجی پر کام بینظیر بھٹو کے دور میں شروع کیا اور کم وسائل کے باوجود ملک کو ایٹمی اور میزائل قوت بنایا۔ بینظیر بھٹو نے 1989 میں میزائل ٹیکنالوجی کے پروگرام کا آغاز کیا جس نے مختصر رینج میزائل تیار کیے جو اس ٹیکنالوجی پر بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی نہیں کرتے.
بینظیر بھٹو نے 1993 میں، جب وہ پاکستان کے وزیر اعظم کے طور پر شمالی کوریا جا رہے تھے تو، پاکستانی سائنسدانوں نے ملک کے ایٹمی اور میزائل پروگراموں پر کام کرنے سے کہا کہ وہ شمالی کوریا کے میزائل میزائلوں کے بلیو پرنٹس لے آئیں .اپنی جان پر کھیل کر۔ کیونکہ بینظیر بھٹو کے جہاز میں یہ بلیو پرنٹس تھے۔ اس جہاز کو میزائل سے گرانے کا بہت زیادہ اندیشہ تھا۔ لیکن وہ ایک بہادر قوم پرست باپ کی بہادر قوم پرست انتہاہی نڈر بیٹی تھی
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں