بھائی عاشق حسین بہت پیارے آدمی تھے۔ یاروں کے یار، دوست پرور اور مہمان نواز۔ ہر وقت ان کے گھر ہم دوستوں کا جھمگٹا رہتا۔ انہیں بزم آرائی کا بہت شوق تھا اور اللہ نے دل اور دسترخوان دونوں بڑے وسیع دئیے تھے۔ یہی حال ان کی بیگم ناہید باجی کا تھا اور وہ تو ان سے بھی دو ہاتھ آگے تھیں۔ دراصل بھائی عاشق سے تعلق بھی ناہید باجی کی وجہ سے ہی تھا۔ ناہید باجی کا تعلق کراچی سے تھا، بلکہ ہماری برادری سے تھیں ، چناں چہ دورپار کا رشتہ بھی تھا۔
ناہید باجی کے پہلے شوہر کا انتقال ہوگیا تھا۔ اب وہ دوبئی میں ایک بنک میں ملازمت کرتی تھیں۔ اللہ جانے کن مراحل کے بعد ان کی شادی عاشق بھائی سے ہوگئی جو پہلے سے ہی شادی شدہ تھے۔ عاشق بھائی تھے تو میرٹھ کے لیکن ان کا گھرانا بمبئی میں آباد تھا۔البتہ عاشق بھائی اپنی اماں اور دوبھائیوں سمیت دوبئی میں رہتے تھے۔ پہلی بیگم بمبئی میں ہی تھیں۔ کبھی کبھار دوبئی آجاتیں لیکن انہیں دوبئی زیادہ پسند نہیں تھا۔ بمبئی میں وہ ناگپاڑے میں رہتی تھیں اور وہاں جیسی گہما گہمی کی عادی تھیں۔ دوبئی میں ان کا جی نہیں لگتا۔ پھر یہاں ان کی سوت بھی تھیں۔ بمبئی میں ان کی اپنی حکومت تھی۔
جیسا میں نے پہلے بتایا، ناہید باجی اور بھائی عاشق کا دسترخوان بہت وسیع تھا۔ ہم دوستوں کی شام وہیں گذرتی اور وہ اصرار کرکے ہمیں کھانے پر بٹھا لیتے۔ کھانے کے بعد بھی رات دیر تک چائے، سگریٹ کا دور چلتا رہتا۔ وی سی آر پر فلم چلتی رہتی اور دنیا جہان کی باتیں ہوتی رہتیں جن میں سرِفہرست کرکٹ اور فلمیں تھیں۔ عاشق بھائی کو پاکستانی معاملات کا بھی اتنا ہی علم تھا جتنا ہندوستانی حالات و واقعات کا۔ دراصل ہم دوستوں کی اکثریت پاکستانی تھی، کچھ انڈین بھی تھے لیکن زیادہ تر باتیں پاکستان کی ہی ہوتیں۔ یہ تمام دوست مسلمان تھے۔
اب اتنے اچھے آدمی کی غیبت تو کوئی اچھی بات نہیں۔ اور یہ غیبت ہے کہاں ؟ یہ تو ان کی ایک عادت کا ذکر ہے۔ اور یہ عادت بھی کسی خاص نیٌت سے نہیں تھی، بس عادت یا فطرت کہہ لیں۔ اور یہ معصوم سی عادت یہ تھی کہ وہ ہمیشہ حزبِ اختلاف میں رہتے تھے۔ کسی کی بات کی تائید کرنا ان کے مسلک میں حرام تھا۔ سادہ سی بات میں بھی اختلاف کا پہلو نکال لیتے۔ مثلاً کوئی کہتا کہ آج کا دن بہت اچھا جارہا ہے تو وہ فورا کہہ اٹھتے “ دن ابھی رہا کہاں، دو بج گئے اب تو شام شروع ہوگئی ہے” ۔ یا اگر کوئی کہے کہ آج موسم بڑا اچھا ہے، گرمی کم ہے اور ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے۔ عاشق بھائی کا تبصرہ ہوگا کہ “ یہی موسم ہے جو بیمار کرتا ہے”۔ غرض انہوں نے کوئی نہ کوئی اختلافی نوٹ ضرور دینا ہوتا تھا۔
کسی بات پر مولانا احتشام الحق تھانوی کا ذکر نکل آیا۔ کسی نے ان کی خطابت کی تعریف کردی، ساتھ ہی یاد دلایا کہ رمضان میں ان کی دعا کتنی رقٌت آمیز ہوتی تھی۔ بھائی عاشق نے مولانا کو نہ کبھی دیکھا، نہ سنا۔ بس ایک بات کہیں سے سن رکھی تھی فوراً ناقدانہ انداز میں بولے “ لیکن ان کے بارے میں سنا ہے کہ سرکاری مولوی تھے اور عید کی نماز پڑھاتے تھے”۔ اب کوئی پوچھے کہ بھلا خطابت اور دعا کا عید کی نماز پڑھانے سے کیا لینا دینا۔ اور عید کی نماز پڑھانے میں کیا برائی تھی۔ بس عاشق بھائی عادت سے مجبور تھے، ہر بات کا منفی پہلو ڈھونڈ نکالتے۔
پاکستانی فلموں کی بات ہورہی تھی۔ میں نے کہا کہ رومانی گانوں کی فلمبندی اور رقص جیسا وحید مراد کرتا تھا ویسا پاک و ہند میں کوئی نہیں دیکھا۔عاشق بھائی نے فورا تیر چلایا “ میاں ابھی آپ نے جتیندرا کو نہیں دیکھا”۔ جتیندرا یا کوئی اور ضرور وحید مراد سے اچھا ہوگا لیکن کیا ضروری ہے کہ دوسرے کی بات کا رد ہی کیا جائے۔ بندہ کبھی جی رکھنے کے لئے ہاں میں ہاں ملا دیتا ہے۔ لیکن بھائی کو قسم تھی کسی کی بات کی تائید کرنے کی۔ بولنے والے ان کے سامنے کوئی بات کہہ کر امید کرتے کے شاید آج کچھ موافق بات کرجائیں، لیکن بھائی عادت سے مجبور تھے۔
ہمارے ایک دوست نے ان کا نام “کیِڑُو” رکھ چھوڑا تھا۔ پوچھا کہ ابے اس کا کیا مطلب ہے تو بولا “ یار وہ ہر بات میں کیڑے نکالتے ہیں۔ آپ بریانی کی تعریف کریں وہ پلاؤ کا علم بلند کردیں گے۔ کسی نے صابر کی نہاری کی تعریف کردی وہ فورا بمبئی کے “گلشنِ ایران” ریسورنٹ کا “ بٹر چکن “ نکال لائے۔ اب آپ خود ہی کہیے جی جلے گا یا نہیں۔ کہاں نہاری اور کہاں بٹر چکن ؟۔ ان کی غیر جوجودگی میں ہم سب بھی انہیں “ کیِڑُو” ہی پکارںے لگے۔
یہ وہ دن تھے جب شارجہ کے کرکٹ میچوں کا شور رہتا تھا۔ میانداد کے تاریخی چھکٌے کے بعد پھر ہندوستان ، پاکستان کےمیچوں میں پاکستان کا پلہ بھاری رہنے لگا۔ خلافِ توقع بھائی عاشق بھی بہت عرصے جاوید میانداد، عمران خان ، وسیم اکرم وغیرہ کے دل دادہ رہے۔ البتہ دوسرے کی بات کی الٹ بات کرنے کی عادت اب بھی نہ چھوڑی۔ لیکن اب یاروں نے ان سے سیدھی بات کہلوانے کی ترکیب ڈھونڈ نکالی۔
عاشق بھائی ہندوستانی تھے اور کرکٹ میں ہندوستان کی حمایت کرنا ان کا حق بنتا تھا۔ اس میں کوئی غلط بات بھی نہیں تھی۔ کسی ٹورنامنٹ کا فائنل تھا جو پاکستان اور ہندوستان کے مابین تھا۔ دوبئی شارجہ میں ایسے دنوں میں بڑے تناؤ کی کیفیت رہتی۔ ہندوستانی ، پاکستانی ایک دوسرے سے کھنچے کھنچے سے رہتے۔ بات بے بات لڑنے مرنے کی نوبت آجاتی، آنکھوں میں ایک دوسرے کے لئے خون اترا ہوا ہوتا۔
ہم حسب معمول شام کو عاشق بھائی کے ہاں جمع ہوتے اور حالات حاضرہ پر ان کی رائے سنتے۔ اب اگر اگلے دن کے فائنل کے بارے میں ان سے پوچھا جاتاتو یقینا وہ بھارت کے حق میں فیصلہ دیتے۔ لیکن ہم نے اس کی تدبیر سوچ رکھی تھی۔
کھانے کے بعد ہم سب ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔ ایک پاکستانی بھائی نے بڑے ماہرانہ انداز میں کہا “ کل پاکستان کا چانس نہیں ہے، اس بار انڈیا بہت تگڑی ہے۔ پاکستان کو کھاجائے گی۔ کیا خیال عاشق بھائی” انہوں نے بھائی عاشق سے تائید چاہی۔
“ اماں کیا بات کر رہے ہو ؟ “ بھائی عاشق گویا ہوئے۔ پھر انہوں نے ایک ایک ہندوستانی اور پاکستانی کھلاڑی کا موازنہ کرکے ثابت کیا کہ پاکستانی ٹیم بہتر ہے اور کل وہی جیتے گی۔ یہی ہم سب بھی کہنا چاہتے تھے لیکن اس کے الٹ سن کر اپنا موڈ خراب کرنا نہیں چاہتے تھے۔ اس بار ہم نے ٹیڑھی انگلی سے گھی بالکل صحیح نکلوایا تھا۔
بھائی عاشق دراصل یوں یاد آئے کہ میں نے فیس بک پر لکھنا شروع کیا تو زیادہ تر دوست وہ تھے جومیری ہاں میں ہاں ملاتے تھے۔ خوگرِ حمد اب گلہ سننے کا عادی نہیں رہا تھا۔ بہت سے دوست تو غلو کی حد تک تعریف کرجاتے جس سے کوفت زیادہ ہوتی، لطف کم آتا۔البتہ کچھ ایسے بھی تھے جو بڑی شائستگی سے اختلاف کرتے۔ بہت سے نفیس اور نستعلیق دوست بڑی شرافت سے ان باکس یا واٹس اپ پر غلطیوں کی نشاندہی کرتے۔ کچھ وہیں پوسٹ پر بڑے سلجھے ہوئے طریقے سے اپنی بات کہتے اور میرے علم میں اضافہ ہوتا۔ میرے دوست بہت باعلم اور جہاندیدہ ہیں۔ ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے اور میں ان سب کا بہت شکر گذار رہتا ہوں اور بہت احترام کرتا ہوں اور ان کے علم و فضل کا اعتراف بر ملاء کرتا ہوں اور جب کبھی یہ میری کسی غلطی کی نشاندہی کرتے ہیں میں ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس غلطی کو درست کرتا ہوں اور ان سے درخواست کرتا ہوں کہ اب دیکھ لیں کہ یہ بات اس طرح درست ہے یا نہیں۔ اور یہ ایک دو نہیں کئی ہیں جن میں میرے ہندوستانی احباب بھی شامل ہیں جن کی میں دل سے عزت کرتا ہوں۔
جہاں یہ قابل قدر دوست حلقہ احباب میں شامل ہیں وہیں کچھ “ کیڑو” بھی ہیں ۔ یہ بہت زیادہ نہیں ، دو ایک ہی ہیں لیکن ہمیشہ “حزب اختلاف” میں شامل رہتے ہیں۔ ان کا مقصد بات بے بات تنقید ہی کرتے رہنا ہے۔ میں دن کہوں تو یہ رات کی بات کرینگے۔ میں سفید کہوں گا تو یہ سیاہ ڈھونڈ نکالیں گے۔
ایسے ہی ایک صاحب کراچی کے تھے جو بہت ہی کثیر المطالعہ اور باعلم تھے۔ بہت بہترین اور اعلٰی درجے کے شاعر تھے۔ مجھ سے بڑی محبت سے پیش آتے اور میری تحاریر کی کھل کر تعریف کرتے۔ ایسے حضرات کی ستائش میرے لئے سند کا درجہ رکھتی ہیں۔
پھر نجانے انہیں کیا ہوگیا۔ تحریر پر تنقید اور اغلاط کی نشاندہی تو سمجھ میں آتی ہے، انہیں میری ذات سے شکایت ہوںے لگی۔ ہر بات میں کیڑے نکالنے لگے۔ ایک دن یکے بعد دیگرے تین مقامات پر جہاں میں موجود نہیں تھا میرا نام لے کر ہرزہ سرائی کرتے رہے جو ان کے مقام و مرتبہ سے بہت نیچے کی چیز تھی۔ میری طبیعت بے حد منٌغض ہوئی اور میں نے بد مزہ ہوکر انہیں خاموشی سے حلقہ احباب سے خارج کردیا۔ انہیں بھی اس کا علم ہوگیا۔ اب دیگر احباب سے شکایت بھی کرتے اور درخواست بھی کرتے کہ انہیں دوستوں میں شامل کرلوں۔ سچ تو یہ ہے کہ مجھے بھی ان سے ، ان بولا، کرکے کوئی خوشی نہیں ہوئی تھی۔ میں نے ہی ان سے معافی مانگ کر دوبارہ دوستوں کی فہرست میں شامل کرلیا۔ کچھ عرصہ بعد انہیں پھر کوئی شکایت پیدا ہوگئی جس کا مجھے آج تک علم نہ ہوسکا۔ اس بار انہوں نے مجھے “ان فرینڈ” کردیا جس کا مجھے ذرا بھی قلق نہیں ہوا نہ میں نے دوبارہ ان سے تعلق استوار کرنے کی کوشش کی۔ یہ درست ہے کہ بقول یوسفی صاحب ، میں بڑے لوگوں کے سامنے دم دبائے رہتا ہوں، لیکن اب اتنا گیا گذرا بھی نہیں ہوں کہ انہیں اپنی دم پر پیر رکھ کر گذر جانے کی اجازت دوں۔
اب یہ صاحبانِ حزب اختلاف کم رہ گئے ہیں، لیکن اب بھی چند ایک ہی ہیں لیکن میں انہیں نہ صرف برداشت کرتا ہوں بلکہ ان کے اس “کیڑو پن” کا لطف لیتا ہوں۔ ۔۔۔ایسے لوگ لاعلاج ہوتے ہیں کہ ان میں کوئی “ مینوفیکچرنگ فالٹ “ہوتا ہے، ان سے در گذر ہی بہتر ہے۔
وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں