تھپڑ سے ڈر نہیں لگتا صاحب۔۔۔۔سلیم مرزا

گنج ایک سائنسی بیماری ہے اور بڑھاپا ایک سیاسی مرض، دونوں میں کوئی قدر مشترک نہیں، بوڑھا ہونے کیلئے گنجا ہونا ضروری ہے، مگر گنجے کیلئے عمر کی کوئی حد نہیں ہوتی، جن لوگوں کو زمینی حالات کا ادراک نہیں، وہ مجھے بھی گنجا ہی سمجھتے ہیں،
میں گنجا نہیں ہوں، بس بالوں کی کمی کا شکار ہوں،میرے سر پہ تیس فیصد بال ہیں، باقی سر سورج سے توانائی براہ راست لیتا ہے، جس سے ٹنڈ اور عقل روشن رہتی ہے،زمین کی بقا کا انحصار بھی اس ستر فیصد پہ ہے جہاں زمین نہیں ہے،گنجا اور مغل ہونا میرے لئے ہمیشہ باعث فخر رہا ہے،لاہور کا خالی قلعہ اور میرا خالی سر اجداد کی نشانیاں ہیں،شکر ہے میں بوڑھا نہیں ہوں، بڑھاپا نری سیاست ہے،
آپ سب کچھ سن کر بھی مکر سکتے ہو کہ میں نے کچھ سنا نہیں، اور سب کچھ کہہ کر انکار کر سکتے ہو کہ “اچھا، یہ میں نے کہا تھا؟ ”
اب فریق ثانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ثابت کرے،بڑے گھرانوں میں ایسے بابے انہی سیاسی کاموں کیلئے سنبھال کر رکھے جاتے ہیں،کسی سے اچھا رشتہ، اباجی کی خواہش بتا کر مانگ لیا جاتا ہے اور کسی رشتے دار کو انکار کرنا ہو تو “اباجی، نہیں مانتے “کہہ کر انکار بھی کیا جاتا ہے، ان ہر دو صورتوں میں اباجی سے قسم لے لیں جو انہیں پتہ بھی ہو کہ اسد عمر کو انکار کیوں ہوا؟ اور حفیظ شیخ کی منگنی کب، کہاں کس نے طے کی۔

بوڑھے اپنے خبطی پن میں ایسی ایسی وارداتیں کر جاتے ہیں کہ خود ان کو بھی اندازہ نہیں ہوتا، اپنے بچپن کے نائی سے اپنے بیٹے کو ملوایا تو اس نے میری “مختونیت “کی داستاں سنانا شروع کردی،اور بالخصوص ان جھانپڑوں کا ذکر بھی کیا جو میری آہ  و بکا پہ مجھے مارے گئے،میں اتناہی شرمندہ ہوا جتنی وزارت اطلاعات، سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت سے ہونے والی ہے ۔
ایسے بابے کچھ بھی نہیں چھپا سکتے، اب اگر کسی نے بتادیا کہ زمین میں سیدھا ڈرل کیا جائے تو جرمنی سے کیا جانے والا سوراخ جاپان کی تنی میں جا نکلے گا تو بضد ہوجاتے ہیں کہ جاپان اور جرمنی “گوانڈی “ہیں۔۔اور تو اور ان کے معدوں میں انڈسٹریل زون بھی قائم ہے۔

اب وزارت سائنس نے اس بیان کو لاکھ سنبھالا دیا کہ نہیں بابا جی سے غلطی نہیں ہوئی واقعی پڑوسی تھے دوسری جنگ عظیم میں امریکی ایٹمی حملے کی وجہ سے جاپان سمندر میں بہہ گیا تھا،کسی سترے، بہترے بابے کی اور چائنہ کے مال کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی، دونوں ہومیوپیتھک ہوتے ہیں،نہ نفع، نہ نقصان۔۔۔
مگر ان کے انکشافات گھر والوں کو پریشان اور “شریکے “کو حیران ضرور کرتے ہیں، اب ہم لاکھ بہانے کرلیں کہ بابا جی کو بات کرتے پتہ نہیں چلتا، ان کی عمر کا “تنازع  “ہے، لیکن جاپان بضد  ہوگیا ہے کہ انگلینڈکے نکلتے ہی اسے یورپی یونین میں شامل کیا جائے۔

ادھر جرمنی ناراض ہے کہ اندرکھاتے اگر ایک خفیہ مشترکہ صنعتی زون قائم کر ہی لیا تھا تواسے دنیا کو بتانے کی کیا ضرورت تھی،جیسے اپنے گورنر صاحب پانی کیلئے امریکہ میں فنڈ ریزنگ کر رہے ہیں،مجال ہے جو اس نیکی کی تشہیر کی ہو،نظر لگ جاتی ہے، جیسے ڈیم فنڈ کو لگ گئی تھی،اپوزیشن تو ہوتی ہی جاہل ہے، بلاول کو ہی لے لیں، بلکہ نہ لیں۔۔۔۔۔اتنا بدتمیز ہے کہ باپ کی عمر سے بڑے بزرگ سیاستدان کو اسمبلی کے فلور پہ سیدھا جاہل ہی کہہ دیا،اور سیاستدان بھی اتنا تجربے کار کہ بائیس سال سیاست میں صرف اتنا جان سکا کہ حکومت میں ایک صدر بھی ہوتا ہے،اور وہ راولپنڈی صدر  ہے۔

خاں صاحب کے ویژن سے انکار ممکن ہی نہیں، وہ جس نگاہ سے دنیا اور حالات کا جائزہ لیتے ہیں، کوئی نارمل انسان اتنی گہرائی تک سوچ بھی نہیں سکتا، وہ ایک انٹرنیشنل لیڈر ہیں، پاکستانی معیشت کو آٹھ ماہ میں جس سطح پہ لائے ہیں، یہ انہی سے ممکن تھا، اور تو اور ایران گئے تو جن چار ممالک کیساتھ ایرانیوں کی تجارت چل  رہی تھی، وہ بھی بند کروا آئے،اب ایران ہماری طرح ترقی کی اس راہ پہ چل نکلا ہے،جس کا خود ہمیں بھی اندازہ نہیں،دہشت گردی پہ ان کے بیانات پہ مجھے تبصرہ نہیں کرنا،میں تو ابھی اپنے نائی سے بچپن کے تھپڑوں کا حساب نہیں لے سکا۔

یہ نا ہو کہ وہی کچھ میرے ساتھ دوبارہ ہوجائے،وہ کیا کہا تھا سوناکشی نے
تھپڑ سے ڈر نہیں لگتا صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس لئے عمران جانے، ایران جانے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *