“ہم چراغ جلانے پر یقین رکھتے ہیں، مگر اندھیروں سے سمجھوتہ نہیں کرتے۔” دنیا کے جغرافیے پر ایک دائرہ ہے، جو بظاہر اسلامی دنیا کہلاتا ہے، مگر حقیقت میں وہ ایک ایسا زخم ہے جس کے کنارے ایک دوسرے سے الگ ہو چکے ہیں، اور جس کا مرہم اجتماعی بےحسی کے نمک سے تیار کیا گیا ہے۔ یہی وہ دنیا ہے، جو کبھی مروّجہ خلافتوں کے تاج پہن کر قرطبہ، بغداد، قاہرہ، اور دہلی کو علم و عمل کا مرکز بنایا کرتی تھی؛ جہاں قلم اور تلوار ایک دوسرے کے معاون تھے، اور محرابیں و منبر، لشکروں سے زیادہ باوقار۔ مگر آج وہی امت، مفادات کے خیموں میں بٹی، غیرت کے لباس سے عاری، اور فیصلوں کے حق سے محروم ہو چکی ہے۔
آج، واشنگٹن میں بننے والے فیصلے، مکہ و مدینہ کے مزاج پہ اثرانداز ہوتے ہیں۔ تل ابیب کی جارحیت، غزہ کے بچوں کے جسموں سے لہو کشید کرتی ہے؛ اور دوحہ، عمان، اور ریاض کے ایوان اس پر صرف تعزیتی بیانات کے مرہم رکھتے ہیں — وہ بھی اگر امریکہ کی اجازت ہو۔ وہ ایوان جن میں کبھی مردانِ کار کی آواز گونجتی تھی، آج وہاں سرد مصلحت کی دبیز چادر تنی ہے۔ وہ قومیں جو کل تک تاجروں کی بصیرت پر حکمراں کا فہم غالب رکھتی تھیں، آج وہی بازاروں میں اپنی عزت گروی رکھ کر اسرائیلی ٹیکنالوجی کی قسطیں ادا کرتی ہیں۔
پاکستان: وہ چراغ جو جلتا رہا
اس سنّاٹے میں اگر کہیں کوئی ضعیف مگر پُراثر آواز گونجی، تو وہ ایران اور پاکستان کی آوازیں تھیں اول الذکر متنازعہ جبکہ پاکستان غیرمتنازعہ. کل پاکستانی پارلیمنٹ میں وزیر دفاع خواجہ آصف کی تقریر، الفاظ کا نہیں، ضمیر کا احتجاج تھا۔ یہ محض ایک رکنِ اسمبلی کی آواز نہ تھی، بلکہ یہ ایک شکست خوردہ قافلے کے آخری درویش کا پکارنا تھا. للکارنا تھا. اسرائیل امریکہ تمام یورپ سمیت سعودی عرب یو اے ای سمیت تمام عرب کو براہ راست آنکھیں دیکھانے والی جرات تھی. پاکستان نے 1974 میں بھی اسلامی کانفرنس میں امت کو اکٹھا کرنے کا خواب دیکھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے صرف اجلاس بلایا نہیں، غفلت کی نیند سوئی امت کو خواب سے حقیقت میں لانے کی جسارت کی۔ زیڈ اے بھٹو نے ہی تو کہا: “ہم گھاس کھا لیں گے، مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔” یہ فقرہ کوئی معاشی منصوبہ بندی نہیں، بلکہ تاریخی مزاحمت کا منشور تھا۔مگر وہی بھٹو، امتِ مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کی عدالت میں پھانسی چڑھایا گیا، اور جن ہاتھوں نے یہ رسّی کھینچی، وہی ہاتھ آج اسلامی اخوت کی بوسیدہ قبروں پر تسبیح گراتے ہیں۔
جب ایران پر بم گرتے ہیں، تو وہ اسرائیلی طیارے کسی خلاء سے نہیں آتے — وہ کسی عرب زمین سے پرواز کرتے ہیں۔جب ایران انٹرنیشنل جیسے چینل اسرائیل کا بیانیہ دہراتے ہیں، تو وہ کسی انگریز کی گود میں نہیں، کسی خلیجی شہزادے کے محافظ سائے میں پرورش پاتے ہیں۔ یہ محض فوجی جارحیت نہیں، یہ ثقافتی، فکری، اور نفسیاتی قبضہ ہے — اور دل چسپ بات یہ کہ قابض بھی باہر سے نہیں، اندر سے ہے۔
جدلیات ہمیں سکھاتی ہے کہ ظلم تب تک طاقتور رہتا ہے جب تک مظلوم خاموش ہو۔ اسلامی دنیا کی موجودہ روش دراصل ایک بدعہدی ہے، نہ صرف مظلوموں کے ساتھ بلکہ تاریخ کے ساتھ بھی کیا ہم بھول گئے کہ اندلس کیسے گرا تھا؟ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو عرب ممالک نے نہیں، بلکہ ان کی خاموشی کے باوجود، خود ہماری غربت نے سونا بنایا. جب ہم نے ایٹم بم کی بنیاد رکھی اس وقت تو عربوں کے پاس تیل کی والی دولت بھی نہیں تھی.
آج، جب OIC نامی تنظیم ایک میٹنگ کال کرنے کی جرأت نہیں رکھتی، تب پاکستان کی وہ واحد پارلیمانی تقریر ایک اجتماعی لاش پر نوحہ نہیں، بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے عہد کی گونج ہے۔ کیا واقعی امت کوئی حقیقت ہے یا محض ایک نعرہ؟ کیا ہم اسلامی حمیت و جرات کے وارث ہیں یا کسی یورپی مفاد کے کارندے؟ کیا ہم غزہ کے معصوموں کی لاشوں پر معاہدے لکھنے والے ہیں یا ان کی قبر پر اذان دینے والے؟ اگر پاکستان آج بھی وہ واحد ریاست ہے جو جارحیت کے خلاف آواز بلند کرتی ہے، تو یہ فخر کا مقام ہے، مگر تنہائی کا بھی۔ کیونکہ “چراغ تنہا بھی جل سکتا ہے، مگر روشنی کے لیے جلنے والوں کا ساتھ چاہیے۔”
ایران کی پارلیمان میں گونجتی ایک بازگشت
قوموں کی زندگی میں بعض لمحے ایسے آتے ہیں جن کا ظہور ہنگامہ نہیں ہوتا، مگر اُن کی بازگشت صدیوں تک سنائی دیتی ہے۔ ایسی ہی کل ہفتے کے پہلے دن ایک گھڑی، جب تہران کی پارلیمان میں “پاکستان زندہ باد” کا نعرہ بلند ہوا۔ اُس ایک صدا نے نقشہِ وقت پر نہ صرف ایک لکیر کھینچی، بلکہ کئی خدوخال بھی مٹائے۔
یہ نعرہ ایک آواز نہ تھی، ایک اظہارِ وحدت تھا۔ ایک بازگشت تھی اُس اذان کی جو صدیوں سے خانقاہوں، منبروں، اور میدانوں میں گونجتی آئی ہے، کبھی اندلس کی مسجدِ قرطبہ سے، کبھی قونیہ کے مزار سے، اور کبھی شاہ ولی اللہ دہلوی کے حجرے سے۔
یہ نعرہ کسی سیاسی جماعت کی چال نہ تھا — یہ اُس تاریخی بے چینی کا ترجمہ تھا جو قوموں کی غیرت میں سانس لیتی ہے۔ جس وقت یہ نعرہ بلند ہوا، تو ایک لمحے کو یوں محسوس ہوا جیسے تاریخ نے خود مڑ کر دیکھا ہو، جیسے ماضی کے کسی پرانے مینار سے گرتی ہوئی گرد، حال کے ایوان میں جا بسی ہو۔
یہ محض تہران کی فضا میں گونجنے والا جملہ نہ تھا — یہ تو ضمیرِ مسلم کی دہلیز پر رکھا وہ پتھر تھا جس پر امت کا کوئی معمار اگر چاہے، تو پھر سے خلافت کی بنیاد اٹھا سکتا ہے۔ اور پھر، جب یہ آواز تل ابیب تک پہنچی، تو وہاں دیواریں بھی ٹوٹیں، خاموشی کا بانسری ساز پھٹ گیا. وہاں کسی میٹنگ کا ایجنڈا بھی بدلا گیا، اور سناٹا بھی بول اٹھا۔
یہ نعرہ اُن دارالحکومتوں کے لیے آزمائش تھا جہاں سجدے زمین پر ہوتے ہیں، مگر فیصلے واشنگٹن، پیرس یا ریاض میں طے پاتے ہیں۔ جہاں بظاہر عربی بولی جاتی ہے، مگر عبرانی سمجھی جاتی ہے۔ یہ نعرہ اُن ملکوں کے لیے تھا جو ایران کے ساتھ کھڑے ہونے سے ہچکچاتے ہیں کہ مبادا تصویر میں پاکستان بھی آ جائے۔
انہیں اندیشہ ہے، کہ کہیں اس غریب، مقروض، بوجھل مگر خوددار ملک کا سایہ اُن کے فائیو اسٹار اسلام پر نہ پڑ جائے. جو قالینوں پر بچھایا گیا ہے اور قرطاسِ معاہدات میں لپٹا ہوا ہے۔ پاکستان نے جب یہ نعرہ سنوایا، تو دنیا نے صرف آواز نہیں سنی — دنیا نے یادداشت کی گٹھڑی کھولی۔ اس گٹھڑی میں تاریخ کے کچھ ورق تھے، جن پر خون سے لکھا تھا: “ہم زنده قوم ہیں، پائنده قوم ہیں۔” تل ابیب اس لیے لرز اٹھا کہ وہ جانتے ہیں جس ملک کی معیشت کمزور ہو
مگر ضمیر قوی ہو، وہ خاموشی سے تاریخ کا رُخ موڑ سکتا ہے۔
پاکستان زندہ باد — یہ نعرہ ایک ملک کا نام نہیں،
یہ ایک دورِ متروک کا استعارہ ہے، جسے استعمار نے دفن کیا،
اور غیرت نے زندہ رکھا۔ اس لمحے، ایران کی پارلیمان صرف ایک ایوان نہ رہی، وہ دارالقرارِ امت بن گئی — جہاں ایک بکھری ہوئی شناخت نے خود کو ایک اور نام میں پہچانا۔ یہ لمحہ ایک اذان کی مانند تھا جو مسجد کے بغیر دی گئی،
نماز کے بغیر ادا ہوئی، اور پھر بھی عرش پر سنی گئی۔
جب تاریخ کے کسی پُرعزم خطے میں ایک ناتواں ملک کی جرأت گونجتی ہے، تو استعمار کی نیند حرام ہو جاتی ہے. یہی سبب ہے کہ یہ نعرہ میز پر نہیں بولا گیا، یہ نعرہ تلوار کی نیام سے نکلا — اور تل ابیب کے ستونوں کو ہلا گیا۔ یہ وطن جو اپنے آپ سے بھی قرضدار ہے، جب ضمیر کا سود چکاتا ہے تو بینک بیلنس لرزنے لگتے ہیں.
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں