جنگی صورتحال بہرحال ایک انسانی المیہ ہے لیکن یاد رہے کہ اسی دنیا میں کشتی کے روپ میں ابابیل بھی موجود ہے۔ یہ ابابیل گونگی ہوتی ہے لیکن تاریخ میں یہی امر ہوتی ہے کیونکہ یہ سمجھتی ہے کہ مجھ سے صرف میرے کردار کے بارے میں سوال ہو گا! فرقہ وارانہ عینک سے دیکھنے کی بجائے اسے انسانیت کی بقا کی نظر سے دیکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ بہرحال امن جو کانچ کی چینک کے مانند ہے کی حفاظت بہت ضروری ہے۔ فتنہ یعنی بری و بحری و آبی و فضائی فساد قتل سے بڑھ کر ہے: الفتنة اشد من القتل کی رو سے یہی صادر آتا ہے۔ جو لوگ حق سچ کے ساتھ ہیں انھیں کسی مخصوص رنگ و روغن کی ضرورت نہیں ہوتی وہ کسی بھی مذہب و ملت کا حصہ ہو سکتے ہیں۔۔
لہذا میری خام خیالی کے مطابق دو طبقے ہیں وہ جو امن کے خواہاں ہیں اور وہ جو جنگ و جدل و وسائل کی غیر عادلانہ و منصفانہ تقسیم جن کا خاصہ ہے لیکن بہرحال باطل کے سامنے حق کی آواز ایک تاریخی دستاویز ہے۔ یہ باطل پسند باگڑ بلوں کا وطیرہ رہا ہے وہ دنیا کو اپنے قانون پہ چلانے کے خواہش مند ہیں اور جن کا جمہوریت رائے دہی رائے عامہ و دیگر پڑھی لکھی باتوں سے دور دور کا تعلق نہیں ہے۔ مذاہب بذات خود بھی امن کے خواہاں ہیں اور جہاں انسانوں کی مداخلت یا مفسر کا مخل ہونے کی وجہ سے کمی و بیشی ہے اس پہ کنسٹرکٹو ڈائلاگ ہو سکتا ہے اور بہتری کی گنجائش بہرحال موجود رہتی ہے اور صرف اسی فتنے کے ڈر سے اور بوجہ امن و سلامتی کی کانچ کی قینتلی محفوظ رہے محض مدافعتی نظام متعارف کرواتے ہیں (اب جنگل کے قانون میں یہ تو ہوگا) وگرنہ پڑوس کے حقوق یا گھر داری یا زبان و ادب کی حفاظت یا لا یعنیت سے بچنا یا جامع مربوط عملی با معنی زندگی کی تلاش یہی مذاہب اور تہذیبیں اور سائنسی و سماجی و فلاحی و فلسفیانہ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے۔
ایک بہتر انسان وہی ہے جو روحانی، اخلاقی، معاشرتی، جسمانی، نفسیاتی، سماجی، سیاسی، اور فلسفیانہ ضروریات کا خیال رکھتا ہے۔ دنیا کی سلامتی مردوں نے داؤ پہ لگا رکھی ہے شاید حکمرانی خواتین کو سپرد کی جائے تو وہ بہتر راستے نکال سکتی ہیں۔
مزید برآں نئی نسل کو چاہیے کہ طرح طرح کے ٹریپس سے جان چھڑا کر مستقبل کی پرواہ کریں یہی برتر ہے۔ یہ تمام جنگیں تبھی ختم ہو سکتی ہیں جب نوجوان نسل انتقامی کارروائیوں سے نکل کر بہتر مستقبل کی پرواہ کرے گی وگرنہ نئی نسل بھی نفرت کے بیج سے بنے کریلے چباتی رہے گی! ان المیوں سے جان چھڑائیں اور خاندانی قبائلی علاقائی و دیگر سو کالڈ پہچان سے آزاد رہیں اور اشرافیہ کا حصہ ہوتے ہوئے بھی اگر ضروری ہے چونکہ بہرحال یہ جکڑ لیتے ہیں حتی الامکان سو کالڈ معیارات کی نفی کریں اور بہتر معیارات بنانے میں اپنا کردار ادا کریں!

They brought displeasure, proxies, complexities, and warfare. So far is the worst we’ve seen! Our women should hold authority. They can manage well, hopefully! Secondly, the new generations aren’t supposed to protect the ancestral legacies for nothing. Instead, they should search for meaning there and appreciate what is supposed to be appreciated! They need to go for some futuristic approaches based on their thoughts and assumptions! At least a try! And then they should allow the next ones to go for even more productive ones to let the evolutionary process go in a smooth manner! How they see, smell, taste, listen, perceive, and then how they produce, construct, and manufacture! They need to see next in the light of what is left behind (if necessary). Say no to Trumpism!
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں