ایران اب بھی پراکسی وار کھیلے گا؟-آغر ندیم سحر

ایران نے سرخ جھنڈا بھی لہرا دیا،خامنہ ای نے جنگی انگوٹھی بھی پہن لی،ببانگ دہل جنگ کا اعلان بھی کر دیا۔چلو ٹھیک اے ،اب آگے کیا ارادہ ہے۔

کیا اب بھی صرف پراکسی وار ہی لڑنی ہے یا پھر اپنے دفاعی نظام کو مضبوط کرنا ہے،جنگوں میں دھمکی نہیں کارروائی اہم ہوتی ہے اور وہ کرنے کی سکت فی الوقت ایران کے پاس نہیں ہے۔

میں تو اسر ا ئیل ٹائمز کی رپورٹ سن کر حیران ہو رہا ہوں کہ ایران پر حملہ،ایران کے اندر سے کیا گیا۔اسرا ئیل نے ساری منصوبہ بندی اور یہاں تک کہ جو میزائل داغے،وہ بھی ایران کے اندر سے داغے۔اسرا ئیل یہ منصوبہ بندی کئی سال سے کر رہا تھا،سینکڑوں افراد ایران کے اندر موجود تھے جو بنیادی طور پر موساد کے ایجنٹ تھے،ایرانی دفاعی تنصیبات کی اطلاع بھی ان ایجنٹوں کے ذریعے پہنچتی رہی یعنی مطلب یہ کہ ایران کے اندر صیہونی فوج تیار ہو رہی تھی اور ایران مسلکی و مذہبی جنگ میں اپنے ہم خیال گروپ تیار کرنے میں مصروف تھا۔

ایران نے جتنی دولت مسلک کے نام پر دوسرے ممالک میں اپنے گروپس تیار کرنے میں صرف کی،جتنی فنڈنگ اس جنگ میں ضائع کی،وہ اسے اپنے دفاعی نظام پر خرچ کرنی چاہیے تھی۔

ممکن ہے میرے دوست اس بات سے نالاں ہوں کہ میں اس موقع پر ایسی باتیں کیوں کر رہا ہوں تو دوستو! یہ حقیقت ہے کہ دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی کی جنگ میں مصروف ہے اور ایران اس وقت بھی کسی اور دنیا کا سوچ رہا تھا۔ٹھیک ہے مسلک اور مذہب اہم ہونا چاہیے مگر ملکی دفاع مسلک کی ترویج سے مضبوط نہیں ہوتا۔

آپ دنیا بھر میں اپنے عقیدے کے لوگ تیار کرتے رہے،آپ کو چاہیے تھا کہ آپ اپنے لیے ایسے لوگ تیار کرتے جو سرحدوں پر لڑ سکتے،ایسے لوگ تیار کرتے جو سائنس اور ٹیکنالوجی میں دنیا میں نام بناتے،آپ اپنی ایجنسی کو مضبوط کرتے اور اس میں ایسے لوگ بھرتی کرتے ہو واقعی محب وطن ہوتے مگر آپ تو اتنا بھی نہ جان سکے کہ آپ کے گھر میں دشمن تیار ہو رہا تھا،حملے کی پوری تیاری آپ کے گھر میں ہوئی۔آپ کا آرمی چیف اور ایٹمی سائنسدان تک نہ بچ سکا،آپ اب بھی دھمکی دے رہے ہیں۔

میں نے صبح بھی پوسٹ کی کہ ایران پر حملہ ایک گھناؤنا کھیل ہے اور ہماری پوری ہمدردی ایران کے ساتھ ہے کیوں کہ جنگیں کبھی بھی بہتر نہیں ہوتیں،امن ہی واحد چڑیا ہے جس معاشی دنیا مضبوط ہوتی ہے مگر ایران کا دفاعی نظام اتنا کمزور ہے،یہ جان کا حیرانی بھی ہوئی اور دکھ بھی۔

اب مشرقِ وسطیٰ (سعودی عرب،متحدہ عرب امارات،قطر،کویت،بحرین،عمان،یمن،ایراق،اردن،شام،لبنان سمیت ترکی اور مصر) کے لیے امتحان کی گھڑی ہے،ان ممالک کو اس جنگ اپنا بنیادی کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ اب سوال عربوں کی بقا کا بھی ہے اور ایک مسلم ملک کی سلامتی کا بھی۔

مزید برآں اردن اور سعودی عرب ایرانی ڈرون گرا کر اسرا ئیل کی بھرپور مدد بھی کر رہے ہیں اور زبانی کلامی اسرائیل کی مذمت بھی۔اردن اور سعودی عرب کا نام ایک ساتھ لکھا تو یاد آیا کہ خلافت عثمانیہ کے آخری گورنر حجاز، اور پہلے غدار، سید شریف حسین نے ترکوں سے غداری کی بنیاد پر انگریزوں سے حجاز کا معاہدہ حاصل کیا تھا لیکن انگریزوں کے ہی دوسرے وفادار اور وہابی تحریک کے حامی آل سعود نے اسے شکست دے کر گرفتار کر لیا۔ بعد میں اس کی اولاد کو اردن کا علاقہ دے کر اردن کا بادشاہ بنا دیا گیا۔آج اسی شریف حسین کی اولاد، اپنے پڑدادا کو حجاز سے نکالنے والے عبد العزیز آل سعود کی اولاد کے ساتھ مل کر، انگریزوں کے بناۓ ہوۓ اسر ائیل کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔

اگر یمن اور ایران کی بارڈر اسر ا ئیل کے ساتھ لگی ہوتی تو جنگ کے نتائج مختلف ہو سکتے تھے لیکن ان دونوں اور اسرائیل کے درمیان موجود ہزاروں میل کا فاصلہ اسرا ئیل کو ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ایران پر فوقیت دے رہا ہے،ساتھ ہی اسرا ئیل کی مالی اور تزویراتی مدد کے لئے اس کے عرب دوست بھی موجود ہیں۔

آج مجھے جمہوریت کی اہمیت کا شدید احساس ہو رہا ہے۔ انگریزوں کی دی ہوئی بادشاہت نے جس طرح عربوں کو اسرائیل کے قدموں میں بٹھا رکھا ہے ایسی ضمیر فروشی صرف بادشاہت کی بقا کے لئے ہی ہو سکتی ہے نا کہ جمہوریت میں، جہاں اقتدار عارضی اور ذلت ابدی ہو جاتی ہے۔

پاکستان جیسا غریب ملک 8 ارب ڈالر کے بجٹ میں جدید جنگی ہتھیار، میزائل اور ایٹم بم بنا کر بیٹھا ہوا ہے اور سعودی عرب نے صرف ٹرمپ کے حالیہ دورے میں 150 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے کیے ہیں۔ در اصل یہ اربوں ڈالر صرف بھتہ ہیں جس کا مقصد خلافت عثمانیہ کے غدار خاندانوں کی شخصی بادشاہت کو جاری رکھنا ہے۔

پاکستان نے آج جیسے اسمبلی کے اندر اس حملے کی کھل کر مذمت کی اور اسرا ئیل کے وجود کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا،کاش ایسا ہی دبنگ اعلان ایران بھی کرتا جب پاکستان پر بھارتی جنگ مسلط کی گئی،اس وقت ایران نے ثالثی کی بات ضرور کی تھی مگر اس نے اس طرح دبنگ کوئی بھی پیغام نہیں دیا تھا۔

julia rana solicitors london

خیر میں ذاتی طور پر اس حملے کی بھرپور مذمت کرتا ہوں اور ایران کی سلامتی کے لیے دعاگو ہوں،یہ مشورہ بھی ایران کے لیے ہے کہ اسے اب اپنا قبلہ درست کر لینا چاہیے کیونکہ اس کے بعد شاید (خدانخواستہ) اسے سوچنے کا بھی موقع نہ ملے۔

Facebook Comments

آغر ندیم سحر
تعارف آغر ندیم سحر کا تعلق منڈی بہاءالدین سے ہے۔گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔آپ مختلف قومی اخبارات و جرائد میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔گزشتہ تین سال سے روزنامہ نئی بات کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہیں۔گورنمنٹ کینٹ کالج فار بوائز،لاہور کینٹ میں بطور استاد شعبہ اردو اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اس سے قبل بھی کئی اہم ترین تعلیمی اداروں میں بطور استاد اہنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔معروف علمی دانش گاہ اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم اے جبکہ گورنمنٹ کالج و یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم فل ادبیات کی ڈگری حاصل کی۔۔2012 میں آپ کا پہلا شعری مجموعہ لوح_ادراک شائع ہوا جبکہ 2013 میں ایک کہانیوں کا انتخاب چھپا۔2017 میں آپ کی مزاحمتی شاعری پر آسیہ جبیں نامی طالبہ نے یونیورسٹی آف لاہور نے ایم فل اردو کا تحقیقی مقالہ لکھا۔۔پندرہ قومی و بین الاقوامی اردو کانفرنسوں میں بطور مندوب شرکت کی اور اپنے تحقیق مقالہ جات پیش کیے۔ملک بھر کی ادبی تنظیموں کی طرف سے پچاس سے زائد علمی و ادبی ایوارڈز حاصل کیے۔2017 میں آپ کو"برین آف منڈی بہاؤالدین"کا ایوارڈ بھی دیا گیا جبکہ اس سے قبل 2012 میں آپ کو مضمون نگاری میں وزارتی ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔۔۔آپ مکالمہ کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہو گئے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply