• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • اسرائیل ایران جنگ ! اب کیا ہو گا/رضوان ظفر گورمانی

اسرائیل ایران جنگ ! اب کیا ہو گا/رضوان ظفر گورمانی

اسرائیل طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کو اپنی قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے، جو اس کے وجود کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ نطنز کی جوہری تنصیبات، جو یورینیم کی افزودگی کے لیے استعمال ہوتی ہیں، اسرائیل کے لیے اہم ہدف ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے “آپریشن رائزنگ لائین” کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ ایران کے جوہری خطرے کو کم کرنے کے لیے کیا گیا۔

ایران نے یکم اکتوبر 2024 کو اسرائیل پر 200 بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا تھا، جسے “آپریشن ٹرو پرامس 2” کا نام دیا گیا۔ ایران نے اسے حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ، حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ، اور پاسداران انقلاب کے جنرل عباس نیلفروشان کے قتل کا بدلہ قرار دیا۔
اسرائیل نے ان حملوں کے جواب میں جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی، اور نطنز پر حملہ اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان شام، لبنان، اور غزہ میں پراکسی تنازعات جاری ہیں۔ ایران حزب اللہ، حماس، اور دیگر ملیشیا گروہوں کو مالی اور عسکری امداد فراہم کرتا ہے، جو اسرائیل کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔
اسرائیل ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، خاص طور پر لبنان میں حزب اللہ کی کمزوری کے بعد، جسے اسرائیل نے حالیہ حملوں میں شدید نقصان پہنچایا۔

اسرائیل کے اقدامات اکثر امریکی حمایت سے مشروط ہوتے ہیں۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے اشارہ دیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ممکنہ حملوں کی نوعیت پر سمجھوتہ کر چکے ہیں، اگرچہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے خلاف تھے۔
امریکی سینیٹر ٹیڈ کروز نے نطنز پر حملے کو ایران کے جوہری خطرے کے خاتمے کے لیے ضروری قرار دیا۔
ٹرمپ گو نیتن یاہو کے لیے کوئی زیادہ نرم گوشہ نہیں رکھتے مگر اس کے باوجود وہ اسرائیل پہ زیادہ دباؤ نہیں ڈالیں گے۔

اسرائیل کے ایران پر حملے کے نتائج علاقائی اور عالمی سطح پر سنگین ہو سکتے ہیں ہمارے پاکستانی تو زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں لیکن غیرجذباتی آنکھ سے دیکھیں تو علاقائی جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے

ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے حملوں کا سخت جواب دے گا۔ اگر ایران جوابی حملے کرتا ہے، تو یہ تنازع لبنان، شام، اور خلیج فارس تک پھیل سکتا ہے۔
ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا سکتی ہے، جو عالمی تیل کی 20 فیصد ترسیل کو متاثر کر سکتی ہے۔

اگر اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو ایران کے جوہری پروگرام کو شدید دھچکا لگے گا۔ تاہم، ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنی جوہری تنصیبات کو محفوظ کر لیا ہے، جس سے جوابی کارروائی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ حملے ایٹمی جنگ کے خدشات کو بڑھا سکتے ہیں۔

ایران کی تیل کی تنصیبات یا خلیج فارس میں خلل سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو عالمی معیشت کو متاثر کرے گا۔
عالمی طاقتیں، جیسے کہ امریکہ، چین، اور روس، اس تنازع کو روکنے میں ناکام رہی ہیں، جس سے عالمی عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔

خلیجی عرب ریاستیں، جن میں سے کچھ کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں، ایران کے دباؤ میں آ سکتی ہیں۔ ایران نے انہیں خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود اسرائیل کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
حزب اللہ اور دیگر ایران کی حمایت یافتہ گروہ اسرائیل کے خلاف نئے محاذ کھول سکتے ہیں، اگرچہ حزب اللہ کی حالیہ کمزوری اس کی صلاحیت کو محدود کر سکتی ہے۔

ایران کا ردعمل اس حملے کی شدت اور نقصان کی نوعیت پر منحصر ہوگا۔ ممکنہ ایرانی ردعمل براہ راست حملے کی صورت میں ہو سکتا ہے
ایران اسرائیل پر دوبارہ بیلسٹک میزائل یا ڈرون حملے کر سکتا ہے، جیسا کہ اس نے اپریل اور اکتوبر 2024 میں کیا۔
ایران کی وزارت خارجہ نے نطنز پر حملے کو “غیر قانونی” قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔

julia rana solicitors london

ایران لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثیوں، یا عراق میں ملیشیا گروہوں کے ذریعے اسرائیل یا اس کے اتحادیوں پر حملے کر سکتا ہے۔
تاہم، حزب اللہ کی حالیہ کمزوری اس آپشن کو محدود کر سکتی ہے۔
ایران اسرائیل کے انفراسٹرکچر پر سائبر حملے کر سکتا ہے کیونکہ اسرائیل کا دفاعی نظام اس حوالے سے کمزور سمجھا جاتا ہے۔ایران عالمی برادری سے اسرائیل کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ایران اپنی تیل کی برآمدات کو عالمی منڈیوں میں ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔اگر نقصان محدود ہو، تو ایران سفارتی دباؤ یا مذاکرات کے ذریعے ردعمل ظاہر کر سکتا ہے، جیسا کہ اس نے اگست 2024 میں اسماعیل ہنیہ کے قتل کے بعد کیا تھا۔مگر موجودہ صورت حال کی سنجیدگی کے پیش نظر ایسا ہونا محال ہے۔
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے ماضی میں کشیدگی کم کرنے کی بات کی ہے، ممکن تھا کہ مستقبل قریب میں وہ درمیان کا راستہ نکال لیتا لیکن اب داخلی اور بیرونی صورت حال اسے سخت اور شدید ردعمل پر مجبور کر سکتا ہے۔
اسرائیل کا ایران پر حملہ، خاص طور پر نطنز کی جوہری تنصیبات پر، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو عروج پر لے جا سکتا ہے۔ اس کے نتائج علاقائی جنگ سے لے کر عالمی معیشت پر اثرات تک وسیع ہو سکتے ہیں۔ ایران کا ردعمل اس کی داخلی سیاست، عسکری صلاحیت، اور عالمی دباؤ پر منحصر ہوگا۔ عالمی برادری، خاص طور پر امریکہ اور یورپ، اس تنازع کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن فی الحال صورتحال غیر یقینی اور خطرناک ہے

Facebook Comments

رضوان گورمانی
رضوان ظفر گورمانی سرائیکی وسیب سے تعلق رکھنے والے نوجوان صحافی ہیں روزنامہ خبریں سے بطور نامہ نگار منسلک ہیں روزنامہ جہان پاکستان میں ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply