حادثوں میں صرف جسم نہیں مرتے… وہاں خواب مرتے ہیں، خواہشیں راکھ ہوتی ہیں اور جیتی جاگتی دنیائیں پل بھر میں شہرِ خموشاں میں بدل جاتی ہیں۔
جو مرجاتے ہیں وہ تو ایک لمحے میں خاموش ہو جاتے ہیں لیکن پیچھے رہ جانے والے اُنکے پیاروں کے دلوں میں برسہا برس تک جدائی کے بین کا شور گونجتا رہتا ہے۔
مجھے حادثوں کے بعد پیش آنے والے المیوں کی قہرسامانی کا بخوبی تجربہ ہے(مگر یہ کہانی پھر سہی)
زندگی کی سانسیں جب صرف
” تیس سیکنڈ” کے وقفے میں معلق ہو جائیں تب اس مختصر وقت میں انسان صرف جان بچانے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ اپنے اندر کی ٹوٹی ہوئی دنیا کو بھی سمیٹنے کی کوشش کرتا ہے۔
کبھی کبھی زندگی اور موت کے بیچ صرف ایک ہچکولہ ہوتا ہے ایک جھٹکا ایک چیخ یا ایک جھماکے دار روشنی… اور پھر ہر شے خاموش ،ساکت جامد۔۔۔۔قیامت
یہ 22 مئی 2020 ہے !!
کراچی کی فضا میں ایک مسافر طیارہ گرتا ہے۔پاکستان ائیر لائن کی پرواز PK‑8303 جو لاہور سے اڑان بھرتی ہے اور اپنی منزل پر پہنچنے سے ذرا دیر پہلے زمین بوس ہو جاتی ہے۔
آج 12 جون 2025 ہے۔۔
احمدآباد بھارت میں ایک اور مسافر طیارہ زمین سے آ ٹکرایا۔.. ائیر انڈیا کی پرواز AI‑171 جسے لندن جانا تھا پرواز کے “تیس سیکنڈ” بعد ہی مٹی میں مل گئی۔
دونوں سانحات میں بہت کچھ حیران کُن اور دردناک مشترکات ہیں۔۔
مگر سب سے حیران کُن مماثلت یہ تھی کہ تباہ ہونے والے دونوں طیاروں میں صرف ایک ایک شخص معجزاتی طور پر زندہ بچ گیا۔
ایک طرف سیٹ 1C پر بیٹھے پاکستان کے ظفر مسعود ( بینک آف پنجاب کے سی او ظفر مسعود ایک ممتاز ادبی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد منور سعید، ٹی وی اداکار ،نانا تقی امروہی جنگ اخبار کے چیف ایڈیٹر رہے۔ رئیس امروہی اور جون ایلیا جیسے مشہور و معروف قدآور شخصیات انکی فیملی کا حصہ رہیں )
اور
دوسری طرف بھارت کے نوجوان وِشواش کمار جو سیٹ 11A پر بیٹھا اپنی زندگی کا دوسرا جنم لے رہا تھا۔
ظفر مسعود اپنی خودنوشت” Seat 1C” میں لکھتے ہیں ۔۔
” جب زندگی کا کھیل اختتام کو پہنچنے کو تھا، میرے بچپن جوانی اور عمر کے تمام گزرے ہوئے لمحے کسی فلم کی مانند آنکھوں کے سامنے سے گزرنے لگے۔
اُسی لمحے میں نے خود سے باتیں شروع کیں نہیں ! دراصل میں اپنے رب سے ہمکلام ہو گیا ۔۔
“شاید اب سب کچھ تمام ہونے کو ہے…”
مگر عجیب سی روشنی تھی، دل میں ایک احساس کہ میں بچ جاؤں گا۔
مجھے یقین تھا کہ میرا رب مجھے یوں فنا نہیں کرے گا وہ میرے والدین کو یہ صدمہ نہیں دے گا۔
اور پھر…
اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک ناقابلِ یقین معجزے کے ذریعے زندگی عطا فرما دی۔
“جہاں میں اپنی سیٹ سمیت گرا تھا، وہ مقام بھی شعلوں کی لپیٹ میں آنے کو تھا۔
مگر وہی لمحہ تھا جب ریسکیو اہلکاروں نے مجھے تلاش کیا، میری سانس باقی تھی اور مجھے ملبے سے نکال لیا گیا”
مجھ سے لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ موت کے بعد کیا ہوتا ہے؟
مگر کوئی یہ نہیں جانتا کہ موت سے عین پہلے کے تیس سیکنڈ پہلے کیا ہوتا ہے
میں اُن خوش نصیبوں میں سے ہوں جو موت کے دہانے سے لوٹے اور ان “تیس سیکنڈز ” کی کہانی سنانے والے بنے۔
اسی طرح وِشواش نے ہسپتال کے بستر پر پڑے بتایا!
“جہاز ہچکولے کھا رہا تھا، پھر ایک دھماکہ ہوا… اور ہر طرف لاشیں تھیں۔ میں اُٹھا اور دوڑا۔ ۔۔مجھے نہیں پتا میں کیسے بچ گیا بس… میں بچ گیا۔”
یہ “بس میں بچ گیا”… شاید انسانی تاریخ کا سب سے عجیب اور گہرا جملہ ہے۔..
کبھی سوچا ہے !!
موت سے پہلے کے تیس سیکنڈ کیسے ہوتے ہیں؟
یہ “تیس سیکنڈز” نہ قومیت پوچھتے ہیں نہ مذہب نہ سرحد۔۔۔
بس ذہن میں ایک ہی سوال ہوتا ہے
” کیا میں بچ جاؤں گا”
ظفر نے اپنے رب کو پکارا وِشواش نے زمین کو چھوا اور دونوں نے زندگی کو نئے زاویے سے دیکھا۔
مگر باقی
باقی وہ جو بچ نہ سکے؟؟
وہ بچے، وہ عورتیں، وہ طلبا، وہ خاندان…
جو صرف اس لیے نہ بچ سکے کہ موت نے اُن کے لیے وہ “تیس سیکنڈز ” مہلت نہ رکھی تھی۔
ہم نے پھر ایک بار دیکھا کہ آسمان جب زمین سے ٹکراتا ہے تو صرف جہاز نہیں گرتے صرف اجل کا پرندہ نہیں اُترتا انسانیت یا مر جاتی ہے یا زندہ ہوجاتی ہے۔۔۔جیسے آج ہمسایہ ملک میں موت آئی مگر انسانیت پاکستان میں زندہ ہوئی ۔۔ہر پاکستانی غمزدہ ہے افسوس میں ہے۔۔
مگر یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ
موت خواہ جنگ میں ہو یا حادثے میں اسکا درد ایک جیسا ہوتا ہے۔۔
گل ساج فقیر کہتا ہے
“جنگ میں مرنے والے بھی افسوس اور دکھ کے اتنے ہی سزاوار ہیں جتنے کسی حادثے میں مرنے والے ”
آخر میں
ہم اپنے آپ سے سوال کرتے ہیں!!
“جب زندگی اپنا دامن جھاڑ کر تیس سیکنڈ کے فاصلے پر جا کھڑی ہوتی.

“تو ہم کیا کرتے “؟؟؟
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں