کامیکازی ڈرونز Kamikaze Drones جنہیں loitering Munitions بھی کہا جاتا ہے، ایسے خودکش ڈرونز ہوتے ہیں جو ایک مرتبہ ہدف پر چھوڑے جائیں تو یہ فضاء میں چکر لگاتے رہتے ہیں اور جیسے ہی مطلوبہ ٹارگٹ کی شناخت کر لیتے ہیں، سیدھا اس پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ ان میں کیمرہ، GPS اور بعض اوقات AI سسٹم نصب ہوتا ہے، جس کی مدد سے یہ خود بخود ہدف کو تلاش اور نشانہ بنا سکتے ہیں۔ حملے کے بعد یہ ڈرون خود تباہ ہو جاتا ہے، اسی لیے انہیں “خودکش” کہا جاتا ہے۔
روس-یوکرین جنگ میں Kamikaze Drones کا استعمال بہت نمایاں رہا ہے، خصوصاً Shahed-136 نامی ایرانی ساختہ ڈرونز کو روس نے یوکرین کے شہروں، پاور گرڈز، اور ملٹری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا۔ یوکرین نے بھی امریکی Switchblade Drones سے جوابی حملے کیے۔ ان ڈرونز کی بدولت کم خرچ میں زیادہ نقصان پہنچانے کی صلاحیت حاصل ہوئی، اور جنگ کا توازن بڑی حد تک تبدیل ہوتا رہا اور طرفین ٹیکٹیکل ایج حاصل کرتے رہے.
یہ ڈرونز جدید جنگ کا مستقبل بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ مہنگے جنگی طیاروں یا میزائلوں کی نسبت یہ سستے اور آسانی سے قابلِ فراہمی ہوتے ہیں۔ چھوٹے Kamikaze Drones کو انفرادی فوجی بھی استعمال کر سکتے ہیں، اور بڑی تعداد میں لانچ کر کے دشمن کی دفاعی لائن کو مفلوج کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح Asymmetric Warfare کے لیے یہ ایک مؤثر ہتھیار بن چکے ہیں۔
یہ ڈرونز صرف روایتی جنگی حکمتِ عملی کو ہی نہیں بلکہ جنگی حکمتِ عملی Rules of Engagement اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز کو بھی چیلنج کر رہے ہیں۔ اب میدانِ جنگ میں دشمن کا سپاہی یا ٹینک نہیں بلکہ اس کا مواصلاتی نظام، ریڈار، یا فیلڈ کمانڈر بھی براہ راست نشانے پر آ سکتا ہے، وہ بھی بغیر کسی پائلٹ یا فوجی کے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ Kamikaze Drones جنگ کو “Low-risk, High-impact” بناتے ہیں، جہاں حملہ آور کو جانی نقصان کا خطرہ نہیں لیکن دفاع کرنے والے کے لیے ہر مقام ایک ممکنہ ہدف بن جاتا ہے۔ اس نے دفاع کو نہایت پیچیدہ اور مہنگا جبکہ حملے کو سستا اور موثر بنا دیا ہے۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف Kamikaze Drone Technology میں خود کفالت حاصل کرے بلکہ اس کے خلاف مؤثر دفاعی نظام بھی تیار کرے۔ Electronic Warfare, Anti-Drone Jammers, اور Counter-UAV Systems جیسے شعبوں میں فوری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دفاعی اداروں، جامعات اور پرائیویٹ سیکٹر کے درمیان مضبوط کوآرڈینیشن سے مقامی ٹیکنالوجی ڈیولپ کی جا سکتی ہے۔
آخر میں، یہ کہنا بجا ہو گا کہ Kamikaze Drones صرف ایک ہتھیار نہیں بلکہ جنگ کے تصور کو بدلنے والی ٹیکنالوجی ہیں۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف خریدار نہ بنے بلکہ اس میدان میں اختراعی قوت (innovative power) کے طور پر اُبھر کر مستقبل کی جنگوں میں مؤثر حربی قوت کا حامل ملک بنے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں