بے بال و پَر کو پَر ملے /ڈاکٹر اظہر وحید

نعت ایسے موضوع پر لکھنا، بولنا اور یہاں تک کہ سوچنا، ایک سرمایہِ سعادت ہے— ایک کارِ گراں مایہ ہے — اور اس کارِ گراں مایہ میں شامل ہونا دراصل خود کو مقصدِ تخلیقِ کائنات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ ڈاکٹر مسعود اقبال ساجد کی کتاب “اسماء المحسنیٰؐ” ایک مجموعہِ نعت بھی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ اسماء النبیﷺ کی منظوم تشریح بھی۔ اس میں 146 اسماء النبیﷺ کا انتخاب کیا گیا ہے، اور ہر اسم آپؐ کی جس صفتِ حسنہ کا بیان ہے، اس موضوع پر نعت قلم بند کی گئی ہے۔ گویا یہ ایک سو چھیالیس 146 موضوعاتِ سیرت ہیں جن پر نعت کہی گئی ہے۔ یہ ایک الگ نوعیت کا تجربہ ہے، جو قابلِ توصیف بھی ہے اور قابلِ تقلید بھی۔
اس مجموعہِ نعت پر لکھنا اور بولنا، ڈاکٹر صاحب پر کوئی احسان نہیں ، اگر یہ احسان ہے تو اس رب پر ”احسان“ ہے جس نے ہم پر ایک احسانِ عظیم جتلایا ہے: ”بیشک اللہ نے ایمان والوں پر بڑا احسان فرمایا جب ان میں ایک رسول مَبعوث فرمایا“— پھر اُس نے یہ بھی تو کہا ہے: هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ —” احسان کا بدلہ احسان کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے“۔ یہاں بھی انسان اسی کے احسان کا زیرِ بار رہا، کہ اُس نے توفیق دی تو نعت کہی گئی۔ اُس کا اِذن شامل حال ہوا، تو اُس کے محبوبﷺ کی توصیف میں خیال کو جنبش ہوئی، دل مضطرب ہوا اور قلم متحرک ہوا۔ سورۃ الرحمان میں جہاں ربِ رحمان نے احسان کی بات کی تو وہاں اگلی آیت میں یہ بھی فرمایا : فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ— ” اور تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت جھٹلاؤ گے“۔ یوں محسوس ہوا جیسے یہاں نعت کہنے والا اور سننے والا دونوں شامل ہیں۔ نعت کے مضمون میں فکر کا گم ہونا، فکر کو گہربار کرتا ہے۔ نعت میں قلم کا اٹھنا کارگہِ کُن میں کارگر ہونا ہے۔ ہم اللہ کے محبوبﷺ کی ذاتِ والا صفات پر درود وسلام بھیج کر خود کو اس کارِ عظیم میں شامل کرتے ہیں جس میں اللہ اور اس کے فرشتے ہمہ حال شامل ہیں—: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا —”بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں ۔ اے ایمان والو!اُن پر دُرود اور خوب سلام بھیجو“۔ ہم محقیقن کی اس بات سے مکمل اتفاق کرتے ہیں کہ سلام سے مراد نعت ہے۔
نعت کی ایک تعریف یہ بھی کی گئی ہے کہ نعت وہ تعریف ہے جس میں مبالغہ کیا جائے۔ مدح کے باب میں یہ مبالغہ کرنے کا ہنر ہے۔ اہلِ خرد اِس تعریف پر متعجب نہ ہوں۔ آپؐ کی تعریف و توصیف میں مبالغہ تو کیا، انصاف بھی نہیں ہو سکتا۔ درحقیقت آپؐ کی تعریف میں کبھی غلو نہیں ہوتا، کیونکہ آپؐ کا نام نامی ہی محمدؐ ہے— یعنی سب سے زیادہ تعریف کیا گیا۔ جس ذات کی تعریف وہ ذاتِ قدیم کرے جو سبحان ہے، ہر عیب سے پاک ہے— اور ہر صحیفے اور ہر کتاب میں کرے— اُس کی شان میں ایک حادث و فانی انسان کہاں تک بیان کر سکتا ہے۔ اس موضوع پر بھی غالبؔ کا خیال غالب رہا:
غالبؔ ثنائے خواجہؐ بہ یزداں گزاشتیم
کہ آن ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمدؐ است
نعت کو محض ایک صنفِ سخن کے طور پر ہی نہیں لینا چاہیے۔ غزل، نظم اور دیگر اصنافِ سخن میں کسی حد تک کاریگری بھی ہو سکتی ہیں، لیکن نعت کہنا کارِ دیگر ہے۔ یہ عطا ہے، اِذن ہے، فضل ہے، مالک الملک کی خاص مہربانی ہے۔ یہاں اوزان، بحور، ردیف اور پھر “واول” اور” کانسونینٹس” سے زیادہ جذبہ اور تعلق اہم ہوتے ہیں۔ معلوم نہیں، نعت ایسا مقدس گلدستہِ محبّت قابلِ تجزیہ ہے بھی یا نہیں— نعت لفظ سے زیادہ جذبہ ہےاور جذبہ اپنے اظہار کے بعد قابلِ تقسیم تو ہوسکتا ہے، قابلِ تجزیہ نہیں۔ ہمیں ناعت کے دل میں موجزن اُس جذبے کی بیکرانی میں کچھ سَمے بہہ کر لطف بھی لینا ہے—جس جذبے نے اس کے لیے زمان و مکان کے فاصلے ختم کر دیے ہیں۔ ہمیں نعت کہنے والے اُمتی کے اُس تعلق پر بھی ذرا دیر کے لیے غور کرنا ہے جس تعلق نے اُس کے جذبات کو لفظوں کا آہنگ عطا کیا ہے۔ ہمیں اُس خیال کی سُن گُن بھی لینی ہے جس نے کاغذی پیرھن اوڑھ رکھا ہے۔ نعت گو شاعر کی حوصلہ افزائی کے لیے اُس خیال کی پذیرائی از حد ضروری ہے جس سے تمسک نے اُسے ناعت بنایا ہے۔ لفظ کا لفظ سے ٹکراؤ شور پیدا کرتا ہے، خیال خیال کے جلو میں چلے تو جلترنگ بجتا ہے۔ بس اُسی جلترنگ کے مشتاق گوش، بے نیازِ ہوش، ایسی تقریبات کے بلاوے میں کھچے چلے آتے ہیں۔ نعت کے باب میں یہاں مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کا ایک پنجابی شعر ناعت کی بہت حوصلہ افزائی کرتا ہے:
جتھے نعت نبیؐ دی ہووے، اوتھے اُسؐ دا جلوہ
چھوٹی وڈی نعت نہ ہندی، پیش کرو جو سَر دا
آج کی تقریب میں اگرچہ ناعت ممدوحِ محفل ہے، لیکن اِس وقت ہم اپنے ممدوح کے ممدوح، یعنی ممدوحِ دو عالمؐ کی مدح میں کچھ بات کریں گے۔ یہ فقیر ”اسماء الحسنیٰؐ“ پر پہلے بھی کچھ تحریر کر چکا ہے، جو اِس کتاب کے تبصرات میں شامل ہے۔
معزز حاضرین و سامعین! انسان نے جب سے شعور کے اُس زاویے میں قدم رکھا ہے جو ورائے زمان و مکان امکانات پر بھی تفکر و تدبر کرتا ہے، دو موضوعات اُس کے اُفقِ شعور پر چھائے رہے: ایک یہ کہ اِس کائنات کی تخلیق کا مقصد کیا ہے؟ دوسرا یہ کہ خود اُس کی تخلیق کا مقصد کیا ہے؟ اسلام ایک دینِ فطرت ہے، تفکر و تدبر کی دعوت دیتا ہے۔ اِس لیے ہر فطری شعور میں پیدا ہونے والے سوال کا جواب یہاں موجود ہے، شرط تلاش کرنے کی ہے— شرط خود سے خود کو جدا کرنے کی ہے— یعنی اپنے مزاج اور مفاد سے خود کو جدا کرنے کی!
قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: وماخلقت الجن و الانس الا لیعبدون — ”ہم نے جنّوں اور انسانوں کو فقط اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے“۔ اب اگر عبادت پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کی غرض و غایت قربِ الٰہی ہے۔ قرب جسمانی و جغرافیائی نہیں، روحانی و معنوی ہوتا ہے۔ قرب بقدرِ معرفت ہوتا ہے اور معرفت بقدرِ محبت۔ تعریف کے لیے ضروری ہے کہ ممدوح کو محبت کی آنکھ سے دیکھا جائے۔ دنیائے محبت میں معتبر تعریف وہ ہے،جو تعلق والا کرے، اس لیے معتبر ترین تعریف صرف محبت کی زبان ہی سے ادا ہو سکتی ہے۔ بغیر تعلق کے ، نہ تبلیغ ہو سکتی ہے، نہ تعریف۔ محرومِ محبت تجزیہ اور تنقید کے جھنجھٹ میں پڑ جاتا ہے۔ محبت تجزیہ نہیں کرتی— محبت تسویہ کرتی ہے— یہ لفظ اور خیال دونوں کی صورت گر ہے۔ تعجب نہیں کہ بچہ جب بولنا سیکھتا ہے تو سب سے پہلے اپنی ماں کو مخاطب کرنے والا لفظ سیکھتا ہے۔
عبادت کی غایت معرفت ہے۔ صاحبِ ”کشف المحجوب“ اِس آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں” الا لیعبدون” سے مراد “الا لیعرفون” ہے۔ باب العلم سیّدنا علی المرتضیٰؑ کا قول ہے: ”انسان کو وہ عبادت کوئی فائدہ نہیں دیتی جو اُس کی معرفت میں اضافہ نہیں کرتی“۔ ایک حدیثِ قدسی بھی اس باب میں معاون ہے۔ یہاں خالقِ کائنات واحد متکلم کے صیغے میں خلق کو مقصدِ تخلیق کے متعلق براہِ راست بتا رہا ہے: ﮐُﻨﺖُ ﮐَﻨﺰﺍً ﻣﺨﻔﯿﺎً ﻓﺄﺣﺒﺒﺖ ﺃﻥ ﺍﻋﺮﻑ ﻓﺨﻠﻘﺖُ ﺍﻟﺨﻠﻖ ﻟﮑَﯽ ﺍُﻋﺮﻑ —”میں ایک مخفی خزانہ تھا، میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں، سو میں نے خلق کو تخلیق کیا“۔جنہیں اس مخفی خزانے تک رسائی حاصل ہوئی، انہوں نے اسے مخفی نہ رہنے دیا، بلکہ کھول کھول کر بیان کیا، خوب خوب تقسیم کیا۔ ایسے ہی خزانے کو تقسیم کرنے والے امام العارفین ”گنج بخش“ کہلائے۔ اب ایک اور حدیثِ پاک کی طرف توجہ مبذول کیجئے:—اوّل ما خلق اللہ نُوری —”اللہ نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا“۔مخلوقِ خدا جب بھی معرفتِ خدا کی تلاش میں نکلی، مخلوقِ اوّل یعنی نورِ مصطفیٰؐ تک پہنچی۔ نورِ خدا اپنے محبوبؐ کی صورت میں جلوہ گر ہے — ”دسّے صورت راہ بے صورت دا“— وگرنہ وہ ذات تو مکینِ لامکاں ہے، جہاں زمان و مکاں کے باسیوں کی رسائی ممکن نہیں۔ معراجِ مصطفیٰؐ اِس اَمر کا اعلان ہے کہ حریمِ کبریا میں اگر کسی ذات کی رسائی ہے تو وہ فقط ذاتِ حبیبِؐ کبریا ہے۔ اب مخلوقِ خدا کے لیے صراطِ مستقیم یہی ہے کہ حبیبِؐ خدا کے نقوشِ پا کو پا لے اور اتباعِ کردارِمحمدیؐ میں قدم قدم چلتا جائے— تا آن کہ خود خدا ایسے بندے سے محبت کرنے لگے۔ آیتِ قرآن گواہ ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ—” آپؐ ان سے کہہ دیں: اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میرا اتباع کرو، اللہ خود تم سے محبت کرے گا“۔ اللہ خالق کل شئی—” اللہ ہر شَے کا خالق ہے“۔ لفظ بھی شَے ہے— الفاظ کے خالق نے یہاں اطاعت کی جگہ اتباع کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اطاعت بغیر محبت کے بھی ممکن ہو جاتی ہے، جزا و سزا کے ڈر سے بھی پیدا کی جاسکتی ہے۔ اتباع خالصتاً بالمحبت ہوتی ہے ، کیونکہ اتباع دراصل اتباعِ کردار ہے ۔ اتباع کی صورت ہی میں اس آیت پر بھی عمل ممکن ہو سکے گا:— صبغہ اللہ، ومن احسن من اللہ صبغہ — ”اللہ کا رنگ اختیار کرو،اور اللہ سے بہتر کس کا رنگ ہو سکتا ہے“۔ اللہ تو نظر نہیں آتا ہے، اس کا رنگ کیسے نظر آئے گا۔ خوگرِ پیکرِ محسوس انسان کی نظر کو اللہ نے اپنے حبیبؐ کا بشری پیکر عطا کیا ہے، تاکہ اُس کے رنگِ کردار میں ڈھلنا مخلوق کے لیے ممکن ہو سکے — اور اِس کو اپنا سب سے بڑا احسان کہہ کر حضرتِ انسان کو جتلا دیا۔
”کشف المحجوب“ میں ایک انتہائی قابلِ غور نکتہ درج ہے — مقامِ انسانیت کا تذکرہ کرتے کرتے انسان مقامِ انسانیت تک پہنچ جاتا ہے۔ یہاں مدعا تمام ہوا۔ معراجِ مقامِ انسانیت انسانِ کاملﷺ ہیں— اور انؐ کا تذکرہ ہی اس مقام تک رسائی کے باب میں رہنمائی کرتا ہے۔ مدحتِ مصطفیٰ راہِ عرفانِ مصطفیٰؐ ہے اور عرفانِ مصطفیٰؐ عرفانِ خدا ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کا ایک نعتیہ شعر سماعت فرمائیں:
خاک کو رفعت ملے، بے بال و پر کو پر ملے
نعتِ پیمبرؐ سے جب عرفانِ پیمبرؐ ملے

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply