جو شخص طویل عرصے کے لیے جیل میں قید ہوتا ہے، وہ دھیرے دھیرے اس ماحول کا عادی ہو جاتا ہے، وہ اس قیدخانے کے ماحول کو قبول کر لیتا ہے، لیکن سب سے زیادہ مشکل چیز نہ تو ظلم ہے، نہ کھانا، نہ ہی زندگی کا معیار۔ سب سے مشکل چیز، جسے قیدی کو سب سے زیادہ جھیلنا پڑتا ہے، وہ “وقت” ہے۔
وہ وقت کی تکلیف سہہ رہے ہوتے ہیں۔ وہ وقت کے سمندر میں ڈوب رہے ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے ان پر وقت کا بند ٹوٹ پڑا ہو۔ ہاتھوں میں وقت تو بہت ہے، لیکن کرنے کو کچھ نہیں۔ ایک ہی رنگ کے کپڑے پہننا، روزانہ انہی لوگوں کے ساتھ ایک ہی میز پر کھانا کھانا، ایک ہی احاطے میں چلنا۔ دماغی محرکات کی کمی (stimulus deprivation) قید کا ایک بنیادی پہلو ہے۔ جیل کی زندگی کا ایک عام پہلو یہ ہے کہ وہاں کوئی محرک نہیں ہوتا۔ ذہن کو مشغول رکھنے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔
وقت ایک عجیب شے ہے۔ جب ہم خوش ہوتے ہیں، یہ ہوا کی طرح اڑتا ہے، اور جب ہم بور ہوتے ہیں، تو یہ چٹان کی طرح ساکن ہو جاتا ہے۔ اگر آپ دودھ کو مسلسل دیکھتے رہیں تو وہ نہیں اُبلتا، لیکن اگر آپ چند سیکنڈ کے لیے اپنی توجہ ہٹا لیں ، وہ فوراً اُبل کر باہر گرنے لگتا ہے۔ دن بھر ہمارے ذہن میں جو مختلف جذبات اُبھرتے ہیں، ہم حالات کو جس نظر سے دیکھتے ہیں، ہم خود کو جس طرح محسوس کرتے ہیں — ہمارا احساسِ ذات — یہ سب کچھ وقت سے گہرائی سے جُڑا ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص ڈپریشن میں چلا جاتا ہے تو وہ اپنے سماجی ماحول سے بھی کٹ جاتا ہے۔ خود پر منفی خیالات، خود کو الزام دینا، بے قدری کا احساس، اور اس کے ساتھ ساتھ وقت بھی اس کے لیے سست ہو جاتا ہے۔
نشے کی حالت میں انسان وقت کو انتہائی شکل میں محسوس کرتا ہے۔ یا تو وہ نشے کی حالت میں اس قدر تیز ہو جاتا ہے کہ وقت کا احساس ہی کھو بیٹھتا ہے، یا جب وہ نشہ چھوڑتا ہے تو اس کے لیے ہر لمحہ ایک منٹ بن جاتا ہے۔ تب وقت اندر سے اسے چیر رہا ہوتا ہے۔
انسان نے جتنے بھی تفریحی ذرائع بنائے ہیں، وہ سب وقت گزاری کے لیے ہیں، کچھ دیر کے لیے خود کو بھولنے کے لیے، وقت کے بوجھ کو ہلکا کرنے کے لیے۔ یہ سچ ہے کہ ہماری زندگی اس کائنات میں ایک نکتہ بھی نہیں، لیکن جس پیمانے پر ہم وقت کو محسوس کرتے ہیں، وہاں 70 سال بھی ایک لافانی مدت لگتے ہیں اگر ہم خود کو مصروف نہ رکھیں۔ زندگی کی مصروفیت ہمیں وقت کے احساس سے غافل رکھتی ہے، لیکن جیسے ہی ہم اُکتا جاتے ہیں یا بور ہوتے ہیں، وقت ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے، اور پھر ہم اسے گزارنے کے طریقے ڈھونڈتے ہیں۔ اسی لیے کسی بھی کام میں کارکردگی کے لیے اصل چیز وقت نہیں بلکہ “ذہن” ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اپنے ذہن کو کیسے منظم کرتے ہیں؟ یہ ذہن کی تنظیم کا معاملہ ہے۔ وقت تو صرف ایک جزو ہے، اصل بات یہ ہے کہ ہم مقررہ وقت میں بہتر کارکردگی کیسے دکھا سکتے ہیں۔ وقت سے زیادہ ہم اپنے ذہن سے کتنا فائدہ اٹھاتے ہیں، یہی اصل بات ہے۔ یہی بات تفصیل سے ڈیویڈ کڈوی کی ایک کتاب Mind Management, Not Time Management میں بیان کی گئی ہے۔ اس کتاب میں وقت، توانائی اور کارکردگی کے بارے میں وضاحت سے بات کی گئی ہے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے پاس وقت ہوتا ہے لیکن توانائی نہیں، یا توانائی ہوتی ہے مگر دل نہیں کرتا، یا جب دل کرتا ہے تو وقت نہیں ہوتا۔ یہ کتاب ہمارے کام کو ہمارے مزاج سے جوڑتی ہے اور بتاتی ہے کہ یہ ضروری ہے کہ ہم کچھ گھنٹہ کم یا زیادہ کام کرنے کی بجائے درست ذہنی کیفیت میں کام کریں۔
ہمارے پاس وقت کو محسوس کرنے کے لیے کوئی حسی عضو (sense organ) نہیں ہے۔ ہم وقت کی تبدیلی کو اس لیے محسوس کرتے ہیں کیونکہ ہم اپنے ارد گرد تبدیلی دیکھتے ہیں۔ وقت کا احساس ہمیں تب ہوتا ہے جب ہم تبدیلی کو محسوس کرتے ہیں۔ اگر ایک ہی چیز کی تین تصاویر مختلف وقتوں میں لی جائیں تو یہ کہنا مشکل ہو جائے گا کہ یہ تصویریں مختلف اوقات میں کلک کی گئی ہیں، یا یہ ایک تصویر کی نقل ہے۔ ہم ان تصویروں میں وقت کے بہاؤ کو محسوس نہیں کر پائیں گے کیونکہ ہم کوئی تبدیلی نہیں دیکھ پائیں گے اور نہ ہی وقت کے گزرنے کا احساس ہوگا۔
جو چیزیں ایک کے بعد ایک واقع ہوتی ہیں، جو ایک تسلسل سے آگے بڑھتی ہیں، وہ ہمیں وقت کا احساس دیتی ہیں۔ وقت ایک لامتناہی تسلسل ہے۔ اگر ہمارے تمام حسی اعضاء بند کر دیے جائیں، تب بھی ہمارے خیالات کی تبدیلی وقت کے بہاؤ کا احساس دیتی ہے۔ جو چیزیں قدرت میں بار بار واقع ہوتی ہیں، مثلاً دن رات، موسموں کی تبدیلی، وہ وقت کو ناپنے کا پیمانہ بن گئیں۔
اب ہم صرف وقت کو محسوس نہیں کرتے بلکہ وقت کا حساب رکھنا شروع کر دیا ہیں، اب ہم نے وقت گننا شروع کر دیا، اب ہم وقت کو ضائع کر سکتے ہیں یا ہم اسے استعمال کر سکتے ہیں، ایک لحاظ سے ہم وقت کو دیکھ سکتے ہیں، یہ کچھ ٹھوس ہو گیا۔ پہلے تو ہم نے ستاروں اور چاند کو دیکھ کر معمولات کا دھیان رکھنا شروع کیا، سورج کا طلوع و غروب، نئے چاند سے پورے چاند تک چاند کے مختلف مراحل، رات کو آسمان میں ستاروں کی حرکت۔ ہم نے ان تمام چیزوں کے ساتھ وقت کا حساب لگانا شروع کیا ۔ زمین پر کئی سرگرمیاں بھی چکروی نوعیت کی ہیں جیسے فصلوں کی کاشت، جانوروں کی ہجرت، نیند اور بھوک کا احساس، ماہواری وغیرہ۔ ان سب نے وقت کو بہتر طریقے سے ناپنے کا خیال دیا۔
پھر آہستہ آہستہ لوگوں نے وقت سے باخبر رہنے کے لیے آلات ایجاد کرنا شروع کر دیے۔ ان میں جو چیز سب سے زیادہ انقلابی ثابت ہوئی وہ گھڑی تھی۔ مکینیکل گھڑی۔ گھڑی نے انسان کے وقت کو اتنے حصوں میں تقسیم کیا کہ اب وہ وقت کو اپنے ہاتھ سے پھسلتا دیکھ سکتا ہے۔ اب کبھی کہیں ٹھہر جائیں تو پیچھے رہ جانے کا ڈر ہوتا ہے جیسے وقت آگے بڑھے جائے گا۔ گھڑی کے ہاتھ ہماری حرکات و سکنات کو کنٹرول کرتے ہیں ۔ صنعتی انقلاب کے دوران، گھڑی کا استعمال فیکٹری کے کارکنوں کو منظم کرنے کے لیے کیا جاتا تھا۔ اب انہیں ان کے کام کے بجائے وقت کے حساب سے مزدوری دی جاتی تھی۔ گھڑی نہ صرف وقت بلکہ پیسے کا بھی پیمانہ بن گئی۔ دوسرے الفاظ میں، وقت پیسہ بن گیا۔ پیداواریت (Productivity) کا تصور بھی گھڑی کی دین ہے۔ آج کی دنیا میں گھڑیاں بہت اہم ہیں۔ ہمارا دن اتنے کاموں میں بٹا ہوتا ہے کہ بغیر گھڑی کے کچھ بھی منظم نہیں رہتا۔ صبح اُٹھنے سے لے کر سونے تک ہم ہر کام گھڑی کے مطابق کرتے ہیں۔ بچپن سے ہی ہمیں وقت کی پابندی سکھا دی جاتی ہے۔ دوسری صورت میں، دوسروں کے ساتھ کوئی ہم آہنگی نہیں ہوگی۔ اگر لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا اور ہر سیکنڈ کا حساب رکھتے ہوئے کام کرنا ممکن ہوا ہے تو یہ صرف گھڑی کی مدد سے ہوا ہے۔
یہ بھاپ کا انجن نہیں بلکہ گھڑی ہے، جو جدید دنیا کی کلیدی مشین ہے۔ اس جدید دنیا میں، وقت جتنا قیمتی ہوتا جاتا ہے، اتنا ہی کم ہوتا جاتا ہے۔ ستم ظریفی کہ آپ اپنے وقت کے لیے جتنا زیادہ چارج کر سکتے ہیں، وہ اتنا ہی زیادہ قیمتی اور نایاب محسوس ہو نے لگتا ہے کیونکہ کوئی بھی قیمتی چیز قلیل سمجھی جاتی ہے۔
گھڑی نے دن کے 24 حصوں کو تقسیم کیا ہے، چاہے جیسے بھی بانٹو، وہ ہمیشہ کم لگتے ہیں۔ کچھ لوگ رشتوں کو وقت نہیں دے پاتے، کچھ اپنے شوق کے لیے وقت نہیں بچا پاتے۔ بہت کم لوگ ہوں گے جن کے پاس وقت کی کمی نہ ہو — اور شاید وہ جیل میں ہوں گے۔ وہاں لوگ بے چین ہوتے ہیں، مگر اس بار وقت کی زیادتی کی وجہ سے، اس کی بے ساختگی کی وجہ سے۔ اور اگر کوئی قیدی وقت کے بہاؤ سے جُڑنے کے لیے چھپ کر گھڑی یا کلینڈر رکھ لے تو یہ اس کی قید کو اور طویل محسوس کراتا ہے۔ وقت کو دیکھنا اس کے دکھ کو بڑھا دیتا ہے۔
چاہے گھڑی کی سوئیوں کے حساب سے ایک گھنٹہ کتنا بھی ہو، چاہے روشنی میں ہمارا سایہ کتنا لمبا یا چھوٹا ہو، اگر ہمارا ذہن متاثر ہو تو وہ ایک گھنٹہ لامحدود لگ سکتا ہے، یا پل بھر میں گزر سکتا ہے۔ وقت ہمارے لیے کیا معنی رکھتا ہے، ہم وقت کو کیسا محسوس کرتے ہیں، یہ سب ہمارے ذہن پر منحصر ہے۔ وقت کا بہاؤ ہمارے ذہنی حالت پر انحصار کرتا ہے۔ جب دل اُداس ہو تو وقت سست گزرتا ہے۔ جب دل خوش ہو تو وقت اُڑتا ہے۔
ہم ہی وقت کے معمار ہیں اور ہم ہی اس کے شکار۔ وقت ایک انسانی کیفیت ہے۔ وقت آپ کی قیمتی ترین یادیں بھی بھلا دیتا ہے۔ وقت گہرے زخموں کو بھر دیتا ہے۔ ہم وقت کے مطابق اپنی زندگی میں معانی تلاش کرتے ہیں، اور وقت ہی ان کا خاتمہ کرتا ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں