عید کھالیں اور قیمتیں/مہرساجدشاد

اسلامی قمری سال تقریبا ًدس دن شمسی سال سے چھوٹا ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلامی تہوار ہر موسم میں آتے ہیں یہ ہر سال تقریباً دس دن پہلے آتے ہوئے پورے سال کا چکر تقریبا ًجھتیس سال میں مکمل کرتے ہیں۔ گذشتہ کچھ سال سے دیکھا گیا ہے عید پر قربانی کی کھالوں کی قیمتیں انتہائی کم ہوتی ہیں ، اس پر لوگوں کا عمومی خیال ہے کہ یہ چمڑے کی بیوپاری اور چمڑے بنانے والی فیکٹریوں کی مل بھگت ہے یہ لوگ مافیا بنے ہوئے ہیں۔ لیدر اور لیدر سے بنی اشیا کی قیمتیں تو ایک تسلسل سے بڑھ رہی ہیں پھر کھالوں کی قیمتیں کم کیوں ؟

معاملہ یہ ہے کہ اس دفعہ عید جون کے پہلے ہفتے میں ہوگی یعنی اسے مارچ کے مناسب موسم میں پہنچنے کیلئے ابھی چھ سات سال لگیں گے۔ اس سخت گرمی میں جانور کے جسم سے اتری ہوئی کھال دھوپ چھاؤں کی احتیاط سے آزاد کہیں کسی کونے میں ڈال دی جاتی ہے، جانور کو گوشت کیلئے ذبح کیا جاتا ہے نہ کہ کھال حاصل کرنے کیلئے لہذا گوشت سنبھال لینے کے بعد کھال کا خیال آتا ہے۔
بالآخر کھال کسی مدرسے، ہسپتال ، فلاحی ادارہ ، مذہبی جماعت کے علاقائی کلیکشن سنٹر پہنچا دی جاتی ہے۔ یہاں رات تک کھالیں جمع ہوتی رہتی ہیں اور پھر رات کو یا دوسرے دن صبح چمڑے کے بیوپاری کے پاس بجھوائی جاتی ہیں۔

یہاں ان کھالوں کو نمک لگانے کا عمل شروع ہوتا ہے تاکہ انہیں محفوظ کیا جاسکے۔ اس وقت تک کھالوں میں گلنے سڑنے کا عمل شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ بھیڑ Sheep کی کھال تو اس گرمی میں اپنے ابتدائی تین چار گھنٹوں میں خراب ہو جاتی ہے، بکری Goat اور گائے Cow کی کھالیں بھی گلنا سڑنا شروع کر دیتی ہیں۔ زیادہ خراب کھالیں چھانٹی کر کے الگ کر دی جاتی ہیں یہ چمڑہ بیوپاری کا مکمل نقصان ہوتا ہے۔
پھر یہ کھالیں جب چمڑہ ساز فیکٹریوں ٹینریز میں چمڑہ سازی میں لائی (پراسس کی ) جاتی ہیں تو ان میں بھی ہو چکے نقصانات سامنے آ جاتے ہیں۔ یہی بنیادی وجہ ہے کہ گرمی کی عید پر کھال کی قیمت بہت کم ہو جاتی ہے کوئی بھی متوقع نقصان کےپیش نظر انکی زیادہ قیمت نہیں دینا چاہتا۔

اب یہاں یہ سوال بھی آتا ہے کہ پھر فیکٹریاں ٹینریز اچھا چمڑہ کیسے بنا لیتی ہیں ؟
تو عرض ہے کہ عید کے مال سے وہ کھالیں جو بروقت نمک لگا کر محفوظ کر لی گئیں تھیں، کسی نسبتاً ٹھنڈے علاقے سے اکٹھی کی گئی کھالیں، اجتماعی قربانی کے مکمل منظم یونٹس پر بروقت سنبھالی گئی  کھالیں اچھی حالت میں ہوتی ہیں اور چمڑہ بیوپاری کو فیکٹری ٹینریز سے انکی بہتر قیمت بھی مل جاتی ہے، جس سے وہ اپنے نقصان کا ازالہ کر کے کچھ منافع کمانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسکے علاوہ سارا سال مذبح خانہ (سلاٹر ہاوس) سے کھالیں اچھی قیمت پر فروخت ہوتی ہیں کیونکہ عموما یہاں جانورصبح سویرے ذبح کئے جاتے ہیں ہیں اور قصائی دھوپ بڑھنے سے پہلے صبح ہی کھالیں چمڑہ منڈی پہنچا دیتے ہیں۔

عید پر کھالوں کی کم قیمت کی دوسری وجہ یہ ہے کہ گذشتہ دس پندرہ سال میں قربانی کیلئے سال بعد ایک بار جانور ذبح کرنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ اسکی وجہ ہمارے ہاں قربانی کیلئے پیشہ ور قصابوں کی کم تعداد ہے۔ تیس بتیس سال پہلے عید پر قربانی کی تعداد تقریبا پندرہ بیس لاکھ ہوتی تھی جو اب بڑھ کر گذشتہ سال تقریبا ستر لاکھ جانوروں تک پہنچ چکی ہے( اس میں آدھے بھیڑ بکری اور آدھے گائے اونٹ ہوتے ہیں)۔ اتنی بڑی تعداد کیلئے پیشہ ورقصائی دستیاب نہیں ہیں، لہذا غیر تربیت یافتہ اور سال بعد جانور ذبح کرنے والے جو ماہر نہیں ہوتے یہ کھال اتارتے ہوئے اس میں آرپار ٹک لگا کر یا آدھی گہرائی تک لچھ لگا کر کھال کی کوالٹی کو بری طرح نقصان پہنچاتے ہیں۔
بیوہاری کو ان کھالوں کی قیمت بھی کم ملتی ہے۔

ایک سوال یہ بھی کیا جاتا ہے کہ کھالیں بنیادی خام مال ہے تو اسے بچانے کیلئے فیکٹریاں ٹینریز کیوں کچھ نہیں کرتیں ؟؟
جواب یہ ہے کہ ایسا نہیں کہ کھالوں کو بچانے کیلئے کچھ نہیں کیا جارہا، پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن ہر سال اگاہی مہم چلاتی ہے، کھالیں اکٹھی کرنے والے تمام ادارے جماعیتں اور تنظیمیں اگاہی مہم اور تربیت کیلئے انکا بنیادی ہدف ہوتی ہیں، ہر سطح پر اگاہی کا کام اس شعبہ سے جڑا ہوا ہر شخص بھی کرتا ہے۔
لیکن اسکی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ عید پر کھالیں اکٹھی کرنے والے تمام ادارے جماعتیں تنظیمیں سال میں ایک بار یہ عمل کر رہے ہوتے ہیں ایسی ٹیم بھی انکے پاس نہیں ہوتی کہ یہ کھال کو موقع پر نمک لگا کر محفوظ کر سکیں، پھر نمک لگانے کا اضافی خرچہ بھی اکثریت کیلئے ناممکن ہے کیونکہ انہوں نے اپنے مالی مسائل کو حل کرنے کیلئے ان مفت ملنے والی کھالوں کی آمدن کو استعمال کرنا ہوتا ہے۔ ایسے میں وہ کھالوں کی ترسیل ٹرانسپورٹیشن ہی بڑی مجبوری میں مشکل سے کرتے ہیں۔
اب کچھ بڑی مذہبی تنظیموں نے اپنا نیٹ ورک گلی محلہ کی سطح تک قائم کیا ہے ان کی جمع کی ہوئی کھالیں گذشتہ دو تین سال سے بہتر حالت کی وجہ سے بہتر قیمت حاصل کر رہی ہیں ۔

ایک سوال یہ ہے کہ عید پر کھالوں کی قیمتیں بہت کم ہونے کے باوجود تیار چمڑہ اور چمڑے کی مصنوعات کیوں مہنگی ہیں۔ جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے فیکٹریاں ٹینریز اپنے ایکسپورٹ آرڈرز کیلئے ٹھیک طور پر محفوظ شدہ کھالیں ہی خریدتے ہیں جو مہنگی ہوتی ہیں، پھر انکی تیاری میں جن کیمیکلز کا استعمال ہوتا ہے وہ تقریبا ًسب امپورٹ کیے جاتے پیں ، جو کمپنیاں چمڑہ سازی کیلئے یہاں کیمیکلز بناتی ہیں وہ بھی خام مال امپورٹ ہی کرتی ہیں، ان کیمیکلز کی قیمتیں عالمی مہنگائی کیساتھ بڑھتی ہیں مزید ہماری کرنسی کے قدر کھونے ڈی ویلیو ہونے سے یہ کیمیکلز اور مہنگے ہو جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ چمڑہ سازی میں استعمال ہونے والی مشنری بھی بہت بڑی اور مہنگی ہے اس میں بجلی کی کھپت بھی بہت زیادہ ہے، یہ تمام عوامل مل کر چمڑہ سازی کو بہت مہنگا کر دیتے ہیں۔
ایکسپورٹ ہونے والا چمڑہ تو کسی حد تک مناسب قیمت پر فروخت ہو جاتا ہے لیکن باقی بچ رہنے والا یا ایکسپورٹ معیار سے کم والا چمڑہ جسکی تیاری پر بھی اتنا ہی خرچہ آیا ہے مقامی مارکیٹ کیلئے مہنگا ہو جاتا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں چمڑہ کی ڈیمانڈ بھی کم ہوئی ہے، جسکی وجہ چمڑہ کی جیکٹ کی جگہ ٹیکسٹائل اور چمڑہ کی بیگ جوتے کی جگہ ریکسین کا استعمال ہے، جن سے کم قیمت مصنوعات بنائی جا رہی ہیں۔
یقیناً چمڑہ سے بنائی مصنوعات زیادہ دیرپا اور بہت   جاذب نظر ہوتی ہیں لیکن دنیا بھر میں اب ترجیحات بدل گئی ہیں، نئے مہنگے ریسٹورنٹ سے کھانا کھانا، نئے مہنگے موبائل خریدنا اب عام آدمی کی بھی ترجیح بنتی جارہی ہے۔ لیکن یہ سب کچھ بھی تیار چمڑے اور اسکی مصنوعات کی قیمتوں کو کم نہیں کر سکے کیونکہ اسکو لاگت سے کم پر تو بیچا نہیں جا سکتا۔

عام آدمی کے سمجھنے کیلئے بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کھالوں کی کم قیمت سخت گرمی کے باعث انکے خراب ہو جانے ،انکی کوالٹی کم ہو جانے کی وجہ سے ہے اس میں کہیں کوئی مافیا یا ملی بھگت نہیں ہے۔
ہم اس قیمتی خام مال کو خراب ہونے سے بچا کر اس کی بہتر قیمت حاصل کر سکتے ہیں اس کیلئے ضروری ہے کہ جانور کے جسم سے اتارنے کےبعد کھال کو خشک اور ٹھنڈی جگہ پر رکھا جائے، کھال جلد از جلد کلیکشن سنٹر بھجوائی جائے ،یہ عارضی گودام بھی ہوادار ٹھنڈا اور خشک جگہ پر ہونا چاہیئے۔ کھالیں جلد از جلد اس جگہ پہنچائی جائیں جہاں ان پر نمک لگانے کے انتظامات ہوں۔

julia rana solicitors

اگر قربانی والی جگہ پر ہی کھال کی گوشت والی سائیڈ پر نمک لگا دیا جائے تو یہ سب سے بہترین کام ہو گا۔ بکرے اور بھیڑ کی کھال پر تین سے چار کلو اور گائے یا اونٹ کی کھال پر نو سے دس کلو نمک لگایا جانا چاہیئے۔ یہ بنیادی کام کر کے نہ صرف ہم کھالوں کی بہتر قیمت حاصل کر سکیں گے بلکہ لیدر انڈسٹری کو اچھا خام مال دستیاب ہونا بھی ممکن بنا سکیں گے جس سے تیار اعلی معیار کا چمڑہ ہم برامد کر کے قیمتی زرمبادلہ حاصل کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply