غاصب طاقتوں نے محکوم عوام کو ذہنی طور پر اس طرح جکڑ رکھا ہےکہ ہم غیر شعوری طور پر آج بھی خود کو عالمی ’غاصب‘ طاقتوں کا غلام سمجھتے ہیں۔ اس کی ایک مثال ہندو وپاک اور جنوب ایشیائی لوگوں کا خود کو ’’تیسری دنیا‘‘ کہنا ہے۔ یہ جغرافیائی اصطلاح نہیں اور نہ ہی اس اصطلاح کے پیچھے بشریاتی و لسانی تقسیم و درجہ بندی ہے ، یہ اصطلاح خالصتاً عالمی غاصب(معاشی غالب) طاقتوں کا بیانیہ ہے جو ہم جُوں کا تُوں دہراتے آ رہے ہیں۔
’’تیسری دنیا‘‘ کی اصطلاح کوایک فرانسیسی ماہرِ بشریات سووی (Alfred Sauvy) نے سب سے پہلے استعمال کیا۔ اگرچہ اُس کی منشا ،پہلے پہل سرد جنگ میں شامل ممالک کی درجہ بندی کرنا تھا مگر بعد میں اس اصطلاح کو تضحیک اور توہین آمیز انداز میں استعمال کیا جانے لگا۔ سووی نے پہلی دنیا خود کو ،یعنی سرمایہ دار ممالک اور غاصب طاقتوں کے لیے کہا،جن میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، جاپان وغیرہ شامل تھے۔ دوسری دنیا میں سوشلسٹ ممالک کو شامل کیا جن میں روس، چین، کیوبا، کوریا وغیرہ شامل تھے۔ جب کہ تیسری دنیا میں وہ ممالک شامل کیے جو نہ سوشلسٹ تھے اور نہ سرمایہ دار بلکہ غیرجانب دار (Non-Aligned) تصور کیے جاتے تھے۔ ان میں افریقی ، لاطینی اور جنوب ایشیائی ممالک کو شامل کیا گیا، مگر بہت جلد تیسری دنیا کے ممالک کو غریب، ترقی پذیر اور سب سے بڑھ کے ’’غیر صنعتی ‘‘کہا جانے لگا۔ دوسرے لفظوں میں یہ ممالک ’’غیر مہذب‘‘ قرار پائے جہاں غربت اور جہالت کا بسیرا ہے۔
تیسری دنیا کے ممالک ’’پہلی دنیا‘‘ کے لیے چیلنج نہیں تھے۔ پہلی دنیا کو اگر چیلنج تھا تو وہ دوسری دنیا یعنی سوشلسٹوں سے تھا، تیسری دنیا ، پہلی دنیا کے ساتھ مقابلہ کرنے کی ہمت ہی نہیں رکھتے تھے۔اس لیے انھیں جب بھی پکارا جاتا تو تیسری دنیا کہہ دیا جاتا۔
یہاں مہذب اور غیر مہذب کا بھی موازنہ کیجیے۔ پہلی دنیا نے خود کو مہذب کہا اور تیسری دنیا کو ’غیر مہذب‘۔ مزے والی بات یہ ہے کہ یہ تقسیم آج تک قائم ہے اور اسے صرف غاصب طاقتیں ہی قبول نہیں کرتیں بلکہ جنوب ایشیائی اور افریقی ممالک کے عوام بھی اسی شد ومد سے قبول کرتے ہیں جس مقصد کے لیے اس کو ’’گھڑا‘‘ گیا تھا۔
اب صورتِ حال یہ ہے کہ عالمی سیاسی میدان میں ’’پہلی دنیا‘‘ اور تیسری دنیا‘‘ ہی رہ گئے ہیں۔ دوسری دنیا والے بھی خود کو پہلی دنیا کہنے لگے ہیں۔ یعنی ایک غاصب، طاقت ور اور مہذب سماج اور دوسری طرف کمزور، محکوم اور غیر مہذب لوگوں کی دنیا ۔ ساری دنیا ایک طرف پہلی دنیا ہو گئی ہے جب کہ دوسری طرف، بقول اُن کے، جہالت کا مرکز ’’تیسری دنیا‘‘ رہ گئی ہے۔
اس کی پیچھے اُس کالونئیل مزاج کا گہرا عکس موجود ہے جو جنوب ایشیائی لوگوں کو ابھی تک محکوم اور غیر مہذب مانتا ہے۔ یعنی ہم خود کو ابھی تک ’’استعمار ی ذہنیت ‘‘ سے نہیں نکال پائے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں