پاکستان کیوں ٹوٹا/جمیل آصف

زندگی میں بیشتر افراد مختلف کلیدی ذمہ داریوں پر فائز رہتے ہیں ۔وقت کے ساتھ ساتھ ان کا فہم و فراست، تجربہ، حالات کے بارے انکی رائے مستحکم اور دور اندیشی پر مبنی ہوتی ہے ۔
آنے والے وقتوں میں جو تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اگر ان کی اُس دور کی گفتگو، خیالات اور لکھے ہوئے الفاظ پر پرکھا جائے تو وہ ہوبہو ویسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے وہ اس وقت بیان کر گے تھے ۔
موجودہ سیاسی تبدیلی میں پیدا شدہ معاشی، سماجی حالات و سیاسی نظریات سے رونما ہونے والی تفریق کو میجر جنرل (ر) راؤ فرمان علی خان کی لکھی کتاب جو سقوط ڈھاکہ کے اسباب اور شکست کی وجوہات بطور عینی شاہد بیان کی گئیں ۔کچھ جملوں کو موجودہ سیاسی پروپیگنڈا کے تناظر میں دیکھا جائے تو لگتا ہے پھیلایا ہوا پروپیگنڈہ کے اثرات پاکستان کی اندرونی و بیرونی دفاعی بنیادوں کی حد تک کمزور کر رہے ہیں ۔
اس تناظر میں ہر وہ شخص اپنا محاسبہ کرے۔ کسی فرد کی ذاتی خواہش یا سیاست دانوں کی آپس کی ریشہ دورانیوں سے اداروں کو کمزور کرنے کی مہم میں کتنا حصہ دار ہے ۔وہ کس حد تک ناسمجھی میں مبتلا ہے ۔
افراد آتے جاتے رہتے ہیں لیکن ریاست برقرار رہتی ہے ۔۔۔ریاست کی مضبوطی عوام کی اجتماعیت کے مرہون منت ہے ۔
نیچے دئیے گے اقتباس میں اس مضبوطی کی اہمیت کو کیسے بیان کیا گیا خود پڑھ لیں اور سقوط ڈھاکہ میں ہونے والی بنیادی غلطی پر غور کریں کہ ہم اب کہیں اس مقام پر حالات کو تو نہیں لے جا رہے؟ ۔
“ملک کا اندرونی خلفشار اور بدنظمی بیرونی جارحیت کو دعوت دینے اور قوم کی ہزیمت و رسوائی کا باعث بنتے ہیں ۔تفریق و تقسیم کی شکار قوم دشمن کے لیے ترنوالہ بن جاتی ہے کسی ملک کی سلامتی، یکجہتی، اتحاد اور دفاعِ کے لیے اندرونی اتفاق و ہم آہنگی بڑی ضروری ہے ۔ یعنی جڑیں مضبوط اور ٹھوس ہو گی تو سرحدوں کے پار سے دشمن ہماری طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکے گا ۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply