پینسٹھ کی جنگ میں ہم دوسری جماعت میں تھے اور ایک دو واقعات یادوں کی جھلمل میں ابھرتے اور ڈوبتے ہیں۔قبلہ والد ایک جگہ پر مجاہدین کے لیے اکٹھی کی جانے والی امداد کو دیکھ رہے ہیں اور اسے سرکاری ذرائع کی مدد سے محاذ جنگ پر بھیجنے کا کہہ رہے ہیں۔اس انبار میں ریشمیں لحاف، کپڑوں کے تھانوں کے تھان، کھانے پینے کا سامان اور سب سے بڑھ کر نقدی اور خواتین کی طرف سے سونے چاندی کے زیورات جا بجا بکھرے پڑے ہیں۔
ہمیں نہیں معلوم کہ وہ سامان کیسے محاذ پر پہنچا پہنچا بھی یا نہیں۔رات کو مین بازار میں ہندوستان سے ہجرت کر کے آئے ہوئے غفور مستری کا دیو ہیکل ریڈیو جو ایک اونچی جگہ پر پڑا تھا اور گاؤں کے بڑے بازار کے دونوں جانب زمین پر بیٹھے ہوئے خبریں سننے میں ہمہ تن گوش۔جب تک ریڈیو پر خبریں نشر ہوتی رہیں کہیں سے کوئی آواز نہیں تھی ایسے لگتا تھا بس سانس ہی آ جا رہا ہے۔ ریڈیو پر ہائے نی کرنیل نی ہائے نی جرنیل نی اور نور جہان کی آواز جیسے گاؤں کا خاموش سینہ چیرتی جا رہی تھی۔ہم نے نور جہاں کا نام بھی پہلی دفعہ اسی جنگ میں سنا تھا۔راتوں کو بلیک آؤٹ ہوتا اور گلی گلی میں نوجوان لڑکے پہرہ دیتے۔تب انڈیا کے جاسوسوں کو پکڑنے کا بھی بڑا رولا تھا اور کئی بیچارے معذور جنہیں جاسوس سمجھ لیا جاتا بیجا ستم کا نشانہ بنتے اور کہا جاتا کہ بہت گنھا جاسوس ہے بولتا ہی نہیں۔کہیں سے آواز آتی ان کو ٹریننگ کے دوران نہ بولنے کی تربیت دی جاتی ہے۔بیچارے کی دوبارہ پھینٹی شروع ہو جاتی بعد میں معلوم ہوتا کہ ساتھ والے گاؤں کا اور بولنے سننے سے قاصر ہے۔
ابھی ساتویں جماعت میں تھے کہ اکہتر کی جنگ شروع ہو گئی۔یہ عجیب جنگ تھی سارا گاؤں خاموش تھا کہیں کسی نغمے کی آواز نہ تھی کوئی مجایدین کے لیے سامان اکٹھا کرنے والا نہیں تھا۔
ایک خاموشی تھی جس کا کوئی انت ہی نہیں تھا مگر قوم میں اس سرد مہری کی وجہ نامعلوم تھی۔تب ملک مشرقی اور مغربی پاکستان پر مشتمل ہوتا تھا۔ریڈیو پر جب بھی مشرقی پاکستان کا نام سنا جاتا ایک طلسمیں علاقے کا تصور جنم لیتا۔بنگال کا جادو حسن اور سندر بن جیسے اپنا اپنا لگتا تھا۔یہی اپنائیت ایک خاص حلقے سے ہضم نہیں ہوتی تھی۔جنگ دو محاذوں پر جاری تھی مگر اس دیس میں کیا ہو رہا تھا یہاں کسی کو کچھ خبر نہ تھی۔وہ جنگ آزادی تھی کیا ہم خود خود سے لڑ رہے تھے۔سنا ہے کہ مکتی باہنی کے اسلحے سے لدے ٹرک جب کلکتہ سے مشرقی پاکستان داخل ہوتے تھے تو اسلحے کے اوپر کیلے کے پتوں میں اسلحہ چھپا ہوتا تھا۔اور فرنٹ سیٹ پر ڈرایؤر کے ساتھ کوئی نہ کوئی طالبہ ہوتی تھی۔چیکنگ کے دوران طالبہ سنتری بادشاہ کے پاس رک جاتی اسلحہ سے بھرا ٹرک مشرقی پاکستان کی حدود میں داخل ہو جاتا۔سلمیٰ اعوان سن ستر میں ڈھاکہ یونیورسڑی میں گئیں۔لاہور سے ڈھاکہ تک جہاز میں سارے پاکستانی تھے ایر پورٹ پر بھی پاکستانی مگر جب وہ رقیہ ہال پہنچیں رکشا رکا۔ایک طالبہ نے پوچھا کہاں سے آئی ہو سلمی اعوان نے جواب میں لاہور کہا تو لڑکی بولی حاکموں کے دیس سے آئی ہو۔ان حالات کا ہمیں علم نہیں تھا ہمیں چٹاگانگ اور سلہٹ میمن سنگھ اور راج شاہی لاہور جیسے ہی لگتے تھے۔ کون تھے جو ان شہروں سے بیگانے تھے۔اکہتر کی جنگ خود ہمارے لیے ایک سانحے سے کم نہ تھی۔ٹھنڈی سرگ تھی اور ہماری حویلی گاؤں کے لوگوں سے بھری پڑی تھی۔ریڈیو پر بھاری بھر کم آواز گونج رہی تھی۔دشمن نے ڈھاکہ پر قبضہ کر لیا تھا یا وہ آزاد ہو گئے تھے۔پہلی دفعہ حکمرانوں سے نفرت ہوئی تھی۔پلٹن میدان کا زخم اب بھی تازہ ہے بھولتا ہی نہیں۔
بہت سارے رنگین واقعات ہیں جو اس وقت کے صدر اور سب سے اہم عہدے پر فائز شخص کو زیب نہیں دیتے تھے۔یہ جنگ کبھی نہیں بھولتی دل بہت کرتا ہے کہ سب کچھ بھول جائے مگر مسلمانوں کی تاریخ کی سب سے بڑی شکست کون بھول سکتا ہے۔
تیسری جنگ کا ہمیں تو پتہ ہی نہ چلا کہ شروع بھی اور ختم بھی ہو گئی۔کاروبار زندگی ایسا کہ شبہ بھی نہ گزرا کہ کارگل کی جنگ ہو بھی رہی ہے۔تب معلوم ہوا جب نواز شریف جنگ رکوانے کے لیے انکل سام کے ملک پہنچ گئے۔بعد میں معلوم ہوا کہ یہ کسی مجذوب کا خواب تھا۔جب ایک ہو کر جنگ نہ لڑی جائے تو وہی ہوتا ہے جو کارگل میں ننانوے میں ہوا۔
جب ہم دریائے عمر کے کنارے لگے تو سن پچیس میں چوتھی جنگ جاری ہے جو بظاہر ختم ہو گئی ہے مگر اس کے دوبارہ چھڑنے کے امکانات بھی ہیں۔یہ جنگ دو محاذوں پر لڑی گئی ایک فضاؤں میں اور دوسری میڈیا پر۔ہواؤں میں لڑی جانے والی جنگ میں پاک فضائیہ نے بھارت کے پانچ یا چھ طیارے تباہ کر کے اپنی دھاک بٹھا دی۔یہ ایسی روایتی جنگ نہیں تھی جس کا مشاہدہ ہم نے پچھلی تین جنگوں میں کیا تھا۔یہ ایک نئی جنگ اور نئی سٹریٹجی والی جنگ تھی اور نظریاتی بارڈروں پر سوشل میڈیا کے ذریعے لڑی جا رہی تھی۔یہ دماغی صلاحیتوں کی جنگ تھی جس میں تقسیم شدہ قوم ایک ہو گئی تھی۔پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا ہو تو تفریق کیسی اور تقسیم کیسی۔آہستہ آہستہ جذبہ پیدا ہوا مگر آخر اس نے ساری قوم کو متحد کر دیا۔جن پر شک تھا وہی سائبر جنگ کے ہیرو نکلے۔
مگر ایک پانچویں جنگ ہے جو مسلسل ستتر سالوں سے جاری ہے، اس طرف کوئی دھیان نہیں دیتا۔اس وقت پاکستان کی بیالیس فیصد اور بھارت کی ستائیس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔یہ تقریباً پچاس کروڑ لوگ ہیں جو بھوک، غربت، بیماری اور عدم حفظان صحت کی جنگ میں شریک ہیں۔انہوں نے یہ جنگ ہاری ہوئی ہے۔وطن کی حفاظت اولین فریضہ سہی اہل ِوطن بھی اسی قدر اہم ہیں۔ چار دنوں کی جنگ میں یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ چونکہ جنگ میں ثابت ہو گیا ہے کہ قوم ایک ہو سکتی اور کسی خاص آدمی کے بغیر بھی ہو سکتی ہے۔قوم کا ایک ہونا صرف جنگ میں ہی نہیں امن میں بھی ضروری ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں