کیا زبان قطعی ہوتی ہے؟۔۔محمد حسنین اشرف

جب یہ کہا جاتا ہے کہ زبان قطعی نہیں ہوتی تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ زبان ایک غیر محفوظ واسطہ ہے یا زبان پر تکیہ نہیں کیا جاسکتا۔ جب تک شارع اور متکلم موجود ہوتا ہے معنی کسی حد تک قطیعت کو نہ صرف پہنچ سکتے ہیں بلکہ مدعائے کلام کی توضیح و تشریح از خود متکلم و شارع کرتا رہتا ہے۔ جیسے ہی متکلم اس دنیا سے چلا جاتا ہے تو کلام بہ واسطہ متن قاری یا شارح تک پہنچ جاتا ہے۔ اب، متکلم اور کلام کے درمیان قاری کا ذہن اور قاری کے زمانی و مکانی حالات اور لسانی تغیرات حائل ہوتے ہیں۔

جب جب زبان کی قطیعت کی بات ہوتی ہے تو متن یا ٹیکسٹ کی بات ہوتی ہے۔ جب بھی کوئی ٹیکسٹ یا متن ماضی سے ہم تک پہنچتا ہے تو اب یہ متن قاری کے رحم و کرم پر ہے۔ ہم جب فکر صحیح اور صحیح دینی فکر کے نعرے سنتے ہیں تو اس سے احساس یہ پیدا ہوتا ہے جیسے کسی نے کلام کی کوئی کائناتی تشریح کردی ہے جس کے بعد اب غور و فکر کا راستہ بند ہوجانا چاہیے۔ سوال ہے کہ کیا یہ بطور انسان ممکن ہے؟ ٭

tripako tours pakistan

زبان، زمان و مکان کے تغیرات سے دوچار رہتی ہے۔ اس کے الفاظ نہ صرف نیے تصورات قبول کرتے بلکہ پرانے ترک کرتے رہتے ہیں۔ چونکہ لفظ کا مقابل محض تصویر نہیں ہوتی بلکہ تصورات کا ایک مجموعہ ہوتا ہے۔ اس لیے ان تصورات کے تغیر سے زبان میں تغیر آتا ہے۔ جس سے متن بچ نہیں پاتا، الا یہ کہ اسے ڈی کنسٹرکٹ کرنے کی کوشش کی جاہے۔ اس کی بہت سامنے کی مثال لفظ شیر ہے۔ جب ہم لفظ شیر بولتے ہیں تو اس سے مراد صرف چار ٹانگوں والا گدھا نما چوپایا نہیں ہوتا بلکہ بہت سے تصورات ہیں جو اسے چوپایوں میں ممتاز کردیتے ہیں۔ جیسے کہ شیر جنگل کا بادشاہ ہے، شیر خونخوار جانور ہے، شیر چیر پھاڑ کھاتا ہے، شیر گوشت کھاتا ہےو غیرہ وغیرہ۔ لفظ شیر کے ساتھ یہ وہ تصورات ہیں جوا س کے معنی کو تشکیل دیتے اور ہمارے ذہن پر ایک گہری چھاپ رکھتے ہیں۔ جیسے اگر آپ لفظ ہاتھ کو ذہن میں لائیں تو آپ کے ذہن میں پانچ انگلیاں اور گوشت پوست والا عضو ابھرتا ہے۔ جیسے ہی آپ لفظ ‘عورت کا ہاتھ’ سوچیں تو ‘نرمی’ کا تصور اور اگر ‘مرد کا ہاتھ’ سوچیں تو جوانمردی اور سختی کا تصور بھی ساتھ ابھرتا ہے۔ ہماری تہذیب میں عورت کا نرم و نازک اور ملائم ہونا معروف ہے تو اسی گوشت پوست والے عضو کے ساتھ ایک اضافی تصور نے معنی کو نئی جہت دی۔ جو وقت کے دھارے پر بہتی اور نئی جہتیں سامنے لاتی رہتی ہے۔

قرآن مجید چونکہ ایک متن کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس پر مفسرین اور فقہا نے ایک عرصہ اس کی گتھیاں سلجھانے اور نئے زمانے میں ہوتی تبدیلیوں کے اعتبار سے انسانی مذہبی مسائل کے حل کی کوشش کی ہے۔ فکر فراہی اسی کوشش کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس باب میں استاذ امام نے بہت اہم کام انجام دیا ہے۔ لیکن چونکہ ان کے نزدیک زبان ایک قطعی واسطہ ہے اور کسی عالم کے پیش نظر اس قطعی معنی تک پہنچنے کی کوشش کرنا ہی اصل کام ہے۔ مجھ ایسے کوڑھ مغز کے لیے یہ بات سمجھنے میں خاصی مشکل پیش آ رہی ہے۔ اس کی وجہ اوپر بیان کردہ کچھ چیزیں ہیں۔
زبان کو قطعی ماننے کے بعد قاری کا تسلط کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن استاد جب بھی قرآن سے متعلق بات کرتے ہیں تو وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن سے متعلق میرا فہم ہے۔ اگر قرآن کا فہم قطعی ہے تو اس تک پہنچنے اور اطمینان کے بعد اسے قرآن کا فہم ہی کہاجانا چاہیے۔ اگر زبان قطعی ہے تو زبان کے قطعی معنی کو ہر حال میں زبان پر حکمرانی کرنی چاہیے۔ زمانہ قدیم میں یہ سوچا جاتا تھا کہ انسان کی آنکھ سے شعائیں نکلتی ہیں جو باہر پڑے آبجیکٹ سے ٹکراتی ہیں اور پھر ٹکرا کر انسان کی آنکھ میں لوٹتی ہیں تو انسان دیکھ پاتا ہے۔ لیکن جب انسان کے اندھیرے میں نہ دیکھ سکنے کی توجیہہ کرنے کی کوشش کی گئی تو معلوم ہوا کہ شعائیں انسان کی آنکھ سے باہر ہوتی ہیں۔ جو آبجیکٹ سے ٹکرا کر انسان کی آنکھ میں داخل ہوتی ہیں۔ اگر زبان از خود معنی متعین کردیتی ہے تو پھر قاری کا فہم یا سوئے فہم کسی طور روکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔بلکہ زبان پر معنی کو ہر حال میں حکمران ہونا چاہیے۔

اس میں ایک دلچسپ بات جو سننے کو ملتی ہے وہ یہ کہ زبان تو قطعی ہوتی ہے لیکن لوگ چونکہ زبان کے قواعد و ضوابط سے ناواقف ہوتے ہیں یا ان کا درست استعمال نہیں کرتے۔ اس لیے لوگ غلط تشریح کرتے ہیں۔ یہ نہایت نا مناسب بات معلوم ہوتی ہے۔ کسی بھی متن پر جب کوئی غور و فکر کرتا ہے تو وہ زبان کے قواعد کی روشنی میں ہوتا ہے اور خاص کر ہماری تاریخ اس پر شاہد ہے۔
ہمارے ہاں فقہا زبا ن کے قواعد کو بھی دیکھتے تھے لیکن چونکہ ان قواعد سے حاصل ہونے والا فہم ذاتی ہوتا تو اس پر کسی حدیث کے مقابلے میں اپنے فہم کو ترجیح نہیں دی جاتی تھی۔ یہ بھی متن کے قطعی معنی تک پہنچنے کی ایک کوشش تھی۔

کسی متن سے متعلق اگر قطعی معنی تک پہنچنا ہو تو دو طریقے ہوسکتے ہیں:
1-متن سے متعلق قاری کے فہم کو قطعی مان لیا جاہے
2- متکلم کی شرح کو متن کے بارے میں قبول کیا جاہے

فقہا کا تفسیر بالماثور کو ترجیح دینا اور زبان کے قواعد کو بھی بعض اوقات ان آثار کے مقابل پس پشت ڈال دینا اسی قطیعت کو حاصل کرنے کی کوشش تھی۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فقہا زبان کے قواعد سے ناواقف تھے۔جس میں دو بنیادی مسائل ہیں:
1-شرح کو بھی سمجھنے اور اس سے اخذ و استفادے کا کام قاری ہی کرے گا جس سے قطیعت کسی طور حاصل نہیں ہوسکتی
2- ہمارے پاس احادیث کا ایسا ذخیرہ موجود نہیں ہے جس سے ہم پورے قرآن کو قطعی بنا دیں (اگر بفرض محال کسی طور شرح سے بھی قطیعت حاصل ہوتی ہو)۔

زبان کیFluidity سے متعلق ایک مثال پر اپنی بات کو ختم کرنا چاہوں گا۔ قرآن کی ایک آیت ہے الرجال قوامون علی النساء کہ مردوں کو عورتوں پر حاکم ٹہرایا گیا ہے یا مرد کو سربراہی دی گئی ہے۔ لفظ سربراہی مجرد کسی شخص یا گوشت پوست کے انسان کا نام نہیں ہے بلکہ تصورات کا ایک مجموعہ ہے جس کا محور انسان ہے۔ آج سے چودہ سو سال قبل کے سربراہی سے متعلق تصورات اور آج کے تصورات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

اگر صرف خاندانی نظم میں چودہ سو سال پرانے مرد کی سربراہی کو دیکھا جائے  تو خاندانی نظام کی جو شکل بنتی ہے اس میں عورت کا حصہ بہت کم بنتا ہے۔ مرد حاکم ہے۔ وہ تمام فیصلے کرتا ہے۔ وہ نان و نفقہ کا ذمہ دار ہے۔ عورت چولہے چوکے کی ذمہ دار ہے۔مر د و عورت میں حاکم و محکوم نہ سہی لیکن پہلے درجے کے شہری او ر دوسرے درجے کے شہری کا سا تعلق ضروری ہے۔
اسی لفظ سربراہ کو اگر آج دیکھا جایے تو سربراہ شوری کے مشورے سے چلتا ہے، وہ لوگوں کا خادم ہوتا ہے وغیرہ۔ اس سے جو خاندانی نظم بنتا ہے اس میں مرد پر نان و نفقہ کی ذمہ داری ہے، مرد شوری کے طریقے پر گھر کو چلاتا ہے۔مرد و عورت آپس میں دوست ہیں جو گھر کو باہمی مشورے سے چلاتے ہیں۔

زن و شو سے متعلق بہت سے احکامات کی حقیقت بھی تبدیل ہوجاتی ہے جیسے کہ حق مہر عورت کے محبوس فی البیت ہونے کی قیمت ٹہرتا ہے اور آج حق مہر مرد عورت کی مالی ذمہ داری اٹھانے کا عملی مظاہرہ کرکے دکھاتا ہے۔ اسی طرح، طلاق مرد کا حق ہے کیونکہ وہ عورت پر خرچ کرتا ہے اور آج طلاق مرد کا حق ہے کیونکہ خاندانی نظم کی ناگزیر ضرورت ہے کہ کسی کو حکم بنا دیا جاہے ۔

یہ سب جدید فکر نہیں بلکہ لفظ سربراہ کےمعروف معنی اور اس کے ساتھ بندھے تصورات میں تغیر کا ایک نتیجہ ہے۔

اب اگر آپ زبان کی قطعیت پر اصرار کریں تو یہ لازم ٹہرتا ہے کہ آپ اس خاندانی نظام پر بھی اصرار کریں جو چودہ سو سال پہلے کا تھا اور اس میں مرد جس طرح حاکم بن کر دکھاتا تھا۔جو مرد بطور حاکم معروف صورت اس دور میں تھی اسی کو آج بھی پیش نظر رہنا چاہیے۔ اس طرح ہر چیز کو چودہ سو سال تک لوٹائیں جیسے ہمارے روایتی احباب لوٹاتے ہیں۔
لیکن اگر زبان کو تو ڈی کنسٹرکٹ کریں اور اسے دور نبوت کے محاورے تک لیجانے کی کوشش کریں اور اس کے اطلاقات کے وقت آپ زمان و مکان کے تغیرات کو قبول کرلیں۔ یعنی زبان کو دور نبوت تک ڈی کنسٹرکٹ کیا جایے لیکن اطلاقات اسی دور کے رہیں گے۔ یہ عجیب بات بنتی ہے۔
اس کے برعکس اگر آپ زبان کی fluidity کو قبول کرلیں جو بہت Natural ہے تو متن کو دیکھنے کی ایک نئی جہت سامنے آجاتی ہے۔
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ متن کو سمجھنے کو کھلا چھوڑ دیا جایے یعنی اس کے کوئی لگے بندھے اصول نہیں ہوں گے وغیرہ۔ زبان فہمی کے اصول تو ہمارے سامنے ہیں لیکن ہمیں زبان کے تغیرات اور احتمالات کو بھی سامنے رکھناچاہیے جو زبان کیFormation میں بہت فطری طور پر در آتے ہیں۔
واللہ اعلم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭ولیم جیمز نے فلسفیوں سے متعلق بیان کیا ہے کہ فلسفی سمجھتے ہیں کہ وہ غیر جانبدارانہ طریقے سے اس دنیا اور اس کے نظم کی وضاحت میں مصروف ہیں۔ حالانکہ ان کی تمام تر وضاحتیں اور تمام تر کام جانبداری اور ذاتی تجربات کا نتیجہ ہوا کرتا ہے۔
انسان کا یہ معاملہ کم و بیش ہر جگہ ہے۔ چونکہ ہم مذہب سے متعلق بات کررہے ہیں سو مذہب میں بھی ہر عالم اور مفکر یہ سمجھتا ہے کہ وہ غیر جانبداری سے ایک تجزیہ پیش کر رہا ہے۔ یہ آوازیں بیسویں اور اکیسویں صدی میں بہت بلند آواز سے لگنے لگیں جب فکر صحیح یا درست مذہبی فکر کے علمبرداروں نے اپنا کام شروع کیا۔ یہ سوال نہایت اہم ہوجاتا ہے، خاص طور پر، جدید مذہبی افکار کے پس منظر میں، آیا کہ انسان اس قابل ہے کہ وہ اپنے زمان و مکان سے ماوراء ہوکر ایک کائناتی فکر پیش کردے۔ جس میں اس کی ذات کا ذرہ سا بھی یوگدان نہ رہا ہو۔ انسان اس کی خواہش کرسکتا ہے، اس کی کوشش بھی کرسکتا ہے لیکن وہ اپنے زمان و مکان اور حالات کے سامنے اس قدر بے بس ہے کہ جب بھی وہ کوئی قدم اٹھاتا ہے تو اس کے پس پشت بہت سے عوامل کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ہر دور میں مذہبی افکار میں تنوع پیدا ہونے کی ایک بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ ہر دور کا انسان اس دور کے زمان و مکان اور تقاضوں کے مطابق ڈھلا ہوتا ہے۔

کیا اس کا مطلب ہے کہ انسان یہ کام کسی درجے میں بھی نہیں کرسکتا؟ ہینا آرنٹ اور نطشے کی یہ بات اس بابت انسان کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ انسان بسا اوقات غیر فطری اعمال اپنی فطرت اور سماجی ضابطوں کے خلاف جا کر ، کرتا ہے۔ یہی اسے دوسرے جانوروں سے ممتاز بناتا ہے۔ جیسے بدلہ لینا ایک فطری رد عمل ہے۔ انسان جب بدلہ لینے کی بجایے معاف کرنا شروع کردیتا ہے تو وہ اپنے آپ کو فطرت کے خلاف کھڑا کردیتا ہے۔ لیکن کیا انسان اپنی اس کوشش میں کہ وہ غیر جانبدار ہو کر غور و فکر کرے، میں سو فیصد کامیاب رہتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے، جس کا جواب ظاہر ہے کہ نفی میں ہی دیا جاسکتا ہے۔

Advertisements
merkit.pk

سو اس بحث کے نتیجے میں، یہ واضح ہوتا ہےکہ انسان غیر جانبداری جو ایک غیر فطری رویہ ہے۔ اسے بھی نہ صرف اپناتا بلکہ اپنانے میں کچھ فیصد کامیاب ہو پاتا ہے۔ جس سے علم کا سفر جاری رہتا ہے۔ جس میں متاخرین، متقدمین کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں۔ یوں یہ سفر جاری و ساری رہتا ہے۔ اس لیے اپنی فکر کے صحیح ہونے کے زعم میں مبتلا ہونا اور اس پر اصرار کرنا ۔ دوسروں کی فکر کو سو فیصد غلطی پر مبنی سمجھنا ایک غیر انسانی رویہ ہے۔ ہر فکر کو اپنے دور ، اپنے وقت اور زمانی تحدیدات کے پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ جو بات آج نہایت دقیانوسی معلوم ہو وہ اپنے زمانے میں کتنی معقول رہی ہو۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟