سورج آگ برسانےلگا بہاولپور کا درجہ حرارت سنتالیس سینٹی گریڈتک جا پہنچا ایسے میں اگر بجلی بھی چلی جاۓ تو لوگ تڑپ اٹھتے ہیں ۔پوری دوپہر سڑکوں پر لوگ سایہ دار درختوں کے ساۓ تلاش کرتے ہیں دھوپ میں چند منٹ کھلے آسمان تلے ٹھہرنا قیامت سے کم نہیں ہوتا پھر بھی ہم درخت کاٹ رہے ہیں اور نئی شجر کاری کی جانب توجہ نہیں دے رہے ۔عجیب سوچ ہے گرمی سے جل بھن توجائیں گے مگر شجر کاری اور درختوں کی حفاظت نہیں کریں گے ۔ایسی صورتحال میں ذرا تصور کریں چولستان یا روہی کا جہاں کی دھوپ تو سردی کے موسم میں بھی برداشت نہیں ہوتی جہاں دور دور تک درخت دکھائی نہیں دیتے ۔جہاں پانی سراب بن جاتا ہے ۔جہاں انسان اور جانور ایک ہی ٹوبے سے پانی پیتے اور شکر ادا کرتے ہیں ۔اگر اس شدید گرمی میں آپ کو چھاوں ،چھت ،اور پنکھے جیسی نعمت میسر ہے اور بجلی بھی موجود ہے تو آپ بڑی عافیت میں ہیں اس پر خدا کا شکر ادا کریں کیونکہ یہ سب کچھ چولستان یا روہی میں نایاب ہے ۔جی ہاں یہ وہی چولستان ہے جہاں سردیوں میں ملک کی سب سے بڑی ڈیزرٹ جیپ کار ریلی منعقد ہوتی ہے اور سیاحت کو عروج حاصل ہو جاتا ہے ۔اس رنگارنگ تقریب میں سردیوں کا لطف اٹھاتے ہوۓ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہاں کی گرمی کیسی ہوگی ۔
چولستان یا روہی کے صحرا سے میرا تعلق بڑا گہرا یوں بھی بہت ہے کہ میرا تعلق چولستان کے گیٹ وۓ اور ریاست بہاولپور کے اہم ترین علاقے ڈیرہ نواب صاحب سے ہے ۔ چولستان وہ سرزمین ہے جو کبھی اپنے قدیم قلعوں ،مال مویشی اور خانہ بدوش ثقافت کی وجہ سے پہچانی جاتی تھی ۔سردیوں میں یہ چولستان ہزاروں میل سے آۓ مہمان پرندوں کی میزبانی کا فرض ادا کرتا ہے ۔آج سوکھے دریا ہاکڑہ کے کنارے آباد “روہی “پیاس سے بلک رہی ہے۔یہاں کی مٹی تو صدیوں سے خشک تھی ہی مگر اب انسانوں کی آنکھیں بھی پیاسی ہیں اور ان کی پانی کے حصول کی امیدیں بھی مدہم پڑنے لگی ہیں ۔گذشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر جانوروں اور جنگلی حیات کی پیاس سے تڑپنے اور مرنے کی خبریں اور ویڈیوز دیکھنے میں آرہی ہیں ۔آج جب ہم بہاولپور جیسے شہر میں بھی شدید گرمی کی باعث گھروں میں محصور ہونے پر مجبور ہوچکے ہیں تو ایسے میں چولستان کی گرمی کی شدت کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔گرمی کی شدت کے ساتھ ساتھ پانی کی خشک سالی کے منڈلاتے خطرات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں ۔ہمارے ہاں ایک روایت ہو اکرتی تھی کہ جب اس علاقے میں خشک سالی ہو تو یہاں کے لوگ “ڈالے کا بھت ” یعنی گندم کے دلیہ کا بھات پکا کر بچوں میں تقسیم کرتے ہیں تاکہ معصوم بچوں کی دعاوں سے بارش برسے ۔ سابقہ ریاست بہاولپور کے شہروں اور دیہاتوں میں بارش کے لیے دعاوں کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ چولستان کے روائتی ٹونے اور ٹوٹکے بھی آزماۓ جاتے ہیں ۔کیونکہ بارش جیسی اللہ کی رحمت ہی یہاں کی حالات یکسر بدل سکتی ہے ۔
چولستان یا روہی ایک نام ،ایک صحرا ،ایک خطہ ،ایک ثقافت کے ساتھ ساتھ ایک پرانے اور بوڑھے مگر خشک دریا “ہاکڑہ “کے تپتے ریت کے سمندر میں بسی وہ تہذیب ہے جو صدیوں سے اپنے اندر صبر ،قناعت اور فطرت سے ہم آہنگی کا درس دیتی آرہی ہے ۔مگر آج اس سرزمین کے باسی گرمی اور پیاس کی شدت سے موت کے دہانے پر کھڑے ہیں ۔یہ گرمی اور پیاس ان کے جسم اور حلق کو نہیں جلارہی بلکہ ان کی امیدوں اور خوشیوں ،ان کی فصلوں ،ان کے جانوروں ،ان کی جنگلی حیات کو بھی نگل رہی ہے جو کبھی اس خطے کی معیشت اور ثقافت کی ریڑھ کی ہڈی ہوا کرتے ہیں ۔ایک سروےکے مطابق پچھلے چار سالوں میں چولستا ن میں بارشوں کی شرح میں ساٹھ فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے ۔محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق چولستان کے اکثر علاقے شدید خشک سالی کے زمرۓ میں آچکے ہیں ۔موجودہ سال کے پہلے چار ماہ میں ہی تقریبا” پچاس مویشوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے ۔جبکہ تیس سے زیادہ دیہات جزوی یا مکمل طور ٹوبوں اور پکی سڑکوں کے قریب نقل مکانی پر مجبور ہیں اور جو رہ گئے ہیں وہ زندگی کے اس کٹھن امتحان سے گزر رہے ہیں ۔بارش کے میٹھے محفوظ شدہ پانی کے ٹوبے تیزی سے خشک ہو رہے ہیں ۔خشک سالی کا ایک سبب تو اس علاقے کی جغرافیائی اور موسمی صورتحال ہمیشہ ہی ہوا کرتی تھی لیکن چند سال سے عالمی حدت یعنی گلوبل وارمنگ نے اس میں مزید اضافہ کردیا ہے ۔چولستان کی اس صورتحال میں مسئلہ انتظامی بھی دکھائی دیتا ہے کیونکہ ٹوبے جو بارش کا پانی ذخیرہ کرتے ہیں ان کی صفائی کا باقاعدہ نہ ہونا ان کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کم کردیتا ہے ۔یہاں کے روائتی کنویں یا تو بند ہوچکے ہیں یا پھران کا پانی قابل استعمال نہیں رہا جبکہ نہری پانی کاخوااب تک محض دعووں کی حد تک ہی ہے ۔ماحولیاتی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو چولستان میں انسانی و جنگلی حیات شدید خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔
چولستان کے بیشتر باسیوں کا طرز زندگی خانہ بدوشانہ ہوتا ہے۔ان کے لیے پانی صرف ضرورت ہی نہیں بلکہ شناخت بھی ہوتی ہے وہ اپنے ٹوبے یا کنویں سے جانے جاتے ہیں ۔ان کے مویشی ہی ان کی روزی روٹی اور روزگار ہوتے ہیں ۔جب پانی نہیں تو پھر مویشی بھی نہیں اور اگر مویشی نہیں تو زندگی تصور بھی معدوم ہو جاتا ہے ۔یہاں کی سخت جان اور محنتی خواتین دن کے کئی گھنٹے پانی بھرنے کے لیے دور دراز تک جاتی ہیں ۔ بنیادی صحت کی سہولیات سے محروم یہاں کے بچے اور ضعیف العمر افراد اپنے “گوپوں “یعنی روائتی جھونپڑوں کے ساۓ تلے سخت گرم ہواوں میں جھلستے ہوۓ کیسے زندہ رہتے ہیں یہ صرف وہ ہی جان سکتا ہے جو کبھی ایک دن یہاں گزارے اور ریت کی ٹھندی رات میں بانسری کی مدبھری آواز سے لطف اندوز ہو اور صبح کو ٹوبے کی جانب پانی کے لیے جاتے مویشیوں کے گلے کی گھنٹیاں اسے جگاکر احساس دلائیں کہ چولستان کا ہر دن پانی کی تلاش سے شروع ہوتا ہے ۔
اس سے قبل بھی میں اپنے مضامین میں اس خشک سالی کی آفت سے بچنے کی کئی تجاویز دے چکا ہوں تاکہ عالمی حدت یا ماحولیاتی گرمی سے محفوظ رہنے کی ہر ممکن کوشش کی جا سکے ۔ اس سلسلے میں پانی کے ٹوبوں کی مرمت اور صفائی کے ساتھ ساتھ نئے ذخائر کی تعمیر اولین ترجیح ہونی چاہیے ۔رین واٹر ہارویسٹنگ یعنی بارش کے پانی کی ہارویسٹنگ سسٹم کو ہر علاقے نصب کیا جاۓ ۔ بارانی زراعت اور نہری نظام کی بہتری اور جدید طریقوں کے استعمال کی منصوبہ سازی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے ۔چولستان میں نہری پانی کی فراہمی کے لیے خصوصی منصوبے بناۓ جائیں ۔اس خشک سالی اور شدید گرمی کے دوران موبائل کلینک اور واٹر ٹینکر کا قلیل مدتی منصوبہ تشکیل دیا جاۓ۔اقوام متحدہ یا ماحولیاتی تنظیموں کی مدد سے اس خطے کو کلائمیٹ ایمرجنسی زون قرار دیا جاۓ ۔ملکی و غیر ملکی این جی اوز کی توجہ اس جانب بھی ضرور ہونی چاہیے تاکہ پینے کا پانی روزآنہ کہ بنیاد پر فراہم کیا جاسکے ۔ یہی وقت ہے کہ صرف امداد سے نہیں بلکہ مستقل پالیسی ،پانی کے تحفظ اور مقامی وسائل کی ترقی سے اس پیاسے چولستان کو بچایا جاۓ ۔جدید سولر سسٹم کے ذریعے دور دراز کے علاقوں کو روشن کرکے گرمی کی شدت میں کمی لائی جاسکتی ہے ۔پنجاب حکومت کا مفت سولر سسٹم فراہمی کا پروگرام قابل تحسین ہے لیکن اس میں چولستان کے لوگوں کو کو ترجیح دینی چاہیے بلکہ اسے چولستان کے لیے مختص کر نا چاہیے ۔موبائل ہسپتال اور موبائل ویٹرنری ہسپتال اور ڈکٹرز کی سہولت کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔آگ برساتی گرمی میں چولستان کے لوگوں کی ہمت وجرت کی داد دینابنتی ہے جو ان حالات میں بھی اپنی دھرتی کو سینے سے لگاۓ رکھتے ہیں اور امید کادامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے کہ اللہ کی رحمت ضرور ہوگی اور جلد ابر باراں برس کر چولستان روہی کی یہ پیاس ضرور بجھاۓ گا ۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں