دبیر کی شخصیت کا ارتقاء اور شاعری یعنی مرثیہ نگاری کا ایک خاص زمانی و واقعاتی پس منظر ہے جس سے کاٹ کر ان کی شاعری کو نہیں دیکھا جاسکتا۔ مرثیہ و سلام کی یوں تو ابتداء دکن کی شیعہ حکومتوں میں بہت پہلے ہوچکی تھی، کچھ ناقص نمونے ان کے دہلی میں بھی پیش کئے گئے مگر وہاں شیعیت کا غلبہ و استیلا نہ تھا۔ مرثیہ گو کو ’’بگڑا شاعر‘‘ اور مرثیہ خواں کو ’’بگڑا گویا‘‘ کہا جاتا تھا۔ لکھنو کی فضا پر شیعیت کی گھنگھور گھٹا چھائی ہوئی تھی، مرثیہ گوئی کو نشوونما پانے اور پوری طرح ترقی کرنے کا موقع ملا، مسدس کو ذریعہ اظہار بنایا گیا، روایتیں نقل کرنے کی ابتداء ہوئی۔ ضمیر کے شاگرد دبیر نے اور خلیق کے فرزند اور شاگرد انیس نے مرثیہ کو ایک مستقل فن بنادیا اور اتنی ترقی دی کہ اس کے آگے جانا کسی کے لئے ممکن نہ رہا۔ انہوں نے ایک طرف تو اپنی قادر کلامی کے جوہر دکھانے اور تنوع پیدا کرنے نیز رونے رلانے میں اثروتاثیر پیدا کرنے کی غرض سے تاریخ و وقائع نگاری سے قطعاً بے نیاز ہوکر بے شمار قصے اور روایتیں وضع کر کے مرثیوں میں داخل کردیں۔ اس کا اعتراف خود انیس نے کسی معترض کے جواب میں یہ کہہ کر دیا تھا:
’’جو صاحب معترض ہیں وہ دس بندھی ایسے کہہ کر سنادیں جنہیں صحیح روایات سے مطلق تجاوز نہ ہو اور پھر بھی کلام موثرو مبکی (رلادینے والا) ہو‘‘۔ (یادگار انیس)
گویا کربلا کے من گھڑت قصے اور وضعی روایتیں مرثیوں میں بیان کرنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ گریہ و بکا سے مرثیہ کو کامیاب بنایا جائے۔ دوسری طرف ان لکھنوی مرثیہ گو شعراء نے اپنے مرثیوں میں بیگماتی معاشرت کو پوری طرح سمو دیا۔ حسینی گھرانے کی غیرتمند و عالی ظرف ہاشمیہ و عربیہ خواتین کے وقار و ثبات، صبر واستقامت اور غیرت و حمیت کو بھارت کی دکھیاری ہندی عورت کے بین و نوحہ اور واویلا کا رنگ دے ڈالا اور قوت متخیلہ کی جولانیاں دکھانے کے لئے کربلا کے من گھڑت حالات دل و دماغ سے تراش تراش کر مرثیوں میں اس چابکدستی سے بھر دئیے کہ یہ وضعی روایات تاریخ کے مسلمات سمجھی جانے لگیں۔ حسینؓ کی اولاد میں صرف دو بیٹیاں فاطمہؒ و سکینہؒ تھیں، مرثیہ گویوں اور ذاکروں نے ایک تیسری بیٹی فاطمہ صغریٰ نام قرار دیکر یہ جھوٹا قصہ گھڑ ڈالا کہ مدینہ سے روانگی کے وقت حسینؓ اس تیسری بیٹی کو بیماری کی وجہ سے اپنی نانی ام سلمہؓ کے پاس چھوڑ گئے حالانکہ ام سلمہؓ تو ایک سال پہلے ہی وفات پاچکی تھیں اور اس تیسری بیٹی کا بھی کوئی حقیقی وجود نہ تھا، مگر اس وضعی قصہ کو بقول شیعہ مولف ’’مجاہد اعظم‘‘ نظماً و نثراً درد انگیز و رقت خیز پیرائے میں بڑے شدومد کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے لیکن یہ روایت بلکل غلط و بے بنیاد ہے۔ (مجاہد اعظم، ص ۱۹۴)
مرثیہ گوئی کے علاوہ مرثیہ خوانی بھی لکھنو کے شیعہ حکمرانوں کی سرپرستی میں ایجاد ہوئی اور یہ دونوں فن مرثیہ گوئی اور مرثیہ خوانی جلب منفعت کا بڑا ذریعہ تھے۔ آواز کے نشیب و فراز، اوضاع و طوار کے تغیرات سے بیان میں اثر پیدا کرنے، مضامین کے موافق چہرہ بنالینے اور خط و خال کے ارشادات سے گفتگو کو موثر کرنے کے اس فن کو لکھنو نے اوج کمال پر پہنچادیا۔
تحت اللفظ خوانی، روضہ خوانی، حدیث خوانی اور سوز خوانی رفتہ رفتہ مستقل فن بن گئے۔موسیقی کے شمول سے مرثیہ خوانی و سوز خوانی کو وہ مقبولیت ہوئی کہ صنف نازک نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اودھ کی بادشاہ بیگم کے یہاں تو کتنی ہی عورتیں اس کام پر مقرر تھیں، ویسے سارے شہر میں گھر گھر روزانہ زنانی مجلسیں ہوتی تھیں اور طوائفوں اور خانگیوں کے یہاں کی مجلسوں میں جو اکثر و بیشتر مسلکاً شیعہ اور موسیقی میں مہارت رکھتی تھیں، بڑا اژدھام رہتا تھا۔ سیاہ لباس، حسین چہرے، کھلتے رنگ، بال پریشاں، سہانا وقت، سریلی آوازیں، رقت خیز مضامین کی ادائیگی میں آواز کا اتار چڑھاؤ، اوضاع و اطوار کے دلکش تغیرات، یہ سب مل کر ایسا سماں باندھتے کہ مولانا عبدالحلیم شرر نے اپنا ذاتی تجربہ بیان کیا ہے کہ وضعی داستانوں کی حقیقت سے واقف ہو کر بھی وہ کس درجہ متاثر ہوتے تھے۔
اگر کسی کو نمونہ ملاحظہ کرنا تو مندرجہ ذیل اشعار دیکھ لیجئے:
وہ بولی صدقے جاؤں مصیبت سنو مری
مستی تلک نہ دی مجھے لوٹا دھڑی دھڑی
گہنا تمام لے گیا، ملبوس لے گیا
ہاتھوں کی چوھے دتیاں تک موس لے گیا
نتھ ناک سے اتار لی، منہ کیل کر مرا
اور چھکا دینے کو سونے کا تعویذ بھی لیا
لے بھاگا ڈھونڈنا مرا قرآن کی قسم
انگشتری چرائی سلیمان کی قسم
کیا کیا میں تڑپی مچھلیوں کے واسطے میاں
بالا بتا کر لے گیا بچپن کی بالیاں
سب چیز بست باندھ کر بستے میں لے گیا
موتی کے جھالے پانی برستے میں لے گیا
بشکریہ فیس بک وال
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں