دروازے پر ایک جھینگر /ترجمہ و تجزیہ : محمد عامر حسینی

دیپا بھاستھی بنگلور (انڈیا) میں رہتی ہیں ۔ وہ زیادہ تر آرٹ، لٹریچر ، اور عورتوں کے مسائل پر لکھتی ہیں ۔ کنٹر زبان کی ادیبہ بانو مشتاق کی ایک کہانی “سرخ لنگی” کا انگریزی ترجمہ انہوں نے کیا اور یہ ترجمہ جب معروف ادبی جریدے”پیرس ریویو” میں شائع ہوا تو ہندوستان سے باہر ادب سے دلچسپی رکھنے والے قارئین میں ان کا تذکرہ ہوا- آج دنیا بھر کے ادبی حلقوں میں ان کا نام گونج رہا ہے جب مشتاق بانو کی منتخب کہانیوں کے انگریزی ترجمے ‘ہارٹ لمیپ” کو ادب کا بوکر انعام ملا ۔ بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ بھاستھی خود بھی انگریزی میں فکشن لکھتی ہیں اور ان کی کہانیوں کے اکثر مرکزی کردار عورتیں ہی ہیں۔ ان کی ایک کہانی A cicada at the door/دروازے پر ایک جھینگر ہمال ساؤتھ ایشئین ویب جریدے پر آج سے 13 سال پہلے نمودار ہوئی۔ اس کہانی نے میری توجہ اپنی طرف اس لیے مبذول کرائی کہ میں نے اس میں gender performativity / جنس کی عملی تشکیل اور hegemonic norms/ غالب سماجی اصولوں کے تناظر میں عورت کے کردار کی افسانوی شکل دیکھی اور یہ کہانی اپنی گہرائی ، تہہ داری میں بانو مشتاق کی کہانیوں سے کہیں زیادہ گہری ، پیچیدہ ہے اور پوسٹ ماڈرنسٹ بیانیہ انہیں بانو مشتاق کے سادہ (مگر تہہ دار) بیانیہ سے ممتاز کرتا ہے۔
جدید فیمنسٹ نظریات کے مطابق جینڈر/ صنف کوئی فطری یا پیدائشی حقیقت نہیں بلکہ سماجی طور  پر سکھائی اور عمل میں لائی جانے والی عملی تشکیل اور پرفارمنس ہے ۔ یعنی عورت یا مرد ہونے کا مطلب یہ نہيں  کہ انسان فطری طور پر ایسا ہوتا ہے بلکہ معاشرتی رویوں ، روایات اور تقاضوں کی پیروی کرتے ہوئے وہ اپنی جنس / صنف کو پیش کرتا ہے۔ اس کہانی کی مرکزی عورت کا کردار “جنس کی عملی تشکیل” کی ایک کلاسیکی مثال ہے۔ وہ عورت ہونا “ادا کرتی ہے” — شوہر کی خواہش پر مسکرانا، اُس کی خدمت کرنا، مار کھانے کے بعد بھی خاموش رہنا، اور یہاں تک کہ خود کو”it” (یعنی بےصنف، غیرشخصی وجود) سمجھنا۔ سماج کی طرف سے عورت ہونے کی جو توقعات ہیں، وہ ان کو قبول کرتی ہے اور ویسا ہی کردار بھی نبھاتی ہے۔ اس کردار سے ظاہر ہوتا ہے عورت “سماج کے مطالبات” کی پیروی “مخصوص کردار ادا کرنے والی ” عورت بنتی ہے نا کہ یہ تشکیل محض حیاتیاتی حقیقت کی بنیاد پر ہوتی ہے۔
[مسکراؤ!
وہ غرایا۔
وہ، جو اُس کی ہر خواہش پر چلنے کی تربیت یافتہ تھی، ہلکے سے مسکرا دی۔] اس کہانی میں بار بار عورت کو “وہ”/it کہا گیا ہے ۔ جیوڈتھ بٹلر کا خیال ہے کہ شناخت کوئی ثابت شدہ یا مستقل شئے نہیں ہے بلکہ وہ مسلسل تکرار اور عمل / iteration کے ذریعے بنتی اور بگڑتی ہے۔ یہاں اٹ / وہ کی شکل میں کہانی کی کردار عورت ایک بے جان اور غیر انسانی وجود کے طور پر سامنے آتی ہے۔ کہانی میں عورت کی شناخت مکمل طور پر ختم کردی گئی ہے۔ اس کا نہ کوئی نام ، نہ آواز اور نہ مرضی ہے۔ مرد کی خواہش اور سماج کی روایات اس کی پہچان کی بنیاد بن جاتی ہے۔
[اُن کے بڑوں کی زبان میں نسوانی صنف کا کوئی وجود نہ تھا۔ “وہ” ایک بےجان، بےصنف “یہ” بن گئی تھی، جو ہر “عورت” کی نمائندگی کر رہی تھی۔] جنس اور شناخت کے جبر کا مرکز “مقتدرہ طاقت / Normative power اور پدرسری سماج / Patriarchy ہے۔ مقتدرہ طاقت اور پدرسری سماج یہ طے کرتا ہے کیا نارمل ہے اور کیا نہیں ہے۔
اس کہانی میں شوہر، خاندان حتیٰ کہ زبان خود مل کر اس عورت کے خلاف معیار/ Norms طے کرتے ہیں ۔
[ایک خوبصورت، لمبی ٹانگوں والی نوجوان لڑکی سے تعلق۔۔ اُس کے چچا ہنسے اور اُسے معاف کر دیا۔] یہ وہی غالب تانیثیت”hegemonic masculinity” ہے جسے بٹلر اور دیگر نسوانی نقاد تنقید کا نشانہ بناتے ہیں: مرد کی لغزشیں سماج ہنس کر بھلا دیتا ہے، جبکہ عورت کا ایک فطری عمل (جیسے بیٹی پیدا کرنا) بھی گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ طاقت کا توازن مکمل طور پر مرد کے حق میں جھکا ہوا ہے۔
جب انسان کی مرضی اور فیصلہ سازی چھن جاتی ہے تو اس سے اس کا اختیار/ agency بھی ختم ہوجاتا ہے۔ یہاں عورت اپنی زندگی اور موت کی مالک بھی نہیں۔ شوہر فیصلہ کرتا ہے کہ وہ کب زندہ رہے گی، کب مرے گی — یہاں تک کہ کب مسکرائے گی۔
[وہ ابھی مر نہیں سکتی تھی کیونکہ اُس کا شوہر اُسے مرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔] عورت کے پاس جذبات کا بھی اختیار نہیں — حتیٰ کہ خاموش آنسو بھی جرم ہیں۔ بٹلر اس پر زور دیتی ہیں کہ عورت کو صرف وہی جذبات دکھانے کی اجازت ہوتی ہے جو سماج اُس سے توقع کرتا ہے۔ اس کہانی میں عورت کا غم، اس کی مظلومیت، “ناقابلِ قبول” بن جاتی ہے، کیونکہ وہ مرد کی سکون پسندی میں خلل ڈالتی ہے۔
[اُس کا رونا، چاہے جتنا بھی خاموش ہو، شوہر کو ناگوار گزرتا تھا۔ اور اُن کے گھر میں یہ ناگواری ناقابلِ قبول تھی۔] [وہ لڑکھڑائی اور اُسے کونے میں کھڑے لمبے لکڑی کے موسل کو تھامنا پڑا.۔۔یہی موسل تھا جو اُس کی بیٹی کی جان لے چکا تھا۔ یہ چیز سب سے پہلے اُس نے کمرے سے نکالی۔] یہاں موسل محض ایک آلہ نہیں، بلکہ پدری سماج کی وہ قوت ہے جو عورت اور اُس کی نسل (بیٹی) پر ظلم روا رکھتی ہے۔ بٹلر کہتی ہیں کہ عورت کے جسم کو اکثر سماجی نظریات اور روایات کے نفاذ کا میدان بنایا جاتا ہے، اور یہاں موسل اس کا نشان بن جاتا ہے۔
دیپا سبھاستھی کی کہانی عورت کی زبان، وجود، شناخت، اور جسم پر سماجی اور مردانہ طاقت کے غلبے کی بےرحم داستان بھی ہے۔ عورت کو “it” بنا دیا گیا ہے — ایک ایسی شے جو حکم مانتی ہے، درد سہتی ہے، ہنستی ہے، روتی نہیں، اور جیتی ہے… جب تک مرد چاہے۔
“دروازے پر ایک جھینگر”(کہانی)
مصنفہ : دیپا بھاستھی / اردو ترجمہ : محمد عامر حسینی
لکڑی کا لمبا موسل اُس کے پیٹ پر ساتویں بار پڑا تھا۔ چوتھی ضرب کے بعد ہی اسے معلوم ہو گیا تھا کہ بچہ مر چکا ہے۔ جب یہ خیال مدھم سا اُس کے شعور میں جگہ بنا پایا، تو اُس نے رونا چھوڑ دیا۔ اب اُس کا ٹوٹا ہوا دل اور زخمی جسم صرف کراہ سکتے تھے، اور وہ بھی اُس وقت جب اُس کے بازو ڈھیلے انداز میں پیٹ کے گرد لپٹے ہوئے تھے، جیسے اپنی مر چکی بچی کی روح کو اُس انجام سے بچانے کی کوشش کر رہے ہوں جو وہ خود جھیلتی۔ اُسے یقین تھا کہ وہ بچی تھی، اور یہی وہ وجہ تھی جس کی پاداش میں یہ ضربیں اُس پر نازل ہوئیں — اب آٹھویں اور نویں بار بھی۔
“اسے کوئی نام رکھنے کی ضرورت نہیں”، اُس کے شوہر نے کہا تھا۔ کبھی اُس کا نام تھا، لیکن وہ نام جو اُس کی ماں نے رکھا تھا، اب کب کا فراموش ہو چکا تھا۔ ان کے بڑوں کی زبان میں صنفِ مؤنث کا کوئی تصور نہیں تھا۔ “وہ” ایک بے جان، بے صنف “یہ” میں بدل جاتی — ہر عورت کی نمائندگی کرنے والا ایک غیرمحسوس، غیرمتشکل “یہ”۔ عورت ہونا، صرف بڑوں کے احکامات اور دو ہزار سال پرانی روایات کا تابع بن جانا تھا — وہ روایات جو وقت کی گرد سے محفوظ رکھی گئی تھیں۔
ایسا بھی نہیں کہ اُس کا شوہر ان روایات پر عمل کرتا ہو۔ مرد ہونے کے ناطے، اُس کی معمولی لغزشیں دروازے کے پیچھے کے کسی کونے میں جھاڑو دے کر ڈال دی جاتی تھیں۔ لغزشیں جیسے دوستوں کے ساتھ سماجی مشروب نوشی (وہ بھی ہر مذہب کے لوگوں کے ساتھ!)؛ ایک لمبی ٹانگوں والی نوجوان لڑکی سے تعلقات؛ یا اُس کے فون میں محفوظ ویڈیوز۔ یہ تعلقات وقتی تیوریوں کا سبب بنے، لیکن اُس کے چچا ماموں ہنس دیے، اور اُسے معاف کر دیا۔ اُن کے اپنے جوانی کے دنوں میں بھی لڑکیاں اُن پر مرتی تھیں۔
کسی نے اُسے پانی کا گلاس تھمایا۔ لیکن وہ کہاں سے صفائی شروع کرتی؟ اُسے آخر دھونا کیا تھا؟ وہ گناہ جو اُس نے نہیں کیے تھے، یا وہ جن کی سزا شاید اُس کی آنے والی بیٹی کو پہلے ہی دے دی گئی؟ اُس نے پانی دینے والے کی طرف دیکھا۔ شاید اُن آنکھوں میں کوئی نرمی ہو۔ لیکن وہ نگاہیں ہٹ گئیں۔ اُس نے اُن قدموں کو تیز تیز جاتے ہوئے دیکھا۔ اُنہیں بتایا گیا تھا کہ زیادہ دیر رُکنا نہیں۔
اپنے آپ کو صاف کرنا، خود کو سمیٹنا — یہ کام صرف اور صرف اُسی کا تھا۔ وہ دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی، وہی دیوار جو اُس شام شوہر کی نگاہوں کی طرح سرد تھی، جب اُس نے ڈاکٹر کی رپورٹ پر نظر ڈالی تھی۔ پانی سرخ ہو چکا تھا، اُس کے اردگرد خون کی پتلی نالیاں بن گئی تھیں۔ اگر ممکن ہوتا تو وہ خود کو دیوار کی سفیدی میں غائب کر دیتی، اُس کی سرد مہری کو اپنے جسم سے چمٹی ہوئی گرمائی کے اندر جذب کر لینے دیتی۔ اُسے معلوم تھا کہ درد اور بڑھے گا، گرمی اور پھیلے گی، اور جسم میں جیسے آگ سی بھر جائے گی۔ وہ پہلے بھی یہاں آ چکی تھی — اسی کمرے میں، اسی سناٹے میں، اسی دیوار کے سائے تلے۔
وہی ہاتھ جو اُسے پانی دے گئے تھے، اب ایک کپڑا لے کر واپس آئے۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اسے کرنا کیا ہے۔ کیا وہ کپڑا بدلنے کے لیے تھا؟ یا ماتھے کا پسینہ پونچھنے کے لیے؟ یا آنسو؟ مگر آنسو تو کبھی رکے ہی نہیں تھے۔ اُس نے کپڑا لے لیا اور اُسے اپنے سینے سے لگا لیا، جیسے محسوس کرنا چاہتی ہو کہ شاید یہی وہ جگہ ہے جہاں سب سے زیادہ چوٹ پہنچی ہے۔ وہ کھڑی ہونے کی کوشش کرتی ہے، مگر اُس کا جسم بےجان ہو چکا ہے، جیسے اندر سے سب کچھ مر گیا ہو۔ وہی بےجان جسم، وہی جو کبھی گلابی فراکوں اور ٹیڈی بئیرز کے خواب دیکھتا تھا — اُس بیٹی کے لیے، جو اب اس دنیا میں نہیں۔
کیا وہ اس بار مر جائے گی؟ اس کی دعا کرنا تو وہ کب کا چھوڑ چکی ہے۔ مرد اور عورت دونوں دیوی دیوتاؤں نے اُسے تنہا چھوڑ دیا تھا۔ مگر اُسے معلوم ہے، وہ زندہ رہے گی — بالکل پچھلی بار کی طرح۔ کیونکہ اُس کے شوہر نے اُس کی طرف سے خاندان کے لیے ایک وارث کا وعدہ کیا ہے۔ ایک بیٹا، جو بالکل اپنے باپ جیسا ہو گا — اپنی ہی طرح کی بے لگام خواہشات کے ساتھ۔ وہ مر نہیں سکتی، کیونکہ اُس کا شوہر اُسے مرنے نہیں دے گا۔ اُسے رونے تک کی اجازت نہیں دے گا۔ اُس کا سسکنا — چاہے وہ جتنا بھی خاموش ہو — اُس کے شوہر کو ناگوار گزرتا ہے۔ اور اُن کے گھر میں، ناگواری کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔
اسے خود کو ہی سہارا دینا تھا۔ یہاں کوئی مدد کبھی نہیں آنے والی تھی۔ یہ اُس کا قصور تھا، اُس کا گناہ۔ اگر وہ رپورٹ اُسے نہ دکھاتی، تو کیا وہ بعد میں خود نہ جان لیتا؟ اور کیا تب وہ اُسے اور اُس کی بیٹی، دونوں کو مار نہ دیتا؟ شاید وہ بہتر ہوتا — اکٹھے مر جانا، بجائے اس کے کہ بیٹی کو تنہا اس انجام تک پہنچنا پڑتا۔ گلاس میں موجود پانی اُس کے گلے میں پھنس گیا، جیسے پچھلی بار کے بعد ہر نوالہ اُس کی سانس روک دیتا تھا، کئی دن، کئی ہفتے۔
اسے دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے پورے دس منٹ ہو چکے تھے — ایک آسودگی جو اسے کبھی میسر نہیں ہوتی۔ اُس کا شوہر دوبارہ اندر آئے گا، ضرور نشے میں ہوگا۔ وقت ہو چکا تھا صفائی کا۔ تیسری کوشش پر وہ دیوار کا سہارا لیتے ہوئے کھڑی ہو گئی۔ پہلا قدم ہی لڑکھڑا گیا، اور وہ اُس لمبے لکڑی کے موسل کو تھامنے پر مجبور ہو گئی، وہی موسل جس نے اُس کی بیٹی کی جان لی تھی۔ لمحہ بھر کو اُس مضحکہ خیز ستم ظریفی پر ہنسی آ گئی۔ یہی موسل تھا جو اُس نے سب سے پہلے کمرے سے نکالا۔
کمرے کو صاف کرنے میں اُسے آدھا گھنٹہ لگا۔ پچھلی بار جب اُس نے مدد مانگی تھی، شوہر نے سختی سے منع کر دیا تھا تاکہ وہ یہ گناہ یاد رکھے۔ اس بار اسے کسی کی ضرورت نہیں تھی۔ اُس کے جسم کی ہر چوٹ عرصہ پہلے بےحس ہو چکی تھی۔ اُس کا شوہر — وہ جو خود کو “اُس کا مرد” کہلوانا پسند کرتا تھا — آنے والا تھا، اور وہ چاہتا تھا کہ وہ اُس کے لیے تیار ہو۔ جیسے وہ پچھلی بار بھی چاہتا تھا۔ اُس کا جسم اب درد نہیں کرتا تھا، اس لیے یہ اب کوئی معنی نہیں رکھتا تھا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔
ایک اور آدھے گھنٹے میں وہ صاف کپڑوں میں تھی۔ اُس کا شوہر اندر آیا۔ اُس کی موجودگی میں نہ غصے کی بو تھی، نہ شراب کی۔ وہ اُسے دیکھ رہا تھا۔ اُس کی آنکھوں سے کبھی کچھ ظاہر نہیں ہوتا تھا۔ مگر اُسے اجازت نہیں تھی کہ زیادہ دیر اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھے۔ قاعدے کہتے تھے کہ ایک “وہ” — یعنی ایک بےشکل، بےحیثیت وجود — مرد کی آنکھوں میں جھانک کر اُس کے حکم کی تعمیل نہیں کر سکتا۔ اُس کی نگاہ کے نیچے وہ گھبرا گئی۔ کیا وہ دوبارہ موسل اُٹھائے گا؟
یا وہ معافی مانگنے والا ہے؟ کیا اُسے پچھتاوا ہوا ہے؟ کیا وہ آگے بڑھے گا، اور اُس کی بکھری لٹیں پیشانی سے ہٹا کر کہے گا کہ اُس سے غلطی ہو گئی؟ کہ وہ قصور وار ہے؟ کیا ایسا کہنا سب کچھ درست کر دے گا؟ اُس نے سنا تھا کہ کچھ مرد ایسے ہوتے ہیں — اپنی بیویوں سے نرمی سے پیش آنے والے، اُنہیں اُن کے نام سے پکارنے والے۔ نہیں، اُس کا شوہر اُن میں سے نہیں تھا۔ مرد کبھی غلطی نہیں کرتے۔
“مسکراؤ!” وہ  غرایا۔
وہ، جو اُس کی ہر خواہش پر چلنے کی تربیت یافتہ تھی، ہلکی سی مسکراہٹ لے آئی۔
اُس نے کہا کہ شام ہو چکی ہے، اور اُسے یہ مت بھولنا چاہیے کہ اُسے مسکراتے رہنا ہے۔ اُس نے سر ہلایا۔ ایک “وہ” کے لیے کوئی اور راستہ ہوتا بھی تو کیا؟
وہ ایک دن اور جی گئی تھی۔ لیکن اُس کی بیٹی نہیں۔ دروازے کی گھنٹی بجی۔ وہ جھینگر کی آواز جیسی لگی — اور اُسے اپنی ماں کے گھر کی برساتیں یاد آ گئیں۔
اُس کے شوہر کو اُس کمپنی کا منیجنگ ڈائریکٹر بنا دیا گیا تھا جہاں وہ کام کرتا تھا۔ خوشحال اور کامیاب “مسٹر اینڈ مسز ورما” اُس شام اپنے قریبی دوستوں کو دعوت دے رہے تھے۔ وہاں شیمپین کے گلاس چمکیں گے، کامیابیوں کا جشن منایا جائے گا — اور وہ مسکرانا یاد رکھے گی۔

Facebook Comments

عامر حسینی
عامر حسینی قلم کو علم بنا کر قافلہ حسینیت کا حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply