بچوں کی تعلیم سےبیزاری ،جبری تعلیم کا ردِ عمل/ وحید مراد

آج کی دنیا میں تعلیم سے بچوں کی بیزاری ایک عالمی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اگر ہم اس رویے کو گہرائی سے دیکھیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس بیزاری کی جڑیں اس تعلیمی نظام میں پیوست ہیں جو غیر فطری، غیر تخلیقی اور سخت گیر انداز پر مبنی ہے۔ اس روایتی انداز تعلیم کا دارومدار رٹے، یکسانیت اور جبر پر ہے۔ یہ نظام بچوں کو ایک مشینی سانچے میں ڈھالنے پر تلا ہوا ہے جہاں ہر بچے سے ایک جیسی کارکردگی کی توقع کی جاتی ہے قطع نظر اس کے کہ اُس کی نفسی ساخت، دلچسپیاں، سیکھنے کی رفتار یا معاشرتی پس منظر کیا ہے۔

آج والدین، اساتذہ، تعلیمی ماہرین اور پالیسی سازوں کے اذہان میں بار بار ابھرتا ہوا سوال یہ ہے کہ خصوصاً ریاضی جیسے مضامین سے بچوں کی بیزاری روز بہ روز بڑھتی کیوں جا رہی ہے؟ اگر ہم اس کا جواب صرف بچوں کی کاہلی، سستی یا سہولت پسندی میں تلاش کریں تو یہ نہایت سطحی تجزیہ ہوگا۔ اصل مسئلہ کہیں زیادہ گہرا ہے اور بصیرت طلب ہے۔

حال ہی میں جب امریکہ کے صدر ٹرمپ کو ایک رپورٹ پیش کی گئی کہ بھاری حکومتی بجٹ اور گرانٹس کے باوجود بچوں کی اکثریت ریاضی جیسے مضامین میں مسلسل پیچھے جا رہی ہےتو انہوں نے شدید ردِعمل کے طور پر وفاقی محکمہ تعلیم کو بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ لیکن افسوس کسی ماہر تعلیم نے یہ نکتہ پیش نہ کیا کہ شاید مسئلہ بجٹ یا اداروں میں نہیں بلکہ طریقہ تعلیم میں ہے۔ بچے اس سخت گیر رٹا سسٹم کے خلاف بغاوت کے طور پر عدم کارکردگی کا اظہار کر رہے ہیں۔

ٹیکنالوجی کی آمد، خوبصورت پریزنٹیشنز، رنگین سمارٹ بورڈز اور سجی سجائی کلاسز درحقیقت فرسودہ نظام تعلیم کو ہی زیادہ خوشنما انداز میں پیش کرنے کی کوشش ہیں۔ لیکن بچوں کے شعور میں یہ ظاہری چمک دمک ایک چالاک جبر کے سوا کچھ نہیں جسے وہ رد کر رہے ہیں۔ بچے جیسے ہی پرائمری جماعتوں سے نکل کر مڈل اور ہائر کلاسز میں داخل ہوتے ہیں وہ اس نظام کے خلاف نفسیاتی مزاحمت کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ رٹے کے خلاف شعور بیدا ر ہوتے ہی وہ اسکا اظہار لاتعلقی، بے دلی، اکتاہٹ اور سیکھنے سے انکار کی صورت میں کرتے ہیں۔

قابلِ غور بات یہ ہے کہ بڑے شہروں یا خوشحال طبقے کے بچے تعلیم سے نسبتاً زیادہ بیزار نظر آتے ہیں جبکہ چھوٹے شہروں یا کم وسائل والے طبقات کے بچے اسی نظام میں کچھ بہتر کارکردگی دکھا دیتے ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ شاید سہولیات کی زیادتی بچوں کو سست اور بے رغبت بنا دیتی ہے مگر حقیقت میں یہ بچے ابتدا ہی سے آزادی، انتخاب، تخلیق اور خود اختیاری جیسے اقدار سے آشنا ہوتے ہیں۔ جب یہ بچے اسکول کے سخت گیر، غیر لچکدار اور رٹے پر مبنی ماحول کا سامنا کرتے ہیں تو وہ اس کو اپنی فطری آزادی اور انفرادیت کے خلاف ایک جبر محسوس کرتے ہیں۔ یہی احساس رفتہ رفتہ تعلیم سے بیزاری میں ڈھلتا ہے جو دراصل شعور کا اظہار ہے نہ کہ نالائقی یا لاپرواہی۔

دوسری طرف، نچلے طبقے یا چھوٹے شہروں کے بچے اس ماحول سے آتے ہیں جہاں محنت، خاموشی، اطاعت اور درجہ بندی کا کلچر غالب ہوتا ہے۔ چونکہ ان بچوں کو تنقیدی سوچ، تخلیقی اظہار یا انفرادی رائے کی آزادی کا تجربہ کم ہوتا ہے، اس لیے وہ اس جابرانہ نظام کو کسی حد تک قبول کر لیتے ہیں۔ وہ بھی اس سے خوش نہیں ہوتے لیکن کامیاب ہونے کے شدید دباؤ اور متبادل سوچ کی عدم دستیابی کی وجہ سے مزاحمت کے بجائے اطاعت کو ترجیح دیتے ہیں۔ نتیجتاً وہ بسا اوقات بہتر نمبر تو حاصل کر لیتے ہیں مگر مفہوم و فہم سے خالی ہوتے ہیں۔

یہی مشاہدہ پاکستان کے تعلیمی اعداد و شمار سے بھی سامنے آتا ہے۔ دیہی علاقوں میں شرح خواندگی اگرچہ کم ہے مگر وہاں اسکول جانے والے بچے نسبتاً محنتی دکھائی دیتے ہیں کیونکہ تعلیم ان کے لیے زندگی بدلنے کا واحد راستہ ہے۔ برعکس اس کے شہری علاقوں میں شرح خواندگی بلند ہے لیکن تعلیمی بیزاری بھی وہیں زیادہ دیکھی جاتی ہے، خاص طور پر نصاب کی بوریت اور امتحانی رٹے کی وجہ سے۔ یہاں تک کہ کیمبرج یا آغا خان جیسے بڑے نجی بورڈز سے منسلک اداروں میں بھی بچے اکثر تعلیم کے غیر تخلیقی انداز پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر بھی یہی رجحان پایا جاتا ہے۔ OECD اور PISA جیسی تحقیقی رپورٹس بتاتی ہیں کہ جب اعلیٰ طبقے کے بچے تعلیم کو rigid یا غیر متعلقہ محسوس کرتے ہیں تو وہ اس سے کٹنے لگتے ہیں جبکہ کم آمدنی والے بچے زیادہ لچکدار رویہ اپناتے ہیں کیونکہ وہ تعلیم کو بقاء اور ترقی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

ماضی میں تعلیم کا مقصد شخصیت سازی، غور و فکر، اور علم کا حصول تھا، جب کہ آج تعلیم صرف گریڈز، رینکنگز اور نمبروں کی دوڑ بن چکی ہے۔ تعلیم بچوں کے تجسس کو مہمیز دینے کے بجائے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو کچل رہی ہے۔ سیکھنے کے فطری عمل کو رٹنے کے معیار پر پرکھا جا رہا ہے۔ ہر بچے سے یکساں انداز میں سیکھنے کی توقع رکھنا ایک ایسا ظلم ہے جو اس کے ذہنی، جذباتی اور تعلیمی ارتقا کو روک دیتا ہے۔ نتیجتاً تعلیم ایک بوجھ بن جاتی ہے، جو اکثر ذہنی دباؤ، خود اعتمادی میں کمی، سیکھنے سے نفرت اور بعض صورتوں میں نفسیاتی مسائل کو جنم دیتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بچے تعلیم سے دور نہیں ہو رہے بلکہ وہ غیر فطری، غیر متعلقہ اور جبری تعلیم سے مزاحمت کر رہے ہیں۔ وہ ایک ایسے نظام سے احتجاج کر رہے ہیں جو ان کے فطری تجسس، جذبات اور انفرادیت کو روند کر انہیں مشینی پرزہ بنانے پر تُلا ہوا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ بچے تعلیم سے جُڑیں تو ہمیں نظام تعلیم کو ان کے فطری مزاج، دلچسپیوں اور ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ ہمیں ایک ایسی تعلیم کی طرف لوٹنا ہوگا جو آزادی، تخلیق، کہانی، کھیل، تجربے اور مشاہدے پر مبنی ہو جہاں علم صرف یادداشت کا نام نہ ہو بلکہ فہم، بصیرت اور عملی بصارت کی صورت اختیار کرے۔ ورنہ چاہے ہم کتنے ہی سمارٹ بورڈز یا اینیمیٹڈ ویڈیوز کلاس روم میں شامل کر لیں بچے تعلیم سے یوں ہی منہ موڑتے رہیں گے۔

julia rana solicitors london

اس صورتِ حال کا حل یہ ہے کہ ہم بچوں کی آواز سنیں، ان کے سوالات، مشاہدات اور دلچسپیوں کو اہمیت دیں۔ تعلیم کو خوف اور مقابلے کے ماحول سے نکال کر تعاون اور تحقیق کے ماحول میں ڈھالیں۔ اساتذہ کو محض حکم دینے والے کی بجائے ایک رہنما، کوچ اور سہولت کار کے طور پر تربیت دیں۔ والدین اور اساتذہ کے درمیان ایک مسلسل مکالمہ ہو کہ بچوں کو جذباتی و ذہنی طور پر محفوظ، خوشگوار اور تعمیری تعلیمی ماحول کیسے مہیا کیا جائے۔ بچوں کو پروجیکٹ بیسڈ، تجرباتی اور مہارت پر مبنی تعلیم فراہم کی جائےتاکہ وہ سیکھنے کے عمل میں سرگرم شراکت دار بن سکیں۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply