کسی بھی ملک کی تاریخ لکھی جاتی ہے تو اسے مختلف ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے، پاکستان کی تاریخ بھی اس لحاظ سے تیسرے دور میں داخل ہو گئی ہے۔
پہلا دور 1947 سے 1971 تک تھا، جس میں قائد اعظم کے رخصت ہونے کے ساتھ ہی سیاستدانوں میں باہمی چپقلش اور مہاجرین میں زمین جائیداد کی تقسیم میں افسر شاہی کی بدعنوانی کے طوفان ایسے اٹھے کہ وطن کی بنیادوں کو مظبوط ہونے ہی نہ دیا۔
جمہوری نظام اس قدر کمزور ہوا کہ وزیراعظم پے درپے تبدیل ہونے کے بعد ایک لمبا دور آمریت کا رہا، سندھ طاس معاہدہ ، صدارتی انتخاب اور 1965 کی پاک بھارت جنگ اس دور کی یادگاریں ہیں، دارلخلافہ بھی کراچی سے اسلام آباد نیا شہر بسا کر منتقل کیا گیا، اسی میں مشرقی اور مغربی حصوں میں فاصلے بڑھے اور آگ و خون کی خلیج بن گئی، ایک آمریت کا اختتام ہوا تو دوسرے نے اپنا قبضہ بنانے کی کوشش میں مشرق و مغرب کو ہی جدا کروا دیا۔ وطن دولخت ہوگیا۔
کل ملا کر یہ دور پاکستان کی سیاسی بنیادیں کمزور کر گیا۔
دوسرا دور 16دسمبر 1971 سے پانچ مئی 2025 تک رہا۔ یہ ہنگامہ خیز دور بنگلہ دیش کی صورت پاکستان کو لگنے والے زخموں کو سینچنے بھارت کی قید سے فوجی اور سویلین قیدیوں کو چھڑا کر فوج کا اعتماد بحال کرنے جیسے کاموں سے شروع ہوا۔
اس دور میں ملک کو متفقہ آئین دینے ، روس چائینہ ایران اور ترکی سے تعلقات بڑھانے ، مسلم ممالک کو اکھٹا کرنے، عوام کو بنیادی حقوق کا شعور دینے جیسے تاریخی کام ہوئے۔
ایٹمی پروگرام شروع کیا گیا جو ایک کمزور معیشت کیلئے مشکل لیکن محفوظ مستقبل کیلئے ناگزیر پروگرام تھا۔
لیکن کاروباری اور تعلیمی اداروں کو قومیائے جانا جیسے بدترین فیصلے بھی ہوئے جو بعد ازاں سنگین غلطی ثابت ہوئے۔
جمہوریت اگر بادشاہت کا مزاج بنا لے تو آمریت کو راستہ مل جاتا ہے ، اس دور کی پہلی دہائی میں ہی بدترین آمریت کاتجربہ ہوا جو گیارہ سال جاری رہا جس میں امریکی مفادات کی جنگ ، روس کے خلاف افغانستان کی سرزمین پر لڑی گئی جس کے بطن سے لاکھوں مہاجرین کا معاشی بوجھ پاکستان پر پڑا تو ساتھ ہی مذہبی پردے میں لپٹی اس جنگ نے پاکستان کو دہشت گردی کلاشنکوف اور منشیات کا عذاب بھی دیا۔
اسکے بعد ایک دہائی جمہوری کھینچا تانی کا دور رہا، دو جمہوری پارٹیاں اسٹیبلشمنٹ کا کھیل کھیلتی رہیں، اسی دوران میزائل ٹیکنالوجی پر کام شروع ہوا اور بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں چھ ایٹمی دھماکوں نے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا ۔
اسی دور میں کارگل جنگ بھی ہوئی جس کے بعد پاکستان اور پاکستانی فوج ایک بار پھر مشکل حالات کا شکار ہوئے۔
سویلین اور اسٹیبلشمنٹ کی کشمکش آگے بڑھی تو آمریت پھر آموجود ہوئی۔ اس آمریت کے غیر سیاسی اقدامات نے ایک طرف سیاسی جماعتوں کو قریب آنے پر مجبور کیا تو تاریخی میثاق جمہوریت طے پایا جو آنے والے وقت میں بھی سیاسی مشعل راہ بنا رہے گا۔
کوئی ایک دہائی کے بعد جمہوریت بحال ہوئی لیکن آمریت نے اپنے گہرے بادل نہ چھٹنے دئیے، مزید ایک دہائی جمہوریت اپنی روشنی پھیلانے کی کوشش میں رہی اتنا تو ہوا کہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کر گئیں لیکن کوئی بھی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہ کرسکا۔
اب آمریت کا براہ راست آنا دنیا میں قبولیت پانا آسان نہ تھا تو ہائبرڈ جمہوریت کا ماڈل لانچ کیا گیا، دراصل 1998 میں چین نے اصولی طور پر طے کیا کہ انہیں دنیا کی معاشی قوت بننا ہے اس لئے انہیں خالص پیشہ ور فوج (پروفیشنل آرمی) چاہیئے، اگلے بیس سال کا ہدف مقرر ہوا تاکہ انکی افواج اپنے تمام کاروباری کام مکمل سمیٹ کر وزارت دفاع کے تابع اپنی دفاعی و حربی صلاحیتں بڑھانے پر اپنی توانائی صرف کریں گی۔ پاکستان بھی ایٹمی دھماکوں کے بعد امریکہ کی زیرنگرانی دنیا میں پابندیوں کا شکار ہونے پر چین سے قربت بڑھا چکا تھا، اس کا اثر بھی پاکستان میں ہوا اور اسٹیبلشمنٹ نے حکومت میں براہ راست موجود نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔
امریکہ نے ایف سولہ کے پرزے اور جنگی سامان دینا بند کیا تو چین سے جے ایف جہازوں کی فیکٹری ہی پاکستان لے آئی گئی، ہمارا فوجی ضروریات کا محور چین بن گیا۔

بس اب جان لیجیئے پاکستان کی تاریخ کا تیسرا دور مئی 2025 سے شروع ہوا ہے، چھ مئی سے شروع ہونے والی پاک بھارت جنگ نے معاشی مسائل سے لڑتے ، سیاسی عدم استحکام کا شکار ، عالمی سطح پر وقار بحالی کی تگ دو کرتے پاکستان کو اس خطے ہی میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں باوقار ، باصلاحیت اور عزت واحترام کا محور و مرکز بنا دیا ہے۔
امریکہ فرانس روس اور دیگر ممالک کا اسلحہ ساز وسامان اور جنگی جہاز سب تقریبا یکطرفہ لڑائیوں میں استعمال ہوئے تو انکی نقصان پہنچانے کی صلاحیتوں کا کوئی مدمقابل نہیں تھا، پاک بھارت حالیہ جنگ اس لئے منفرد ہے کہ اس میں چائینہ کے جنگی سامان حرب اور جدید جنگی جہازوں اور ٹیکنالوجی کا پاکستانی فوج نے استعمال کیا اور امریکی روسی فرانسیسی جہاز اسلحہ اور ٹیکنالوجی سے لیس بھارتی فوج کو بے بس کر کے شکست دی وہ ایسی صورت حال سے دوچار ہوا کہ امریکہ کو اسے بچانے کیلئے جنگ بندی کروانا پڑی۔
اس جنگ نے دنیا بھر کو چین کے اسلحہ اسکی ٹیکنالوجی اور مستقبل میں ترقی کے امکانات سے متعارف کروا دیا ہے
اب خطے کے کمزور ممالک ہوں یا امریکی حلیفوں کے دباو سے پریشان حال اسلامی ممالک، سب ہی پاکستان کی کامیابی سے خوش ہیں، کیونکہ بھارت کی ریشہ دوانیوں اور بڑھتی مداخلتوں کو یقینا اب مدمقابل کا سامنا ہو گا۔
پاکستان کی تاریخ کا یہ نیا دور ہے اب سے حوالہ 1971 یا کارگل کی جنگ نہیں ہوگی بلکہ 2025 کی جنگ آئیندہ کے اقدامات کے دائرے مقرر کرے گی۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ بھی چین کی طرح پیشہ ور فوج ( پروفیشنل آرمی) بننے کے راستہ کا انتخاب کرے ٹیکنالوجی کی نئی منزلیں مسخر کرے کیونکہ مستقبل میں اسلحہ ٹینک توپیں سب ٹیکنالوجی کے آگے بے بس کھلونے نظر آئیں گے، لہذا فوج اب حربی صلاحیتوں کو زنگ آلود کرنے والی سب کاروباری سرگرمیوں کو خیرباد کہہ دے۔
یہی وہ راستہ ہے جس سے ہماری یہ فوج نہ صرف اس پورے خطے میں امن وسلامتی قائم کر کے معاشی خوشحالی لانے کا باعث بنے گی بلکہ اسلامی ممالک کے دفاع اور امن میں بھی معاون ثابت ہو کر سب کی نگران و نگہبان بنے گی۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں