• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • عرب جاہلیہ کی محبت “امراءو القیس و عنیزہ”(حصہ اوّل)۔۔۔منصور ندیم

عرب جاہلیہ کی محبت “امراءو القیس و عنیزہ”(حصہ اوّل)۔۔۔منصور ندیم

وہ بے قراری سے آج کے دن کا انتظار کررہا تھا، اسے اپنی چچا زاد عُنیزہ بنت شرحبیل سے عشق تھا لیکن ملنے کے مواقع مفقود تھے۔ کیونکہ اسے سب ناپسند کرتے تھے۔
باوجودیکہ وہ قبیلے کے انتہائی معزز خاندان اور قبیلے کے سردار کا بیٹا تھا ، ماں و باپ کے بے جا لاڈ پیار اور آزادی کی وجہ سے غضب کا عیاش اور اوباش تھا، بادہ خوری، کھیل کود، شکار اور خاص کر لڑکیوں سے عشق بازی اور خواتین سے معاملہ بندی اس کے مرغوب مشغلے تھے۔ لطف کی بات تو یہ بھی تھی کہ اس کی پرتعیش زندگی کے واقعات کا لوگ تو کیا گواہی دیتے بلکہ یہ خود اپنی شاعری میں انتہائی صراحت اور ڈنکے کی چوٹ پر اس کے تذکرے کرتا تھا، بحیثیت سردار کا بیٹا ہونے پر یہ قبیلے کے لوگوں کی خدمت میں دلچسپی لینا تو کجا بلکہ اپنی بے ڈھنگ زندگی کی وجہ سے اپنے باپ اور شاہی خاندان کی ساکھ اور وقار کوخراب کرنے پر تلا رہتا تھا۔
باپ کے بارہا سمجھانے بجھانے کے باوجودجب وہ اپنے بیہودہ حرکات سے باز نہ آیا، تو اس کو مجبوراً گھر سے نکال دیا گیا۔ گھر سے نکالے جانے کے بعد تو رہی سہی حدود اورقیود سے بھی اسے آزادی مل گئی تھی۔
آج کا دن خصوصا اس نے کافی سوچ بچار کے بعد منتخب کیا تھا، آج اس کو اپنی محبوبہ (عنیزہ) سے ملاقات کا بہترین موقع اس وقت نصیب ہورہا تھا، جب اس کے قبیلے کے تمام مرد حضرات معمول کی طرح سالانہ جشن یوم غدیر منانے کیلئے آبادی سے دور چلے گئے۔ جبکہ خواتین دارہ جُلجل نامی حوض پرنہانے کیلئے گئیں۔
وہ اس دن خاموشی سے مردوں سے الگ ہوکر وہاں دارہ جُلجل نامی تالاب کے احاطے میں چھپ گیا تھا۔ یہ حوض قبیلے کی خواتین کے لئے مخصوص تھا، جہاں وہ اکثر گروہ کی صورت نہانے جاتی تھیں۔ جس وقت تمام قبیلے کی خواتین (جن میں عنیزہ بھی شامل تھی ) نے کپڑے اتار کر ایک جگہ رکھ دیئے اور تالاب میں نہانے لگیں تو کچھ ہی لمحات کے بعد اس نے موقع غنیمت جانا ، وہ اسی لمحے کی تاک میں بیٹھا تھا، وہ اپنی جگہ سے نکل کر اس جگہ پہنچ گیا جہاں خواتین نے اپنے کپڑے جمع کررکھے تھے، اور وہ ان کپڑوں کے ڈھیر کے اوپر بیٹھ گیا اور پھر اس نے ان خواتین کو آواز دی۔

’’دیکھو میں کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچانے والا بس جب تک تم میں سے ہر ایک میرے سامنے برہنہ حالت میں نہیں نکلتی، اس وقت تک میں کسی کے کپڑے واپس نہیں کروں گا‘‘۔

تمام خواتین کے لئے یہ ایک انتہائی شرمندگی کا مرحلہ تھا، وہ سب اس کے مزاج کی آوارگی کو جانتی تھیں۔ اب خواتین نے اس کی خوب منت سماجت اور حیلے بہانے کئے، مگر وہ چکنی مٹی کے گھڑے کی طرح اپنی خواہش پر ڈٹا رہا ۔ اس ساری منت سماجت میں صبح سے دوپہر کا وقت ہوگیا، جب اتنی دیر ہوگئی، تو خواتین نے لاچار ہو کر تیزی سے ایک ایک کرکے نکلنا شروع کیا، اور نکلتی جاتیں اور اپنے کپڑے لیتی جاتیں ، ایک ایک کرکے تمام ہی خواتین باہر نکل کر اپنے کپڑے پہن چکی تھیں، مگر ہنوز عنیزہ باہر نہ نکلی تھی، وہ اپنے بارے میں اس کے جذبات جانتی تھی، اسی لئے وہ کچھ امید کررہی تھی کہ شائد وہ اس کی بات مان جائے گا، وقت گزر رہا تھا، مگر وہ اپنی ضد پر جما رہا بالآخر عنیزہ جو ابھی تک ہچکچا رہی تھی، اس کے پاس اس کی بات ماننے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا ، مزید دوسری خواتین بھی اب اسے باہر نکلنے کے لئے اصرار کررہی تھیں، آخر کار عنیزہ بھی باہر نکلی تو اس نے اسے پوری طرح برہنہ دیکھ کر اپنی بھوکی آنکھوں کی پیاس بجھائی اور عنیزہ کو کپڑے حوالے کردیئے ، یوں دارہ جُلجل میں گزرنے والا یہ دن اس کی زندگی کا ایک یادگار دن ثابت ہوا۔ گرچہ اس نے اپنی آنکھوں کی بھوک تو مٹاڈالی تھی لیکن پیٹ کی بھوک سے نڈھال خواتین نے اسے کوسنے دینے شروع کردئیے تھے، اور بددعاوں پراتر آئیں تھیں کہ “خدا تجھے برباد کرے، اے بد بخت! ہمیں اب اتنی دیر ہوگئی ہے اور بھوک بھی لگی ہے‘‘ خواتین کا یہ واویلا سن کر اس نے فوری طور اپنی اس اونٹنی کو خواتین  کیلئے ذبح کردیا جس پر سوار ہوکر وہ خود “دارہ جُلجل” آیا تھا۔ اونٹنی ذبح کرکے خواتین کی مدد سے گوشت بنایا، آگ جلائی اور بھوننے لگا، اور آگ سے بھُنے ہوئے گوشت سے اس نے ان تمام خواتین کی تواضع کی، پیٹ بھرنے کے بعد جب سب اپنی اپنی سواری پر بیٹھ کر جانے کے لئے تیار ہوگئی تب واپس جانے کے لئے اس کے پاس کوئی سواری نہ تھی، کیونکہ اپنی سواری والی اونٹنی تو اس نے خواتین کی ضیافت کے لئے ذبح کردی تھی، اگرچہ اس کے پاس سواری نہ تھی، بجائے کہ یہ معاملہ اس کے لئے پریشانی بنتا، اس کے لئے تو گویا نیک شگون ثابت ہوا، کیونکہ اسے جس اونٹنی کے ہودج میں جگہ ملی وہ عنیزہ کی سواری تھی اور اسے عنیزہ کے پہلو میں بیٹھنا نصیب ہوگیا ۔اس لمحے گویا کہ اس کے دل کی مراد بر آئی ، اور اس سفر میں اس کے دل کی تمنا جن کیفیتوں میں ڈھل کر اس کی زبان پر اشعار کی صورت آئی وہ اس قصیدے میں ہے۔

قِفَا نَبْكِ مِنْ ذِكْرَى حَبِيبٍ ومَنْزِلِ
بِسِقْطِ اللِّوَى بَيْنَ الدَّخُولِ فَحَوْمَلِ

اے مرے دوستو! ذرا ٹھہرو یہاں محبوبہ کا اجڑا ہوا ویران گھر ہے آو کہ اس جگہ محبوب کے گھر پر کچھ رو لیں جو ریت کے ترچھے ٹیلے کے آخر میں مقام داخل اور حومل کے درمیان میں ہے۔

فَتُوْضِحَ فَالمِقْراةِ لَمْ يَعْفُ رَسْمُها
لِمَا نَسَجَتْهَا مِنْ جَنُوبٍ وشَمْألِ

جس کے ایک طرف مقام توضح اور دوسری جانب مقراۃ واقع ہیں۔ اس مقام کے نشانات شمالی اور جنوبی ہواؤں کے ایک دوسرے کے مخالف رخ چلنے کے سبب سے، اب تک ناپید نہیں ہوئے ہیں۔ کیونکہ جب ایک سمت کی ہوا، ریت اڑا کر ان نشانات کو چھپا دیتی ہے تو دوسرے رخ سے چلنے والی ہوا، اس ریت کو اڑا لے جاتی ہے۔ اسی طرح محبوب کی منزل کے نشانات مٹتے نہیں ہیں۔

تَرَى بَعَرَ الأرْآمِ فِي عَرَصَاتِهَـا
وَقِيعانِهَا كَأنَّهُ حَبُّ فُلْفُــلِ

دیکھو ٹم کو سفید ہرنوں کی مینگنیاں اس مکان کے صحن اس طرح نظر آرہی ہیں کہ گویا سیاہ مرچ کے دانے (یعنی اب اس جگہ کو خالی اور ویران سمجھ کر ہرنوں نے اس کا اپنا مسکن بنالیا ہے)-

كَأنِّي غَدَاةَ البَيْنِ يَوْمَ تَحَمَّلُـوا
لَدَى سَمُرَاتِ الحَيِّ نَاقِفُ حَنْظَلِ

اس منزل سے کوچ کرنے کے دن (یوم فراق کو یاد کرتے ہوئے) جب محبوب کے قبیلے والے روانہ ہو رہے تھے تو میں اس مقام کے قریب ہی ببول کے درختوں کی آڑ سے یہ منظر دیکھ کر آنسو بہا رہا تھا، جس طرح خنظل توڑنے والے کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہتے ہیں۔۔

(نوٹ : خطل، ایک درخت کا پھل ہے، جس کو توڑنے سے اسی طرح آنسو نکلنے لگتے ہیں جس طرح پیاز کاٹنے سے نکلتے ہیں، اردو میں اس کو اندرائن کہتے ہیں۔)-

وُقُوْفاً بِهَا صَحْبِي عَلَّي مَطِيَّهُـمُ
يَقُوْلُوْنَ لاَ تَهْلِكْ أَسَىً وَتَجَمَّـلِ

میں رو رہا تھا اور میرے دوستوں نے میرا رونا سن کر اپنی سواریاں میری محبوبہ کی ویران منزل کے قریب روک لیں۔ اور مجھ سے کہا کہ تم رو ، رو کر اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو۔ ذرا صبر و ضبط سے کام لو۔

وإِنَّ شِفـَائِي عَبْـرَةٌ مُهْرَاقَـةٌ
فَهَلْ عِنْدَ رَسْمٍ دَارِسٍ مِنْ مُعَوَّلِ

دوست مجھے گریہ و زاری سے منع کر رہے تھے۔ میں جواباً کہتا ہوں کہ میں رونے سے کیسے باز آ سکتا ہوں کہ میری شفا تو یہی بہتے ہوئے آنسو ہیں (پھرذرا ہوش میں آ کر خود سے کہتا ہوں کہ کیا منزل محبوب کے نشانات دیکھ کر رونے کا کوئی موقع ہے؟ بھلا اس جگہ میری فریاد سننے والا کون ہے۔ یہ نشانات مجھے کوئی سکون نہیں پہنچا سکتے۔ یہ رونا دھونا بے سود ہے۔

كَدَأْبِكَ مِنْ أُمِّ الحُوَيْرِثِ قَبْلَهَـا
وَجَـارَتِهَا أُمِّ الرَّبَابِ بِمَأْسَـلِ

عنیزہ کے عشق میں خود سے مخاطب ہو کر کہتا ہےکہ ” اس محبوبہ کی محبت میں تمہاری حالت اسی طرح ہوگئی ہے۔ جیسی اس سے پہلے ام حویرث اور اس کی پڑوسن ام رباب کے عشق میں ہوچکی تھی۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب تم مقام ماسل میں تھے۔ یعنی جس طرح پہلے ان دو عورتوں کی محبت میں مبتلا ہوکر مصیبتیں اٹھا چکے ہو اور ان کے وصل سے محروم رہے، اسی طرح اس محبوب کی محبت میں بھی رنج و غم کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔

إِذَا قَامَتَا تَضَوَّعَ المِسْكُ مِنْهُمَـا
نَسِيْمَ الصَّبَا جَاءَتْ بِرَيَّا القَرَنْفُلِ

(اب ان دونوں محبوباؤں کو یاد کرکے کہتا ہے) جب وہ دونوں کھڑی ہوتی تھیں تو ان کے جسموں سے مشک جیسی خوشبو نکل کر چاروں طرف پھیل جاتی تھی۔ ایسامعلوم ہوتا تھا کہ جیسے نسیم صبح، لونگ کے باغوں سے خوشبو اڑا کر لائی ہے۔

فَفَاضَتْ دُمُوْعُ العَيْنِ مِنِّي صَبَابَةً
عَلَى النَّحْرِ حَتَّى بَلَّ دَمْعِي مِحْمَلِي

اس شعر میں اپنی اس حالت کا ذکر کرتا ہے، جو ان دونوں محبوباؤں کی جدائی میں ہوئی) کہتا ہے، پس عشق کی وجہ سے میری آنکھ کے آنسو یہاں تک سینہ پر بہے کہ میرے آنسووں نے میری (تلوار کے) پرتلہ کو تر کر دیا۔

ألاَ رُبَّ يَوْمٍ لَكَ مِنْهُنَّ صَالِـحٍ
وَلاَ سِيَّمَا يَوْمٍ بِدَارَةِ جُلْجُـلِ

سنو! رنج و غم کا ذکر کہاں تک کرتے رہو گے، بہت سے دن ان (حسین عورتوں) کی جانب سے بہت اچھے رہے تھے، خصوصا وہ دن جو “دارۃ جلجل میں گزرا۔

ويَوْمَ عَقَرْتُ لِلْعَذَارَي مَطِيَّتِـي
فَيَا عَجَباً مِنْ كُوْرِهَا المُتَحَمَّـلِ

اور وہ دن یاد ہے، خاص طور پر وہ دن کس قدر پر کیف تھا، جس دن میں نے حسین دوشیزاؤں کی خاطر اپنی سواری کی اونٹنی ذبح کر ڈالی تھی اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ان دوشیزاؤں نے میری اونٹنی کا سامان اپنی سواریوں پر لادلیا۔ ان سے ایسی توقع نہیں تھی۔

فَظَلَّ العَذَارَى يَرْتَمِيْنَ بِلَحْمِهَـا
وشَحْمٍ كَهُدَّابِ الدِّمَقْسِ المُفَتَّـلِ

وہ کنواری لڑکیاں میری اونٹنی کا گوشت، اور اس کے بٹے ہوئے ریشم جیسی سفید چربی، بطور ہنسی دل لگی ایک دوسرے پر پھینکنے لگیں۔

ويَوْمَ دَخَلْتُ الخِدْرَ خِدْرَ عُنَيْـزَةٍ
فَقَالَتْ لَكَ الوَيْلاَتُ إنَّكَ مُرْجِلِي

“اور وہ دن کتنا خوشگوار تھا” جس دن میں اپنی محبوبہ (عنیزہ) کے محمل (ہودج) میں داخل ہوا، اس وقت اس نے مجھ سے کہا، تیرا برا ہو، تو مجھ کو پیدل چلنے پر مجبور کرے گا۔ یعنی میرا اونٹ اتنا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہے، کہ ہم دونوں اس پر بیٹھ سکیں۔

تَقُولُ وقَدْ مَالَ الغَبِيْطُ بِنَا مَعـاً
عَقَرْتَ بَعِيْرِي يَا امْرأَ القَيْسِ فَانْزِلِ

جب ہم دونوں کے بوجھ سے اونٹ کا محمل (ہودج) ایک سمت کو جھک گیا، تو عنیزہ نے مجھ سے کہا، اے امراؤ القیس! تم نے میرے اونٹ کی کمر جھکادی، بس اب اس پر سے نیچے اتر جاؤ۔

فَقُلْتُ لَهَا سِيْرِي وأَرْخِي زِمَامَـهُ
ولاَ تُبْعـِدِيْنِي مِنْ جَنَاكِ المُعَلَّـلِ

میں نے عنیزہ کو جواب دیا کہ “تم اونٹ کی مہار ڈھیلی چھوڑ دو، اور چلی چلو اور مجھے اپنے جو بن کے تر و تازہ میوےسے محروم نہ کرو۔ یعنی مجھے ہمراہی کی اس لذت سے لطف اندوز ہونے دو، جس میں اس وقت مشغول ہوں۔

فَمِثْلِكِ حُبْلَى قَدْ طَرَقْتُ ومُرْضِـعٍ
فَأَلْهَيْتُهَـا عَنْ ذِي تَمَائِمَ مُحْـوِلِ

اے عنیزہ! میں تجھ ہی سے خواہش وصل نہیں کر رہا ہوں، (محبوبہ کو غرورِ حسن سے باز رکھنے کے لیے کہتا ہے) کہ حسن و جمال میں تجھ جیسی بہت سی حسین و جمیل عورتیں اور بھی ہیں، کہ جو حاملہ ہیں۔ جن کے پاس میں رات کی تاریکی میں پہنچ کر لذت وصل کی ترغیب کے ذریعے ان کو ایک سال کے بچہ کی طرف سے غافل کردیا۔ دودھ پلانے والی عورتوں کی تخصیص اس لیے کی ہے  کہ ان میں وصل کی خواہش کم ہوتی ہے۔

إِذَا مَا بَكَى مِنْ خَلْفِهَا انْصَرَفَتْ لَهُ
بِشَـقٍّ وتَحْتِي شِقُّهَا لَمْ يُحَـوَّلِ

جب وہ (بچہ) اپنی ماں کی پشت سے روتا تھا، تو وہ اپنے جسم کا اوپر والا حصہ اس کی طرف پھیرتی تھی، اور ایک حصہ میرے نیچے رہتا تھا جو نہیں پھیرا جاتا تھا۔
(شاعر اس بات پر فخر کرتا ہے، اور محبوباہ سے کہتا ہے کہ) ایسی عورتوں کو اپنی طرف مائل کر لیا، تو پھر اے عنیزہ! تم تو کنواری ہو، پھر کس طرح مجھ سے گریز کر سکتی ہو۔
(امراء و والقیس اپنے زعم میں اپنی عیاشی کے حالات کھل کر بیان کررہا ہے)۔

ويَوْماً عَلَى ظَهْرِ الكَثِيْبِ تَعَـذَّرَتْ
عَلَـيَّ وَآلَـتْ حَلْفَةً لم تَحَلَّـلِ

ایک روز اس محبوبہ (عنیزہ) نے ٹیلے کی پشت پر آڑ میں کھڑے ہوکر بڑی سختی اور ناگواری کے ساتھ مجھ سے ترک تعلق کی بات کی، اور مجھے چھوڑ کر چلے جانےکی قطعی قسم کھائی، ایسی قسم جس کو توڑا نہیں جاسکتا۔

أفاطِـمَ مَهْلاً بَعْضَ هَذَا التَّدَلُّـلِ
وإِنْ كُنْتِ قَدْ أزْمَعْتِ صَرْمِي فَأَجْمِلِي

میں نے اس سے کہا کہ اے فاطمہ (عنیزہ کا دوسرا نام) یہ ناز و نخرے چھوڑ دو، اور اگر تم نے مجھ سے ترک تعلق اور جدا ہونے کا فیصلہ کر ہی لیا تو پھر خوش اسلوبی سے علیحدگی اختیار کرو۔

أغَـرَّكِ مِنِّـي أنَّ حُبَّـكِ قَاتِلِـي
وأنَّـكِ مَهْمَا تَأْمُرِي القَلْبَ يَفْعَـلِ

یقیناً  میری جانب سے تجھ کو یہ احساس یا گھمنڈ ہو گیا ہے کہ تیری محبت مجھے قتل (مارے) کیے دیتی ہے اور میں تمہارا ہر حکم بجا لاؤں گا، کہ میرا دل تمہارے حکم کا پابند ہے۔

وإِنْ تَكُ قَدْ سَـاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَـةٌ
فَسُلِّـي ثِيَـابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُـلِ

تم نے میرے دل کے دو حصے کر دیے ہیں۔ ایک حصہ تو ختم ہوچکا ہے، اور دوسرا لوہے کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔
اگر تم کو میری کوئی عادت پسند نہیں ہے۔ کوئی خصلت بری معلوم ہوتی ہے۔ تو میرے کپڑوں سے اپنے کپڑے الگ کردو۔ یعنی مجھ سے ترک تعلق کرلو۔ اگر تمہیں جدائی پسند ہے تو میں بھی اسے پسند کرتا ہوں۔ حالانکہ یہ میرے لیے ہلاکت کا باعث ہوگی۔

وَمَا ذَرَفَـتْ عَيْنَاكِ إلاَّ لِتَضْرِبِـي
بِسَهْمَيْكِ فِي أعْشَارِ قَلْبٍ مُقَتَّـل

تمہاری دونوں آنکھوں سے، جو آنسو بہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، وہ صرف اس لیے ہیں کہ میرے شکستہ دل پر تمہاری دونوں نگاہوں کے تیر اثر انداز ہوں۔ یہ دل جو پہلے ہی تمہارے عشق میں خستہ و خوار ہے اور زیادہ زخم خوردہ ہوجائے۔

وبَيْضَـةِ خِدْرٍ لاَ يُرَامُ خِبَاؤُهَـا
تَمَتَّعْتُ مِنْ لَهْوٍ بِهَا غَيْرَ مُعْجَـلِ

بہت سی (ایسی) دوشیزائیں ہیں، جو پردہ نشین ہیں، جن کے خیموں کے آس پاس، سخت نگرانی کے سبب کوئی جانے کی ہمت نہیں کرسکتا۔ لیکن میں بغیر کسی خوف کے ان کے پاس پہنچ کر، لطف اندوز ہوتا ہوں۔ ان سے گھنٹوں ہنسی دل لگی کرتا ہوں۔

تَجَاوَزْتُ أحْرَاساً إِلَيْهَا وَمَعْشَـراً
عَلَّي حِرَاصاً لَوْ يُسِرُّوْنَ مَقْتَلِـي

ایسے نگہبانوں اور قبیلہ سے بچ کر محبوبہ تک جا پہنچا جو میرے جب کہ اس کے محافظ جو میرے قتل کے لیے بے چین تھے اس کی حفاظت کر رہے تھے اور خواہش رکھتے تھے کہ کاش وہ پوشیدہ طور پر مجھے قتل کر ڈالیں۔

إِذَا مَا الثُّرَيَّا فِي السَّمَاءِ تَعَرَّضَتْ
تَعَـرُّضَ أَثْنَاءَ الوِشَاحِ المُفَصَّـلِ

میں محبوبہ سے ملنے کے لیے اس وقت آگے بڑھا جس وقت آسمان پر کہکشاں کا کنارہ اس طرح چمک رہا تھا جس طرح ہار میں موتیوں کے دانے چمکتے ہیں۔ یعنی میں محبوبہ کے پاس اس وقت پہنچا جس وقت کہکشاں کے ستارے علیحدہ علیحدہ چمک رہے تھے۔

فَجِئْتُ وَقَدْ نَضَّتْ لِنَوْمٍ ثِيَابَهَـا
لَـدَى السِّتْرِ إلاَّ لِبْسَةَ المُتَفَضِّـلِ

میں اس کے پاس ایسے وقت میں پہنچا، جبکہ وہ چلمن کے پاس جامہء خواب کے علاوہ سونے کے لیے (سب) کپڑے نکال چکی تھی۔

فَقَالـَتْ : يَمِيْنَ اللهِ مَا لَكَ حِيْلَةٌ
وَمَا إِنْ أَرَى عَنْكَ الغَوَايَةَ تَنْجَلِـي

ان حالات میں، اپنی محبوبہ کے پاس اس وقت پہنچا، جب اس نے اپنے کپڑے اتار ڈالے تھے۔ اور شب خوابی کے لباس میں، پردے کے پاس کھڑی، میرا انتظار کر رہی تھی۔ (لباس شب خوابی اس لیے پہنا تھا کہ گھر کے لوگ سمجھ لیں کہ وہ سونے جا رہی ہے)۔

خَرَجْتُ بِهَا أَمْشِي تَجُرُّ وَرَاءَنَـا
عَلَـى أَثَرَيْنا ذَيْلَ مِرْطٍ مُرَحَّـلِ

میں اس کو پردے سے باہر لایا۔ اور ساتھ لے کر چلنے لگا، وہ ہم دونوں کے نشانات قدم مٹانے کے لیے، اپنی منقش چادر کا دامن زمین پر گھسیٹتی ہوئی چل رہی تھی، تاکہ قدموں کے نشانوں سے کوئی ہمارا سراغ نہ لگا سکے گا۔

فَلَمَّا أجَزْنَا سَاحَةَ الحَيِّ وانْتَحَـى
بِنَا بَطْنُ خَبْتٍ ذِي حِقَافٍ عَقَنْقَلِ

جب ہم نے اس کے قبیلے کا میدان طے کر لیا اور ایک کشادہ ریگستان میں پہنچے، جو تہہ بہ تہہ ریت کے جم جانے سے بلند چبو ترے کی طرح تھا۔

هَصَرْتُ بِفَوْدَي رَأْسِهَا فَتَمَايَلَـتْ
عَليَّ هَضِيْمَ الكَشْحِ رَيَّا المُخَلْخَـلِ

تو میں نے اس کی زلفوں کی دونوں لٹیں پکڑ کر (اس کو اپنی طرف) جھکایا۔ چنانچہ وہ باریک کمر، گداز پنڈلی والی (معشوقہ) میری طرف جھک آئی۔

مُهَفْهَفَـةٌ بَيْضَـاءُ غَيْرُ مُفَاضَــةٍ
تَرَائِبُهَـا مَصْقُولَةٌ كَالسَّجَنْجَــلِ

وہ معشوقہ نازک کمر، خوبرو، سُتے ہوئے بدن کی ہے۔ اس کا سینہ آئینے کی طرح درخشاں ہے۔

كَبِكْرِ المُقَـانَاةِ البَيَاضَ بِصُفْــرَةٍ
غَـذَاهَا نَمِيْرُ المَاءِ غَيْرُ المُحَلَّــلِ

(وہ محبوبہ) اس موتی کی طرح ہے جس میں زردی اور سفیدی ملی ہوئی ہو، بالکل شتر مرغ کے زردی مائل سفید انڈے کی طرح، جو ہاتھ لگانے سے میلا نہیں ہوتا ہے۔ جس کو (ایسے) صاف پانی سے سیراب کیا ہو جس پر لوگ نہ اترے ہوں۔

تَـصُدُّ وتُبْدِي عَنْ أسِيْلٍ وَتَتَّقــِي
بِـنَاظِرَةٍ مِنْ وَحْشِ وَجْرَةَ مُطْفِـلِ

وہ محبوبہ، ناز و انداز دکھانے کے لیے ہم سے اٹھکھیلیاں کرتی ہے، اس طرح کہ اپنا حسین رخسار بطور لگاوٹ ہمارے سامنے کرتی ہے، اور اپنی آنکھوں کو مقام و جرہ کے وحشی بچہ دار ہرنوں کی طرح، اپنے اور میرے درمیان حائل کرلیتی ہے۔ میں ان مست نگاہوں کو دیکھ کر مدہوش ہو جاتا ہوں۔ اور تاب نظارہ باقی نہیں رہتی۔ (بچے والے ہرنوں کی تخصیص اس لیے کی ہے کہ وہ جس وقت محبت بھری نظر سے اپنے بچوں کو دیکھتے ہیں تو ان کی آنکھیں نہایت دل کش اور خوشنما معلوم ہوتی ہیں)۔

وجِـيْدٍ كَجِيْدِ الرِّئْمِ لَيْسَ بِفَاحِـشٍ
إِذَا هِـيَ نَصَّتْـهُ وَلاَ بِمُعَطَّــلِ

وہ اپنی ہرن جیسی خوشنما گردن بلند کرتی ہے لیکن اس کی گردن ہرن کی طرح لمبی اور بے ڈول نہیں ہے۔ اور نہ زیور سے خالی ہے۔

وفَـرْعٍ يَزِيْنُ المَتْنَ أسْوَدَ فَاحِــمٍ
أثِيْـثٍ كَقِـنْوِ النَّخْلَةِ المُتَعَثْكِــلِ

اس کے گھنے اور کوئلے جیسے سیاہ گیسو، اتنے دراز ہیں کہ زینت کمر بن گئے ہیں، اتنے گھنے ہیں جیسے پھلدار کھجور کا خوشہ۔

غَـدَائِرُهُ مُسْتَشْزِرَاتٌ إلَى العُــلاَ
تَضِلُّ العِقَاصُ فِي مُثَنَّى وَمُرْسَــلِ

(محبوبہ) کے گیسو اس طرح گوندھے گئے ہیں کہ ابھرے ہوئے نظر آتے ہیں اور گندھے ہوئے بال بے گندھے ہوئے بالوں میں چھپ جاتے ہیں۔ یعنی اس کے بال بہت زیادہ گھنے ہیں۔

وكَشْحٍ لَطِيفٍ كَالجَدِيْلِ مُخَصَّــرٍ
وسَـاقٍ كَأُنْبُوبِ السَّقِيِّ المُذَلَّــلِ

اس کی کمر اونٹ کی مہار جیسی پتلی ہے۔ پنڈلی ایسی صاف و شفاف، جیسے تازہ نرکل کا پور، جو زیادہ سینچائی کے سبب سے نہایت نرم و نازک ہو۔ (عرب میں نرمی اور نزاکت کے لیے نرکل کی تشبیہ ضرب المثل ہے)۔

وتُضْحِي فَتِيْتُ المِسْكِ فَوْقَ فِراشِهَـا
نَئُوْمُ الضَّحَى لَمْ تَنْتَطِقْ عَنْ تَفَضُّـلِ

وہ دن چڑھے تک سوئی رہتی ہے۔ مشک کے کٹے ہوئے ٹکڑے، اس کے بستر پر پڑے رہتے ہیں۔ شب خوابی کا لباس پہننے کے بعد وہ کمر پر پٹکا نہیں باندھتی ہے۔ یہ کام اس کی خادمہ کا ہے۔ کیونکہ وہ خوش حال اور ناز پروردہ ہے۔ اپنے ہاتھ سے کوئی کام نہیں کرتی، اس کی خدمت کے لئے خادمائیں موجود ہیں۔

وتَعْطُـو بِرَخْصٍ غَيْرَ شَثْنٍ كَأَنَّــهُ
أَسَارِيْعُ ظَبْيٍ أَوْ مَسَاويْكُ إِسْحِـلِ

اس کی نرم و نازک انگلیاں، ایسی باریک اور سیدھی ہیں جیسے اسحل کی مسواکیں، یا وادی ظبی کے اس کیڑے کی طرح ہیں، جس کا جسم سفید اور سر سرخ ہوتا ہے۔
(اسحل، پیلو کے ایک درخت کا نام ہے جس کی لکڑی سے مسواکیں بنتی ہیں۔ اردو میں اس کا نام پیلو ہے۔)

تُضِـيءُ الظَّلامَ بِالعِشَاءِ كَأَنَّهَــا
مَنَـارَةُ مُمْسَى رَاهِـبٍ مُتَبَتِّــلِ

رات کی تاریکی میں وہ اپنے رخ تاباں سے روشنی پھیلا دیتی ہے۔ ایسا لگتا ہے گویا وہ تارک الدنیا راہب کا چراغ ہے۔
(راہب کا چراغ سے مراد ، عرب میں عیسائی راہب رات میں کسی اونچی جگہ پر چراغ روشن کردیتے تھے تاکہ بھولے بھٹکے مسافروں کو ان کے پاس جا کر راستہ معلوم کرنے میں آسانی ہو۔ بعض عرب قبائل بھی مسافروں کے لئے اونچے مقام پر آگ روشن کردیتے تھے۔ تاکہ ان کو مہمان نوازی کا موقع ملے۔ اور مسافر کو صحیح راہ بھی مل جائے)-

إِلَى مِثْلِهَـا يَرْنُو الحَلِيْمُ صَبَابَــةً
إِذَا مَا اسْبَكَرَّتْ بَيْنَ دِرْعٍ ومِجْـوَلِ

اس جیسی محبوبہ کی طرف بردبار اور پرہیز گار لوگ بھی متوجہ ہوجاتے ہیں۔ ان کو اپنے جذبات پر قابو پانا مشکل ہوجاتا ہے۔ پھر ایسی حالت میں جب وہ قمیص پہننے والی (عورتوں) اور کُرتی پہننے والی (بچیوں) کے درمیان کھڑی ہو۔
یعنی جب وہ جذبات انگیز لباس میں نظر آتی ہے، تو اس وقت زاہدوں کے دل و دماغ بھی جذبہ عشق سے مسحور ہوجاتے ہیں۔

تَسَلَّتْ عَمَايَاتُ الرِّجَالِ عَنْ الصِّبَـا
ولَيْـسَ فُؤَادِي عَنْ هَوَاكِ بِمُنْسَـلِ

لوگوں کی نوخیز عمر کی محبت کے جذبات سرد پڑ گئے، عاشقانہ گمراہیاں زائل ہو گئیں (مگر اے محبوبہ) میرا دل تیری محبت سے جدا ہونے والا نہیں۔

ألاَّ رُبَّ خَصْمٍ فِيْكِ أَلْوَى رَدَدْتُـهُ
نَصِيْـحٍ عَلَى تَعْذَالِهِ غَيْرِ مُؤْتَــلِ

اے محبوبہ! میں نے ان لوگوں کو ناکام لوٹا دیا، جو تجھ سے محبت کرنے کے سبب مجھ سے دشمنی اور نزاع پر آمادہ ہیں، اور اپنے کو میرا ناصح سمجھتے ہیں۔ میں نے ایسے لوگوں کی نصیحت پر کان نہیں دھرے۔ بلکہ سنی ان سنی کردی۔

ولَيْلٍ كَمَوْجِ البَحْرِ أَرْخَى سُدُوْلَــهُ
عَلَيَّ بِأَنْـوَاعِ الهُـمُوْمِ لِيَبْتَلِــي

اور بہت سی موجِ دریا کی طرح (خوفناک) اور تاریک راتیں تھیں جنہوں نے میری آزمائش کے لے اپنے پردے طرح طرح کے غموں اور مصائب و آلام سمیت میرے اوپر ڈال دیے تاکہ (وہ مجھے) آزمائیں۔

فَقُلْـتُ لَهُ لَمَّا تَمَطَّـى بِصُلْبِــهِ
وأَرْدَفَ أَعْجَـازاً وَنَاءَ بِكَلْكَــلِ

جب رات نے اپنی پشت دراز کی، سرین پیچھے کی طرف نکالا، اور سینہ کو ابھارا (یعنی رات طویل ہونے لگی) تو اس وقت میں نے اس سے کہا:

ألاَ أَيُّهَا اللَّيْلُ الطَّوِيْلُ ألاَ انْجَلِــي
بِصُبْحٍ وَمَا الإصْبَاحُ منِكَ بِأَمْثَــلِ

اے ہجر کی شبِ دراز صبح بن کر روشن ہو جا (پھر ہوش میں آ کر کہتا ہے) مگر وہ صبح تجھ سے بہتر نہیں ہوسکتی یعنی جس طرح میں دن میں پریشان رہتا ہوں، اسی طرح رات بھی بے چینی میں گزرتی ہے۔

فَيَــا لَكَ مَنْ لَيْلٍ كَأنَّ نُجُومَـهُ
بِـأَمْرَاسِ كَتَّانٍ إِلَى صُمِّ جَنْــدَلِ

اے شب دراز! تو کسی طرح ختم ہی نہیں ہو رہی ہے۔ تیری حالت پر تعجب ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ تیرے ستارے، سن کی مضبوط رسی سے کسی سخت پتھر کے ساتھ باندھ دیے گئے ہیں کہ وہ اپنی جگہ سے حرکت ہی نہیں کرتے۔ جو کسی طرح صبح کی روشنی نظر آئے۔

وقِـرْبَةِ أَقْـوَامٍ جَعَلْتُ عِصَامَهَــا
عَلَى كَاهِـلٍ مِنِّي ذَلُوْلٍ مُرَحَّــلِ

میری قوم کے پاس پانی کے لیے بہت سی مشکیں ہیں جن کے دوال (یعنی تسمے) میں نے اپنے فرمانبردار اور بوجھ اُٹھانے والے کاندھوں پر اٹھائے ہیں۔ یعنی دوران سفر اپنے ساتھیوں کی خدمت بھی کرتا رہا ہوں۔ یعنی مجھے پانی سے بھری ہوئی مشکیں کاندھوں سے لٹکا کر ان کے لیے لاتا تھا

وَوَادٍ كَجَـوْفِ العَيْرِ قَفْرٍ قَطَعْتُــهُ
بِـهِ الذِّئْبُ يَعْوِي كَالخَلِيْعِ المُعَيَّــلِ

میں نے اپنے سفر کے دوران بہت سی وادیوں کو طے کیا ہے۔ ان میں وہ سنسان اور بے آب و گیاہ وادی غیر بھی ہے۔ جو گدھے کے پیٹ کی طرح سرسبزی و شادابی سے خالی تھی۔ اور اس وادی میں ایک بھیڑیا بھوک سے بیتاب ہوکر اس طرح چیخ رہا تھا، جیسے بازی ہارنے والا جواری چیختا ہے، جس کے بال بچے ہوں اور ان کے خرچ کے لئے کچھ بھی نہ بچا ہو، اور وہ حالت نااُمیدی میں غم و غصے سے بے چین ہوکر فریاد و فغاں میں مصروف ہو۔

فَقُلْـتُ لَهُ لَمَّا عَوَى : إِنَّ شَأْنَنَــا
قَلِيْلُ الغِنَى إِنْ كُنْتَ لَمَّا تَمَــوَّلِ

جب وادی غیر میں وہ بھوکا بھیڑا چلایا تو میں نے اس سے کہا، اگر تو کبھی مالدار نہیں ہوا تو میں بھی تیری طرح کبھی صاحب ثروت نہ ہوسکا، یعنی ہم تم دونوں ایک جیسے ہیں۔ نہ تمہارے پاس کچھ ہے نہ میرے پاس، اس میں ہم اور تم یکساں ہیں۔

كِــلاَنَا إِذَا مَا نَالَ شَيْئَـاً أَفَاتَـهُ
ومَنْ يَحْتَرِثْ حَرْثِي وحَرْثَكَ يَهْـزَلِ

ہم دونوں کا حال یہ ہے کہ جب کچھ ہاتھ آتا ہے ، تو اس کو ضائع کردیتے ہیں، یعنی سب کچھ خرچ کر ڈالتے ہیں اور جو شخص میری طرح، اور تیری طرح کمائی کرے گا۔ آخر کو بھوک اور پیاس کے باعث دبلا ہوجائے گا۔ یعنی فضول خرچی کا انجام فقر و فاقہ ہوتا ہے۔

وَقَـدْ أغْتَدِي والطَّيْرُ فِي وُكُنَاتِهَـا
بِمُنْجَـرِدٍ قَيْـدِ الأَوَابِدِ هَيْكَــلِ

میں اتنے سویرے اٹھ کر کہ پرندے اس وقت اپنے گھونسلوں میں ہوتے ہیں ایک ایسے کم بال والے گھوڑے کو لے کر سفر کرتا ہوں جو ایسا گھوڑا ہے، جس کے جسم پر بال کم ہیں۔ اور اتنا تیز رفتا ہے، کہ جنگلی جانور اس کے آگے بھاگ نہیں سکتے۔ وہ ان کو بھی پکڑ لیتا ہے۔
(امراء القیس اپنی ان تکالیف کا ذکر کررہا ہے جو راہ عشق میں برداشت کرتا رہا، اسی کے ساتھ شب ہجر کی طوالت کی شکایت کی، پھر اپنی مہمان نوازی اور قوم کی غم خواری کا تذکرہ کیا۔ اور اپنی شہسواری کے کمالات بیان کئے۔ اب اپنے گھوڑے کی چستی، چالاکی اور تیز رفتاری کی تعریف بہترین انداز میں کرتا ہے)۔

مِكَـرٍّ مِفَـرٍّ مُقْبِلٍ مُدْبِـرٍ مَعــاً
كَجُلْمُوْدِ صَخْرٍ حَطَّهُ السَّيْلُ مِنْ عَلِ

اپننے گھوڑے کی تعریف کرتا ہے کہ اتنا موٹا تازہ ہے کہ کاٹھی بھی اس کی پیٹھ سے پھسل کر گر جاتی ہے۔

كَمَيْتٍ يَزِلُّ اللَّبْـدُ عَنْ حَالِ مَتْنِـهِ
كَمَا زَلَّـتِ الصَّفْـوَاءُ بِالمُتَنَـزَّلِ

“میرا” وہ گھوڑا چتکبرہ ہے۔ اور جب اس کو پیچھے ہٹانا چاہو، تو بڑی تیزی سے ہٹتا ہے۔ وہ گھوڑا دشمن پر حملہ کرنے کے وقت زبردست حملہ آور ہے۔ وہ آگے بڑھنے اور پیچھے ہٹنے میں بہت چست ہے۔ دونوں متضاد اوصاف اس میں موجود ہیں۔ وہ اس تیزی سے بڑھتا ہے جیسے سیلاب کے اثر سے کوئی پتھر پہاڑ سے پھسل کر گرتا ہے۔

عَلَى الذَّبْلِ جَيَّاشٍ كأنَّ اهْتِـزَامَهُ
إِذَا جَاشَ فِيْهِ حَمْيُهُ غَلْيُ مِرْجَـلِ

اس گھوڑے کا جسم چھریرا ہے، اس کے باوجود جب اس کو چلنے کا اشارہ کیا جاتا ہے، تو بہت گرم ہوجاتا ہے، اور جب وہ گرم ہوکر فراٹے بھرنے لگتا ہے، اس وقت اس کی آواز تیز آنچ پر لپکتی ہوئی پرجوش ہانڈی کی آواز سے مشابہ ہوتی ہے۔

مَسْحٍ إِذَا مَا السَّابِحَاتُ عَلَى الوَنَى
أَثَرْنَ الغُبَـارَ بِالكَـدِيْدِ المُرَكَّـلِ

وہ ایسا گھوڑا ہے جو ایک چال کے بعد دوسری چال نکالتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ برستا ہوا مینہ ہے۔ حالانکہ اور گھوڑے تھک کر سست ہوجاتے ہیں اور سموں سے روندی ہوئی سخت زمین میں غبار اڑانے لگتے ہیں۔ یعنی جب اور اچھے اچھے گھوڑے کثرت سفر سے تھک کر زمین سے پاؤں رگڑنے لگتے ہیں، اور ان میں چلنے کی ہمت اور طاقت نہیں رہ جاتی ہے، اس وقت میرا گھوڑا تازہ دم اور سبک رفتار رہتا ہے۔

يُزِلُّ الغُـلاَمُ الخِفَّ عَنْ صَهَـوَاتِهِ
وَيُلْوِي بِأَثْوَابِ العَنِيْـفِ المُثَقَّـلِ

میرا وہ گھوڑا دبلے پتلے نئے سوار کو اپنی تیز رفتاری کے باعث کمر سے پھسلا کر گرا دیتا ہے۔ اور موٹے تازے جسم والے تجربےکار سوار کے کپڑے پھینک دیتا ہے۔ یعنی اناڑی سوار کو تو گرا دیتا ہے اور مشتاق سوار کو بھی چالاکی کے باعث کپڑے درست کرنے کی مہلت تک نہیں دیتا۔

دَرِيْرٍ كَخُـذْرُوفِ الوَلِيْـدِ أمَرَّهُ
تَتَابُعُ كَفَّيْـهِ بِخَيْـطٍ مُوَصَّـلِ

وہ گھوڑا اتنا چالاک اور پھرتیلا ہے کہ کاوا دینے سے پھرکی کی طرح گھوم جاتا ہے۔ جیسے کسی لڑکے کے دونوں ہاتھوں نے پھر کی کو بار بار زور سے گھمایا ہو، اور اس سے آواز نکلتی ہو، یعنی وہ گھوڑا ذرا سے اشارے پر فراٹے بھرنے لگتا ہے۔

لَهُ أيْطَـلا ظَبْـيٍ وَسَاقَا نَعَـامَةٍ
وإِرْخَاءُ سَرْحَانٍ وَتَقْرِيْبُ تَتْفُـلِ

اس کی کمر ہرن کی طرح پتلی ہے، ٹانگیں شتر مرغ کے مانند سیدھی، اور گوشت سے بھری ہوئی ہیں۔ اور رفتار بھیڑیے جیسی ہے۔ چھلانگ لگانے میں لومڑی کے بچہ کی طرح پھرتیلا ہے۔
(امراء القیس نے اس شعر میں چار تشبیہات نہایت اچھی طرح جمع کی ہیں)۔

ضَلِيْعٍ إِذَا اسْتَـدْبَرْتَهُ سَدَّ فَرْجَـهُ
بِضَافٍ فُوَيْقَ الأَرْضِ لَيْسَ بِأَعْزَلِ

وہ گھوڑاچوڑے سینے والا ہے۔ دم اتنی دراز کہ زمین سے کچھ ہی اونچی رہتی ہے۔ اور اتنی گھنی ہے کہ اگر اس کو پیچھے سے دیکھو تو دونوں ٹانگوں کے درمیانی فاصلہ کوگھنی دم سے ڈھکا ہوا پاؤگے۔ اس کی دم میں خم نہیں ہے، کہ عجیب سمجھا جاتا ہے

كَأَنَّ عَلَى المَتْنَيْنِ مِنْهُ إِذَا انْتَحَـى
مَدَاكَ عَرُوسٍ أَوْ صَلايَةَ حَنْظَـلِ

جب وہ گھوڑا ہمارے گھر کے پاس کھڑا ہوتا ہے تو اس کی چوڑی پشت اس پتھر کی طرح معلوم ہوتی ہے جس پر دلہن کے لیے خوشبو پیسی جاتی ہے۔ یا اندرائن کا پھل توڑا جاتا ہے۔

كَأَنَّ دِمَاءَ الهَـادِيَاتِ بِنَحْـرِهِ
عُصَارَةُ حِنَّاءٍ بِشَيْـبٍ مُرَجَّـلِ

وہ گھوڑا اپنی تیز رفتار کے باعث نیزے سے زخمی ہوکر بھاگنے والی جنگلی گایوں سے اتنا قریب ہوجاتا ہے کہ اس کے سینہ پر ان کے خون کے چھینٹے ایسے نظر آتے ہیں، جیسے کنگھی کیے ہوئے ہوئے سفید بالوں پر مہندی کے عرق کے دھبے۔

فَعَـنَّ لَنَا سِـرْبٌ كَأَنَّ نِعَاجَـهُ
عَـذَارَى دَوَارٍ فِي مُلاءٍ مُذَبَّـلِ

ہمارے سامنے گایوں کا ایک ریوڑ ظاہر ہوا، وہ گائیں گھومتی ہوئی گھاس چر رہی تھیں۔ ان کی دم اور گردن کے بال بہت گھنے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ لانبی چادروں میں ملبوس دوشیزائیں ہیں، جو مشہور بت “دوار” کا طواف کر رہی ہیں۔

فَأَدْبَرْنَ كَالجِزْعِ المُفَصَّـلِ بَيْنَـهُ
بِجِيْدٍ مُعَمٍّ فِي العَشِيْرَةِ مُخْـوَلِ

ہم کو دیکھ کر وہ گائیں پیچھے لوٹیں۔ اس وقت وہ سفیدی اور سیاہی آمیز یمنی مہرہ کے ہار کی طرح نظر آ رہی تھیں، جس میں جواہرات جڑے ہوئے ہوں، اور وہ ایک نجیب الطرفین لڑکے کی گردن میں آویزاں ہو۔ (نیل گایوں کو یمن کے مہرہ سے تشبیہہ دی ہے۔ کیونکہ وہ دو طرف سے سیاہ اور باقی سفید ہوتا ہے) (یمنی مہرہ کو مہرۂ سلیمانی کہا جاتا ہے)۔

فَأَلْحَقَنَـا بِالهَـادِيَاتِ ودُوْنَـهُ
جَوَاحِـرُهَا فِي صَرَّةٍ لَمْ تُزَيَّـلِ

میرے اس برق رفتار گھوڑے نے اپنی تیز روی اور چالاکی سے ہمیں گلہ کے آگے چلنے والی گایوں سے، اس طرح ملا دیا کہ پیچھے رہ جانے والی گائیں تتر بتر نہ ہوسکیں۔ اس طرح اس نے سب کو قابو میں کر لیا۔

فَعَـادَى عِدَاءً بَيْنَ ثَوْرٍ ونَعْجَـةٍ
دِرَاكاً وَلَمْ يَنْضَحْ بِمَاءٍ فَيُغْسَـلِ

اس تیز رفتار گھوڑے نے بہت پھرتی کے ساتھ جھپٹ کر ایک نر اور ایک مادہ گائے کو آگے پیچھے سے نرغے میں لے لیا (یعنی شکار کرلیا) اس کے باوجود اس کے جسم سے پسینہ تک نہ نکلا۔ یعنی اتنی بھاگ دوڑ کے بعد بھی نہ وہ تھکا، نہ ہمت ہارا۔

فَظَلَّ طُهَاةُ اللَّحْمِ مِن بَيْنِ مُنْضِجٍ
صَفِيـفَ شِوَاءٍ أَوْ قَدِيْرٍ مُعَجَّـلِ

اب ان شکار کی ہوئی نیل گایوں کا گوشت جو بہت زیادہ تھا اس کو پکانے والے لوگ دوگروہوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ گرم پتھروں یا کوئلوں پر کباب پکانے لگا اور دوسرے نے ہانڈیاں چڑھادیں۔ تاکہ گوشت جلدی تیار ہوجائے۔ (تھکے ماندے شکاریوں پر بھوک کا غلبہ ہوتا ہے اس لیے چاہتے تھے جلدی پک جائے)۔

ورُحْنَا يَكَادُ الطَّرْفُ يَقْصُرُ دُوْنَـهُ
مَتَى تَـرَقَّ العَيْـنُ فِيْهِ تَسَفَّـلِ

۔ہم شکار کرنے اور گوشت اور کباب کے بعد شام کو گھر واپس آئے۔ ہمارے گھوڑے کا یہ حال تھا کہ تھکان کے باوجود، اس کے حسن و خوبصورتی میں کوئی کمی نہیں آئی تھی، بلکہ آنکھیں اس کی خوبیوں کا جائزہ لیتے وقت چکا چوند ہوجاتی تھیں۔ جب اس کے جسم کے اوپری حصہ پر نظر ڈالتے تو نگاہ نہیں پڑتی تھی اور نیچے کے حصے کی طرف دیکھتے تو بھی یہی حال ہوتا تھا۔

فَبَـاتَ عَلَيْـهِ سَرْجُهُ ولِجَامُـهُ
وَبَاتَ بِعَيْنِـي قَائِماً غَيْرَ مُرْسَـلِ

سو وہ گھوڑا رات بھر اس حالت میں رہا کہ اس کا لگام اور زین اسی پر (کسا ہوا) تھا اور وہ تمام شب میرے سامنے ایسے حال میں کھڑا رہا کہ (اس کو چراگاہ میں) نہیں چھوڑا گیا تھا۔
(امراء القیس نے اپنے گھورے کی قوت برداشت، محنت اور فرمانبرداری کا حال بتایا ہے)۔

أصَاحِ تَرَى بَرْقاً أُرِيْكَ وَمِيْضَـهُ
كَلَمْـعِ اليَدَيْنِ فِي حَبِيٍّ مُكَلَّـلِ

اے یار (کیا) تو بجلی کو دیکھ رہا ہے (آ) تجھے میں اس بجلی کی تہہ بہ تہہ ابر میں دونوں ہاتھوں کی حرکت کی طرح چمک دکھاؤں۔

يُضِيءُ سَنَاهُ أَوْ مَصَابِيْحُ رَاهِـبٍ
أَمَالَ السَّلِيْـطَ بِالذُّبَالِ المُفَتَّـلِ

(کیا یہ) بجلی کی روشنی چمک رہی ہے یا اس راہب کا چراغ جس نے بٹی ہوئی بتیوں پر تیل جُھکا دیا ہے۔ جس کی چمک بادلوں کے اندر ایسی تہ در تہ نظر آتی ہے، جیسے دونوں ہاتھوں کا حرکت کرنا۔

قَعَدْتُ لَهُ وصُحْبَتِي بَيْنَ ضَـارِجٍ
وبَيْنَ العـُذَيْبِ بُعْدَمَا مُتَأَمَّـلِ

میں خود اور میرے ساتھی، بہت سوچ سمجھ کر مقام ضارخ اور عذیب کے درمیان چمکتی بجلی کا تماشا دیکھنے کے لیے بیٹھ گئے۔

عَلَى قَطَنٍ بِالشَّيْمِ أَيْمَنُ صَوْبِـهِ
وَأَيْسَـرُهُ عَلَى السِّتَارِ فَيَذْبُـلِ

بجلی کے چمکنے سے ہم کو معلوم ہوتا تھا کہ ہمارے دائیں جانب “قطن” پہاڑ پر بارش ہو رہی ہے اور بائیں طرف ستار اور یذل (نام پہاڑ) پر بھی پانی برس رہا ہے۔ بجلی کی چمک نہ ہوتی تو کچھ پتہ نہ چلتا۔

فَأَضْحَى يَسُحُّ المَاءَ حَوْلَ كُتَيْفَةٍ
يَكُبُّ عَلَى الأذْقَانِ دَوْحَ الكَنَهْبَلِ

تو وہ ابر اور پانی کو مقامِ کُتیفہ پر اس زور شور سے برسانے لگا کہ کنہل کے مضبوط جڑوں والے بڑے بڑے درخت اکھڑ کر منہ کے بل گر پڑے۔

ومَـرَّ عَلَى القَنَـانِ مِنْ نَفَيَانِـهِ
فَأَنْزَلَ مِنْهُ العُصْمَ مِنْ كُلِّ مَنْـزِلِ

اور جب اس تیز و تند بارش کے چھینٹے “قنان” پہاڑ پر پڑے تو اس نے پہاڑی بکروں کو ہر جگہ سے نیچے اتار دیا۔ یعنی خوفناک بارش کے اثر سے اس پہاڑ پر رہنے والے بکرے اپنے سب ٹھکانوں کو خالی کر کے جان کے خوف سے نیچے اتر آئے۔

وتَيْمَاءَ لَمْ يَتْرُكْ بِهَا جِذْعَ نَخْلَـةٍ
وَلاَ أُطُمـاً إِلاَّ مَشِيْداً بِجِنْـدَلِ

اس شدید بارش کے اثر سے موضع تیما کی یہ حالت ہوئی کی کھجور کے درختوں کا کوئی تنا کھڑ کر گرنے سے نہیں بچا، اور کوئی قلعہ منہدم ہونے سے نہیں رہ گیا اور قلعے جو مضبوط پتھروں سے تعمیر ہوئے تھے، یعنی نہ کوئی درخت محفوظ رہا نہ مکان سب گر گئے۔ بارش نے سب کو زمین بوس کر دیا۔
(یعنی صرف چونے اور پتھر کی بنی ہوئی عمارتیں سالم رہ گئیں۔ خام عمارتیں سب منہدم ہو گئیں)۔

كَأَنَّ ثَبِيْـراً فِي عَرَانِيْـنِ وَبْلِـهِ
كَبِيْـرُ أُنَاسٍ فِي بِجَـادٍ مُزَمَّـلِ

جب ثبیر پہاڑ پر، موڑی موٹی بوندوں والی بارش برسنے لگی، اور اس کی نالیوں سے جھاگ دار پانی بہا ، تو وہ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ گویا کوئی بڑا سردار دھاری دار کمبل اوڑھے بیٹھا ہے۔
(پہاڑ کی بہت سی نالیوں سے بہتے ہوئے جھاگ دار پانی کا منظر دیکھ کر شاعر نے، پہاڑ کو بڑے سردار اور نالیوں کو دھاری دار کمبل سے مشابہ ظاہر کیا ہے، بہت اچھی اور انوکھی تشبیہ ہے)۔

كَأَنَّ ذُرَى رَأْسِ المُجَيْمِرِ غُـدْوَةً
مِنَ السَّيْلِ وَالأَغثَاءِ فَلْكَةُ مِغْـزَلِ

ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مجیمر پہاڑ کی چوٹیاں صبح کے وقت سیلاب اور کوڑے کرکٹ کی وجہ سے تکلے کا دمڑکا ہیں۔ یعنی مذکورہ پہاڑ کی چوٹیاں، گھاس پھوس اور کوڑے کے جمع ہونے کی وجہ کہ جو چوٹی تک پہنچ گیا تھا، اس کی وجہ سے وہ چوٹیاں دمڑکا کی طرح گول دکھائی دیتی تھیں

وأَلْقَى بِصَحْـرَاءِ الغَبيْطِ بَعَاعَـهُ
نُزُوْلَ اليَمَانِي ذِي العِيَابِ المُحَمَّلِ

اس زور دار بادل نے اپنا سارا بوجھ صحرائےعبیط میں ڈال دیا ہے۔ یعنی بہت زیادہ پانی برسایا۔ بالکل اسی یمنی تاجر کی طرح جس کے پاس کپڑے کے بہت سے گٹھر ہوں۔ پانی برسنے کی تشبیہ کپڑے کے اس یمنی تاجر سے دی ہے جو بہت سارے تھان دکھانے کے لیے دور تک پھیلا دیتا ہے تاکہ خریدار اچھی طرح دیکھ سکیں۔
(زمانہ قدیم میں ملک یمن کا بنا ہوا ریشمی کپڑا بہت مشہور تھا۔ برد یمانی “یمنی چادر” کا ذکر عربی نظم و نثر میں بہت ہے۔)

كَأَنَّ مَكَـاكِيَّ الجِـوَاءِ غُدَّبَـةً
صُبِحْنَ سُلافاً مِنْ رَحيقٍ مُفَلْفَـلِ

بارش کی وجہ سے موسم ایسا خوشگوار ہو گیا تھا کہ صحرا کے سفید پرندے فرط نشاط سے ہر طرف نغمہ سنج نظر آ رہے تھے، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان پرندوں کو سیاہ مرچ (فلفل آمیز) ملی ہوئی عمدہ شراب پلائی گئی ہے، جس نے ان کو مست کردیا، اور وہ خوب چہک رہے ہیں۔

كَأَنَّ السِّبَـاعَ فِيْهِ غَرْقَى عَشِيَّـةً
بِأَرْجَائِهِ القُصْوَى أَنَابِيْشُ عُنْصُـلِ

وادی جوا میں شدت باراں کے باعث جو پرندے اور درندے پانی میں غرق ہو گئے تھے، وہ اس وادی کے اطراف میں شام کے وقت جنگلی پیاز کی جڑوں کی طرح نظر آ رہے تھے۔ (شاعر نے کیچڑ میں لت پت ہونے والے جانوروں کو جنگلی پیاز کی جڑوں سے تشبیہ دی ہے)۔

کسے پتہ تھا کہ یہ کلام 1400 سال بعد بھی اس کی شہرت کی یاد دلاتا رہے گا، یہ شخص تاریخ میں ملک الشعراء امراؤالقیس کہلایا اور یہ اشعار اس قصیدہ کے ہیں، جس کی نسبت سے یہ اصحاب معلقات کہلایا، امراوالقیس عربی کلاسیک شعراء میں وہ مشہور نام ہے جس کے قصیدے سے ہی ہمیشہ سبعہ معلقات کی ابتداء کی جاتی ہے ۔ امراء والقیس زمانہ جاہلیہ کے شعراء میں سب سے زیادہ ممتاز مقام  وحیثیت رکھتا ہے ۔ اپنی شاعری میں اس نے بعض ایسے مضامین اور اصناف استعمال کیے ہیں کہ ان سے پہلے دور جاہلیہ کے کسی شاعر نے اس طرح کے مضامین اور اصناف کا استعمال نہیں کیا۔

نزول قرآن کے وقت اور فتح مکہ کے بعد قصیدہ امراء والقیس سب سے آخیر میں ‌کعبہ کی دیوار سے اتارا گیاتھا ،   کعبہ میں مکہ کے سب سے اعلی شعراء کے جو سات  یا  آٹھ سب سے بہترین کلام لٹکے ہوئے تھے اور قرآن کے نزول کے بعد وہ سب  ایک ایک کر کے اتارے گئے  ۔

حصہ دوئم میں امراء والقیس کا تعارف اور زندگی کے بارے  میں مضمون لکھا جائے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *