ڈاکٹر کنگ شولتز ۔ (Dr.King Schultz)-ڈاکٹر مختیار ملغانی

امریکی اداکار ، ادیب اور بالخصوص ہدایت کار قوئنٹین ٹارینٹینو کی کسی بھی فلم کا کوئی ادنی سا کردار بھی بے معنی نہیں ہوتا، وہ ہر کردار کی نفسیات سے مکمل انصاف کرتے ہیں، بعض اوقات ان کے تراشے کرداروں کو دیکھ کر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ واقعی میں یہ کردار ہمارے درمیان موجود ہیں، بس ہم نے انہیں کبھی اس زاویئے سے دیکھا نہیں جیسے ٹارینٹینو نے ہمیں دکھایا ہے۔

ان کی مشہورِ زمانہ فلم Django unchained میں وہ ہمیں ایسے ہی ایک کردار سے متعارف کراتے ہیں، یہ کردار ڈاکٹر کنگ شولتز کا ہے، فلم کے اس مرکزی کردار کو آسٹرین جرمن اداکار کرسٹوف والتز نے نبھایا ہے، کرسٹوف والتز اس سے پہلے inglourious bastards میں اپنا لوہا منوا چکے تھے۔

ٹارینٹینو کے کردار عموما اخلاقیات کے سرمئی دائرے میں جدوجہد کرتے دکھائی دیتے ہیں، جہاں خیر اور شر کی کوئی واضح تعریف نہیں ہے، بس کردار اپنے جذبات، اپنی نفسیات اور موقع محل کے مطابق خود ہی اچھائی یا برائی کا فیصلہ کرتے ہیں، اگرچہ Django فلم میں ڈاکٹر کنگ شولتز کا کردار بظاہر بالکل دو ٹوک اور واضح کردار ہے، لیکن یہ کردار بھی اپنی اصل میں سیاہ اور سفید کی واضح حدود کا پابند نہیں مگر ٹارینٹینو کے باقی تمام کرداروں کی نسبت یہ شفاف ترین ہے ۔

ماورائے عدالت انسان کی جان لینا قتل ہے، جرم ہے ، لیکن اگر اسی انسان کی جان عدالت کے حکم پر لی جائے تو یہ عین انصاف ہے، ڈاکٹر کنگ شولتز فلم کے شروع میں ہی قتل و غارت کا بازار گرم کرتے دکھائی دیتے ہیں، ایسا لگتا ہے جیسے قرونِ وسطٰی کا کوئی ہتھیارا ہے جو خون کی ہولیوں سے باقاعدہ لطف اندوز ہو رہا ہے، اور ہر قتل پر اداکار کے چہرے کے تاثرات بھی اس لطف کی چغلی کھا رہے ہوتے ہیں، لیکن اگلے ہی لمحے وہ اپنی جیب سے عدالتی حکم نکال کر سامنے رکھ دیتے ہیں کہ مقتول اصل میں ایک مجرم تھا اور عدالت کی طرف سے اس کے قتل پہ باقاعدہ انعام رکھا گیا تھا ، لہذا انعام کا حقدار یہ عاجز آپ کے سامنے کھڑا ہے، اسی لمحے وہ کسی قاتل سے ہیرو کا روپ دھار کر شکوک کی ساری مٹی جھاڑ دیتے ہیں۔

ڈاکٹر کنگ شولتز ہر حال میں قانونی حکم نامے کا احترام کرتے ہیں، کوئی بھی فعل سرزد کرنے سے قبل وہ اچھی طرح جانچ پڑتال کرتے ہیں کہ قانون اس بارے کیا کہتا ہے، اگر قانونی طور پر فعل درست ہے تو وہ اسے بہادری کے ساتھ نبھاتے ہیں لیکن اگر کوئی قانونی رکاوٹ ہے تو بظاہر درست اور جائز فعل کیلئے بھی وہ قدم نہیں اٹھاتے، شاید اسی لئے وہ دندان سازی کا پیشہ چھوڑ کر اب غیر قانونی نیشوں کو اکھاڑنے کیلئے سر پہ کفن باندھ لیتے ہیں کہ سماج کیلئے لا قانونیت کے اس درد سے نجات زیادہ اہم ہے ۔

شروع میں ڈاکٹر کنگ شولتز کے سامنے کوئی بڑا مشن نہیں ہوتا، وہ سیاہ فام غلام کو آزاد اس لئے کرواتا ہے کہ اسے ایسے تین سفید فام مردوں کی تلاش تھی جن کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر امریکی حکومت نے بڑی بھاری قیمت رکھی ہوتی ہے، یہ سیاہ فام ان تینوں مجرموں کو چونکہ شکل سے جانتا ہے تو ڈاکٹر کیلئے یہ سیاہ فام ساتھی اہمیت کا حامل ہے، اور سیاہ فام کو اپنی زوجہ کی تلاش ہے تو دوطرفہ مفاد انہیں مذید قریب کر دیتا ہے۔

اس سفر کے دوران ڈاکٹر کنگ شولتز اپنے اندر ہوتی تبدیلیوں کی بدولت خود کو ایسے دوراہے پر پاتے ہیں جہاں بالآخر انہیں ان تبدیلیوں کو قبول یا رد کرنے کا فیصلہ کرنا ہے.

قانونی حکم نامہ اور قانون کی روح اپنے اندر مختلف مفہوم رکھتے ہیں، قانون کی روح ایک فلسفیانہ نکتہ ہے کہ کوئی بھی قانون یا قانونی فیصلہ اجتماعی اخلاقیات سے باہر نہ ہو، اجتماعی انسانی ضمیر اس پہ مطمئن ہو ، قانون صرف جرم پہ سزا نہ دے بلکہ جرم کی علت کو بھی ختم کرے، اگر علت موجود ہے تو سزا میں کسی طور سختی نہ کی جائے وغیرہ وغیرہ ۔

ڈاکٹر کنگ شولتز شروع میں فقط قانونی حکم نامے تک محدود تھے اور حکم نامے کی موجودگی میں اپنے ضمیر پہ کبھی کوئی بوجھ محسوس نہ کرتے تھے، اسی لئے با اعتماد تھے، فیصلہ کن تھے، لیکن جانگو کے ساتھ اس سفر کے دوران جو کچھ وہ دیکھتے ہیں، جھیلتے ہیں تو تب وہ حکم نامے سے آگے قانون کی روح پہ غور کرتے ہیں، فعل اگرچہ قانونی ہے لیکن ضمیر مطمئن نہیں تو کیا کرنا چاہئے ؟ انہیں مقامات پر ڈاکٹر کنگ شولتز کا اعتماد ڈگمگاتا دکھائی دیتا ہے، ایسے سین فلم میں موجود ہیں جہاں پہلی دفعہ ان کے چہرے سے غیر اعتمادی اور خود پہ شک صاف دکھائی دیتا ہے کہ وہ فیصلہ نہیں کر پا رہے، یا پھر اپنی سابقہ رائے پر ان کا ضمیر سوال اٹھا رہا ہے۔ قانون ہمیشہ عدل کرے یہ ضروری نہیں اور عدل ہمیشہ قانونی دائرے میں ہی قائم ہو یہ بھی ضروری نہیں ۔

خاص طور پر کیلوین کینڈی (لیونارڈو ڈی کیپریو) کے ساتھ ملاقات کے بعد تو ڈاکٹر واقعی سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ قانون اور عدل ہمیشہ ساتھ نہیں چلتے، کیلوین کینڈی قانونی طور پر بالکل شفاف ہے ، غلام اور غلاموں کے ساتھ اس کا رویہ عین اس وقت کے امریکی قانون مطابق ہے کہ غلام ملکیت ہے اور مالک جو چاہے غلام کے ساتھ وہ سلوک کرے، لیکن یاد رہے کہ ڈاکٹر کنگ شولتز یورپی ہے اور یورپ میں اس وقت غلامی تقریبا ختم ہو چکی تھی، اس لئے غلاموں کے ساتھ جانوروں جیسا رویہ اور ان کا آئے روز قتل یا کتوں کے ہاتھوں چیر پھاڑ وغیرہ اس کیلئے ایک صدمہ تھا ۔

ٹارینٹینو نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ جانگو کی زوجہ کے شجرۂ نسب کو جرمن دکھایا ہے کہ وہ جرمن زبان جانتی ہے اور اس کا فیملی نیم بھی جرمن ہے، یہاں ڈاکٹر کنگ شولتز پھر صرف اخلاقی نہیںں، بلکہ ذاتی اور قومی انسیت میں بھی جانگو کی بیوی کو رہا کرانے کے درپے ہوتے ہیں، کیلوین کینڈی کے ساتھ اس خاتون کی رہائی کی کامیاب ڈیل کے بعد بیتھوون کی موسیقی کا بجنا بھی معنی خیز ہے ۔

بیتھوون کی اس موسیقی کو سنتے دوران ہی ڈاکٹر کنگ شولتز ایک گہری سوچ میں گم ہیں، فیصلہ کن موڑ ہے، اندرونی توڑ پھوڑ جاری ہے، اور فیصلہ وہ یہ کرتے ہیں کہ وہ عدل کے ساتھ کھڑے ہوں گے، ضمیر کے ساتھ کھڑے ہوں گے، چاہے اس ضمیر یا عدل کی آواز کسی قانونی حکم نامے پہ درج ہو یا نہ ہو ۔

julia rana solicitors

یہی نکتۂ نگاہ مارٹن لوتھر کنگ کا بھی تھا کہ موجودہ قانون کسی طور عدل پہ قائم نہیں، یہ قانونی حکم نامے دراصل مجرموں کو تحفظ دینے کیلئے بنائے گئے ہیں، ضروری ہے کہ قانون کو عین عدل کے پیمانے پہ لایا جائے کہ اس کے بغیر سماج کا استحکام ممکن نہیں، کچھ بعید نہیں کہ ٹارینٹینو نے اپنے کردار ڈاکٹر کنگ شولتز کا نام مارٹن لوتھر کنگ ہی کے نام سے مستعار لیا ہو ۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply