آج صبح اخبار میں یہ خبر پڑھ کر دل خوش ہو گیاکہ نان پریکٹسنگ ڈاکٹرزکو واپس لانے کا منصوبہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا۔ارے، یہ کب ہوا؟ ہم تو نصف صدی سے اس بارے میں لکھ رہے تھے اور صنف اور ترقی کی ورکشاپس میں اس کا ذکر کرتے چلے آ رہے تھے۔ذرا سوچئے پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں خواندگی کی شرح اس قدر کم ہو، وہاں ایک لڑکی کو ڈاکڑ بننے کے بعد
پریکٹس کرنے کی بجائے صرف اس لئے گھر بیٹھنا پڑے کہ اس کامجازی خدا اور سسرال والے چاہتے ہیں کہ وہ گھر رہ کر ان کی خدمت کرے اور بچے پیدا کرے۔فیمنسٹس کے نزدیک اس کی بنیادی وجہ ہمارا طبقاتی معاشرہ اور پدرسری نظام ہے۔
ایک طرف ڈاکٹر بیوی کو گھر بٹھا لیا جاتا ہے اور دوسری طرف ان ہی کے بھائی بند شور مچاتے ہیں کہ میڈیکل کالجز میں لڑکیوں کی نشستیں کم کی جائیں کیونکہ لڑکیاں شادی کے بعد گھر بیٹھ جاتی ہیں اوراپنی ڈگری ضائع کر دیتی ہیں۔اور میں نے ہمیشہ ایسے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ان شوہر حضرات اور ان کے گھر والوں کا احتساب کیوں نہیں کرتے جو ایک ڈاکٹر لڑکی کو گھر بیٹھنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ ہر آنے والی آفت اپنے ساتھ کچھ مواقع بھی لاتی ہے۔تو
COVID-19کی وبا گھر بیٹھ کر آن لائن کام کرنے کا موقع بھی لائی۔ڈاؤ یونیورسٹی اور ایک عالمی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم ایجو کاسٹ نے مل کر ایک ٹیلی ہیلتھ پراجیکٹ شروع کیاجس کے نتیجے میں پندرہ سو گھر بیٹھ جانے والی ڈاکٹر لڑکیاں پھر سے کام کرنے لگیں اور اب اسلامک ڈیولپمنٹ بنک کے ساتھ اس کا نیا مرحلہ شروع ہو رہا ہے۔
میں یہ خبر پڑھ کر کتنی خوش ہوئی ہوں،
بتا نہیں سکتی۔
عادت سے مجبور ہو کر انٹرنیٹ پر سرچ کی تو معلوم ہوا کہ 2016میں بھی گھر بیٹھ جانے والی داکٹر لڑکیوں کے لئے ٹیلی میڈیسن کا ایک پراجیکٹ شروع کیا گیا تھا۔اس وقت کے اعدادوشمار کے مطابق صرف چودہ فی صد کوالیفائڈ ڈاکٹر
لڑکیاں کل وقتی ملازمت کر رہی تھیں۔ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں طبی عملے کی شدید کمی ہے۔اس وقت ایکDoctHERS ٹیلی میڈیسن اسٹارٹ اپ نے گھر بیٹھ جانے والی ڈاکٹر لڑکیوں کو طبی شعبے میں واپس لانے اور غریب علاقوں میں بنے ہوئے کلینکس سے ان کا آن لائن رابطہ کرانے کا بیڑہ اٹھایا تھا۔ہم سوشل ایکٹوسٹس کی طرح یہ منصوبہ شروع کرنے والی تین خواتین بھی جانتی تھیں کہ انہیں کتنی ثقافتی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔”ہمارے معاشرے میں ڈاکٹر ی کے پیشے کو عزت دی جاتی ہے اور ڈاکٹری پڑھنے والی لڑکیوں کے لئے اچھے رشتے آتے ہیں مگر ملازمت اور اوقات کار کی بات آتی ہے تو مسئلے
کھڑے ہو جاتے ہیں۔“
2023 میں ڈان میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اور جسے مستند طبی ماہرین کی اشد ضرورت ہے، وہاں 35فی صد خواتین ڈاکٹرز بے روزگار ہیں۔ہم سب جانتے ہیں کہ ڈاکٹر لڑکیوں کی بے روزگاری کی ذمہ داری ریاست پر نہیں بلکہ ان گھر والوں پر عاید ہوتی ہے، جہاں وہ بیاہ کر جاتی ہیں۔یہ صحیح ہے کہ ہمارے ہیلتھ سسٹم میں اصلاحات کی بے حد گنجائش ہے مگر لڑکیوں کے حوالے سے اصل مسئلہ سماجی، ثقافتی اور پدر سری رویوں اور روایات کا ہے۔
ابتدا میں ایک ٹیلی میڈیسن سوشل تنظیم کا ذکر ہوا تھا جس نے غریب علاقوں میں طبی سہولتیں پہنچانے کے لئے گھر بیٹھی ہوئی ڈاکٹر لڑکیوں کو فعال کیا تھا۔اسی طرح کے کام کی ’صحت کہانی‘ حمنہ بیگ نے 2020 میں لکھی تھی۔یہ ایک ڈاکٹر لڑکی کے بارے میں تھی جس کی 2010کی کلاس میں ستر فی صد لڑکیاں اور تیس فی صد لڑکے تھے۔فائنل ایئر تک پہنچتے ہوئے اس نے دیکھا کہ اس کی کلاس فیلو لڑکیوں کی اچانک منگنی پھر شادی اور جلد ہی بچے بھی ہو گئے، ایک طرف وہ امتحان کی تیاری کر رہی ہوتی تھیں اورساتھ ہی بچوں کو فیڈ کرنے کے لئے گھر بھاگنے کی بھی جلدی ہوتی تھی۔بعد میں ان صاحبہ نے بھی شادی کے بعد پریکٹس چھوڑ دی اور خود بھی ”ڈاکٹر برائیڈ“کھیپ کا حصہ بن گئیں۔ان کے اپنے حالات جن میں ایک نئے شہر میں منتقل ہونا، بچے کی پیدائش اور پوسٹ پارٹم ڈیپریشن سے گزرنے کے بعد وہ یہ سوچنے لگیں کہ گھر بیٹھ جانے والی لڑکیوں کو دوبارہ میڈیکل فورس کا حصہ کیسے بنایا جائے۔ چنانچہ انہوں نے کراچی کے سلطان آباد کے علاقے میں اسکائپ پر مریضوں کو طبی مشورے دینا شروع کئے۔اس سے پہلے بھی وہ اس طرح کے پراجیکٹ پر کام کر چکی تھیں۔
اور اب ڈاؤ یونیورسٹی نے اسی طرح کے پراجیکٹ کا دوسرا مرحلہ شروع کیا ہے۔
ایسے پراجیکٹس افغانستان اور یمن میں بھی چل رہے ہیں جب کہ فلسطین اور غزہ کے ریفیوجی کیمپوں میں ذہنی صحت کے پروگرام چل رہے ہیں۔ہم ڈیجیٹل میڈیا پر تنقید کرتے ہیں لیکن ای ڈاکٹرز جیسے پروگرامز اس کی افادیت کامنہ بولتا ثبوت ہیں۔
میں سمجھتی ہوں کہ صرف گھر بیٹھی ڈاکٹرز ہی نہیں دیگر خواتین بھی گھر
بیٹھ کر آن لائن کام کر سکتی ہیں، ٹیوشنز دے سکتی ہیں، کوئی کاروبار شروع
کر سکتی ہیں۔بس ان کے شوہر حضرات اور سسرال والوں سے درخواست ہے کہ ان کے
ساتھ تعاون کریں، ان کی آمدنی آپ کے معیار زندگی میں اضافے کا باعث بنے
گی اور ملک کے ترقی کے اشارئیے بھی بہتر ہوں گے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں