لڑ کر مر جائیں؟ ۔۔۔ حسن کرتار

خبر گرم ہے اور تب تک گرم رہے گی جب تک کچھ اور گرم کرنے کو نہیں ملتا۔ اس دفعہ کسی نے بلال کو مار ڈالا ہے۔ بلال کون تھا۔ پاکستانی؟ بنیاد پرست مسلمان؟ نوجوان نسل کا نمائندہ؟ روشن خیالی کا دشمن؟ کچھ لوگوں کا ہیرو کچھ لوگوں کا ولن؟ یا یہ سب کچھ۔۔۔

پاکستان میں سوشل میڈیا کے مضبوط ہونے کے بعد نوجوانوں کی ایک اکثریت نے سوشل میڈیا کو اپنا ایک دوسرا گھر بنا رکھا ہے اور دن رات یہاں لکھ لکھ کر اپنا کتھارسس کرتے ہیں یا اپنی پریشانیاں اور بڑھاتے ہیں۔۔۔

ان میں سے کچھ کا تعلق دائیں بازو سے ہے کچھ کا انتہائی دائیں بازو سے۔۔
مزے دار بات یہ ہے کہ یہ دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو والے آپس میں بھی دشمن ہیں اس کے علاوہ لبرلز اور روشن خیال لوگوں سے بھی ایک ٹپیکل قسم کی عداوت رکھتے ہیں۔۔۔
ان گروپس میں اکثریت مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء، اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس، مذہبی جماعتوں کے سپورٹرز اور پی ٹی آئ کے کچھ بلاگرز شامل ہیں۔۔۔

یہ دیسی سوشل میڈیا ایک عجب قسم کی شطرنج ہے۔ اسے سمجھنا ہر عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ سوشل میڈیا پہ وہی لوگ اثر رکھتے ہیں جو ایک بڑی فین فالونگ رکھتے ہیں۔ ایسا ہے بھی اور نہیں بھی کہ بیچ میں اور بہت ساری باتیں ہیں۔ مثلا ً کچھ نام جو سوشل میڈیا پہ بہت مشہور ہیں دراصل ان لوگوں کی ڈوریاں پیچھے سے کوئ اور ہلا رہا ہوتا ہے۔ یہاں ایک مضبوط نیٹ ورکنگ بھی پائ جاتی ہے اور جاسوسی کا نظام بھی۔۔۔

لکھنے والوں پر صرف ایجنسیوں کی نظر نہیں ہوتی۔ ہر گروپ کے لوگ باقی تمام گروپس کی باقاعدہ نگرانی کرتے ہیں۔ ہر گروپ کے بااثر لکھاریوں کے ایک ایک لفظ پہ نظر رکھی جاتی ہے۔ ان کے کمنٹس تک کے سکرین شاٹس لئے جاتے ہیں۔ ان کی تحریروں کو اپنے سرکل میں شئیر کیا جاتا ہے۔ کچھ کے آئیڈیاز چراۓ جاتے ہیں، کچھ کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور کچھ پہ گہری نظر رکھنے کی پالیسی رکھی جاتی ہے۔۔۔

مذہبی بلاگرز کا اثر و رسوخ آج سے پانچ چھ سال پہلے تک سوشل میڈیا پہ بہت مضبوط تھا۔ مگر جب سے لبرل، سیکولر اور بائیں بازو والوں نے سوشل میڈیا کو کچھ سیریسلی لینا شروع کیا ہے یہ لوگ بیک فٹ پہ جا چکے ہیں یعنی یہ لوگ تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود سوشل میڈیا پہ اتنے با اثر نہیں ہیں یا ان لوگوں کی باتوں کو سوائے انکے اپنے گروپس کے لوگوں کے اور کوئی سیریسلی نہیں لیتا۔۔۔
اس بات کا توڑ ان لوگوں نے یہ نکالا کہ یہ اب میرے سمیت تمام پروفیشنل رائٹرز کی تحریروں کو بہت غور سے پڑھتے ہیں۔ پھر ادھر سے کچھ آئیڈیاز، ترکیبیں چرا کر یا سٹائل کی کاپی کر کے اپنی فکر کی ترویج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔
جیسے آپ بلال خان کی وہ ٹوئیٹ یا بات جسکی وجہ سے اکثر لوگ کہہ رہے ہیں کہ اسکے پیچھے ایجنسیوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے غور سے پڑھیں تو بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس نے کس رائٹر کے سٹائل کو کاپی کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔ اس طرح کی اور کئ مثالیں ہیں۔ بابا کوڈا ابو علیحہ فاروقی زیدی اور اس طرح کے کئ اور لوگ بھی اسی طرح کی حرکات کرتے ہیں یعنی ادھر اودھر سے آئیڈیاز اور چیزیں چرا کر اپنی ہیوج فین فالونگ کو بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔
آپ ان سوکالڈ مفکرین کے اندازِ بیان پر غور کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ سب لوگ چوں چوں کا مربہ ہیں۔ یہ آپ کو کرکٹ، سیاست، ادب، فلم، مذہب سے لیکر ہر پاپولر ٹرینڈ پہ بات کرتے نظر آئیں گے۔ ان کا واحد مقصد صرف اور صرف اپنے فین بڑھانا ہوتا ہے۔ اور اس کیلئے یہ کسی بھی حد تک جانے کو بے قرار نظر آتے ہیں۔ بعض اوقات یہ خبروں میں ان رہنے کیلئے جان بوجھ کر لوگوں سے سائبر جھگڑے کرتے ہیں، خواہ مخواہ کی کنٹروورسیز کرئیٹ کرتے ہیں یعنی مشہور ہونے کیلئے ہر بھونڈا حربہ استعمال کرتے ہیں۔۔۔

پھر کبھی کبھی یہ بھی ہوتا کہ یہ غلط ذرائع سے حاصل کی گئ شہرت الٹا گلے پڑ جاتی ہے جیسا کہ اس نوجوان بلال کے کیس میں ہوا۔۔۔

اب کچھ لوگ بلال کا مذاق اڑا رہے ہیں یا اسکے قتل کو سیریسلی نہیں لے رہے کہ یہ شدت پسند نوجوان تھا۔ مشال کے قتل پر اس نے اپنا مخصوص شدت پسندانہ مذہبی پروپیگنڈہ چلایا، لوگوں کے خلاف بلاسفیمی کی کمپینز چلایا کرتا تھا۔ اور بہت سے لوگوں کی دلآ زاری کرتا بالخصوص لبرلز اور مخالف فرقے سے تعلق رکھنے والوں کی۔۔۔
کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ بلال رائٹر تھا اسلئے شہید ہوا ہے۔
یعنی یہ ایک اور موت ہے جو قوم کو تقسیم کر رہی ہے۔ کیا ہم بتا سکتے ہیں کہ اصل مسئلہ کہاں ہے؟
یہ بلال بھی تو مشال کی طرح ہمارا ہی نوجوان تھا۔ کچھ لوگ مشال کے مرنے پہ کیوں خوش تھے اور کچھ لوگ بلال کے قتل کو کیوں سیریسلی نہیں لے رہے؟۔۔۔

میرے خیال میں اصل مسئلہ تو ہمارے دقیانوسی تعلیمی نظام میں ہے۔ یہاں انگلش میڈیم اسکول بھی ہیں سرکاری اسکول بھی اور مدرسے بھی۔ اور ہر کوئی اپنا اپنا ورلڈ ویو رکھتا ہے۔ اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ ورلڈ ویو ایک دوسرے سے بہت بہت مختلف ہے۔۔۔
کیا حکومت میں اتنی عقل ہے کہ اس بات کو سمجھ سکے؟ کیا ہم اس قابل ہیں کہ اپنے نوجوانوں کو مزید تباہی سے بچا سکیں؟ یا پھر ہم سارے ہی آپس میں لڑ لڑ کر مر جائیں؟
#Justiceforbilal #Justiceformashal
#Justiceforcommonsense

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *