دو نمبر افسانہ۔۔سلیم مرزا

میں نے اسے پیچھے سے دیکھا وہ اب بھی ویسی ہی سیکسی تھی ۔اس کی پشت کی گولائیاں اب بھی اتنی ہی سحر آفریں تھی ، وہ اتنی لمبی تو نہیں تھی پھر بھی اس کی چوڑائی سرینا ولیمز جیسی لگتی تھی ۔
دوسال کا تعلق بہت ہوتا ہے ۔اتنے عرصے کا ساتھ ہو تو رشتہ نہ بھی بنانا چاہیں، بن جاتا ہے ۔ مجبوریاں کسی کو جدا تو کرسکتی ہیں دل سے مٹا نہیں سکتیں ۔
مجھے سردیوں کی راتوں میں اس کی گرم آغوش کی حدت کی یاد آگئی ۔ وہ میرے سامنے تھی اور کتنا مشکل تھا خود کو سمجھانا کہ اب وہ میری نہیں ۔
نجانے کیوں جب وہ میرے ساتھ تھی تب بھی اس کے بچھڑنے کا دھڑکا رہتا تھا ۔غربت اور محبت کا ساتھ عموما ًکم ہی رہتا ہے ۔
میں دھیرے دھیرے اس کے قریب گیا۔
پاس جاکر اس کی پشت پہ ہاتھ رکھ دیا ۔اس کے وجود کی حدت سرشار کرگئی ۔مجھے یوں لگا جیسے اس نے جھرجھری سی لی ہے۔میں آگے بڑھ کے اس کے پہلو میں جاکر کھڑا ہوگیا ۔
اسے پھر سے چھو لینے کی خواہش نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی تھی ۔پیپلز کالونی مارکیٹ میں سینکڑوں لوگ تھے کوئی بھی دیکھ سکتا تھا۔
میرا دل چاہتا تھا چیخ چیخ کر لوگوں کو بتاؤں ۔کبھی یہ میری تھی،صرف میری ۔
میں نے پھر سے اس پہ ہاتھ رکھ دیا۔
گاڑی کا شیشہ بے آواز نیچے ہوا اور ایک اسمارٹ سے بندے نے پوچھا
“کیا پرابلم ہے”؟
“کچھ نہیں جی، یہ “وٹز ” پہلے میرے پاس تھی “میں ہکلا کر رہ گیا۔
وہ دروازہ کھول کر باہر نکل آیا ۔مجھ سے ہاتھ ملایا
” مجھے علی حسن کہتے ہیں “اس نے تعارف کروایا ۔
“میرا نام وکی ہے “میں نے جلدی سے نام بتایا ۔
“آپ پیپلز کالونی میں رہتے ہیں ،ویسے گاڑی تو کامونکی کے کسی سلیم مرزے کے نام پہ تھی “؟ علی حسن نے کہا تو میں نے بتایا
” میرا سرکاری نام سلیم مرزا ہی ہے اور کامونکی کا ہوں ،میرا گوجرانوالہ آنا جانا رہتا ہے ۔آج بھی ادھر کسی کام سے آیا تھا تو گاڑی پہ نظر پڑگئی “۔
ادھر ادھر کی ایک دو باتوں کے بعد جب وہ گاڑی میں بیٹھ کر جانے لگا تو جیسے کچھ یاد آیا، کہنے لگا
” اگر آپ کامونکی جانا چاہیں تو میں لاہور جارہاہوں، آپ کو راستے میں چھوڑ دوں گا “؟
میرے گوجرانوالہ میں ایک دو کام باقی تھے۔مگر موٹر سائکل رکشے پہ کھجل ہونے سے تو کار بہتر ہی تھی ۔ ستر روپے کی صافی بچت ،میں نے سلیم صافی بن کر سوچااور کار میں بیٹھ گیا۔
بیٹھتے ہی کوبرا کے ائر فریشر کی تیزخوشبو آئی ۔پھر دھیرے دھیرے وہی فوزی کی مخصوص خوشبو ، مجھے یاد کی وادیوں میں لے گئی ۔اس سیٹ پہ وہ کبھی ٹک کر نہیں بیٹھتی تھی ۔اکثر چوکڑی مار کر بیٹھتی،
موٹر وے پہ سیٹ کو لیٹا کر پھر اسے پوری آگے کرکے اسے ڈیش بورڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھنا فوزی اچھا لگتا تھا۔
آور “ہتھ چلاکی” میں بھی آسانی رہتی
“آپ کیا کام کرتے ہیں “؟علی نے مجھ سے پوچھا تو میں چونکا
“میں سائن بورڈز بناتا ہوں “میں ابھی تک فوزی کی خوشبو کے حصار میں تھا ۔
“گاڑی میں آپ کو ایک عجیب سی بو محسوس ہورہی ہوگی “؟
“جی یہ کوبرا کی ہے “میں جواب دیا۔
“نہیں کوبرا فریشر تو اس کو بھگانے کیلئے ہے، ایک اور سمیل ہے، آپ کے پاس جب یہ گاڑی لی تھی، وہ تب سے ہے، میں نے بہت کوشش کی مگر ختم نہیں ہورہی “علی نے بتایا تو میں ہنس دیا ۔
“جی یہ تب بھی تھی، گاڑی شاید سیلاب کی زد میں آئی ہوگی، آپ کو تو پتہ ہے، پورا جاپان بہہ گیا تھا “میں نے جواب دیا تو علی نے کہا
“تبھی اس میں سے مری مچھلی کی سی بو آتی ہے ”
اس بات پہ ہم دونوں نے قہقہہ لگایا ۔
میں ایک اجنبی کو کیسے بتاتا کہ
اس شام میں اور فوزی لانگ ڈرائیو پہ نکلے ، وزیر آباد بائپاس پہ ایک جوس کارنر پہ رکے ۔
جہاں روشنی کم تھی ۔وہاں کار پارک کی ۔
نیم تاریکی میں تلاشی کے دوران پتہ ہی نہیں چلا کب اس کا جوس کاپیپر گلاس ڈیش بورڈ سے کار کے فرش پہ گرگیا ۔
غلطی میری تھی اپنا اورنج فلیور پی کر آئس شیک کا ذائقہ چیک کرنے اس کی سیٹ پہ چلا گیا تھا۔
اس کا موڈ خراب ہوگیا ۔پھر سے نیا ملک شیک لیکر دیا تو خوش ہوئی ۔ وہاں سے ہنستے کھیلتے “چند دے قلعے “ایک ریسٹورنٹ میں ڈنر کیلئے آگئے۔گوجرانوالہ میں ڈیٹ کا مطلب “کھابا “ہوتا ہے۔
ریسٹورنٹ میں بیف اسٹیک کھا کر ابھی کوک پی رہے تھے کہ فوزی کو بٹ نظر آگیا۔
گوجرانوالہ میں بٹ ہر اس جگہ ہوگا جہاں کچھ کھانےبینے کی باتب ہو، وہ گھر لیجانے کیلئے کھانا پیک کروا رہا تھا ۔بٹ کی شیطانی آنکھ نے بھی ہمیں دیکھ لیا، دیکھتے ہی سیدھا ہماری طرف آیا ۔
پہلے تو فوزی سے کرید کرید کر حال چال پوچھا ۔پھر میری طرف متوجہ ہوا ۔”مجھے گھر تک چھوڑ دو گے “؟
وہ ایک موٹر سائکل والے کو گھیر کر لایا تھا ۔مغوی کو جلدی تھی اور بٹ کے آڈر کے تیار ہونے میں دیر تھی
اس سے پہلے میں کچھ کہتا “فوزیہ سے کہنے لگے
“آپ کو تو کوئی اعتراض نہیں “؟
وہ کیا کہتی اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
بٹ نے موٹر سائیکل والے کو بھگا دیا، اور کافی آرڈر کردی
تینوں کافی پی کر وہاں سے نکلے تو بٹ راستے میں ایک سپر  سٹور میں گھس گیا ۔اس کے ہاں کچھ مہمان آئے ہوئے تھے ۔اور وہ بھی بٹ تھے
تب فوزیہ نے مجھے بتایا کہ اسے بہت زور کا پانی بنانا ہے ۔
“سٹور میں واش روم ہوگا “میں کار سے اترنے لگا
“نہیں بٹ کو اتار کر مجھے بس جلدی گھر پہنچادو ”
بٹ صاحب ۔سٹور سے پندرہ منٹ بعد نکلے تو گوندلانوالہ چوک میں پھلوں کی ریڑھیوں میں غائب ہوگئی ۔فوزیہ کی حالت دیدنی تھی اب وہ سیٹ پہ ہلکا ہلکا تھرک بھی رہی تھی ۔
میں سمجھ گیا کہ ٹھنڈ میں پیا گیا جوس، کوک اور کافی کا بم پھٹنے کے قریب ہے۔
سوچا کہ بٹ کے گھر پہنچتے ہی فوزیہ کو ٹوائلٹ بھیجنا ہے ۔
بٹ صاحب کے گھر پہنچے تو حسب عادت اس نے سامان ملازم کو پکڑایا پھر میرے ساتھ ایسی الوداعی رامائن چھیڑی مجھے فوزی کی پرابلم بھول ہی گئی ۔
دس منٹ بعد یاد آئی تو میں نے بٹ سے کہا کہ” یار فوزی کو ٹوائلٹ جانا ہے”
بٹ ڈرائنگ روم کا دروازہ کھولنے گیا تو میں نے فوزیہ سے کہا “آؤ “۔
“نہیں مجھے اب نہیں جانا بس نکلو یہاں سے جلدی ”
اس سے پہلے کہ بٹ باھر آتا ہم نکل بھاگے
اگر بٹ آجاتا تو پندرہ منٹ اور لگ جانے تھے۔
فوزی سار راستہ روٹھی رہی ۔بس اپنے موبائل سے کھیلتی رہی۔اسے ڈراپ کرکے گھر پہنچا۔
اگلے دن چھٹی کی وجہ سے دیر تک سونا تھامگر
صبح دس بجے نوید گاڑی مانگنے آگیا ۔اسے سسرال جانا تھا
لگ بھگ شام پانچ بجے وہ واپس آیا تو کہنے لگا
“یار، گاڑی کی سیٹ پہ کچھ گرا تھا “؟
“ہاں جوس ،مگر وہ سیٹ پہ نہیں فٹ میٹ پہ گرا تھا ”
مجھے کل کے خوشگوارلمحے یاد آگئے
“تو پھر سیٹ کیوں گیلی ہے؟ اور گاڑی سے مرے چوہے جیسی بو آرہی ہے “نوید نے حیرت سے کہا ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *