1971 سے لے کر 2025. تک انڈیا کے ساتھ باقاعدہ جنگ نہیں ہوئی اور آج پاکستان بھارت کے سامنے کھڑا ہے اور بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دے رہا ہے وہ وجہ ہے پاکستان کا اٹیم بم اور پاکستان کا میزائل سسٹم ۔ان دونوں کے بانی بھٹوز ہے ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو آج کا موضوع اٹیم بم کی داستان ہے میزائل کی کہانی دو دن بعد اس ایٹم بم کو بنانے کے لیے ذوالفقار علی بھٹو نے نہ صرف اپنی بلکہ اپنے پورے خاندان کی قربانی دی تھی یہ خون سے لکھی ہوئی داستان ہے اور کسی اور کے کارنامے کو اپنے نام سے منسوب کرنا ایک بہت بڑی زیادتی ہے
ایٹم بم ضیاء الحق نے بنایا تھا خون کو منجمد کر دینے والی یہ بات جس سے چند لمحوں کے لیے میرے او پر سکتہ کی کیفیت طاری ہو گئی یہ سوال ایک 20 21 سال کے نوجوان طالب علم نے یہ بات ایک جگہ پر ہم چند لوگ بیٹھے تھے یہ بات کہہ کرمجھے یہ تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا کہ میں اپنی نئی نسل کو ذوالفقار علی بھٹو کے کارناموں سے اس کی حب الوطنی سے اور اس کی قوم پرستی سے متعارف کرانے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہوں۔
خون سے لکھی ہوئی ناقابل یقین ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کی جدوجہد کی داستان -جس میں ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے سمیت اپنے تمام خاندان کی قربانی دے دی-اس طالب علم کو میرے آدھے گھنٹے کے لیکچر نے اور اعداد و شمار اور ثبوتوں سمیت اس بات پر تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا کہ انکل ہمیں آج تک کسی نے یہ نہیں بتایا ہمیں تو یہی پتہ تھا ایٹم بم ضیاء الحق اور نواز شریف نے بنایا ہے-ذوالفقار علی بھٹو کے اس قرض کو قوم کے سامنے پیش کرنے کی ادنی سی کوشش کر رہا ہوں۔
پاکستان کو ایک ایٹمی ریاست بنانےکا سفر سہل نہیں تھا-بھٹو صاحب ایٹم بم بنانے کیلئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہالینڈ سے پاکستان لائے۔پاکستان نے ایٹم بم تو بنا لیا لیکن بھٹو اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان دونوں کو عبرت کی مثال بھی بنا دیا گیا۔
1960 کی دہائی میں یہ خبریں آنی شروع ہوگئی تھیں کہ ہندوستان بڑی تیزی سے جوہری تجربات کی سمت بڑھ رہا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کی قیادت نے جوہری اسلحہ کے میدان میں قدم رکھنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1963 میں کابینہ میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ پاکستان کو جوہری اسلحہ کی تیاری کے لئے پروگرام شروع کرنا چاہیے، لیکن صدر ایوب خان اور ان کے امریکہ نواز وزیر خزانہ محمد شعیب اور دوسرے وزیروں نے ان کی یہ تجویز یکسر مسترد کر دی اور واضح فیصلہ کیا کہ پاکستان جوہری اسلحہ بنانے کی صلاحیت حاصل نہیں کرے گا۔1968 میں جب صدر ایوب خان فرانس کے دورے پر آئے تھے اس موقع پر فرانسیسی صدر چارلس ڈی گال نے پاکستان میں جوہری ری پراسسنگ پلانٹ کی تعمیر کی پیش کش کی تھی لیکن ایوب خان نے یہ پیشکش ٹھکرا دی۔اس میں شک نہیں کہ یہ ذوالفقار علی بھٹو تھے، جو 1971 میں بنگلہ دیش کی جنگ کے نتیجہ میں پاکستان کے دو لخت ہونے کے بعد بر سر اقتدار آئے تھے ،جنہوں نے پاکستان کو جوہری قوت بنانے کا منصوبہ شروع کیا۔ قوم پرست اور محب الوطن لیڈر ذوالفقار علی بھٹو عوام کے نبض شناس تھے۔ انہوں نے ادراک کرلیا کہ پاکستان روایتی اسلحہ سے بھارت کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ بھٹواسٹ اورنیشنلسٹ دو الفاظ لیکن معنی ایک ہی ہے جو بھٹواسٹ ہوگا وہ لازما ًنیشنلسٹ بھی ہوگا-پاکستان کی بقا، سلامتی اور عوام کو خوف سے باہر نکالنے کیلئے لازم ہے کہ ایٹمی صلاحیت حاصل کی جائے۔ بھٹو صاحب نے موت کی کوٹھڑی میں لکھی گئی اپنی کتاب اگر میں قتل کر دیا گیا میں تحریر کیا جب میں نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کا چارج سنبھالا تو یہ ایک سائن بورڈ اور دفتر کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ میں نے اپنے ملک کیلئے ایٹمی توانائی حاصل کرنے کی خاطر اپنی فطری توانائیاں صرف کرنے کا قصد کرلیا۔ بھٹو صاحب نے 28 نومبر 1972کو کراچی نیوکلر پاور پلانٹ کا افتتاح کیا۔ گھاس کھائیں گے، ایٹم بم بنائیں گے‘
ذوالفقار علی بھٹو نے مذکورہ بالا مشہور جملہ 1974 میں گورنر ہاؤس لاہور میں بولا تھا۔ -بھٹو صاحب نے 13اگست 1966 کو یورپ میں طلبہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا بھارت ہمیں ایٹم بم سے ڈرا رہا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی پر سب کا حق ہے۔ اگر بھارت کے پاس بم ہے تو ہم بلیک میل نہیں ہونگے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بھٹو صاحب سے ملاقات کی جس میں غلام اسحق خان اور آغا شاہی بھی موجود تھے۔ بھٹو صاحب نے ڈاکٹر قدیر خان کو مشورہ دیا کہ وہ کچھ عرصہ نیدرلینڈ میں قیام کرکے ایٹمی ٹیکنالوجی کا نالج حاصل کریں۔ جب ڈاکٹر قدیر خان دوبارہ پاکستان واپس آئے تو بھٹو صاحب نے ان کو کہوٹہ لیبارٹری بنانے کیلئے وسائل فراہم کیے اور انکی مکمل سرپرستی کی۔ عالم اسلام نے بھٹو صاحب کو مالی وسائل فراہم کیے اور کہوٹہ لیبارٹری میں ایٹم بم بنانے کے تمام مراحل مکمل کیے گئے-
صدر کے عہدہ پر فائز ہونے کے فوراً بعد بھٹو نے ایران، ترکی، مرکش، الجزائر ، تیونس، لیبیا ، مصر اور شام کا طوفانی دورہ کیا تھا-اس دورہ کے دو اہم مقاصد تھے۔
ایک مقصد مسلم ممالک سے تجدید تعلقات تھا اور دوسرا پاکستان کے جوہری پروگرام کے لئے مسلم ملکوں کی مالی اعانت حاصل کرنا تھا۔ دمشق میں اپنے دورہ کے اس سلسلہ کے اختام پر انہوں نے شام کے صدر حافظ الاسد سے کہا تھا کہ ان کا یہ دورہ نشاتہ ثانیہ کے سفر کا آغاز تھا اور پاکستان کی مہارت اور مسلم ممالک کی دولت سے عالم اسلام جوہری قوت حاصل کر سکتا ہے۔
اس دورہ کے فوراٍ بعد انہوں نے 1973 میں پاکستان کے جوہری اسلحہ کی صلاحیت حاصل کرنے کے پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا اور اس سلسلہ میں انہوں نے جوہری توانائی کمیشن کے سربراہ کو تبدیل کیا اور اعلی سائنسی مشیر ڈاکٹر عبدالسلام کو برطرف کر کے ہالینڈ سے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو پاکستان بلا بھیجا۔پاکستان کے جوہری پروگرام کے لئے انہوں نے فرانسیسی حکومت کو جوہری ری پراسسنگ پلانٹ کی تعمیر کی پرانی پیشکش کی تجدید کے لئے آمادہ کیا۔ بھٹو جوہری پروگرام میں جس تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے اسے امریکہ نے قطعی پسند نہیں کیا – بھٹو صاحب نے 12جنوری 1972 کو ملتان میں ایٹمی سائینس دانوں کا اجلاس طلب کیا جس میں ایٹم بم کے جلد حصول کا فیصلہ کیا گیا۔ امریکہ کو بھٹو صاحب کے خفیہ ارادوں کا علم ہوچکا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کو خصوصی دورے پر پاکستان بھیجا گیا جس نے بھٹو صاحب کو دھمکی دی کہ اگر انہوں نے ایٹمی پالیسی ترک نہ کی تو ان کو ”عبرتناک مثال“ بنا دیا جائے گا۔ بھٹو صاحب وطن پرستی کے جذبے سے سرشار تھے انہوں نے امریکی دھمکی کو مسترد کردیا اور ڈاکٹر قدیر خان کی مکمل سرپرستی کی۔ نیوکلیئرپروگرام کےبانی سابق و زیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو ایک نشان عبرت بنایا گیا اورانہیں پھانسی دیدی گئی جس کا تعلق انکے 20 جنوری 1972 کے ایٹمی پروگرام ترک کرنے سےانکار کے فیصلےسےتھا۔-جب جنرل ضیاءالحق نے بھٹو صاحب کو 1979میں پھانسی دی انکو یہ خوشخبری مل چکی تھی کہ پاکستان ایٹم بم بنانے کی صلاحیت حاصل کرچکا ہے-اور اس زمانہ کے وزیر خارجہ کیسنجر نے تو کھلم کھلا دھمکی دی تھی کہ اگر بھٹو نے ایٹمی ری پراسسنگ پلانٹ کے منصوبہ پر اصرار کیا تو وہ نہ رہیں گے۔اور آخر کار 5 جولائی 1977میں بھٹو نہ صرف اقتدار سے معزول کردئیے گئے بلکہ 4 اپریل 1979 میں سولی پر چڑھا دیے گئے۔
لیکن بھٹو نے جوہری صلاحیت کا جو پروگرام شروع کیا تھا اس پر تحقیقی کام جاری رہا۔ اور پاکستان کے سائنس دانوں نے کہوٹہ کی تجربہ گاہ میں جس میں 1974میں یورینیم کی افزودگی کا کام شروع ہوا تھا پہلی بار اس میں کامیابی 1978 میں حاصل کر لی اور 1982 تک وہ 90 %نوے فی صد افزودگی کے قابل ہو گئے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مطابق پاکستان کے جوہری سائنس دانوں نے 1984 میں جوہری بم تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی تھی اور انہوں نے جنرل ضیاالحق سے کہا تھا کہ وہ کھلم کھلا پاکستان کی طرف سے جوہری بم کی تیاری کے عزم کا اعلان کریں لیکن ان کے امریکی نواز وزیر خارجہ اور دوسری وزیروں نے سخت مخالفت کی۔پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع کرنےکافیصلہ ملتان میں نواب صادق حسین قریشی کی رہائشگاہ پر ہواجہاں بھٹو نے ملک کے ممتاز سائنسدانوں کی میٹنگ بلائی۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مندجو اس تاریخی میٹنگ میں شریک تھےنےایک مرتبہ اس میٹنگ میں بھٹو کے حوالے سے کہا کہ ’’یقین انہیں ایسے حالات میں لے آیا ہےکہ وہ ایسا فیصلہ کر رہے ہیں جو ملک کو ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں لےجائیگا‘‘۔اسی میٹنگ میں بھٹو نے سائنسدانوں سے پوچھا ’’کیا ہم بم بنا سکتے ہیں‘‘ کچھ تو قف سےایک جونیئر سائنسدان نے کہا ہاں ہم بنا سکتے ہیں‘‘ پھر انہوں نے پوچھا’’ اس میں کتنے سال لگیں گے جواب ملا 5سال ‘‘پھر بھٹو نےاپنی 3 انگلیاں اٹھائیں اور کہا 3سال سائنسدانوں نے مسرت میں جواب دیا ہاں یہ کام 3سال میں ہو سکتاہے۔ بھٹو مسکرائے اور کہا’’یہ بہت سنگین سیاسی فیصلہ ہو گا جوپاکستان کریگا اور شائدتیسری دنیا کے دیگرممالک کوبھی ایک روز کرنا پڑے‘‘۔ یہ غالباً ان فیصلوں میں سے ایک تھا جو بھٹو نے ایسے وقت میں کیا جب قوم 1971 کے سانحہ سقوط ڈھاکا سے بھی نہیں سنبھلی تھی-ڈاکٹر قدیر نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ بھٹو نے انہیں وزیراعظم جیسے اختیارات دے رکھے تھے۔ سینئر موسٹ بیوروکریٹس کو بھٹو کے احکام کےحوالے سے بتایا کہ انہوں نےاجلاس بلایا اور تمام اہم حکام کوکہا میں نے انہیں اس پروگرام کے حوالے سے مکمل اختیارات دیئے ہیں۔ آپ کو بس انکی ہدایات پر عمل کرنا ہے‘‘ ۔پاکستان کو ایک نیو کلیئر ریاست بنانااس روزسے ایک قومی فیصلہ تھا-پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام کے موجد ڈاکٹر عبدالقدیر خان جنہیں بھٹو نے تلاش کیا نے سابق وزیراعظم کوایک سچا قوم پرست قرار دیا۔ چند سال قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا میں نےبھٹو جیسا قوم پرست کبھی نہیں دیکھا۔
آخر کار 13 مئی 1998 میں جب ہندوستان نے جوہری تجربات کئے تو پاکستان کے لئے کوئی چارہ کار نہیں رہا کہ وہ بھی جوہری تجربات کرے اور یوں پاکستان بھی جوہری طاقتوں کی صف میں شامل ہوگیا۔
سیاسی قیادت کے نام پر ایک کریڈٹ ایسا ہے جو کوئی ان سے چھین نہیں سکتا، وہ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانا ہے۔ کہانی ایٹمی پروگرام کے بانی اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم سے شروع ہوتی ہے۔ جس کی انہیں بھاری قیمت چکانی پڑی۔ جس کی خاطر اپنی جان بھی اس ملک اور قوم پر نچاور کر دی۔ بھٹو نے ایٹمی بم بنایااور ڈاکٹر عبدالقدیر اسکےخالق ہیں ۔27 مارچ 2017 کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا پاکستان کے ایٹمی موجد ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے کہاہے کہ پاکستان کی ایٹمی قوت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سرجاتا ہے۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ ذوالفقارعلی بھٹو بہت بڑے محب وطن تھے ٗایٹمی قوت کا سہرا ذوالفقار بھٹو کے سر جاتا ہے، جنہوں نے مجھ جیسے نوجوان پر اعتماد اوربھروسہ کیا۔ ڈاکٹر قدیر خان نے کہا کہ ہم نے ایٹم بم پر 1974 میں اور میزائل ٹیکنالوجی پر کام بینظیر بھٹو کے دور میں شروع کیا اور کم وسائل کے باوجود ملک کو ایٹمی اور میزائل قوت بنایا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ میں ملک کیلئے بہت کچھ کر سکتا تھا لیکن حکمرانوں نے روک دیا، میں نے حکومت کو سستی آٹو موبائل انڈسٹری لگانے کی پیشکش کی لیکن اسے مسترد کر دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے بعض حکمراں دوسروں کے اشارے پر کام کرتے ہیں پاکستان کو مضـوط بنانے میں باپ اور بیٹی ( شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو) نےاہم کردار ادا کیا۔17؍جنوری 2017 کو سی آئی اے نے کئی ہزار اپنے خفیہ دستاویزات، رپورٹس، خطوط اور پالیسی پیپرز کو ڈی کلاسیفائڈ کر کے آن لائن جاری کر دیا ہے ان دستاویزات میں ذوالفقار بھٹو کے دور حکمرانی، دورۂ امریکہ، ایٹمی پروگرام، 16سے 19؍اکتوبر 1973 کے تین دنوں میں ایران، ترکی اور سعودی عرب کے دورے کے اصل مقاصد اور شام کے حافظ الاسد سے رابطوں کے بارے میں دستاویزات بھی ہے جو بہت کچھ سوچنے اور موجودہ صورتحال کو سمجھنے میں 48 سال بعد بھی مددگار ہیں۔ ایسی سی آئی اے رپورٹس بھی ہیں جن سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ امریکی ضیاء الحق کے بھٹو صاحب کو پھانسی دینے کے پلان سے نہ صرف آگاہ تھے بلکہ انہیں علم تھا کہ پھانسی کب دی جائے گی؟سی آئی اے پیپرز کی تازہ کھیپ میں سے ذوالفقار علی بھٹو کا ایک اسمارٹ، ذہین، مغربی فلسفہ، ذہن اور مقاصد کو سمجھنے والی ایک قوم پرست شخصیت کا تاثّر ابھرتا ہے جو اپنے ملک کے مخالفین کا مقابلہ کرنے، ملک کو محفوظ بنا کر آگے لے جانے کیلئے کوشش کر رہا ہے۔ بھارت سے مشرقی پاکستان میں شکست کے بعد بھٹو صاحب کا ایٹمی پروگرام شروع کرنے کا اعلان اور طریقے بھی اس کی نشان دہی کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کو کہاں لے جانا چاہتے تھے۔

امریکی سی آئی اے کی ایک خفیہ دستاویز بھٹو کے ایٹمی پروگرام کو امریکی ایٹم بم بنانے کے ’’مین ہٹن پروجیکٹ‘‘ کے مماثل قرار دیتی ہے۔ بھٹو کی وراثت ایٹمی پروگرام ہے جو پاکستان کی سیکورٹی کا واحد ضامن ہے-
24 جنوری 1972 کو ، بھٹو نے ملک کے اعلی 50 سائنس دانوں کو اکٹھا کیا جس کا مقصد پاکستان کے لئے جوہری پروگرام شروع کرنے کا منصوبہ وضع کرنا تھا-عالمی طاقتوں سے مخالفت اور تنقید کے باوجود پاکستان اس منصوبے پر قائم رہا اور اس نے اپنی پالیسی کو جاری رکھا۔ بھٹو نے جوہری ہتھیاروں کو تیار کرنے کے لئے چین اور شمالی کوریا سے مدد حاصل کی۔اور فائیشش ڈینامیسچ اوندرزوک (ایف ڈی او) نامی ایک ڈچ سنٹرفیوگ Dutch centrifuge firm, Fisch Dynamisch Onderzuk (FDO). فرم سے بھی مدد طلب کی- اس کے بعد بھٹو لیبیا کے دارالحکومت طرابلس گئے ، اور انہوں نے کرنل معمر قذافی کو اس پروگرام کی مالی اعانت کے لئے راضی کیا۔ قذافی نے اتفاق کیا ، 100 ملین ڈالر سے 500 ملین ڈالر ، اور پیلے رنگ کے کیک” کے ڈھیروں کو پاکستان منتقل کرنے میں سہولت فراہم کی۔ “ہمارے وسائل آپ کے وسائل ہیں ، قذافی نے 1974 میں لاہور کے اسٹیڈیم میں جمع ہونے والے ایک پاکستانی ہجوم کو اعلان کیا ، جو اب بھی لیبیا کے معزول رہنما کے نام پر مشتمل ہے -بھٹو کی حوصلہ افزائی سے اس شعبے میں باصلاحیت اور ماہر افراد خاص طور پر عبد القدیر خان مرکز میں آئے تھے جنھیں خود بھٹو نے خصوصی طور پر مدعو کیا تھا۔ بھٹو فادر آف بم بن گئے-پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے تمام بڑے ڈیزائن بھٹو نے بنائے تھے ، جس نے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر شکل دی۔بھٹو کے دور میں مختلف یورینیم کی افزودگی کے پلانٹ ملک کے مختلف حصوں میں رکھے گئے تھے جیسے کہ۔ ڈیرہ غازی خان ، کراچی ، اسلام آباد ، کہوٹہ ، اور چکلالہ -انہوں نے مانیٹری کی مدد کے لئے باقی اسلامی دنیا بالخصوص مشرق وسطی ، لیبیا اور سعودی عرب کی تیل کی دولت تک رسائی حاصل کی۔ 1970 کی دہائی کے اوائل میں ، اربوں ڈالر ایران اور سعودی عرب سے پاکستان بھی پہنچے۔ عالم اسلام کے بارے میں بھٹو کی اسلامی یا دوستانہ پالیسی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے لئے مالی اعانت کا بنیادی عنصر بن گئی۔ بہت سے خفیہ یورینیم افزودگی پلانٹ امریکہ ، اقوام متحدہ اور دیگر یورپی طاقتوں کی مزاحمت اور سیکیورٹیز کے باوجود شروع کیے گئے تھے۔ حیرت کی بات ہے کہ پاک-نیوکلیئر پروگرام بغیر کسی رکاوٹ کے خفیہ طور پر چلا۔پاکستان نے اپنی ترقی پزیر یورینیم کی افزودگی کی صلاحیتوں کے لئے ضروری سامان اور ٹکنالوجی کے حصول کے لئے ایک وسیع پیمانے پر خفیہ نیٹ ورک کا استعمال کیا ہے۔ ڈاکٹر خان اپنے ساتھ یورپ سے یورینیم کی افزودگی کی ٹیکنالوجیز بھی لے کر آئے تھے۔ انہیں پاکستان کی کہوٹہ سہولت تعمیر کرنے ، سازوسامان اور چلانے کا انچارج لگایا گیا تھا ، جو 1976 میں قائم ہوا تھا۔ خان کی ہدایت پر-
1974: ہندوستان نے 15 کلو گرام تک جوہری دھماکہ آزمایا اور اس ٹیسٹ کو “پرامن جوہری دھماکے قرار دیا۔ پاکستانی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے ارادے سے متعلق پاکستان کے اعلی سائنسدانوں سے ملاقات کی۔ We(Pakistan) will eat grass, even go hungry, but we will get one of our own (Atom bomb)…. We have no other choice!”
Zulfiqar Bhutto, the “father” of the Pakistani nuclear programme
پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے ناممکن حصول کی کہانی-ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کے جوہری پروگرام کا معمار سمجھا جاتا ہے-عیسائی ، یہودی اور ہندو تہذیبوں کی صلاحیت موجود تھی
جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے لئے کمیونسٹ طاقت بھی اس کے پاس. صرف مسلم دنیا اس کے بغیر تھی ، لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ USA کے سکریٹری برائے ریاست ہنری کسنجر نے کہا ،ریاستوں کا ، ذہین ذہین ہے ، اس نے اسے بتایا کہ وہ ایسا نہیں کرے گا
یہ کہہ کر امریکہ کی انٹلیجنس کی توہین کریں
پاکستان کو اپنی توانائی کے لئے دوبارہ پروسیسنگ پلانٹ کی ضرورت تھی
ضروریات ۔ بھٹو جوہری سے وابستہ رہے تھے
اکتوبر 1958 سے جولائی 1977 تک کا پروگرام ،
بھٹو نے اس بات پر زور دیا کہ چین اس کو یقینی بنانے میں بہت بڑا کردار ادا کررہا ہے
خطے میں امن و استحکام
26 مئی 1976 کو
بھٹو کا کوفینگ نے بیجنگ میں استقبال کیا تھا
20 اپریل کو ، بھٹو نے نائب وزیر اعظم لی کے لئے ضیافت کا اہتمام کیا
چین کا ہنسین۔ بھٹو اور لی نے وعدوں کا تبادلہ کیا
ایک دوسرے کے ملک کے خلاف مستقل حمایت”
تسلط اور توسیع۔ انہوں نے اندر میں تفصیل سے بات چیت کی
جسے چین اپنے نئے مسودے کو تیار کرنے میں پاکستان کی مدد کرسکتا ہے
کم از کم ایک درجن جوہری پلانٹ تعمیر کرنے کا پروگرام
صدی کی اگلی سہ ماہی پنجاب کے چشمہ میں ، ایک بڑے
جوہری پلانٹ جاری ہے جسے بھٹو نے دیکھنے کی امید کی تھی
ایک چھوٹا جوہری پلانٹ بھی شروع کیا گیا تھا
کراچی میں “پاکستان کے دوست یقین کر سکتے ہیں کہ
چین کے عوام ہمیشہ ان کے قابل اعتماد دوست رہیں گے۔
1971 کے بعد بھارت کو آج تک پاکستان پر حملہ کرنے کی جرات نہیں ہوسکی۔ ایٹمی صلاحیت کی وجہ سے پاکستان کا دفاع مضبوط ہوچکا ہے۔ یہ سب بھٹو ک دوراندیشی اور بہادری اور اپنی قوم سے عشق کی بنا کی وجہ سے ممکن ہوئی-
SOURCE: EATING GRASS BY FEROZE KHAN
IF I AM ASSINATED BY ZULIFQAR ALI BHUTTO PAGE NO.106-107,223,138
WOLPERT ,ZULFI BHUTTO OF PAKISTAN
ZULIFQAR ALI BHUTTO AND PAKISTAN BY RAFI RAZA
THE MYTH OF INDEPENDENCE BY BHUTTO
THE 3RD WORLD :NEW DIRECTIONS BY Z.A BHUTTO
YEARS OF UPHEAVAL BY HENRY KISSINGER 1982
PAKISTAN NUCLEAR WEAPONS -A CHRONOLOGY
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں