عمران خان کیا سے کیا ہو گیا

میں اپنے آپکو عمران خان کا سب سے بڑاحمایتی اور نظریاتی ووٹر تصور کرتا تھا۔ میری ٹائم لائن اس بات کی گواہ ہے کہ میری خان سے کیا محبت تھی، کیا دل میں ولولہ تھا۔ خان کی باتیں دیسی گھی کی دھار لگتی تھیں، خان کا اصولی موقف آب حیات لگتا تھا۔ گریجویشن کا زمانہ تھا، نئی نئی سیاسیات اور صحافت پڑھنی شروع کی تھی۔ کارپوریٹ میڈیا قدم جما رہا تھا۔ کیپیٹل ٹاک پر ہر وقت حامد میر کے ساتھ عمران خان ہی نظر آتا تھا۔ وقت گزرتا گیا، لاہورجلسے کا اعلان ہوا، میاں اظہر تحریک انصاف میں شامل ہوۓ۔ مجھے ایسے لگا عمران خان جو اسٹیٹس کو کے خلاف استعارہ ہے، جو کرپشن کے خلاف مزاحمت کا دوسرا نام ہے اب ورکرز کو ساتھ لے کر چلے گا۔ مقبولیت نے مزید زور پکڑا ، عوام نے دوسرا آپشن سوچ لیا، شاہ محمود آئے، باغی صاحب آئے، جہانگیر ترین اوردیکھتے ہی دیکھتے تحریک انصاف ایک نئی جماعت بن گئی۔ جس میں ایلیکٹ ایبلز، سرمایہ دار، جاگیردار سب شامل تھے۔ لیکن تحریک انصاف کا نظریاتی ورکر چائے پکڑاتا رہا۔

سوچا کہ شائد پارٹی ابھی تنظیم نو سے گزر رہی ہے۔ معاملات درست ہوں جائیں گے ۲۰۱۳ کا الیکشن ہوا، عمران خان لفٹر سے گر پڑے، ہسپتال داخل ہوئے۔ میں بہت رویا، اتنا رویا کہ میری آنکھیں تین دن لال رہیں۔ گھر والوں نے دلاسہ دیا، والد صاحب نے گالیاں بھی دیں کہ سیاست کی بساط کا تمہیں کیا پتہ؟ میں نہ مانا ۔ میں ڈٹا رہا۔ نواز لیگ نے حکومت بنائی ، نواز شریف کی پہلی تقریر کا مذاق اڑایا۔ چار حلقوں کی بات آئی ،دھاندلی متعارف ہوئی، جوڈیشل کمیشن کا نعرہ لگا۔ دھرنا ہوا۔ میرے اندر سیاست کے طالب علم نے آواز دی” او مسٹر ٹائیگر! کیا یہ وقت درست ہے؟ ابهی تو حکومت کو پندرہ ماہ ہوۓ ہیں؟” سیاست میں اتنی بے صبری نہیں ہوتی۔ نئی نئی خاندانی اشرافیائی جمہوریت متعارف ہوئی ہے ، کچھ وقت دیا جائے.
یہ عمران خان کی پہلی سیاسی ہار تھی، آرمی پبلک سکول پر حملہ اور پھر دھرنا ختم کرنا۔ دھرنا آرمی پبلک کے شہداء کی خاطر ختم کرنے کا اعلان کیا لیکن ساتھ ہی بنی گالہ میں شیروانی پہن کر ریحام بی بی کو ریحام خان بنا دیا۔ اس دوران جاوید ہاشمی کا چھوڑ کر چلے جانا، جاوید ہاشمی جو جمہوری جدو جہد کا استعارہ تھا اسکو ناراض کرنا سمجھ سے باہر تھا۔ پھر سیاست کے طالب علم نے ضمیر میں سوال اٹھاۓ،لیکن شخصیت کا بت نظریات سے بڑا تھا۔ وقت گزرتا گیا پانامہ متعارف ہوا، احتجاج کی کال دی، ورکرز آۓ ڈنڈے کھاۓ اور لیڈر اپنےمحل میں براجمان رہا ۔ ساتھ ہی شام کو احتجاج ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔
عمران خان کا ورکر گلو بٹوں کے ڈنڈے کھا کھا کر ہلکان ہوگیا۔ ٹائیگرز کی وہ انرجی جو پولنگ والے دن کام آنا تھی ، وقت سے پہلے استعمال کرلی۔ پانامہ کی سماعت ہوئی، ایک ایسی ٹرک کی بتی جو ہر بار قربت کا احساس دلاتی ہے، لیکن دور واقع ہے۔ آج عمران خان کا ورکر وقت سے پہلے تھک کر ایک طرف ہوچکا ہے۔ عمران کی سیاست اب چند شخصیات کی محتاج ہو چکی ہے، عمران کی وہ شخصیات مجبوری بن چکی ہیں۔ مزاحمت اور اسٹیٹس کو قصہء پارینہ ہوچکا ہے۔ اب صرف اور صرف ایوان وزیر اعظم ٹاگٹ ہے، ہر قیمت پر ہر لحاظ سے۔
اب عمرانیت ہار چکی ہے، نرگسیت جیت چکی ہے۔ سپرلیگ کا فائنل جو بہت بڑا جواء تھا۔ میرے بھی تحفظات تھے۔ خان کے موقف کا دفاع کیا، دلائل دئیے لیکن حالیہ بیان افریقی کھلاڑی، پھٹیچر، ریلو کٹے، بکاؤمال وغیرہ۔ ایک وفاقی لیڈر کو جچتے نہیں۔ عمران خان اپنے آپکو ایک اکھڑ مزاج تو ثابت کررہے ہیں، لیکن مدبر کب ثابت کریں گے؟ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن سپر لیگ تو پاکستان کی تھی۔ وہ کھلاڑی جو ریلو کٹے اور بکاؤ مال ہیں، انہوں نے اس عوام کو جو ہر لحاظ سے ہجوم ہے ایک دن کے لئے قوم تو بنایا۔ خان صاحب خدارا اپنے مشیران کو تبدیل کریں اور کچھ دماغ سے بھی کام لیں۔ آپ کو اندازہ نہیں کہ آئندہ الیکشن میں آپکے یہ بیانات اور ضدی بچہ پن کتنا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اب تو آپ کے ورکر بھی آپکو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔ اور آپ بات الیکشن جیتنے کی بات کرتے ہیں۔

محمود شفیع بھٹی
محمود شفیع بھٹی
ایک معمولی دکاندار کا بیٹا ہوں۔ زندگی کے صرف دو مقاصد ہیں فوجداری کا اچھا وکیل بننا اور بطور کالم نگار لفظوں پر گرفت مضبوط کرنا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *