خط نمبر3
حضرت عابد نواز و بندہ نواز و ذرہ نواز!
آپ نے تو اپنے پہلے ادبی محبت نامے میں ہی فن کے کمال کی جھلکیاں دکھا دیں۔ اس میں محبت کی شیرینی بھی شامل تھی’ ظرافت کی چاشنی بھی اور دوستی کی مٹھاس بھی۔
میں نے اپنی محبوبہ عظمیٰ بنت عزیز کو آپ کا محبت نامہ دکھایا اور سنایا تو وہ واہ واہ کرنے لگیں اور مکرر مکرر پکارنے لگیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ہم اس سلسلے کو دراز کریں تا کہ وہ بھی آپ کے خطوط سے محظوظ و مسحور ہوں۔ میری محبوبہ جو پچھلے تین برس سے میری نامہ نگاری کو از راہ مزاح لیٹر بازی کہتی تھیں آپ کا خط پڑھ کر ان کی رائے بدلنے لگی ہے۔ اب وہ میری خطوط نگاری کے شوق کی اہمیت و افادیت و معنویت کی قائل ہوتی جا رہی ہیں۔
سہیل زبیری بھی آپ کے خط سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔اس خط نے ان کے دل میں آپ سے ملاقات کی خواہش کی چنگاری کو شعلہ بنا دیا ہے۔ ان کا بالکل اندازہ نہ تھا کہ آپ اتنے اعلیٰ ادبی ذوق کے مالک ہیں۔
آپ نے اپنے خط میں اتنے ادبی چوکے اور ظریفانہ چھکے لگائے ہیں کہ کوئی ادبی نقاد ہوتا تو سنچری ڈکلیر کر دیتا۔
میری نگاہ میں آپ کا خط ایک فن پارہ ہے، تخلیقی ادب پارہ ہے اور بغیر کسی لگی لپٹی کے شہہ پارہ ہے۔
مجھے یہ جان کر مسرت ہوئی کہ آپ نے میری خود نوشتہ سوانح عمری ۔۔۔۔سالک۔۔۔پڑھنی شروع کر دی ہے۔ اب جبکہ یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ آپ ادب نواز بھی ہیں اور ادب دوست بھی ہیں۔ ادب عالیہ کا ذوق بھی رکھتے ہیں اور شوق بھی، اس لیے مجھے آپ کی سالک کے بارے میں قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔
فیملی آف دی ہارٹ کی دو فروری ۲۰۲۵ کی میٹنگ میں کچھ تبدیلی آئی ہے۔ اب خالد سہیل کی کتاب”سالک”کی تقریب رونمائی ہوگی۔ اس محفل کی نظامت امیر حسین جعفری کریں گے اور شاہد اختر‘ منیر سامی‘ حامد یزدانی اور بلند اقبال اظہار خیال کریں گے۔
میں نے سالک تخلیق کرنے کے بارے میں ایک ڈائری کا ورق رقم کیا تھا۔ وہ حاضر خدمت ہے۔
سالک کی سوانح عمری
ایک
کیف تھا
سرور تھا
انبساط تھا
بےقراری تھی
وارفتگی تھی
سرشاری تھی
جی میں آئی کہ اپنی سوانح عمری لکھوں لیکن ایسی سوانح عمری جو منفرد ہو، جداگانہ ہو ایسی سوانح عمری جیسی پہلے کسی نے نہ لکھی ہو۔
یہ 2017 کی بات ہے جب میری عمر 65 برس تھی اور مجھے اپنے پچھلے پچاس برس کی کہانی لکھنی تھی جب سے میں نے زندگی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کیا تھا۔ میں جانتا تھا کہ یہ
“نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں”.
میں نے سوچا کہ میں پچاس برس کی کہانی صرف ایک سو صفحوں میں لکھوں
اپنے سارے دکھ اپنے سارے سکھ
کیا کھویا کیا پایا
عمر بھر کا تجربہ ’مشاہدہ ’مطالعہ اور تجزیہ
سو صفحوں کے فیصلے سے واضح تھا کہ میں تفاصیل نہیں لکھ سکتا تھا۔ میں نے سوچا کہ وہ سوانح عمری استعاراتی ہو تاکہ اس میں انفرادیت بھی ہو معنویت بھی اور گہرائی بھی۔
پھر میں نے سوچا اگر سوانح عمری FIRST PERSON میں لکھوں گا تو ہر صفحے پر دس دفعہ ۔۔۔میں۔۔۔ لکھنا ہوگا جس سے نرگسیت کا گمان ہو گا۔ اس لیے فیصلہ کیا کہ سوانح عمری THIRD PERSON میں لکھوں گا تا کہ قدرے جذباتی فاصلہ بھی رہے اور اس میں افسانوی طرز بھی آ سکے۔
میں نے اپنے ہم زاد کے نام کے بارے میں سوچا تو دو نام ذہن میں آئے,
درویش اور خضر
میں نے خضر چنا کیونکہ خضر ایک ایسا دیومالائی کردار ہے جو لوگوں کی زندگی میں تھوڑی دیر کے لیے آتا ہے راستہ دکھاتا ہے مدد کرتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ میں نے سوچا میرا تھیریپسٹ ہونے کا کردار بھی ایسا ہی ہے۔ لوگ مجھ سے ملتے ہیں اپنی کہانی اور اپنا مسئلہ سناتے ہیں میں ان کو مشورہ دیتا ہوں اور وہ رخصت ہو جاتے ہیں۔
پھر میں نے سوچا کہ میں نیلسن منڈیلا۔۔۔ پیر ٹروڈو یا چے گوارا کی طرح کوئی مشہور شخصیت تو ہوں نہیں کہ لوگ میرے رشتہ داروں کی کہانی ذوق و شوق سےپڑھیں۔اس لیے میں نے خضر کی زندگی کے کرداروں کو ایسے نام دیے جو ان کی خصوصیت تھی ان کی شخصیت کا اہم اور نمایاں پہلو تھا
خضر کی
ماں کا نام مذہب
باپ کا نام تصوف
نانی کا نام دانائی
بہن کا نام دوستی
رکھا۔
خضر جس شہر جس ملک میں پیدا ہوا اس کا نام۔۔۔
روایتوں کا شہر
اور جس شہر جس ملک میں ہجرت کر کے گیا اس کا نام ۔۔۔آزادیوں کا شہر
رکھا۔
جب یہ ہوم ورک ہو گیا تو میں اپنی سوانح عمری لکھنے بیٹھا
اور میں اس کیف اس سرور اس سرشاری کی بارش میں بھیگ گیا
صبح اٹھ کر لکھنے بیٹھتا تو قلم لکھتا چلا جاتا
ایک صفحہ۔۔۔دو صفحے۔۔۔۔چار صفحے۔۔۔۔آٹھ صفحے۔۔۔دس صٖفحے۔۔
میرے اندر ایک چشمہ بہنے لگا میں سوچتا رہا اور لکھتا رہا
چالیس دنوں میں ساری سوانح عمری لکھ ڈالی
اس کے ستر باب تھے اور ہر باب ایک یا دو صفحوں کا تھا۔
سوانح عمری کا نام رکھا
THE SEEKER…THE STORY OF KHIZR AND HIS SEARCH FOR TRUTH
خضر سچ کی تلاش میں ہے اور اسے زندگی میں بہت سے سچ ملتے ہیں
مذہبی سچ۔۔۔۔روحانی سچ۔۔۔۔سائنسی سچ۔۔۔۔
ذاتی سچ۔۔۔۔اجتماعی سچ۔۔۔ارتقائی سچ
سوانح عمری لکھنے کے بعد میں نے اپنے چالیس دوستوں کو بھیجی۔ ان کے تاثرات اتنے دلچسپ تھے کہ میں نے وہ تاثرات سوانح عمری کے آخر میں شامل کر دیے۔
اور پھر ایک دن ایک سیمینار میں پاکستانی فنکار شاہد رسام سے ملاقات ہوئی۔ پوچھنے لگے آج کل کیا لکھ رہے ہیں میں نے کہا,سوانح عمری مکمل کی ہے۔ کہنے لگے پڑھنا چاہتا ہوں۔ میں نے مسودہ بھیج دیا۔ پڑھ کر کہنے لگے میں اس سے اتنا متاثر ہوا ہوں کہ میں آپ کا پورٹریٹ بنانا چاہتا ہوں تا کہ آپ اپنی سوانح کے فرنٹ کور پر لگا سکیں۔
سوانح عمری چھپی تو عوام و خواص نے بہت پسند کی۔
the seeker..سوانح عمری لکھنے کا تجربہ چالیس دنوں کے ایک عالم بےخودی اور ٹرانس trance کا نہایت دلچسپ اور بامعنی تخلیقی تجربہ تھا۔
سات سال بعد میں ایک دفعہ پھر ایک ٹرانس میں گیا اور اسے اردو کے قالب میں ڈھالا اور اس کا نام’سالک’ رکھا۔ اسے سانجھ کے پبلشر امجد سلیم نے پڑھا تو اسے بڑے سلیقے سے چھاپا۔اس میں عظمیٰ بنت عزیز کی تصویریں بھی شامل کیں۔ اب ۲ فروری ۲۰۲۵ کو اس کتاب کی رونمائی ہو رہی ہے۔
حضرت عابد و زاہد !
اب آپ کی قیمتی رائے اور آپ کی ماضی کی یادوں کا انتظار رہے گا۔
سہیل زبیری سے ملاقات ہو تو ان کی خدمت میں آداب پیش کرنا نہ بھولنا۔ مجھے بے انتہا خوشی ہوئی کہ سہیل زبیری نے اردو میں سائنس کے دشوار گنجلک اور پیچیدہ موضوعات پر عام فہم زبان میں مضامین لکھنا شروع کیا ہے۔ اور اب نہ صرف ان کی کتاب چھپ رہی ہے بلکہ چھپنے سے پہلے ہی مشہور ہوگئی ہے۔
میرے نزدیک سائنس طب اور نفسیات کی عام فہم کتابیں مذہبی شدت پسندی اور بنیاد پرستی کی کمی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ آپ کی اس کے بارے میں کیا رائے ہے۔؟
رات کے بارہ بجنے لگے ہیں اس لیے باقی آئندہ
آپ کا بچپن کا دوست
خالد سہیل
۱۲۔۔۔۱۲۔۔۔۲۴ رات بارہ بجے
ڈاکٹر عابد نواز کا ڈاکٹر خالد سہیل کو خط نمبر4/جاؤ بھگت
سہیل آپ کا محبت نامہ دیکھا میر تقی میر نے شاید ایسے ہی موقع پر کہا تھا
ہم نے جانا تھا لکھے گا تو کوئی حرف اے میرؔ
پر ترا نامہ تو اک شوق کا دفتر نکلا
ایسا گرامی نامہ اور سپاس نامہ آپ کا کارنامہ کہلانے کا ہی مستحق ہے
چوکوں اور چھکوں کی تشبیہ سے آپ نے ہمارے چھکے چھڑا دیے ہیں
پھر آگے چل کر آپ کی نوازش سے ہم بندہ نواز اور ذرہ نواز بن گئے اس سلسلے میں حفیظ جالندھری کا واقعہ بھی دلچسپ ہے
انجمن حمایت اسلام راولپنڈی کے ایک جلسے میں حفیظ جالندھری نے نظم پڑھنے کے بعد جب چندے کی اپیل کی تو تلوک چند محروم نے شعر پڑھا
حفیظ کہتے تھے احباب جس کو بندہ نواز
بنا ہے گردش دوراں سے اب وہ چندہ نواز
علامہ اقبال نے بھی محمود کی بندہ نوازی کی طرف توجہ دلائی ہے
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
کسی صاحب نے اس شعر کی پُر مغز تشریح کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگرچہ محمود اور ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے تھے لیکن لڑائی شروع ہوتے ہی سب کو اپنی اپنی پڑ گئی اور پھر نہ کوئی بندہ رہا اور نہ بندہ نواز
بہرحال بندہ رہنا ہی ہمارے حسب حال ہے
پھر آپ نے میرے خط کو فن پارہ، تخلیقی ادب پارہ اور شہہ پارہ بھی قرار دیا ہے اچھا ہوا میرؔ کے گریبان تک نوبت نہیں پہنچی
ضبط کرتا نہیں کنارہ ہنوز
ہے گریبان پارہ پارہ ہنوز
پارہ سے آگے “پاں ڑہ” تک بھی جا سکتے ہیں پاں ڑہ پشتو میں پتے یا پتی کو کہتے ہیں گل پاں ڑہ (یعنی پھول کی پتی) یہاں کی ایک خوب رو گلوکارہ کا نام ہے پھول کی پتی سے علامہ اقبال نے ہیرے کے جگر تک کو کاٹنے کا کام لیا تھا ہیرے کی طرح اس سے شاید ہیر کاجگر بھی کٹ جاتا مگر بیچارے رانجھا کو اس کا پتہ ہی نہیں چل سکا وہ بانسری بجانے میں ہی مصروف رہا
سہیل اچھا ہے کینیڈا میں آپ نے لیٹر بازی کا شوق پال لیا ہے پاکستان میں تو بٹیر بازی کی نوبت بھی آ سکتی تھی
آپ نے مزید خط و کتابت کی فرمائش کی ہے اور فرمایا ہے کہ محترمہ عظمیٰ بنت عزیز بھی ان سے مَسحور ہوں گی سہیل مِسحور کو مَسحور ہونے کی کیا (miss hoor)
ضرورت ہو سکتی ہے ان تک میری نیک خواہشات، آداب اور احترام پہنچا دیجیے ،
سہیل زبیری سے ملاقات کے بارے میں آپ نے پوچھا ہے ان سے 14 دسمبر 2024 کو ملنے گیا ان کی مصروفیات اور وقت کی تنگی کے پیش نظر میرا ارادہ تھا کہ گھنٹے لگ بھگ کی ملاقات کے بعد اجازت لوں گا مگر ان کی بے پناہ اپنائیت اور خلوص کے سبب ہماری ملاقات چار گھنٹے تک جاری رہی اس دوران گفتگو کے ساتھ ساتھ مسلسل ضیافت بھی چلتی رہی اور کبھی کبھار بیچ میں ظرافت بھی آئی البتہ ضیافت اور ظرافت کے آخری تین حروف کو پاس پھٹکنے نہیں دیا۔
بچپن کے دوستوں کا پچپن سال سے زیادہ پرانی باتوں کا تذکرہ تھا سہیل زبیری نے آپ کی کٹیا کی بالکونی میں آپ کے ساتھ طویل نشستوں اور خط و کتابت کے بارے میں بھی بتایا آپ کے ساتھ مشترک کتابیں اور اپنی ایک کتاب کا تحفہ مجھے عنایت کیا ان کی اہلیہ محترمہ نے بھی اپنی ایک کتاب تحفتاً پیش کی۔
میرے یہ چار گھنٹے سائنس اور مختلف النوع علوم کے ایک بلند قامت عالم کی صحبت میں گذرے مجھے ان کی اور آپ کی دوستی پر بجا طور پر بے پناہ فخر ہے۔
آپ نے سالک کے بارے میں تعارفی کلمات اور اور اُن کیفیات کا ذکر کیا ہے جن سے آپ اس تخلیق کے دوران گذرے۔
میں یہ کتاب ابھی پوری نہیں پڑھ سکا لیکن فی الحال سالک کے حوالے سے ہر لکھنے والے کو کہوں گا کہ خالد سہیل سا لکھیں،
میرے ذہن میں کچھ واقعات موجود ہیں جن کا آپ کی خواہش کے مطابق باری باری ذکر کروں گا آج ایک دلچسپ واقعہ سنئیے
آر اے بازار سکول سے تھوڑے ہی فاصلے پر خیبر روڈ ہے جس پر سہیل زبیری کی رہائش گاہ واقع تھی اس روڈ کی دوسری جانب لہلہاتے کھیت ہوا کرتے تھے جہاں پر اب صرف تعمیرات نظر آتی ہیں یہاں سے تھوڑے ہی فاصلے پر حسن گڑھی کے نام سے ایک گاؤں واقع ہے جس کے اکثر طلبہ نزدیک ہونے کی وجہ سے آر اے بازار سکول میں پڑھتے تھے
سکول سے چھٹی ہونے کے بعد ہم اکثر اپنی سائیکلوں پر بیٹھ کر ان کھیتوں کی طرف چل نکلتے اور پھر وہاں دیر تک گپ شپ کی محفل جمی رہتی
ایک روز حسب معمول آپ، سہیل زبیری اور میں ان کھیتوں میں بیٹھے ہوئے گپیں ہانکنے میں مصروف تھے کہ وہاں سے حسن گڑھی کے رہائشی ہمارے سکول کے ایک طالب علم کا گذر ہوا ہم اُس وقت دسویں جماعت میں تھے وہ ہم سے ایک سال جونیئر تھا لیکن ہمیں پہچان لیا اور فوراً ہمارے پاس پہنچ گیا بہت ہی پرتپاک طریقے سے علیک سلیک کے بعد گرم جوشی سے ہمارے حال احوال پوچھنے لگا اور پھر انتہائی پر خلوص طریقے سے دعوت دی کہ ہم ان کے گاؤں چلیں جہاں وہ ہماری خاطر مدارت کرنا چاہتے تھے ہمیں چونکہ پہلے ہی دیر ہو چکی تھی لہذا معذرت کی اور اُن کا شکریہ ادا کیا لیکن وہ مصر رہے کہ ہمیں ان کے ساتھ جانا ہوگا ہم نے بار بار معذرت کی اور ان سے کہا کہ بس اب ہم اجازت چاہتے ہیں بس کا لفظ سن کر انہوں نے کہا کہ بس تو روڈ پر چلتی ہے آپ نے ضرور میرے گاؤں میرے ساتھ آنا ہے دس بارہ منٹ تک ان کا اصرار اور ہماری معذرت چلتی رہی لیکن وہ ماننے پر تیار نہ ہوئے بالآخر ہم نے کہا کہ آج دیر بھی بہت ہو چکی ہے اور ہم گھر والوں کو بتا کر بھی نہیں آئے ہیں لہذا کل یعنی اتوار کے روز ہم فارغ ہونگے اور گھر والوں کو بتا کر آئیں گے یہ سن کر انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے کل دوپہر کے کھانے پر آپ میرے ہاں مدعو ہوں گے انہوں نے اس بارے میں ہم سے پکا وعدہ لیا اور اپنا نام بتاتے ہوئے ہماری رہنمائی کے لیے کہا کہ جب آپ حسن گڑھی پہنچ جائیں تو وہاں کسی سے کہہ دیں وہ آپ کو ہمارے گھر تک پہنچا دیں گے۔
اگلے روز گھر والوں کی اجازت سے ہم مقررہ وقت پر اپنی سائیکلوں کے ہمراہ کھیت والے مقام پر اکٹھے ہوئے وہاں سے حسن گڑھی پہنچ کر ایک صاحب سے ان کے گھر کا پتہ پوچھا انہوں نے کمال مہربانی سے ہمیں ان کے گھر تک پہنچایا دستک دینے پر ہمارے میزبان فوری نمودار ہوئے ہمیں دیکھ کر ان کے چہرے پر ناقابل یقین حیرت چھا گئی اور یکدم بولے آپ تو سچ مچ آگئے۔
اب ان سے زیادہ ناقابل یقین حیرت ہمارے چہروں کی زینت بن گئی، چند سیکنڈ تک ہمارے منہ سے کوئی لفظ نہ نکل سکا اور ہم تینوں دوست ایک دوسرے کو دیکھتے رہے جب کچھ بولنے کے قابل ہوئے تو اپنے میزبان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرکے واپس لوٹے۔
گھر والوں نے مینو کے بارے میں پوچھا اور بالخصوص یہ جاننا چاہا کہ سب سے زیادہ ہمیں کونسی ڈش پسند آئی ظاہر ہے ہمیں بتانا پڑا کہ آؤ بھگت کے بجائے جاؤ بھگت کا معاملہ تھا۔
تلوک چند محروم نے سچ ہی کہا تھا
لختِ دل کھانے کو ہے خونِ جگر پینے کو ہے
میزبان دہر نے کی خوب مہمانی مری
اور نظیر اکبر آبادی نے بھی شاید ایسے ہی موقع پر کہا تھا
چولہا، توا، نا پانی کے مٹکے میں آبی ہے
پینے کو کچھ نہ کھانے کو اور نے رکابی ہے
موصوف کو نجانے ہم سے کیا عداوت تھی جسے انہوں نے دعوت کا رنگ دے ڈالا اور مدارت کرنے کی بجائے مداری بن بیٹھے
سہیل خط پھر طوالت اختیار کر رہا ہے لہذا باقی واقعات آئندہ پر چھوڑتے ہیں
دوستِ درویش
عابد نواز
21 دسمبر 2024
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں