پاکستان اور انڈیا برصغیر کے دو اہم ملک ہیں۔ دونوں کی تاریخ، ثقافت، زبانیں، کھانے، موسیقی، اور لوگوں کی شکل و صورت تک کافی حد تک ایک جیسی ہے۔ مگر ایک بڑا فرق مذہب کا ہے۔ پاکستان میں مسلمان اکثریت میں رہتے ہیں اور بھارت میں ہندو۔ اور ساتھ ہی وہاں مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی بڑی تعداد موجود ہیں۔ بلکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈیا میں مسلمانوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ وہ پورے پاکستان کے مسلمانوں سے بھی بڑھ جاتی ہے۔
تو سوال یہ ہے کہ کیا پاک بھارت دشمنی صرف مذہب کی بنیاد پر قائم ہے؟ جب ایک ملک کے فوجی دوسرے ملک پر حملہ کرتے ہیں تو وہ دشمن ہوتے ہیں مگر کیا وہ انسان نہیں رہتے؟
پاکستان کا قیام دو قومی نظریے پر ہوا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں۔ جن کے نظریات، رسم و رواج اور زندگی گزارنے کے طریقے مختلف ہیں۔ لیکن اس نظریے کا مطلب یہ نہیں کہ ایک ملک “حق” ہے اور دوسرا ملک”باطل”۔ یہ تو صرف شناخت کی بنیاد تھی۔۔۔ کوئی آسمانی فیصلہ تو نہیں۔
حق وہ ہے جو خدائے واحد کی طرف لے جائے۔۔۔ جو دل کو اس کے قرب کا ذائقہ دے، جو انسان کو انسان سے جوڑے اور نفرت سے پاک کرے۔ حق وہ نور ہے جو دل میں اللہ کی پہچان جگاتا ہے۔۔۔ خاموش، نرم مگر طاقتور۔ اور باطل؟ ہر وہ چیز ہے جو رب سے دور کرے۔ جو انسان کو غرور میں ڈالے، جو ظاہری خول کو اصل سمجھ بیٹھے۔ حق عاجزی میں ہے، سچائی میں ہے اور محبت میں ہے۔۔۔ کیونکہ اللہ خود محبت ہے۔ اور جو دل کو سخت کرے وہی باطل ہے۔ چاہے الفاظ میں وہ حق کا دعویٰ ہی کیوں نہ کرے۔
لیکن ہم نے ہر تنازعے کو حق و باطل کی جنگ سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ لیکن اگر واقعی ہر جنگ حق و باطل کی جنگ ہوتی تو پھر بتائیے سعودی عرب اور ایران کے درمیان اختلافات، عراق اور کویت کی جنگ اور شام کے ساتھ کشیدگی۔۔۔ یہ سب کیا ہیں؟ کیا یہاں بھی ایک فریق جنتی اور دوسرا جہنمی ہے؟ کیا ہر بار مارنے والا حق پر اور مرنے والا باطل ہوتا ہے؟
یہی سوچ ہمیں اس حال تک لے آئی ہے کہ ہمارے اپنے ملک میں رہنے والے غیر مسلم بھی ہمیں چوڑھے اور چنگڑ دکھائی دیتے ہیں۔ جبکہ خود کو ہم سب سے اعلیٰ، پاک اور پوتر سمجھتے ہیں۔
یہ درست ہے کہ ہمیں کلمہ نصیب ہوا۔۔۔ جو واقعی اللہ کا خاص فضل ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ پیدائشی طور پر مل جانے والے اس فضل کو کیا ہم نے نبھایا؟
کلمہ پڑھ لینا سعادت ہے۔۔۔ لیکن اسے کردار میں ڈھالنا اصل کمال ہے۔
اور کمال یہ نہیں کہ کوئی آپ سے ڈرے،
بلکہ کمال یہ ہے کہ کوئی آپ کا اخلاق دیکھ کر آپ کے دین کا دیوانہ ہو جائے۔
کیا ہمارا رویہ، ہمارے بول، ہمارے فیصلے دوسروں کو اللہ کے قریب کر رہے ہیں یا ہم سے بدظن کر رہے ہیں؟
ہمارا ملک ہمارے لئے خاکِ حرم سے کم نہیں! اور یہ ہماری ہمارے ملک سے عقیدت و محبت ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہم پاکستان کو اپنے لئے اللہ تعالیٰ کا خاص انعام سمجھتے ہیں جس کی حفاظت ہماری زمہ داری ہے۔
لیکن اپنے ملک سے محبت کا تقاضا یہ تو نہیں کہ باقیوں سے نفرت کی جائے! کیا اپنی ماں سے محبت کا مطلب دوسروں کی ماؤں کو حقیر سمجھنا ہے؟ یا اپنی ماں سے محبت کا نام حق ہے اور دوسرے کا اپنی ماں سے محبت کرنا باطل ہونے کی نشانی ہے؟
وقت کا تقاضا ہے کہ ہمیں اب اپنی سوچ بدلنی ہو گی۔ سرحدوں کی جنگ کو دلوں کی جنگ نہ بنائیں۔۔۔ اور ہر انسان کو خواہ وہ کسی بھی مذہب یا عقیدے سے تعلق رکھتا ہو، صرف انسان سمجھ کر بھی اس کی تکریم کرنا سیکھیں۔ یہی انسانیت کی معراج ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں