میں انڈین عوام کا اتنا ہی احترام کرتا ہوں جتنا پاکستانی عوام کا مجھے ان سے بھی ویسی ہی محبت اور ان کے لیے بھی خیر خواہی کے وہی جذبات ہیں جیسے پاکستانی عوام کے لیے ، انڈین کھلاڑیوں ، فنکاروں اور دانشوروں نے علم وفن پر مبنی انسانیت کے مشترکہ ورثہ میں قابل قدر اضافہ کیا ہے جو ہر لحاظ سے احترام کے مستحق ہیں۔ ۔ انڈین گلوکاروں اور فنکاروں کے بغیر میری ذاتی زندگی میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوسکتا ہے ۔ میں ارون دھتی رائے کا تاعمر مقروض ہوں جن کی تحریروں سے میں نے سیکھا کہ ذات پات ، مذہبی وابستگی اوروطن پرستی سے اوپر اٹھ کر مظلوم کے حق میں آواز بلند کرنا کیوں ضروری ہے ۔ میرے لیے زندگی کا ہر وہ لمحہ پر مسرت ہے جب میں شو کمار بٹالوی کو پڑھتا ہوں یا ستیندر سرتاج کو سنتا ہوں۔
لیکن اتفاق سے میں ایک دیہاتی ہوں اور دیہات میں رہنے کا ایک اصول ہے کہ اگر آپ کی زمین اور آپ کے پانی پر آپ کا سگا بھائی بھی قبضہ کرلے تو آپ کو لڑنا پڑتا ہے ۔ اس لڑائی میں کوئی انا پرستی یا لالچ شامل نہیں ہوتا بعض اوقات زمین کے چھوٹے سے ٹکڑے کے لیے بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے ۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ اگر آپ نے آج اس ناجائز قبضے پر سمجھوتہ کرلیا توآخرکار آپ کو ذلیل ورسوا ہو کر اپنا گھر بار چھوڑنا پڑ سکتا ہے کیونکہ جس نے آج زمین کے چھوٹے سے ٹکڑے پر قبضہ۔ کیا ہے یا چند منٹ پانی چھینا ہے یہ اس پر اکتفا نہیں کرے گا آخر کار آپ کو مکمل طور پر جھک جانے پر مجبور کردے گا ۔
یہ ایک قدیم قبائلی اصول ہے ۔
دوسرا بڑا اتفاق یہ ہےدنیا بھر کی ریاستیں آج بھی اسی قبائلی اصول پر عمل کرتی ہیں چاہے وہ قبضہ کرنے والی جارح ریاستیں ہوں یا جارحیت کے خلاف مزاحمت کرنے والی ریاستیں ۔ ہر جارح ریاست جانتی ہے کہ اس کی طاقت کا انحصار مسلسل جارحیت پر ہے اور اس جارحیت کاشکار ہر ریاست جانتی ہے کہ اس کی بقامزاحمت میں ہے ۔
انڈیا ایک جارح ریاست ہے جس نے کبھی اپنے عزائم چھپانے کی کوشش نہیں کی ۔ انڈیا آج دنیا سے اپنے لیے کسی چیز کا مطالبہ کسی اخلاقی اصول کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنی دولت اور طاقت کی بنیاد پر کرتا ہے۔ فی زمانہ اسی غیراخلاقی ننگی طاقت کا اظہار صرف امریکا کررہا تھا اب انڈیا اس کے جونیئرپارٹنر کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اگر امریکہ نے اسامہ کی پاکستان میں ہونے کی اطلاع پر پاکستانی حکومت کو اعتماد میں لینے کی بجائے خود سرجیکل سٹرائیک کرنا مناسب سمجھا تو انڈیا نے ازخود اپنے آپ کو یہ حق تفوہض کردیااور بلااشتعال پاکستان میں اندر تک گھس کرحملہ کردیا ۔ اگر ٹرمپ نے بین القوامی معاہدوں کو یکطرفہ منسوخ کیا تو انڈیا نے اسے اپنا بھی حق سمجھا اور سندھ طاس جیسے امن کے ضامن معاہدے کو معطل کردیا ۔ پاکستان کے خلاف تو انڈیا کو شکایات ہوسکتی ہیں لیکن کیینیڈا ، جرمنی اور آسٹریلیا سے انڈیا کا کیا مسئلہ ہے جو وہاں پر اس کی خفیہ ایجنسیاں غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور دھڑلے سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کررہی ہیں ۔ انڈیا پوری دنیا میں معیشیت ، کھیلوں ، صحافت اور سیاست کے میدانوں میں اپنی جعل سازیوں کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے ۔ انڈیا ایک بہت بڑا بجٹ اور افرادی قوت دنیا بھر میں سازشی سرگرمیوں کے لیے مختص کرتا ہے اور اس کا فخریہ اظہار بھی کرتا ہے ۔
یہ سب واقعات انڈیا کے سامراجی عزائم کا کھلم کھلا اظہار ہیں ۔
پاکستانی ریاست اپنے اندرون میں جیسی بھی جابرانہ کیوں نہ ہو لیکن وہ کسی دوسری ریاست کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرنے کی طاقت ہی نہیں رکھتی ۔ قیام پاکستان کے پہلے روز سے انڈیا پاکستان سے پانچ گنا بڑی طاقت ہے اور اس وقت یہ تناسب کئی گنا بڑھ چکا ہے ۔ پاکستان کو ہر قدم پر زک پہنچانے کو انڈیا میں حب الوطنی کا معیار سمجھا جاتا ہے ۔ انڈین عوام کی ذہن سازی کچھ اس طرز پر کی گئی ہے کہ کانگرس ہو یا بی جے پی جو پارٹی پاکستان کے خلاف مضبوط بیانیہ بنا لیتی ہے وہ الیکشن جیت جاتی ہے ۔ اپنی عوام کا استحصال کرنے کے لیے انڈیا نے مسلمانوں اور پاکستان کو برائی کا محور قرار دے رکھا اب ان کے خلاف ہر قدم انڈیا کے حکمران طبقے کو عوام میں ہیرو بنا دیتا ہے ۔
اس ہیرو پتی کی قیمت پاکستان کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

جاری ہے
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں