اب جیسی لکھی ہو ویسی آنے سے روک کون سکتا ہے، ہاں مگر ذی شعور ہوں تو ایک خوف سا جگہ بنا لیتا ہے
تقسیم ہند پڑھتے تھے، اپنے پُرکھوں کی ہجرت ان کی آنکھوں میں دیکھ رکھی تھی اور پھر عشق ٹرینوں سے بھی تھا، دن بھی امن کے تھے مگر پھر بھی جب ٹرین رات گئے کسی گمنام اور غیر آباد مقام پر اچانک رک جاتی تھی تب دفعتاً ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کہیں سے بلوائیوں کا ایک جتھہ بوگی پر ٹوٹ پڑے گا، شاید کچھ تو ہونے کو ہے اور یہی سوچ کر ڈر کے مارے بوگی میں سوار سب ہی مسافر جاگ کر بیٹھ جاتے تھے!
اس دنیا میں ایک بات تو ہے کہ یہاں ہر چیز کی کوئی نا کوئی قیمت چکانی پڑتی ہے اور کبھی کبھار قیمت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ آنے والی کئی نسلوں میں اس کی چھاپ رہ جاتی ہے
جنگ چھڑ چکی ہے یا چھڑ جائے گی یا شاید چھڑی ہوئی ہے، دو راتیں قبل، پہلی بار خود کی نگاہوں نے میزائل گزرتے دکھا، لگا کہ اس پر بہت سارے عزرائیل سوار ہیں اور پھر جو خلا میں کچھ دیر دھواں دکھائی دیتا رہا بس اسی سے اتنی گھٹن بھر گئی کہ وہ لوگ یاد آگئے جنہیں صعوبت خانوں، بنکروں اور سرنگوں میں ننگے اجسام بند کرکے بس ایک ہول سے زہریلا دھواں چھوڑا جاتا تھا
انسان مارنے کے کتنے عجیب عجیب ہتھکنڈے انسانوں نے ایجاد کئے!
کچھ دنوں سے، جہاں میں رہتا ہوں وہاں یہ فرق کرنا مشکل ہے کہ یہ آوازیں اور گھن گرج پانی سے بھرے بارش برسانے والے بادلوں کی ہے یا بارود سے بھرے انسانوں کی جان لینے والے میزائلوں کی
کچھ منٹ گزرے ہیں، دو قدم کی دوری پر ایک باردوی ہتھیار کا ملبہ آن گرا ہے، میں سوچ رہا ہوں کسے بلا کر بتاؤں کہ جنگ اچھی چیز نہیں ہے، کس طرح سمجھا سکتا ہوں کہ ابھی تو ہم پچھلی قیمتوں کا بھگتان چکا رہے ہیں، بوجھ زیادہ ہوگیا تو …. ؟
پہلے جنگوں کے بیچ سورج ڈوبنے کے ساتھ ہی جنگ بندی کے طبل بج جاتے تھے، دونوں فریقین اپنوں کے لاشے اور زخمیوں کے بکھرے اعضاء چننے آمنے سامنے آجاتے تھے مگر اب بات کچھ اور ہے، اب نہیں معلوم کہ سرحدوں کے پاس بسنے والوں میں سے کتنے واقف کار آج رات چل بسیں! ابھی جس سے کچھ دیر پہلے واقفیت تھی اور محو گفتگو تھے جانے کون سے اگلے لمحے لیر لیر ہو جائے!
شاید انسان نے جو مہلک ہتھیار بنا ڈالے تھے انہیں رکھے اور سنبھالتے سنبھالتے انسان ہی کا من اوب گیا ہے اور اس نے سوچا : “چلا کر دیکھتے ہیں!”
اب تو ایسا بھی نہیں کہ ایک گھرانے کے سب ہی افراد ایک ہی گلی کے باسی ہوں سو ایک شہر میں بیٹھا قبیل دار دوسرے شہر میں جا بسے اپنے عزیز کے لئے اتنا ہی بے بس محسوس کرتا ہوگا جتنا روز گار کی تلاش میں گھر بار سے دور دوسرے ملک جا بسا وطن پرست محسوس کرتا ہے، وہ سوچتا ہوگا کہ جن کے لئے میں پیسے کمانے یہاں آن بسا ہوں اگر پیچھے جنگ نے انہیں کھا لیا تو …. ؟
قصہ سناؤں؟
جنگ جاری تھی اور جنگ چلتے بہت سے سال بیت گئے تھے، دونوں ملک کھنڈرات میں بدل گئے تھے، ہر سمت اجتماعی قبریں تھیں اور پھر بھی بچے ہوئے لوگوں پر کرفیو نافذ تھا، دفعتاً رات کو گشتی پارٹی کے دو جوانوں کو ایک انسان کا سایہ دکھائی دیا، ایک جوان نے اپنی بندوق کا رخ اس سائے کی طرف کیا اور زور سے بولا :
“ہاتھ اوپر! پاکستانی ہو یا ہندوستانی؟”
سائے نے لڑکھڑاتے ہوئے کہا :
“روٹی ہے؟”
بس!
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں