ہم پاکستانی اور ہندوستانی ریاستوں کو محض دو قومی ریاستیں نہیں بلکہ “امپیریلزم کے مفادات کی خدمت کرنے والی سرمایہ دارانہ حکومتیں” سمجھتے ہیں۔ ان دونوں ریاستوں کی بنیادیں برطانوی نوآبادیاتی ورثے، استعماری طرز حکومت، اور سامراجی معاشی ڈھانچوں پر استوار ہیں۔ آزادی کے بعد بھی حقیقی عوامی اقتدار قائم کرنے کے بجائے، ان ریاستوں نے نوآبادیاتی بیوروکریسی، جاگیردارانہ رشتے، اور سامراجی معیشت کے تسلسل کو برقرار رکھا۔ چنانچہ یہ ریاستیں محنت کش طبقے اور مظلوم قومیتوں کے لیے آج بھی جبر، بھوک، اور غلامی کی علامت بنی ہوئی ہیں۔
موجودہ جنگی کشیدگی ان بورژوا ریاستوں کی ایک سازش ہے، جس کا مقصد نہ صرف عوام کی توجہ ان کے حقیقی مسائل سے ہٹانا ہے بلکہ بڑھتی ہوئی عوامی بغاوت، کسانوں اور مزدوروں کی تحریکوں، طلبہ کی بیداری، اور قومی سوال پر ابھرتی مزاحمت کو بھی کمزور کرنا ہے۔ ریاستی میڈیا، مذہبی جذبات، اور قوم پرستانہ نعروں کے ذریعے محنت کشوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف بند کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی اصل طبقاتی دشمن) سرمایہ دار، جاگیردار، فوجی جرنیل، اور سامراجی قوتیں ( کو پہچان نہ سکیں۔
ماؤ زے تنگ نے کہا تھا:
“جنگ کا بنیادی مسئلہ سیاسی ہے، اور سیاسی مسئلہ طبقاتی ہے۔”
(ماؤ زے تنگ، On Protracted War, 1938)
لہذا ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ دراصل طبقاتی جنگ کو دبانے کی ایک ریاستی چال ہے۔
بھارت میں ہندو فاشزم کا ابھار RSS اور BJP کی شکل میں سامنے آیا ہے، جو برہمن واد، اکثریتی جبر، اور نیولبرل معیشت کو ایک زہریلے امتزاج میں عوام پر مسلط کر رہا ہے۔ پاکستان میں یہی کام جرنیلی اسٹیبلشمنٹ، مذہبی بنیاد پرست گروہ، اور سامراجی سرمایہ داروں کے ساتھ جُڑے لبرلز کر رہے ہیں، جہاں ایک طرف CPEC جیسے سامراجی منصوبوں کو تحفظ دیا جاتا ہے، تو دوسری طرف طلبہ، محنت کشوں، خواتین، اور مظلوم قوموں کی ہر مزاحمتی آواز کو کچلا جاتا ہے۔
ماؤ نے کہا تھا: “جہاں جبر ہے، وہاں مزاحمت بھی ہوگی۔”
یہی مزاحمت بھارت میں آدیواسیوں، دلتوں، کسانوں، اور کشمیریوں کی شکل میں، اور پاکستان میں بلوچ، پشتون، سندھی، گلگتی، اور ترقی پسند قوتوں کی صورت میں ابھر رہی ہے۔
ہم کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے پختہ حامی ہیں اور بھارتی ریاست کی طرف سے کشمیر میں قابض فوج، کالے قوانین، اور عوامی تحریکوں کو کچلنے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم اس امر کی بھی سخت مخالفت کرتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان نے کشمیر کو اپنے جنگی مفادات کا میدانِ جنگ بنا دیا ہے، جہاں کشمیری عوام کی خواہشات، جدوجہد، اور قربانیوں کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔
جنگ کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان محنت کش طبقے، کسانوں، عورتوں، اور مظلوم قومیتوں کو ہوتا ہے۔ حکمران طبقے جن میں بھارتی کارپوریٹ اشرافیہ، RSS کی حمایت یافتہ فاشسٹ قوتیں، اور پاکستان کی جرنیل شاہی و سرمایہ دار اشرافیہ شامل ہیں اس جنگ سے سیاسی اور مالی فائدے حاصل کرتے ہیں، جبکہ عوام کے حصے میں صرف خون، بھوک، اور جبر آتا ہے۔
ماؤزے تنگ کا ایک اور قول یاد رہے: “حقیقی انقلاب تبھی آتا ہے جب عوام اپنی نجات کا راستہ خود تراشتے ہیں۔”
ہم سمجھتے ہیں کہ اصل جنگ “اندرونی طبقاتی جنگ” ہے جاگیردارانہ رشتوں، ذات پات کی غلامی، قبائلی عوام پر ریاستی حملوں، مذہبی اقلیتوں کے قتل عام، اور سرمایہ داری کے مکمل زوال کے خلاف۔ یہی وہ جنگ ہے جو حقیقی آزادی اور انصاف کا راستہ ہموار کرتی ہے۔ہم بھارتی ریاست کو صرف امریکی سامراج کی ایجنٹ نہیں، بلکہ ایک “علاقائی سامراج” کے طور پر دیکھتے ہیں، جو نیپال، سری لنکا، اور بنگلہ دیش جیسے ہمسایہ ممالک پر سیاسی و معاشی تسلط قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہندوستانی بورژوازی، خصوصاً کارپوریٹ طبقہ، اپنے داخلی فاشزم کو عالمی سطح پر سامراجی توسیع پسندی سے جوڑ رہا ہے۔اسی طرح پاکستانی ریاست بھی ایک نیم نوآبادیاتی، نیم فیوڈل، اور مکمل طور پر سامراج نواز کردار کی حامل ہے۔ فوجی جرنیل، جاگیردار اشرافیہ، مذہبی بنیاد پرست قوتیں، اور NGO زدہ لبرل طبقہ اس ریاستی ڈھانچے کے ستون ہیں۔ CPEC جیسے منصوبے درحقیقت سامراجی سرمایہ کاری، قدرتی وسائل کی لوٹ مار، اور مزدوروں کے استحصال کا ذریعہ ہیں۔
ہم بطور ماؤسٹ انقلابی ایسی ہر جنگ کے خلاف ہیں جو عوام کے حق میں نہ ہو۔ “جنگ عوام کی ہے، اور عوامی جنگ کی قیادت کسانوں اور مزدوروں کے ہاتھ میں ہونی چاہیے”
ماؤ زے تنگ، Problems of War and Strategy, 1938))
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان، بھارت، اور مقبوضہ کشمیر کے محنت کش عوام، کسان، نوجوان، خواتین، اور مظلوم قومیتیں ایک انقلابی عوامی فرنٹ تشکیل دیں، جو سرمایہ داری، سامراج، قوم پرستی، اور ریاستی جبر کے خلاف صف آرا ہو۔ہمارا ہدف واضح ہے کسانوں اور مزدوروں کی قیادت میں ایک عوامی جمہوری انقلاب، جو موجودہ حکمران طبقے کو اکھاڑ پھینکے، اور ایک نیا سماج قائم کرے جہاں پیداوار کا کنٹرول عوام کے ہاتھ میں ہو، اور ہر فرد کو عزت، انصاف، اور آزادی میسر ہو۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت جنوبی ایشیا کو سامراجی پنجے سے آزاد کروانے کے لیے ہمیں ایک بین الاقوامی انقلابی جذبہ پیدا کرنا ہوگا، جہاں پاکستانی، بھارتی، کشمیری، بنگلہ دیشی، نیپالی، اور سری لنکن عوام مل کر ایک نیا انقلابی عوامی ایشیا تعمیر کریں۔
بشکریہ فیس بک وال ؛کاروان ماوازم
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں