• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • گوشہ ہند
  • /
  • عبرت نہیں، عزم کی علامت ہیں ہماری بستیاں: سچ کی تلاش میں ایک مکالمہ /محمد علم اللہ

عبرت نہیں، عزم کی علامت ہیں ہماری بستیاں: سچ کی تلاش میں ایک مکالمہ /محمد علم اللہ

جب کوئی قلم اٹھاتا ہے اور اپنی تحریر کے ذریعے معاشرے کے زخموں کو کھولتا ہے، تو اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ یا تو مرہم رکھے گا یا کم از کم زخم کی وجہ کو سمجھنے کی کوشش کرے گا۔ لیکن جب وہی قلم صرف زخموں پر نمک چھڑکنے اور الزامات کی بوچھاڑ کرنے کا ذریعہ بن جائے، تو یہ نہ صرف معاشرے کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے بلکہ خود اس قلم کی ساکھ کو بھی مجروح کرتا ہے۔ آج کل کچھ خود ساختہ دانشوروں نے اپنا مقصد ہی یہ بنا لیا ہے کہ وہ مسلم معاشرے کو ہر وقت تنقید کا نشانہ بنائیں، ان کی خامیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کریں، اور ان کی جدوجہد کو یکسر نظر انداز کر دیں۔ ایسی تنقید، جو نہ حل پیش کرتی ہے اور نہ ہی حقائق کی گہرائی میں جاتی ہے، محض ایک واویلا ہے جو کانوں کو تو بھاتا ہے، لیکن دل کو کچھ نہیں دیتا۔ یہ مضمون ایسی ہی ایک سطحی تنقید کا جواب ہے، جو برصغیر کی مسلم آبادیوں کو عبرت کا نشان قرار دیتی ہے اور ان کے مسائل کا ذمہ دار صرف انہیں ٹھہراتی ہے۔
ایک خود ساختہ دانشور کی تحریر کا آغاز ہی اس دعوے سے ہوتا ہے کہ برصغیر کے شہر یتیم ہیں اور مسلم آبادیاں عبرت کا نشان۔ یہ بیان اپنی عمومیت پسندی میں ہی اپنی کمزوری کو عیاں کرتا ہے۔ کیا شہری بد نظمی صرف مسلم آبادیوں کا مسئلہ ہے؟ کیا غیر مسلم علاقوں میں ہر گلی میں عالمی معیار کے تعلیمی ادارے، کھیلوں کے میدان، اور ثقافتی مراکز کی بھرمار ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ شہری بد نظمی ایک عالمی مسئلہ ہے، جو نہ مذہب سے جڑا ہے اور نہ ہی کسی ایک طبقے سے۔ برصغیر کے شہروں میں منصوبہ بندی کا فقدان، بدعنوانی، اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم جیسے مسائل سب کے لیے یکساں ہیں۔ لیکن اس دانشور نے ایک ہی لاٹھی سے سب کو ہانکنے کی کوشش کی اور سارا الزام مسلم آبادیوں پر ڈال دیا۔ یہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ حقیقت سے منہ موڑنے کے مترادف ہے۔
مثال کے طور پر، اوکھلا جیسے علاقے کا موازنہ غزہ سے کرنا نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ غیر علمی بھی۔ غزہ کی تباہی کا سبب مسلسل جنگیں اور عالمی پابندیاں ہیں، جبکہ اوکھلا کی بدحالی کا ذمہ دار ایک پیچیدہ نظام ہے، جس میں سرکاری اداروں کی ناکامی، بدعنوانی، اور شہری منصوبہ بندی کا فقدان شامل ہے۔ لیکن اس تنقید میں سارا بوجھ مسلم بلڈرز پر ڈال دیا گیا، جنہیں بددیانت اور منافع خور قرار دیا گیا۔ کیا غیر مسلم بلڈرز رفاہی ادارے چلا رہے ہیں؟ کیا وہ اپنی جیب سے پارکس اور اسکول بنا رہے ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر ایک طبقے کو الگ سے کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟ یہ دوغلا پن نہ صرف تعصب کو ظاہر کرتا ہے بلکہ تنقید کی ساکھ کو بھی کمزور کرتا ہے۔
اس تنقید کا ایک اور نکتہ یہ ہے کہ مسلم علاقوں میں کتابوں کی دکانیں، ثقافتی سرگرمیاں، اور علمی ماحول کا فقدان ہے۔ یہ سوال اٹھانا برا نہیں، لیکن اس کے پیچھے کی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے۔ مسلم آبادیوں کے اکثر لوگ معاشی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ جب پیٹ بھرنے کی فکر ہو، بجلی کا بل ادا کرنے کی پریشانی ہو، یا بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کی فکر لاحق ہو، تو کون جا کر ثقافتی مراکز بنائے؟ معاشی دباؤ کے باوجود، ان علاقوں میں بہت سے لوگ اپنی محدود صلاحیتوں کے ساتھ قابلِ ستائش کام کر رہے ہیں۔ مساجد میں غریب بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی ہے، زکوٰۃ کے ذریعے ضرورت مندوں کی مدد کی جاتی ہے، اور کمیونٹی کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ لیکن یہ سب اس تنقید کی نظر میں یا تو نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا اسے غیر اہم قرار دیا جاتا ہے۔
یہ کہنا کہ مسلم نوجوان تخلیقی صلاحیتوں سے محروم ہیں، ایک ایسی بات ہے جو نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ حقیقت سے میل نہیں کھاتی۔ محدود وسائل کے باوجود، بہت سے مسلم نوجوان کاروبار شروع کر رہے ہیں، ٹیکنالوجی سیکھ رہے ہیں، اور اپنے خاندانوں کی کفالت کر رہے ہیں۔ یہ لوگ ہر روز اپنے حالات سے لڑ رہے ہیں، اور ان کی کہانیاں ہمت اور عزم کی عظیم مثالیں ہیں۔ لیکن اس تنقید میں ان کی جدوجہد کو استثنائی قرار دے کر نظر انداز کر دیا گیا۔ اگر کوئی دانشور اپنی ہی کمیونٹی کی کامیابیوں کو نہیں دیکھ سکتا، تو اس کی نظر یا تو تعصب سے اندھی ہے یا وہ جان بوجھ کر حقیقت سے منہ موڑ رہا ہے۔
اس تنقید میں آمدنی کے فاصلے، غیر ملکی زبانیں سیکھنے میں ناکامی، اور مقابلہ جاتی کوچنگ میں پسماندگی کا ذکر بھی کیا گیا۔ یہ مسائل واقعی موجود ہیں، لیکن ان کی وجوہات کو سمجھنے کے لیے گہرائی میں جانا ضروری ہے۔ تعلیمی اداروں تک رسائی، مالی وسائل کی کمی، اور سماجی امتیازی سلوک جیسے عوامل ان مسائل کی جڑ میں ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر ایک مسلم طالب علم کو معیاری اسکول تک رسائی نہ ہو، یا اس کے خاندان کے پاس ٹیوشن کی فیس ادا کرنے کے وسائل نہ ہوں، تو وہ مقابلہ جاتی امتحانات میں کیسے آگے بڑھے گا؟ اسی طرح، کاروباری مواقع کی بات کریں تو ہزار کمپنیوں کی فہرست تو بنائی جا سکتی ہے، لیکن کیا یہ بتایا جا سکتا ہے کہ ان میں سے کتنی کو سرمایہ کاری، نیٹ ورکنگ، یا حکومتی حمایت تک رسائی ملی؟ یہ سب کچھ ایک منصفانہ میدان میں نہیں ہوتا، اور اس حقیقت کو نظر انداز کرنا محض سطحی تنقید ہے۔
اس تنقید میں مساجد کی حالت زار کا بھی ذکر کیا گیا، لیکن یہ ایک ایسی تصویر کھینچی گئی جیسے مساجد محض عمارتیں ہیں جن کا کوئی سماجی کردار نہیں۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ برصغیر کی بہت سی مساجد نہ صرف عبادت کی جگہ ہیں بلکہ سماجی خدمات کے مراکز بھی ہیں۔ یہاں غریب بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی ہے، ضرورت مندوں کو خوراک اور مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، اور کمیونٹی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اجتماعی کوششیں کی جاتی ہیں۔ یہ سب اس لیے ممکن ہے کیونکہ لوگ اپنی زکوٰۃ اور خیرات سے ان سرگرمیوں کو چلاتے ہیں۔ لیکن اس تنقید میں ان خدمات کو یا تو نظر انداز کر دیا گیا یا انہیں غیر اہم قرار دیا گیا۔ اگر کوئی دانشور مساجد کے اس سماجی کردار کو نہیں دیکھ سکتا، تو اس کی تنقید محض تعصب کی پیداوار ہے۔
جناب کی تنقید کا سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ یہ محض الزامات کی بوچھاڑ ہے، جس میں نہ کوئی تجزیہ ہے اور نہ ہی کوئی تعمیری حل۔ اگر آپ واقعی تبدیلی چاہتے ہیں، تو الزامات کی بجائے حل پیش کیجیے۔ مثال کے طور پر، اگر شہری منصوبہ بندی کا فقدان ہے، تو اس کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟ اگر تعلیمی پسماندگی ایک مسئلہ ہے، تو کمیونٹی کے اندر کس طرح کے تعلیمی پروگرام شروع کیے جا سکتے ہیں؟ اگر معاشی جدوجہد ایک چیلنج ہے، تو چھوٹے کاروباروں کو فروغ دینے کے لیے کیا حکمت عملی اپنائی جا سکتی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ایک سچی تنقید کو جنم دیتے ہیں، لیکن اس تحریر میں ان کا کوئی ذکر نہیں۔
اس کے بجائے، جناب کی تنقید ایک ایسی تصویر کھینچتی ہے جیسے مسلم آبادیاں صرف ناکامیوں کا ڈھیر ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہی علاقوں میں لاکھوں لوگ اپنی محنت، ہمت، اور ایمان سے زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو بہتر مستقبل دینے کی کوشش کر رہے ہیں، اپنے دین کی اقدار کو زندہ رکھ رہے ہیں، اور اپنی کمیونٹی کو جوڑ کر رکھ رہے ہیں۔ یہ لوگ ہر روز اپنے حالات سے لڑ رہے ہیں، اور ان کی جدوجہد کو نظر انداز کرنا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ ناانصافی پر مبنی رویہ ہے۔
جناب کی تنقید کا لب و لباب یہ ہے کہ مسلمان ناکام ہیں، ان کے ادارے ناکام ہیں، ان کی آبادیاں عبرت کا نشان ہیں، اور ان کے نوجوان نااہل ہیں۔ یہ ایک ایسی تصویر ہے جو نہ صرف مایوس کن ہے بلکہ خطرناک بھی۔ جب کوئی اپنی ہی کمیونٹی کو مسلسل ذلیل کرتا ہے، تو وہ نہ صرف ان کے حوصلے پست کرتا ہے بلکہ ان کے خلاف تعصب کو بھی ہوا دیتا ہے۔ اگر کوئی غیر مسلم ایسی باتیں کہتا، تو اسے فرقہ پرست قرار دیا جاتا، لیکن جب کوئی اپنی ہی کمیونٹی پر کیچڑ اچھالتا ہے، تو وہ خود کو دانشور سمجھنے لگتا ہے۔ یہ دوغلا پن نہ صرف شرمناک ہے بلکہ معاشرے کے لیے نقصان دہ بھی۔
مثال کے طور پر، یہ کہنا کہ “مسلمان بلڈرز زیادہ بددیانت ہیں” نہ صرف تعصب پر مبنی ہے بلکہ علمی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔ کیا اس دعوے کے پیچھے کوئی ٹھوس اعداد و شمار ہیں؟ کیا اس کا کوئی ثبوت پیش کیا گیا؟ نہیں، کیونکہ یہ محض ایک الزام ہے، جو تعصب کی بنیاد پر کیا گیا۔ ایسی باتیں نہ صرف کمیونٹی کے اندر تقسیم پیدا کرتی ہیں بلکہ غیر ضروری طور پر نفرت کو ہوا دیتی ہیں۔
اگر ہم واقعی اپنی کمیونٹی کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں تنقید کے بجائے تعمیری سوچ کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہوگا، ان کی کامیابیوں کو سراہنا ہوگا، اور ان کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے ہوں گے۔ ہمیں اپنی مساجد کو نہ صرف عبادت کی جگہ بلکہ تعلیمی اور سماجی مراکز کے طور پر مضبوط کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی کمیونٹی کے اندر اتحاد پیدا کرنا ہوگا، تاکہ ہم مل کر اپنے مسائل کا حل تلاش کر سکیں۔
یہ حقیقت ہے کہ مسلم آبادیوں میں مسائل ہیں، لیکن یہ مسائل نہ تو منفرد ہیں اور نہ ہی ناقابل حل۔ معاشی جدوجہد، تعلیمی پسماندگی، اور شہری بد نظمی جیسے مسائل کو حل کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کے لیے سب سے پہلے ہمیں اپنی سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی کمیونٹی کو عبرت کا نشان قرار دینے کے بجائے اس کی صلاحیتوں پر یقین کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کی روشن آنکھوں میں خواب دیکھنا ہوگا، نہ کہ اندھیرے۔
آخر میں، یہ کہنا کافی ہوگا کہ جو شخص صرف جلی ہوئی عمارتوں کو گنتا ہے، وہ تعمیر کا ہنر نہیں سیکھتا۔ اور جو اپنی ہی کمیونٹی کو بار بار کوسنے میں مصروف رہتا ہے، وہ یا تو اپنے تعصبات کا غلام ہے یا پھر اپنی ناکامیوں کا بوجھ دوسروں پر ڈال رہا ہے۔ اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں، تو ہمیں تنقید کے بجائے تعمیری سوچ اپنانی ہوگی۔ ہمیں اپنی کمیونٹی کی جدوجہد کو سراہنا ہوگا، ان کی کامیابیوں کو اجاگر کرنا ہوگا، اور ان کے لیے ایک بہتر مستقبل کی راہ ہموار کرنی ہوگی۔ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا اور یہ سوال کرنا ہوگا کہ ہم نے اپنی کمیونٹی کے لیے کیا کیا ہے۔ اگر ہمارا جواب خاموشی ہے، تو پھر ہمیں الزامات کی بجائے عمل کی طرف بڑھنا ہوگا۔ کیونکہ اصل دانشوری وہ نہیں جو صرف خامیوں کو گناتی ہے، بلکہ وہ ہے جو خامیوں کو دور کرنے کی راہ دکھاتی ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply