بالآخر بھارت سے رہا نہیں گیا اور اس نے اپنے مکروہ چہرہ ایک دفعہ پھرعالمی برادری کو دیکھا ہی دیا۔پہلگام کے خود ساختہ ڈرامے کا الزام پاکستان پر لگانے کے بعد مودی عرف نتھورام گوڈسے جونیئر کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے تھے کہ کسی طرح دنیا کو دکھا دے کہ وہ اسرائیل سے کم بدبخت نہیں۔اس نے بالآخر پاکستان پر جنگ تھوپ ہی دی ہے۔ نتھورام اور اس کی ٹیم کا خیال تھا کہ وہ اٹھیں گے اور پاکستانیوں کو غزہ کے مظلوموں کی طرح کچل دیں گے۔ان کے طیارے آئیں گے اور آبادیوں کو کھنڈر بناتے ہوئے بلاروک ٹوک واپس چلے جائیں۔ لیکن نتھو رام جونیئر کی یہ غلط فہمی ہے۔ پاکستان چاہے معاشی طور پرکتنا بھی کمزور کیوں نہ ہو، وہ کم ازکم بھارت کا مقابلہ بخوبی کرسکتا ہے۔ہم نتھورام سے ایک بات ضررور پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا ملے گا اس طرح کے ایڈوینچر سے؟ کیا اس طرح وہ اپنے مکروہ عزائم میں کامیاب ہوجائے گا کیا اس طرح اس خطے میں اس کی چودھراٹ قائم ہوجایئے گی؟ کیا اس طرح اس کا اکھنڈبھارت کا مکروہ اور گھناؤنا مقصد حاصل ہوجائے گا؟یہ خطہ پہلے ہی افلاس کا شکار ہے، غربت نے اس خطے پر اپنے منحوس پنجے پہلے ہی مضبوطی سے گاڑ ے رکھ ہیں۔ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہیں۔ عوام کی اکثریت غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔لیکن نتھورام کو اس سے کیا سروکار! اس کے اندر کی خباثت اسے چین نہیں لینے دیتی۔ 47ء کی تقسیم اس کے سینے پر سانپ کی طرح لوٹ رہی ہے۔ وہ آج تک اُس دور سے آگے جاسکا ہی نہیں۔ آج بھی اس کے خبث باطن میں اکھنڈ بھارت سمایا ہوا ہے۔ دنیا بدل گئی لیکن نتھورام نہیں بدلا۔
نتھورام، جان لو کہ تم اسرائیل نہیں ہو۔ پاکستان ایک ایٹمی ریاست ہے۔ یہ کم ازکم تمھار ا منھ تو توڑ سکتا ہے۔ لیکن تمھیں یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ اس طرح کی حرکتوں سے اس خطے کی بے سکونی میں مزید اضافہ ہوگا۔ عوام کے مسائل مزید بڑھیں گے۔ غربت اور مہنگانی سے عوام کی زندگیاں مزید مشکل بن جائیں گی۔تمھیں اس خطے کو جہنم بناکر کیا ملے گا؟ ماؤں سے ان کے بچے چھین کر کون سا سکون ملے گا؟ کیا تم اس طرح اس خطے پر بالادستی حاصل کرسکتے ہو؟ لوگوں کی لاشوں پر کب تک سیاست کرو گے؟ کب تک اینٹی پاکستان کارڈ کھیل کھیل کر اپنی نادان عوام سے ووٹ سمیٹو گے؟ نتھورام سے بینتی ہے کہ ماضی سے نکلے۔ اچھے ہمسائیوں کی طرح رہنا شرو ع کرے۔ بانی پاکستان کا خواب تھا کہ انڈیا اور پاکستان امریکہ اور کینیڈا کی طرح پرامن ہمسائیوں کے طور پر رہیں لیکن نتھورام کی باقیات کو یہ خواب پسند نہیں آیا۔فرنگی کی چالوں نے مزید حالات کو خراب کیا۔ اب بھی وقت ہے کہ اس خطے کی عوام کے بارے سیاست سے ہٹ کر سوچا جائے۔
نتھورام نے تو شرم کرنی نہیں۔ بھارتی عوام کو ہی سوچنا ہوگا کہ وہ کب تک اینٹی پاکستان ماحول میں جیتے رہیں گے؟ کب تک نتھورام جیسے مکار اور خباثت سے اٹے ہوئے سیاستدانوں کو پاکستان اور مسلمانوں کی مخالفت میں ووٹ دیتے رہیں گے۔کب تک الٹ پٹانگ موویز کے سحر میں رہیں گے؟ پاکستان وہ نہیں جو ان کی تھرڈ کلاس فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔ پاکستان اتنا کمزور نہیں کہ بھارت کے دو ٹکے کے فوجی گھس کر تباہی مچا دیں گے۔ کبھی ابھیندن سے پوچھیں کہ پاکستان کیسی طاقت ہے۔پاکستان ایک حقیقت ہے جسے جھٹلانا سراسر حماقت ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں