ہمارے ہاں ابھی تک ’کلاسیک‘ اور ’کلاسیکل‘ میں فرق نہیں کیا جاتا۔ ہم ہر کلاسیکل چیز کو ’’کلاسیک‘‘ کہہ کے اُسے ’’عظیم’‘‘ قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ کلاسیک کسی ایک زمانے سے مخصوص نہیں ہوتا، اگرچہ وہ زمانے کے مخصوص حالات، اقدار اور تخلیقی معیارات کے مطابق لکھا جاتا ہے مگر اپنی تخلیقی طاقت سے زمانوں پر حاوی ہونے کی قوت حاصل کر لیتا ہے۔ نہ صرف اپنی معنوی جمالیات سے ہر زمانے کو مستفید کرتا ہے بلکہ اپنی تسلیم شدہ اہمیت، معیار اور اثر انگریزی میں اضافہ بھی کرتا جاتا ہے۔کلاسیکل ’کلاسیک‘ نہیں ہوتا۔ کلاسیکل، بنیادی طور پر جدید سے مختلف رویہ ہے۔ عموماً جدید سے منقطع وہ تمام فن پارے جو کینن ، روایت یاطے شدہ اسلوب کی پیروی کرتے ہوں کلاسیکل کہلاتے ہیں۔یہ کینن زمانے کا خاص چلن، مزاج اور طرزِ اسلوب پر منحصر ہو سکتا ہے۔ لہٰذا کلایسکل کسی حد تک کلایسک کا ’الٹ‘ بھی ہے۔ کلایسک ہر زمانے کے لیے جب کہ کلایسکل مخصوص زمانے تک۔کلاسیکل روایت کی پیروی کرتا ہے جب کہ کلایسک روایت سے الگ مزاج پیدا کرکے زمانوں پر حاوی ہونے کی طاقت رکھتا ہے۔’کلایسکل‘ روایت، ساخت، اور معیار کا پابند جب کہ’ کلایسک‘ روایت، ساخت یا معیار سے آزاد۔
اردو ادبیات میں کلاسیکل اور کلاسیک کو ایک سمجھنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ میر اور غالب جیسے’ کلاسیک‘ مختصر سے ’کلاسیکل دور‘میں موجود ہیں۔کلاسیکل دور اپنے آپ ختم نہیں ہوا بلکہ اسے نوآبادیاتی دور میں جبراً ختم کیا گیا، نئے زمانے کیاشعار کو نافذ کیا گیا، نئی اصناف، اسالیب اور لغت کو رواج دیا گیا۔ جس کی وجہ سے ردعمل کے طور پر کلاسیکل دورکو ’عظیم‘ سمجھ کے اُسے بحال کرنے اور اُس کی پیروی پر فخر کیا جانے لگا۔ اس ضمن میں غلطی یہ ہوئی کہ کلاسیک (میر، غالب) کو کلاسیکل سے علیحدہ نہ کیا جا سکا۔کلاسیکل دور میں موجود ہر چیز بڑی بنا دی گئی۔ کلاسیکل دور کے ایسے ایسے کمزور شعرا پر ایسے ایسے مقالے لکھے گئے اور انھیں عظیم قرار دیا گیاکہ شرمندگی ہونے لگتی ہے۔ وہ شعرا جو اپنے زمانے میں بھی گم نام تھے آج’عظیم کلاسیک‘ بنا دیے گئے۔
کلاسیکل دور میں ہر فن پارہ،،ہر متن بڑا نہیں ہوتا، بلکہ اُس میں کینن کی پیروی اور روایت کے تتبع کی وجہ سےخاص قسم کی ‘قدامت‘ ہوتی ہے۔ آج کے زمانے میں اگر کوئی کلاسیکل کی پیروی کرتا ہے تو اس کےمتن میں مندرجہ ذیل نقائص پہلے ہی سے موجود ہوتے ہیں:
۱۔ وہ تمام اسالیب جو کینن یا فارم کے نام پر کلاسیکل شاعری میں پہلے سے موجود ہیں، ان کے تمام تخلیقی امکانات کی استعمال شدہ حالتیں بھی موجود ہیں، شاعر آج کے زمانے میں بیٹھ کےاُن کو اپنے فن میں بروئے کار لا رہا ہے، یعنی چبائے ہوئے نوالوں کو مزید چبارہا ہے۔
۲۔ جدید عہد فرد، سماج اور کائنات کے درمیان نئے مکالمے پر مشتمل ہے ، جس کے چیلنجز بے حد پیچیدہ ہیں، نئی زبان اور اسالیب نے کینن کو توڑ کے نئی روایت قائم کی ہے جو ہر وقت بدل رہی ہے۔شعریات جامد ہو ہی نہیں سکتی۔ ہر زمانے کی اپنی شعریات ہوتی ہے۔ اسلوب یا خیال کی قدیم طرزیں، جدید زمانے کے ابہام، لایعنیت اور کثیر معنی پسندی کا ساتھ نہیں دے سکتیں۔ اگر کوئی شاعرجدید مزاج نہیں رکھتا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ جدید فکری و سماجی مسائل سے نبردآزما ہی نہیں۔ نئی زبان بنانا، نئی لغت تشکیل دینا اور نئی موضوعات کو شعری لباس پہننانا کوئی آسان ہے؟
ایسے میں کلاسیکل مزاج کا احیا سہولت پسندی یا حماقت ہی ہو سکتی ہے۔
دوسرے لفظوں میں یہ تو قدیم کی اُترن میں خود کو ڈھانپنا ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں