نیشنل جیوگرافک کے شو Brain Games سے مستعار شدہ دو ریسرچز پہ بات کرتے ہیں جہاں ایک کمرے میں چھوٹا سا سوشل ایکسپیریمنٹ کرنے کو دو سے چار سالہ بچوں کو ایک کمرے میں والدین کے ساتھ بند کر دیا گیا۔ بچے کچھ دیر تلک تو والد یا والدہ کے ساتھ کھیلتے رہے مگر تھوڑے وقت کے بعد بور ہو کر کمرے میں بکھرے چند کھلونوں سے دِل بہلانے میں مصروف ہو گیے۔ اب اُن والدین سے کہا گیا کہ آپ مصنوعی بچے (Fur والی ڈَولز) کو گود میں اُٹھا کر اُسے پیار کرنا شروع کر دیں جس پہ والدین نے مسکراتے ہوئےعمل کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ معصوم بچے اپنا سب کھیل کود اور کھلونوں میں مصروف تمام تر ایکٹویٹیز چھوڑ چھاڑ کر مارے حسد کے اپنے والدین سے آ کر چپکنا شروع ہو گیے۔ والدین کو تلقین تھی کہ آپ نے انہیں اگنور کرتے ہوئے کَم تی (30) پہ پَخا کے رکھنا ہے۔ پھر ایک وقت آیا کہ امی ابو سے اُس مصنوعی گُڈے/گُڑیا کو خود سے زیادہ توجہ مِلتا دیکھ کر وہ بےچارے بھوں بھوں کرکے رونا جب کہ کچھ تو اُن fur dolls کو گود سے چھین کر فیتی فیتی اور چند مہا جیلس نیانوں نے تو اپنے مبینہ طور پہ جعلی بہن بھائیوں کو فرش تک پہ پٹخ دیا۔
یہی تجربہ اب چند پالتو کُتّوں کے ساتھ دہرایا گیا۔
کچھ دیر تو وہ puppies اپنے مالکوں کے ساتھ اٹکیلیاں کرتے رہے مگر پھر وہ بھی بَور ہو کر کمرے میں بکھرے رنگ برنگے کاغذوں اور اون کے گولوں وغیرہ کا ستیاناس کرنے میں مشغول ہو گیے۔ مذکورہ ہدایات کے مطابق اب کُتّوں کے مالکان کو کُتوں سے مِلتی جُلتی ہیئت والی Fur dolls مہیا کی گئیں جنہیں اُن کے مالکان گود میں اُٹھا کر لاڈ پیار کرنے لگ گیے، جانتے ہیں کیا ہوا؟
جی ہاں! ٹھیک وہی جو آپ سوچ رہے ہیں۔
کچھ دیر تو وہ ٹِڈے پِدّے puppies گود میں اُٹھائے مصنوعی فَر کھلونے کو متجسسانہ طور پہ اپنا دوست بنانے کی کوشش میں دُم ہلا ہِلا کر متوجہ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن جب مالکان نے انہیں توجہ دینے کی بجائے نقلی Fur toys کو لاڈ پیار کرنا جاری رکھا تو اب وہ کُتّے طیش میں آ کر غرانے لگے۔ چند ایک نے حسبِ توقع چاؤں چاؤں کرکے رونے کی کوشش کی تو کئی اُن جعلی کھلونوں کے اُونی کان چباتے ہوئے اُنہیں بھنبھوڑ بھنبھوڑ کر فرش پہ پٹخنا شروع ہو گیے۔
چن مِترو! ایک تجربہ اور کیا گیا۔
پچیس تیس طلباء کی ٹولی کو سکول کے باسکٹ بال کورٹ کے بینچوں پہ بطور تماشائی بٹھا کر اُنہی میں سے ایک انٹرورٹ شرمیلی لجھاتی دھان پان سی لڑکی کو کوچ نے باسکٹ بال کورٹ کے بیچ آنے کی دعوت دی جہاں پہلے سے ایک پَونے سات فُٹا لحیم شحیم ہٹا کَٹّا پروفیشنل کھلاڑی بھی موجود تھا۔ لڑکی کو NFL کِٹ پہنے کھلاڑی کا تعارف کروایا گیا اور ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے کے بعد شائقین کی تالیوں کے بیچ پروفیشنل کھلاڑی کو دس مرتبہ باسکٹ بال کو پول پہ ایستادہ ہُوپ میں ٹرائی کرنے کا کہا گیا جسے اُس pro player نے نہایت آسانی سے دس مرتبہ جب کہ لڑکی نے بمشکل ایک ہی مرتبہ کام یابی سے Hop میں dunk کیا۔
دوسری مرتبہ اب دونوں کی آنکھوں کو سیاہ پَٹّی سے ڈھانپ کر دس ٹرائیاں دوبارہ کرنے کو کہا گیا جسے پَرو پلیئر حیران کُن طور پر دس میں کوئی نو مرتبہ جب کہ وہ لڑکی ایک مرتبہ بھی باسکٹ بال کو ہوپ تک نہ پہنچا پائی۔
تیسری مرتبہ آنکھ پہ بندھی پَٹّی کو جمائے رکھے پھر سے دس دس ٹرائیاں کرنے کا کہا گیا مگر اب کی بار تماشائیوں کو ہدایت تھی کہ جب professional player باسکٹ بال ہوا میں اچھالے تو آپ نے boo boo یعنی حوصلہ شکن فقرے اور طنزیہ آوازیں کَسنی ہیں جب کہ لڑکی کی مرتبہ آپ نے Wow، Great، شان دار اور بہت خوب جیسے حوصلہ افزاء الفاظ تالیوں کی گونج میں کہتے رہنے ہیں۔ اب کی مرتبہ پَرو پلئیر آنکھ پہ پَٹّی بندھے ہونے اور حوصلہ شکن آوازوں کے باوجود دس میں سے چھ مرتبہ باسکٹ بال کو ہوپ میں پہنچا کر سکور کرنے میں کام یاب رہا۔ جب کہ وہ بےچاری لڑکی واؤ اور شاباشی کے باوجود ایک پوائنٹ بھی سکور نہ کر پائی مگر کوچ اور تماشائیوں نے تالیوں اور حوصلہ افزاء الفاظ جاری رکھے۔
اور پھر چوتھی مرتبہ اُن کی آنکھوں پہ بندھی پَٹّی کھول کر دس دس ٹرائیاں دوبارہ دی گئیں۔ یہاں یاد رہے کہ ابھی تک دونوں کو اُن کے فائنل پوائنٹس نہیں بتائے گیے تھے۔ اب وہی پروفیشنل پلئیر اپنا اعتماد قدرے کھو جانے کے سبب کُھلی آنکھوں کے باوجود دس میں سے محض چار (4) پوائنٹ جب کہ وہ شرمیلی لڑکی سیدھے چھ (6) پوائنٹ سکور کر گئی۔
اس مرتبہ حاضرین کی بجائی گئی پُرجوش تالیاں بےساختہ اور حقیقی تھیں۔
خواتین و حضرات! بہار کی آمد آمد ہے اور مذکورہ دو سوشل ایکسپیریمنٹس سے ایک نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ اور وہ یہ کہ آپ کے اردگرد ایسے انٹروورٹ اور لجاحت بھرے خود اعتمادی فقدان کے شکار بےشمار گواچے لوگ ملیں گے۔ آپ اگر اُن کے لیے کچھ نہیں کر سکتے تو زیادہ نہیں بس تھوڑی سی حوصلہ افزائی اور چند میٹھے بول بولتے ہوئے تھوڑی سی تالیاں تو ضرور بجا سکتے ہیں ناں۔۔۔!
کر دیجئے گا۔۔۔!!! یہ آج آپ کا صدقہ ہو گا۔
ورنہ جان لیجئے کہ حسد ایسی شے ہے جو انسان کو کُتّے سے مِلا دیتی ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں