اہداف اور ہدف /ناصرالدین مظاہری

مفتئ اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ اور عارف باللہ حضرت مولانا حکیم محمد اختر کراچی رحمہ اللہ وغیرہ بڑے بڑے اداروں کے بانی و سرپرست اور ناظم و نگراں تھے مدرسہ کے معاملات میں اتنی شفافیت تھی کہ متقدمین کی یاد تازہ ہوجاتی تھی، حضرت مفتی صاحب کے پاس الگ الگ مدات کی تھیلیاں رہتی تھیں ، ان کو سال بھر کی ضروریات کا علم رہتا تھا مثلا طلبہ کے کھانے کے لئے کتنی رقم مطلوب ہے ، مشاہرہ جات کے لئے رقم کتنی چاہیے ، تعمیرات کے لئے بھی رقم متعین تھی ، جب جس مد میں رقم بقدر ضرورت جمع ہوگئی تو تھیلی بند کردی گئی بعد میں مزید رقم نہیں لیتے تھے ، تقوی کایہ عالم تھا کہ اپنے دارالعلوم میں قرب وجوار میں کوئی دکان نہیں رکھی ، لوگوں نے مشورہ بھی دیا تو صاف منع فرمادیا اور کہا کہ میں احب البلاد میں ابغض البلاد کو جگہ نہیں دے سکتا۔

آج ہم دیکھتے ہیں کہ مدرسہ ہو یا مسجد اس میں بیرونی حصوں میں دکانوں کے لئے جگہ خاص کردی جاتی ہے بلکہ بسااوقات دکانیں مکمل ہوکر کرایہ پر دے دی جاتی ہیں اور ان کی انکم سے مسجد کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں میں ان دکانوں کو ناجائز نہیں کہتا لیکن ان اکابر کی نظر اور نظریہ پیش کرکے اپنا احتساب کرنے کی دعوت تو دے ہی سکتا ہوں کہ کہاں گیا ہمارا توکل ، استغناء، بے نیازی ، خلوص اور اللہ تعالی پر کامل بھروسہ۔

حضرت مولانا حکیم شاہ محمد اختر کراچی رحمہ اللہ کے یہاں الگ الگ مد کے کاؤنٹر بنے تھے جس کاؤنٹر میں مطلوبہ رقم پوری ہوگئی کاؤنٹر بند کرکے تختی لگادی گئی کہ اب اس مد میں یہاں رقم کی ضرورت نہیں رہی آپ کہیں اور مستحق ادارہ میں جمع کرادیں۔

آج یہ باتیں خواب و خیال لگتی ہیں ، عوام کا بھی عجیب حال ہے میرے استاذ فقیہ الاسلام حضرت مفتی مظفرحسین کے زمانہ اہتمام میں ایک مرتبہ سالانہ حساب و کتاب میں شاید اسی نوے ہزار روپے خرچ سے بچ گئے تو مفتی صاحب نے فرمایا کہ تیسرا کالم بناکر بچت لکھ دو تاکہ قوم کے سامنے صحیح صورت حال موجود رہے ، کانپور کے ایک صاحب خیر نے یہ بچت دیکھی تو چراغ پا ہوگئے اور کہنے لگے کہ لوجی بچت بھی ہورہی ہے پھر بھی چندہ کررہے ہیں حالانکہ اتنی معمولی رقم اتنے بڑے ادارے میں ایک دن کے مجموعی اخراجات کے لئے بھی ناکافی ہوتی ہے۔

پھر بھی میں اہل مدارس سے کہوں گا کہ آپ اپنا حساب و کتاب بالکل درست لکھیں اس میں کوئی مبالغہ نہ کریں، یہ چھوٹے چھوٹے حسابات ہیں ایک بڑا حساب بھی ہونا ہے جو کل قیامت کے دن سب کے سامنے اللہ تعالی کو دینا ہے اور اس دن ایک ایک ذرے کا حساب ہوگا۔فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ۔

مدارس کا مال عوام کا ہے عوام نے اعتماد کرکے اپنا مال آپ کے حوالہ کیا ہے آپ اس مال کا خرچ شریعت کی تعلیمات وہدایات کے مطابق کریں اپنی ذات پر ایک پیسہ بھی ناجائز خرچ نہ کریں۔یہ مال حقوق العباد میں شمار ہوتایے اور حقوق العباد کا معاملہ بڑا سخت ہوگا۔

julia rana solicitors

اس وقت پورے ملک میں اہل مدارس حصول زر کے لئے نکلے ہوئے ہیں سبھی حضرات مدارس کی نمائندگی کررہے ہیں جو معتبر ادارے ہیں آپ ان کا تعاون کیجیے ، غیر معتبر اداروں اور فراڈی افراد کے ساتھ سختی کے ساتھ پیش آئیں۔جب تک ادارے کی تحقیق نہ کرلیں زکوۃ نہ دیں کیونکہ فراڈی مدرسوں اور اداروں میں آپ کی زکوۃ دینے کے باوجود فرض ادا نہیں ہوسکتا ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply