چوتھی دوستی پشاور ادبی فیسٹیول 2025 ایک یادگار تجربہ/عارف خٹک

چوتھی دوستی پشاور ادبی فیسٹیول 2025 اپنے اختتام کو پہنچا۔ بظاہر یہ محض دس روزہ تقریبات تھیں، مگر میرے نزدیک یہ خیبر پختونخوا میں ادبی بیداری کا پہلا قطرہ ثابت ہوا اور وہ بھی ایسا قطرہ جس کے برسنے سے ہر سو ہریالی ہی ہریالی دکھائی دی۔

مجھے عالمی اردو ادب کانفرنسوں میں شرکت کا موقع ملا ہے، مگر حیرت تب ہوئی جب پشتونوں کی سرزمین پر ٹالسٹائی، ڈکنز، شیکسپیئر، خوشحال خان خٹک، غنی خان اور سید حسن استاد کو “مسکراتے” پایا۔ ان دس دنوں میں یوں محسوس ہوا جیسے خیبر پختونخوا سے بدامنی کا سایہ چھٹ گیا ہو اور ہر طرف امن و محبت کے نغمے گونج رہے ہوں۔ پشاور، کوہاٹ، بنوں، صوابی، کرک اور گومل سے لوگ صبح سویرے اپنی اپنی یونیورسٹیوں کے آڈیٹوریم میں جمع ہو کر ادب پر گفتگو کرنے کے لیے بےتاب نظر آتے تھے وہی جگہیں جہاں کبھی بم دھماکوں اور گولیوں کی گھن گرج سنائی دیتی تھی، آج وہاں انسانی معاشرے کی بنیادی اقدار پر مکالمہ ہو رہا تھا۔

مجھے پشاور یونیورسٹی میں مدعو کیا گیا تھا، مگر میں نے کرک یونیورسٹی کو ترجیح دی۔ ایک تو والدہ میرے ساتھ تھیں، دوسرے کرک کی مٹی کا ایک قرض بھی تھا، جسے چکانے کا یہ بہترین موقع لگا۔ پروفیسر نعمت اللہ خان کی رفاقت میں جب میں یونیورسٹی کے مرکزی آڈیٹوریم میں پہنچا تو وہاں کا منظر ناقابلِ فراموش تھا طلبہ و طالبات اور بزرگ سامعین یکسوئی سے اسٹیج پر بیٹھے میرے ہمزاد، پروفیسر ڈاکٹر عارف خٹک کے الفاظ میں ڈوبے ہوئے تھے۔

اس کانفرنس میں شرکت سے پہلے میں، جو خود کو ایک ادیب سمجھتا تھا، کچھ تذبذب کا شکار تھا کہ کرک میں مقامی ادب سے ہٹ کر دیگر موضوعات پر کوئی سنجیدہ مکالمہ ہو بھی سکے گا یا نہیں، مگر یہ میری خام خیالی تھی۔ جیسے ہی ڈاکٹر عارف خٹک صاحب نے گفتگو کا آغاز کیا، میں خود اپنی ذات سے بھی بیگانہ ہوگیا۔ افلاطون اور ارسطو کو ایک ہی مجلس میں لا بٹھا کر مکالمہ کروانے کے بعد، پروفیسر صاحب نے ڈکنز، میکسم گورکی اور انسانی تاریخ کے ہزاروں سال پر محیط فکری سفر کو ایسی صوتی شکل دی کہ میں مبہوت رہ گیا۔

یہ وہ لمحہ تھا جب مجھے احساس ہوا کہ جیسے میں نے ایک بار عالمی اردو کانفرنس کراچی میں مشتاق احمد یوسفی کو گود میں اٹھا کر انہیں اپنا فکری پیش رو ثابت کرنے کی کوشش کی تھی، آج میں دوسری بار پروفیسر ڈاکٹر عارف خٹک کے عشق میں گرفتار ہو رہا تھا۔

کئی دوستوں کے سیشنز ہوئے، میرے بھی، اور میرے یارِ غار ڈاکٹر قدرت اللہ کا ساتھ بھی رہا۔ سوالات کی بوچھاڑ ہوئی، کہیں تند و تیز مکالمے بھی سننے کو ملے، مگر میرے لیے سب سے اہم بات یہی رہی کہ میں پروفیسر ڈاکٹر عارف خٹک کے قرب میں رہا بس یہی کافی تھا۔ میں بلا مبالغہ کہہ سکتا ہوں کہ پروفیسر عارف خٹک ہمارے عہد کے ارسطو ہیں۔ انیس کتب کے خالق، ہندوستان سے لے کر امریکہ تک ان کی تحقیق و ریسرچ اس امر کا ثبوت ہے کہ کرک کی مٹی علم و ادب کے لیے کس قدر زرخیز ہے۔ آج کل ڈاکٹر صاحب کرک میں مقیم ہیں اور وہاں علم کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔ ان سے ملاقات کے بعد میں نے عہد کر لیا ہے کہ ہر دو ماہ بعد کرک جاؤں گا، جہاں نہ صرف اپنی والدہ کی محبت بھری ڈانٹ سنوں گا، بلکہ ڈاکٹر صاحب کی علمی ڈانٹ بھی میرا مقدر ہوگا اور یہی زندگی کا حسن ہے۔

اس فیسٹیول کے لیے میں نے ڈاکٹر فاخرہ نورین،محترم عطاء الحق قاسمی، مہدی بخاری، ظفر اقبال، زاہد کاظمی، ڈاکٹر مجاہد مرزا، وجاہت مسعود، شیما بشائیر اور کئی دیگر دوستوں کو مدعو کرنے کا ارادہ کیا تھا، مگر حالات کی نزاکت کے پیشِ نظر پہلے خود جانچنا ضروری سمجھا کہ آیا یہ تقریب ان کے شایانِ شان ہوگی بھی یا نہیں۔ آج، سینہ تان کر کہہ سکتا ہوں کہ سید حنیف رسول صاحب کی کاوشیں اس قدر شاندار تھیں کہ یہ فیسٹیول عالمی اردو کانفرنس کے معیار کے قریب تر محسوس ہوا۔ کرک جیسے نسبتاً پسماندہ ضلع میں اتنے اعلیٰ درجے کی تقریبات کا انعقاد بلاشبہ ان کی ٹیم کا عظیم کارنامہ تھا۔

اس مضمون کے ذریعے میں سید حنیف رسول اور پروفیسر نعمت اللہ خان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور آئندہ تقریبات کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔ آئندہ برس، میں ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوں گا۔

بدقسمتی کہوں یا گردشِ تقدیر، میری سرزمین جب بھی لہو رنگ ہوئی، وہ میرے ہی لہو کی ارزانی تھی۔ مگر آج، جب میں اپنی نوجوان نسل کو ادب سے والہانہ محبت کرتے دیکھتا ہوں، تو میرے دل کی گہرائیوں سے ایک صدا ابھرتی ہے “اس رات کی سحر ہونے کو ہے!”

ہم ازل سے پرامن تھے، اور ہمیشہ پرامن رہیں گے۔ ہماری بانسریوں کے سروں میں آج بھی رحمان بابا کی درویشی اور محبت کے نغمے گونجتے ہیں۔ جب ان نغموں میں خوشحال خان خٹک کی تلوار کی جھنکار شامل ہو جاتی ہے، تو ان کا سوز اور اثر دوچند ہو جاتا ہے، یہ وہ آہنگ ہے جو جنگ کی گونج کو بھی مدھم کر دیتا ہے اور نفرت کے اندھیروں میں امید کی کرن پیدا کرتا ہے۔

میری سرزمین کو ان گیتوں کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ یہ دھرتی محبت کی گواہ ہے، اس کی ہواؤں میں امن کی مہک رچی بسی ہے۔ ہم نے ہمیشہ اپنی مٹی میں محبت کے بیج بوئے ہیں، اور آنے والے وقت میں بھی ہم اپنی بانسریوں سے صرف محبت اور آشتی کے نغمے چھیڑیں گے کہ یہی ہمارا ورثہ ہے، یہی ہماری پہچان ہے!

Facebook Comments

عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”چوتھی دوستی پشاور ادبی فیسٹیول 2025 ایک یادگار تجربہ/عارف خٹک

Leave a Reply