“گنگارام ہسپتال ایمرجنسی چوک پر اشارے پر کھڑا تھا ۔ پوسٹ کال تھا،موڈ آف! ننید سے برا حال،بال بکھرے ہوئے تھے، شیو بڑھی ہوئی تھی! اشارہ بند تھا۔ ٹریفک وارڈن آیا، بولا ڈرائیونگ لائسنس دکھائیں۔ دکھا دیا ۔ کہتا چالان ہو گا؟ پوچھا! کس بات پر؟ بولا،سیٹ بیلٹ نہیں لگائی اس وجہ سے چالان ہو گا۔ ہمیشہ کی طرح جواب تیار تھا۔ جواب دیا باقی کس نے سیٹ بیلٹ باندھی ہے؟ سب کے کرو چالان، یا میرا بھی مت کرو۔ یہ بات اس کی طبیعت پر ناگوار گزری۔
پھر بولا! کیا کرتے ہیں؟ جواب دیا ڈاکٹر ہوں. بولا! کس ہسپتال میں! کہا سر گنگارام میں ۔ بولا ہمارے ہمسائے ہوئے پھر تو۔ کہا بالکل۔ بولا ڈاکٹر صاحب جائیے! سیٹ بیلٹ باندھا کریں۔
پھر خود ہی بولا کہ ڈاکٹر صاحب ! چالانوں کا کوٹا نہیں پورا ہو پا رہا۔ لاہور شہر تقریباً 90 فیصد موٹر سائیکل سواروں نے ہیلمٹ پہننا شروع کر دیئے ہیں، کافی لوگوں نے لائسنس بنوا لئے ہیں ۔ اب ہمیں اوپر سے سختی ہے کہ چالان کا کوٹا پورا کرنا کے لئے سیٹ بیلٹ نا لگانے والوں کے چالان کریں۔
میں اس بات کا عینی شاہد ہوں کہ آپکو مال روڈ،جیل روڈ، کینال روڈ، لاہور کنٹونمنٹ ایریا اور دیگر مشہور جگہوں پر کوئی اکا دکا لوگ ہی بنا ہیلمٹ کے نظر آئیں گے۔ فیروز پور روڈ پر بائیکر لائن کا پائلٹ پراجیکٹ کامیاب ہے۔
چند دن قبل، پنجاب کے تیسرے بڑے شہر اور سب سے بڑے گاؤں لائل پور تھا ۔ 95 فیصد لوگ بنا ہیلمٹ کے موٹر سائیکل چلا رہے تھے ۔ ٹریفک وارڈن بھی اکا دکا نظر آ رہے تھے۔ ہمیشہ کی طرح ٹریفک جام، اور ٹریفک پولیس غائب۔ جب کھبی ٹریفک چلتی تو وہ بھی بے ہنگم۔
اب ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ ٹریفک ڈسپلن کو لیکر جو سختی لاہور میں ہو رہی ہے،وہ باقی شہروں میں کیوں نہیں ہو سکتی؟ کیا باقی شہروں کے باسیوں کی جان قیمتی نہیں؟
جو سختی لائسنس کو لیکر محسن نقوی نے لاہوریوں کو دی تھی، اب مریم نواز بھی دے رہی ہے۔ کیا باقی شہروں کے چیف ٹریفک آفیسرز اتنے نااہل ہیں کہ وہ ہیلمٹ کو لازمی قرار دلوا سکیں ؟ ٹریفک پولیس کو منظم کر سکیں؟
جو محسن نقوی نے لاہور میں کیا تھا، وہ سب سے اچھا کام تھا ۔ وہ یہ تھا،جسکے پاس کسی قسم کی کوئی بھی سواری یے ۔ وہ جلد از جلد لرنز لائسنس بنوائیں وہ بھی مفت۔ 7 ان بعد ٹرائی دے اور لائسنس بنوائے ۔ جسکے پاس لرنر لائسنس نہیں ہو گا،اسے قریبی تھانے میں بند کر دیا جائے گا اور ایسا ہوا بھی ۔ تب میرے گھر میں بجلی کا کام کرنے کا جو الیکٹریکشن آتا تھا اس نے بتایا کہ وہ ایک جگہ کام کرنے اپنی بائیک پر جا رہا تھا، اسکے پاس لرنر بھی نہیں تھا،اسے ٹریفک پولیس نے قریبی تھانے میں جیل میں ڈال دیا تھا،وہ رات بھر وہی رہا، بعد میں اس نے باہر نکلتے ہی پہلا کام لرنر لائسنس بنوانے کا کیا تھا ۔ کیا ایسی سختی پنجاب کے باقی شہروں میں نہیں ہو سکتی؟؟ اگر نہیں ہو سکتی تو یہ ٹریفک پولیس افسران کی نالائقی و نااہلی ہے۔
اگر ایسی سختی باقی شہروں پر بھی کی گئی تو دیکھیے گا یہ عوام ہیلمٹ بھی پہنے گی اور لائسنس بھی بنوائے گی۔ لاہور میں یہ کام تو محسن نقوی و مریم نواز نے کر دکھایا ہے۔ باقی شہروں میں کب ہو گا،کچھ کہہ نہیں سکتے ۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں