ہمارے بہت سے لوگ ابھی تک اسی خیال میں پھنسے ہوئے ہیں کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ ٹرمپ کو ٹکر دے گی اور ٹرمپ سے مقابلہ کرے گی۔
جبکہ حالات اس کی نشاندہی کرتے نظر نہیں آتے۔ ٹرمپ نا صرف سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ بلکہ سی آئی اے کے بھی سب اہلکاروں کو فارغ کرکے دونوں ادارے نئے سرے سے بنانے لگا ہے اور رہتی کسر فوج کے آڈٹ نے نکال دی ،جس کی بنیاد پہ بہت سے جرنیلوں کو گھر بھیجنے کا ارادہ ہے۔ اور یہی اسٹیبلشمنٹ ہے یااس کا دست وبازو ، تو پھر پیچھے رہ کیا گیا ؟ کون کرے گا مقابلہ ؟
یہ اتنی بڑی خبر ہے کہ سرد جنگ تو کیا آج سے بیس سال پہلے بھی کوئی امریکی صدر اس کا ارادہ بھی ظاہر کرتا تو میڈیا گرماگرم بحثوں سے بھر جاتا، اسٹیبلشمنٹ کے اداروں کی پالیسیوں اور انکے اچھے برے ہونے پہ لمبی چوڑی تقریریں شروع ہوجاتیں لیکن ایسا ہو نہیں رہا، صرف ٹرمپ پہ تنقید ہی نظر آتی ہے اور وہ بھی اس کی ذات پہ۔
ایک اور دلچسپ بات نوٹ کرنے والی ہے اور وہ یہ کہ ہمیشہ یہ دایاں بازو ہی ہوتا ہے جو کسی بھی ملک میں بشمول مغرب اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کیا کرتا ہے حتیٰ کہ اس کی جنگوں کا بھی دفاع کر جاتا ہے لیکن یہاں معاملہ الٹ ہے ، یہاں دایاں بازو ہی ہے جو یہ سب کرنے پہ تُلا ہے۔ ریپبلیکن پارٹی اور ٹرمپ دائیں بازو کے ہی نمائندے ہیں اور وہی یہ سب کرنے پہ تُلے ہیں۔چہ معنی است ؟
لیکن یہی معاملے کو سمجھنے کی کنجی بھی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے دائیں بازو کو بھی مایوس کردیا ہے۔ دفاع اس لیے نہیں کیا جا رہا کہ وہ پالیسیوں کا دفاع ہوا کرتا ہے جبکہ پچھلے تیس سال سے اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیاں مسلسل ناکام اور غلط جا رہی تھیں تو کوئی انکا دفاع نہیں کررہا۔
چین سے مقابلہ ہو یا روس یا کوئی اور ، اسٹیبلشمنٹ پچھلے تیس سال سے انکا جنگی حل پیش کر رہی تھی، ایک طرف تو گلوبلائزیشن شروع کرنا اور اس کے نتیجے میں ریاستی آمدن میں کمی ، تجارتی خسارہ ، بیروزگاری ، گرتی ہوئی قوت خرید اور اس پہ بھی قرضے لیکر مسلسل ناکام جنگیں کرتے جانے سے ایک معاشی بحران کے بعد دوسرے معاشی بحران تک کاسفر رہا۔اب اس پالیسی کا دفاع کون کرے؟
اس پہ مستزاد اگر آڈٹ کے نتیجے میں کرپشن بھی ثابت ہوگئی تو پھر ؟
بنیادی حقیقت یہ ہے کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یونی پولر ورلڈ اور امریکہ کے واحد سپر پاور ہونے کے نظریہ کے تحت جو پالیسیاں وضع کی گئی تھیں وہ نا صرف ناکام اور غلط ثابت ہوئیں بلکہ ان کے نتیجے میں اب دنیا یونی پولر ورلڈ رہی بھی نہیں ،اب یہ ایک ملٹی پولر ورلڈ ہے جس میں امریکی اسٹیبلشمنٹ کی واحد سپرپاور کے نظریہ سے بنائی گئی پالیسیاں پرانی اور آؤٹ آف ڈیٹ ہوچکی ہیں۔
ٹرمپ اسی حقیقت کو عملی طور پہ تسلیم کرکے آگے بڑھ رہا ہے۔ کل نئی اسٹیبلشمنٹ وجود میں آئے گی اور نئے حقائق کی روشنی میں ازسرنو اپنی نئی پالیسیاں وضع کرے گی۔ بالکل اسی طرح جس طرح سرد جنگ کے خاتمے اور یونی پولر ورلڈ کے آغاز پہ امریکی اسٹیبلشمنٹ نے الف سے لیکر ے تک اپنی پچھلی ساری پالیسیاں ترک کرکے نئے سرے سے بنائی تھیں۔
جہاں تک ہماری جرنیل شاہی کا تعلق ہے تو وہ سرد جنگ کے بعد کی پالیسیوں سے پوری طرح ایڈجسٹ نہ کر پائی تھی تو اس نئی تبدیلی سے کیا ایڈجسٹ کرنا ؟ عمران دور میں اسی کو ذہن میں رکھ کر “ قومی سلامتی کی نئی پالیسی” ترتیب دی گئی تھی جس پہ جرنیل پہلے ہی خط تنسیخ کھینچ کر کراس کانشان لگا چکے اور اس پہ غور کر رہے تھے کہ امریکہ اور چین و روس میں غیر جانبدار رہنے کی بجائے امریکی کیمپ کا حصہ بنا جائے اور وہ بھی نہیں ہو رہا تھا بلکہ فٹ بال بن چکے تھے کہ امریکہ پھر سے اپنی پالیسی ری وائز کرنے پہ تُلا ہے۔
جرنیلوں کے لئے یہی بہتر ہے کہ لنڈے کی دکان کھول لیں اور پرانے یورپی امریکی کپڑے خیرات میں لیکر بیچا کریں۔اس پالیسی میں نقصان کا ڈر نہیں ورنہ تو یہ جس چیز کو ہاتھ لگائیں گے اس کو توڑ پھوڑ کے ملیامیٹ ہی کرینگے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں