دس سیکنڈ کا بوجھ ۔۔۔ مطربہ شیخ

دنیا کے بڑے شہروں میں سے ایک لق و دق شہر جہاں ملک بھرسے لوگ روزگار اور کاروبار کے لئے آتے ہیں۔ انیس سو اسی کی دہائی میں شہر کی وسعت میں پڑوسی ملک کے پناہ گزین بھی جوق در جوق آکر براجمان ہو گئے اور مختلف اقسام کے روزگار سے جڑ گئے۔ 

چوبیس گھنٹے کھلے ریسٹورنٹس، کھلے ڈھابوں والا روشنیوں کا شہر ناموزوں حالات کے باوجود جگمگ جگمگ کرتا رہتا ہے چاہے کوئی دس سیکنڈ میں زندگی کی بازی ہار جائے۔ چند لمحوں کا تعطل آتا ہے، پھروہی رواں دواں ٹریفک، زندگی اور روزگار کی جد و جہد شہر کی فضا پر حاوی ہو جاتی ہے، لیکن دس سیکنڈ میں زندگی چھین لینے والے خون آشام نامعلوم افراد شہر پر وقتا فوقتا منڈلاتے ہیں اور ایک روشن آنکھوں والا جوان رعنا خون میں نہلا دیا جاتا ہے۔

انیس سو بانوے سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ رکا نہیں ہے۔ شہر ناپرساں کو کبھی مذہبی کبھی لسانی کبھی کسی ملکی سربراہ کی موت کے سوگ میں تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔ شہر کے احسانات بھلا کر صرف لوٹ مار اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کر دیا جاتا ہے۔

گزری شام بھی ایسی ہی خونی شام تھی جب شہر کے ایک سابق ایم این اے کی زندگی شیطان صفت افراد نے چند ماشے بارود کے ذریعے دس سیکنڈ میں چھین لی۔ شہر میں امن قائم ہے کہ دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ نہ جانے کہاں سے شیطان آتے ہیں اور علی رضا عابدی جیسے جوانوں کو تہہ تیغ کر جاتے ہیں۔ شہر کی سیکورٹی پر نافذ ادارے منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔

رضا علی عابدی شہر کے ان چنیدہ افراد میں سے تھے جو اپنی سیاسی جماعت پر تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔ کئی مواقع پر براہ راست شکوے شکایات کی گیئں جن کو خندہ پیشانی اور اپنی مہربان مسکراہٹ کے ساتھ سنا، کہا دل کا بوجھ ہلکا کر لیں۔ آہ! ہمارے دل کا بوجھ اتنا بڑھ گیا ہے کہ اب تربت تک ساتھ ہی جائے گا۔ دوستوں! ساتھیوں کے دل کا بوجھ سننے والا خوش خصال خوش اخلاق و خوبصورت جوان ہم نے کھو دیا ہے۔ 

مہربان کہہ رہے ہیں اپنا بویا کاٹا۔ شاید۔ لیکن بہادر اور نظریاتی افراد   کا قصور ہی یہی ہوتا ہے کہ یہ جمے رہتے ہیں۔ کراچی سے کشمیر تک ہر سیاسی جماعت میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو قیام پاکستان کو ہی غلطی گردانتے ہیں لیکن علی رضا عابدی ایسا محب الوطن تھا جو کہتا تھا کہ شکر ہے ہم آزاد ہیں۔مسلک و عقیدے سے بے نیاز سچا مسلمان۔ سچا پاکستانی۔ سچا کراچی والا جو مواقع ہونے کے باوجود کراچی سےنہیں گیا بلکہ کراچی کی محبت پر اپنا آپ قربان کر دیا۔ 

اہل کراچی کو پرسہ دیجئے کہ نقصان صرف کراچی کا نہیں پاکستان کا ہوا ہے۔ چن چن کر ایسے افراد مارے جا رہے ہیں جو نظریہ پاکستان اور فلسفہ محبت پر یقین رکھتے ہیں۔ کیوں مارے جا رہے ہیں؟ یہ سوال کچھ لوگ چپکے چپکے پوچھ رہے ہیں۔

 

جرات رندانہ پیدا کیجیے کہ ہم سوال پوچھنے کا حق رکھتے ہیں۔ آخر کب اس کراچی شہر میں حقیقی امن قائم ہوگا؟ کب تک بوڑھے باپ جوان جنازے اٹھائیں گے؟ علی رضا عابدی کے معصوم بچے کس کے ہاتھ پر اپنے بابا کا لہو تلاش کریں گے؟ بیوہ کی آہ کس کو لگے گی؟

یہ ایک پاکستانی کی موت ہے جس کو آج ہم نے سپرد خاک کیا ہے۔ ہائے! احباب اور بچوں سے گفتگو کر کے خوش ہونے والے کی آج تربت میں رات ہوگی۔

رب تعالی علی رضا عابدی کے ساتھ بہترین معلامات فرمائے۔ آمین۔ 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *