مفت پاسز کلچر کا خاتمہ-شکریہ چیئرمین پی سی بی/ملک سلمان

کرکٹ میچز کے فری پاسز کیلئے ہر کوئی مارا مارا پھر رہا ہوتا ہے۔ پی سی بی ، انتظامی افسران تو کوئی پولیس والوں سے فری پاسز کی ڈیمانڈ کرتا پھرتا ہے ۔ حتیٰ کہ متعلقہ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور ڈی آئی جی آپریشن کے بیج میٹ بھی فری پاسز مانگنے والوں میں سرفہرست ہوتے ہیں بلکہ بیج میٹ کی ڈیمانڈ ہی کم از کم پانچ پاسز سے دس وی وی آئی پی ہاسپٹیلٹی باکس کی ہوتی ہیں۔ ڈیمانڈ پوری نہ ہونے پر ان افسران کے بیج میٹ شدید شکوے کرتے ہیں کہ نواب کا دماغ خراب ہوگیا ہے جب او ایس ڈی تھا تو سارا دن میرے پاس دھکے کھاتا تھا اور سگریٹ تک مانگ کر پیتا تھا آج میری کال نہیں سن رہا، ٹیکسٹ کا جواب نہیں دے رہا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے تمام کرکٹ سٹیڈیمز میں چیف سیکرٹری ،آئی جی، کمشنر، ڈی آئی جی آپریشن، ڈپٹی کمشنر سمیت لگ بھگ 10سے زائد محکموں کیلئے وی آئی پی باکس اور مختلف انکلوژر کے فری پاسز دیے جاتے ہیں جبکہ باقی بہت سارے محکموں کے سیکرٹریز کیلئے بھی ہر میچ کے فری پاسز بھیجے جاتے رہے ہیں۔ اس دفعہ سی ٹی او لاہور کیلئے بھی وی وی آئی پی باکس کا اضافہ ہوا ہے۔
وی وی آئی پی باکس اور اعزازی پاسز کے باوجود ماضی میں سابق ڈپٹی کمشنر لاہور رہنے والوں نے پچاس لاکھ تو کسی نے اسی لاکھ کے ٹکٹ خریدے۔ اسی طرح دیگر محکموں نے بھی سرکاری پیسے سے لاکھوں روپے کے ٹکٹ خرید کر رشتہ داروں اور دوستوں میں بانٹے۔ یہ کلچر صرف لاہور تک محدود نہیں راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان اور کراچی سمیت ہر جگہ ہے۔ اس سال پہلا موقع ہے کہ موجودہ ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا نے سرکاری پیسے سے پاسز خرید کر بانٹنے سے منع کردیا۔
ویلڈن ڈی سی لاہور آپ نے سرکاری پیسے سے جھوٹی شان و شوکت بنانے کی بجائے سرکار کے پیسے کا تحفظ کرنے کو ترجیح دی۔ دیگر محکموں کی طرف سے اس سال بھی سرکاری پیسے سے ٹکٹ خرید کر دوستوں اور رشتہ داروں کو بانٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔
وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں سے گزارش ہے کہ انکوائری اور آڈٹ کروایا جائے کہ ماضی اور حال میں جس کسی افسر نے بھی ’’مال مفت دل بے رحم‘‘ کی طرح سرکاری پیسے سے ٹکٹ خرید کر مفت بانٹے ہیں ان سے نا صرف اس رقم کی ریکوری کی جائے بلکہ اختیارات سے تجاوز کرنے اور اپنی جعلی شان و شوکت کیلئے سرکاری پیسے کا غلط استعمال کرنے کا مقدمہ درج کیا جائے۔ صرف اپنی واہ واہ کیلئے سرکار ی پیسے سے ٹکٹ خرید کر مفت بانٹنا کسی بھی طرح سے جسٹیفائیڈ نہیں ہے بلکہ بددیانتی اور کرپشن کے مترادف ہے۔
چئیرمین پی سی بی محسن رضا نقوی شاباش اور مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے پریس کانفرنس میں واضح اعلان کیا کہ اس دفعہ کسی کو بھی فری پاسز نہیں جاری کیے جائیں گے۔ محسن نقوی بولڈ اور سخت فیصلے کرنے کی جرات رکھتے ہیں۔
چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی سے گزارش ہے کہ بجائے سی ٹی او کے وی وی آئی پی باکس میں اضافے کے آپ باقی افسران کے وی وی آئی پی باکس بھی کینسل کرکے ان وی وی آئی پی باکس کو ’’سیل‘‘ کریں۔ ایڈمنسٹریشن کیلئے زیادہ سے زیادہ ایک سے دو اجتماعی باکس ہونے چاہئیں نہ کہ سب کیلئے درجن بھر باکس کا پروٹوکول۔ ایک ایک باکس میں بیس سے تیس وی آئی پی سیٹیں ہوتی ہیں۔ اگر یہی سیٹیں مہنگے داموں بیچی جائیں تو نہ صرف کرکٹ بورڈ کو کمائی ہوگی بلکہ مفت خوروں کا راستہ بھی بند ہوگا ۔کس قدر مضحکہ خیز بات ہے کہ پیسے دے کر میچ دیکھنے والوں کیلئے تو انکلوژر ہیں جبکہ مفت خوروں کیلئے وی وی آئی پی باکس۔ ماضی میں متعدد دفعہ ایسا ہوا کہ ڈپٹی کمشنر آفس، سپیشل برانچ اور ٹریفک پولیس کے اہلکار ’’ناٹ فار سیل‘‘ والے پاسز بیچتے رہے ہیں۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں ہرکوئی موقع پرست ہے اور مفت خوری کے راستے تلاش کرتا ہے وہاں اس کلچر کو مزید پروان چڑھانے سے روکنے کیلئے ناصرف کرکٹ میچز بلکہ باقی جگہوں سے بھی مفت کلچر اور پروٹوکول سسٹم کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ جب تک یہ وی وی آئی پی باکس کلچر کا خاتمہ نہیں ہوگا تب تک سرکاری افسران اپنے فرائض کی ادائیگی کو احسان عظیم ہی سمجھتے رہیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان کو بتایا جائے کہ سرکاری فریضے کی ادائیگی کوئی احسان نہیں ہے جسکا انکو فوری صلہ چاہئے بلکہ یہ انکا فرض ہے جس کیلئے حکومت پاکستان ان کو تنخواہ اور دیگر آسائشیں دیتی ہے۔ سب سے ضروری بات یہ کہ ان میچز کے دوران عام افراد کی زندگی کو اجیرن نہ کیا جائے۔ یہ کہاں کی عقلمندی ہے کہ سارا سارا دن کاروبار زندگی معطل کر دیے جائیں، ٹیم کی آمد اور روانگی سے گھنٹہ پہلے اور بعد ٹریفک بند کردی جائے۔ فرائض سے غفلت اور لاپرواہی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ سینئر افسران ڈیوٹی کی بجائے سکیورٹی کلئیر سٹیکر والی سرکاری گاڑیوں میں دوستوں اور رشتہ داروں کو پک اینڈ ڈراپ دے رہے ہوتے ہیں۔ یہی لاپرواہی سکیورٹی بریچ بنتی ہے۔ افسران کو سمجھنا ہوگا کہ جعلی شان و شوکت دکھانے اور رشتہ داروں کو نوازنے کی بجائے اپنی ڈیوٹی کو ترجیح دے کر فرض کی ادائیگی زیادہ ضروی ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply