افسانہ: آخری صف کا طالب علم / کامریڈ فاروق بلوچ

وہ ہمیشہ آخری صف میں بیٹھتا تھا۔

نہ اتنا نمایاں کہ استاد کی نگاہیں اس پر ٹک جاتیں، نہ اتنا غیر اہم کہ مکمل فراموش کر دیا جاتا۔ وہ ایک درمیانی سا وجود تھا— بین السطور پڑھی جانے والی تحریر، ایک ایسا جملہ جو کبھی پوری طرح سنا نہ جا سکا، کبھی مکمل طور پر نظر انداز نہ ہوا۔

ہر روز کی طرح آج بھی کلاس شروع ہوئی۔ استاد اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھے، رجسٹر کھولا، اور طلبہ کو باری باری نام لے کر مخاطب کرنا شروع کیا۔ یہ ایک عام سی مشق تھی، لیکن اس طالب علم کے لیے ہر دن ایک آزمائش سے کم نہ تھا۔ اس کی باری آتی، استاد کا لہجہ تھوڑا تلخ ہو جاتا، الفاظ میں استہزا در آتا، اور جملوں میں ایک غیر مرئی تازیانہ چھپ جاتا، جو بظاہر نصیحت معلوم ہوتا مگر درحقیقت تحقیر کے مترادف تھا۔

“یہی قابلیت ہے تمہاری؟”
“اسے پڑھائی کے بجائے کہیں مزدوری کرنی چاہیے!”
“اس سطح کے لوگ کتابوں سے کیا سیکھیں گے؟”

یہ جملے کوئی نئی بات نہ تھے۔ وہ ان کا عادی ہو چکا تھا، جیسے کسی بوسیدہ درخت پر مسلسل برستے اولے، جو تنے کو کاٹ نہیں سکتے، مگر اس کی اندرونی کمزوری کو واضح کر دیتے ہیں۔

اس دن بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق تھا، لیکن کچھ ایسا بھی تھا جو غیر معمولی تھا۔

جب استاد نے ایک اور سخت جملہ کہا تو اس نے پلکیں جھپکائیں، جیسے ذہن میں کسی فیصلے کی آخری مہر ثبت کر رہا ہو۔ ایک لمحے کو اس کی آنکھوں میں ایک ایسی کیفیت ابھری جو ایک شکستہ سپاہی کے چہرے پر آخری وار سہنے سے قبل نظر آتی ہے۔

کلاس ختم ہوئی، طلبہ چلے گئے، استاد اپنے نوٹس میں مصروف ہو گئے۔ کسی نے اس طالب علم کے ویران چہرے کی طرف توجہ نہ دی۔

اگلی صبح، جب یونیورسٹی کے باغ میں ایک درخت سے جھولتی ہوئی لاش ملی، تو کسی کو بھی فوراً سمجھ نہ آیا کہ یہ کون ہے۔ مگر جب کسی نے کانپتے ہاتھوں سے اس کی جیب سے ایک کاغذ نکالا، تو خاموشی ایک چیخ میں بدل گئی۔

“استاد محترم،
مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
میں وہ پتھر تھا جسے تراشا نہیں جا سکا،
میں وہ کتاب تھا جسے کھولا نہیں جا سکا،
میں وہ سوال تھا جس کا جواب کسی نے دینا ضروری نہ سمجھا۔
اب میں جا رہا ہوں،
شاید کسی اور دنیا میں میری غلطیوں کو درست کرنے کا موقع مل جائے۔
آپ کا نالائق طالب علم۔”

julia rana solicitors

استاد کرسی پر بیٹھے رہے، ان کے ہاتھوں میں وہی رجسٹر تھا جس میں وہ طلبہ کی کارکردگی کے نمبر لکھتے تھے۔ ان کے قلم کی سیاہی خشک ہو چکی تھی، مگر ان کے دل پر کسی نے ایک ایسا سوال لکھ دیا تھا، جس کا جواب آج بھی نامکمل تھا۔

Facebook Comments

فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply