ادراک کے کرشمے /ڈاکٹر مختیار ملغانی

انسان سوالات کا گڑھ ہے، اور ضروری نہیں کہ سوال ہمیشہ شعوری سطح پہ ظاہر ہو، بعض اوقات جواب جاننے کے بعد فرد کو احساس ہوتا ہے کہ ہاں اس سے متعلقہ سوال میرے اندر موجود تھا، حاملٍ ادراک یہ بات لاشعوری سطح پہ جانتا ہے کہ اس کا ادراک اس کے موضوعٍ مشاہدہ سے زیادہ وسیع ہے، گویا کہ وہ بغیر تہہ کے ایک ایسا برتن ہے جس میں جتنا بھی پانی ڈالا جائے برتن کبھی بھرتا نہیں ۔
انسان شروع میں خود کو خالص ادراک ہی جانتا اور مانتا ہے، اسے ایک معصوم بچے کی معصوم کیفیت سے تشبیہہ دی جا سکتی ہے جو کسی باغ میں تتلی کے پیچھے بھاگ رہا ہے، یہ بچہ خالصتاً ادراک ہے جس کا واحد شغل خود اور غیر کے درمیان ملاقات کی خواہش ہے، باغ میں بھاگتے ہوئے اس بچے کا “خود” اس کا ادراک ہے اور یہاں “غیر” وہ تتلی ہے جس کے پیچھے وہ بھاگ رہا ہے، اصل اہمیت اس ملاقات کی ہے، تتلی اور ادراک دونوں ثانوی ہیں ۔ جانوروں کا معاملہ یہ ہے کہ ان کا ادراک صرف فنکشنل ہے جو لمحۂ موجود کے مشاہدے سے پوری طرح بھر جاتا ہے، بھوک ہو یا خطرہ، محبت یا نفرت، لمحۂ موجود کی جبلت اس کے ادراک کے ہر کونے کو سیراب کر دیتی ہے، انسان کا معاملہ مختلف ہے کہ مشاہدہ یا ملاقات جس قدر بھی جذبات سے کیوں نہ بھری ہو، ادراک کی پیاس برقرار رہتی ہے ، کیونکہ انسانی ادراک بیکراں وسعتیں لئے ہوئے ہے ( انسان خود نہیں ، صرف اس کا ادراک )۔ بھاگتے ہوئے یہ بچہ جب گرتا ہے اور جسم پہ چوٹ لگوا بیٹھتا ہے تو تب پہلی دفعہ اس کے اندر ایک دوئی کی کیفیت بیدار ہوتی ہے، پہلی بار اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ ادراک کچھ اور ہے اور حاملٍ ادراک کچھ اور، ادراک اور حاملٍ ادراک میں یہ فرق اسے بتاتا ہے کہ حاملٍ ادراک یعنی وہ بچہ محدود ہے، کمزور ہے، فانی ہے، جبکہ اس کے اندر موجود ادراک لامحدود ہے، مضبوط ہے اور لافانی ہے، یہی وجہ ہے کہ شدید حادثات اور پیاروں کی اموات کے تجربے بغیر فرد کو اپنی موت پہ زیادہ یقین نہیں ہوتا ۔
جانور کا وجود اور ادراک چونکہ ہم آہنگ ہیں ، اس لئے وہ اپنے فطری ماحول میں جبلت کے مطابق زندگی گزارتا ہے، ماحول اگر دشمن بن جائے یا جبلت کے خلاف ہوتو جانور ذہنی طور پر ابنارمل ہو سکتا ہے، چڑیا گھر یا سرکس میں کام کرنے والے اکثر جانور نفسیاتی نکتۂ نگاہ سے صحتمند نہیں ہوتے، دوسری طرف چونکہ انسان کا اپنا وجود اور اس کا ادراک کسی طور یک جان نہیں ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان جزوی طور پر کسی غیر مرئی مشیت کے زیر اثر ہے، سوالات کے اس گڑھ سے اگر لاشعوری سطح پر سوالات کا سلسلہ رک جائے تو فرد کے اندر ایک خود کار تباہی کا عمل شروع ہو جاتا ہے، ایسا فرد بھرے بازار میں خود کو قائد اعظم محمد علی جناح کہے یا نبوت کا دعویٰ کرے تو جان لینا چاہئے کہ وہ اس غیر مرئی مشیت کا شکار ہو چکا جو ادراک کے ایسے کونے سے اٹھ رہی ہے جہاں انسان کا خود پہ کوئی اختیار نہیں، گویا کہ یہ غیر مرئی قوت ادراک کی ایسی اہمیت کو منوانا چاہتی ہے جس کیلئے انسان کا وجود اہل نہیں، سوالات کا مکمل رک جانا خودکشی کا باعث بھی بن سکتا ہے ۔
باغ میں بھاگتے بچے کی طرف واپس آتے ہیں، اس کے لاشعور میں یہ احساس بدرجہ اتم موجود ہے کہ یہ تتلی وہ آخری مشاہدہ نہیں جو اس کے بیکراں ادراک کو سیراب کر سکے، باغ کی دیواروں کے باہر بھی کچھ موجود ہے، کچھ ایسا جو ادراک کے آئینے کو آخری کونے تک بھر سکتا ہے، یہ مشاہدہ یا یہ دریافت ایسی عظیم ہو کہ ادراک کا آئینہ لبا لب بھر جائے، آخر معصومیت اور بچپنے کی دیوار کے باہر ایسا کیا ہو سکتا ہے جو ادراک کے بیکراں آئینے کو سیراب کر دے ؟
یہ سوال اور یہ خواہش ہر انسان کے اندر موجود ہے اور وہ اس کی سعی میں مسلسل جدوجہد کرتا رہتا ہے کہ حقیقت کی آخری عظمت سے ادراک کے پیمانے کو لبریز کر سکے، حتیٰ کہ باغ میں کھیلتا یہ بچہ بھی جانتا ہے کہ تتلی کے علاوہ یہاں سانپ بچھو بھی موجود ہو سکتے ہیں، چاہے یہ خطرہ اس کے شعور تک نہ ابھرے لیکن لاشعور میں یہ احساس موجود رہتا ہے، اس کے باوجود وہ جانتا ہے کہ یہ حشرات الارض ، یہ پھول یا یہ باغ آخری حقیقت نہیں ، اس کے آگے کچھ اور بھی ہے، وہ کیا ہو سکتا ہے؟
انسانوں کی بھاری اکثریت سماجی روٹین سے اس بیکراں آئینے کو بھرنے کی کوشش کرتی ہے اور اجتماعیت و تعصب کے شور میں اپنے اندر سے آتی، ھل من مزید ، کی آواز نہیں سن پاتی ، لیکن کچھ ایسے خاص افراد سماج میں ہمیشہ موجود رہے جو اس سماجی روٹین سے آگے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہاں سے پھر ایک بڑی جدوجہد کا سفر شروع ہوتا ہے، فرد کئی گھاٹیوں، کئی زمینوں کو فتح کرتے ہوئے اقبال کے مطابق، ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں، کی طرف نکل پڑتا ہے جہاں قدم قدم پہ حیرت کدے موجود ہیں جو ادراک کو اپنی ہیئت سے بھرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ پیمانہ لبریز نہیں ہو پاتا، فرد اگر تلاش کا سفر جاری رکھے تو اس عظیم سفر کے اختتام پر جو عظیم ترین منزل اسے مل سکتی ہے، اس منزل کو انگریزی میں starless sky کا نام دیا جا سکتا ہے، یعنی آسمان کی وہ حد جہاں ستارے پیچھے رہ گئے ہیں، گھپ اندھیرا ہے مگر سرشاری ہے، اس مقام پر ادراک ، حاملٍ ادراک اور حیرت کدہ، تینوں یک جان ہو جاتے ہیں کہ فرق کرنا مشکل ہو جائے، یعنی تین وجود اب گویا کہ ایک وجود بن گیا ہے۔ طب کی زبان میں کہا جائے تو فرر، اس کا دل اور دل کی دھڑکن اب ہم آہنگ ہیں، خوف و غم جاتا رہا ۔
یہی وہ مقام ہے جہاں کاہن پہنچا ہے، کاہن کا وجودی سکون، اس کے علوم اور اس کا اقتدار اسی مقام کے مرہونِ منت ہے، یہ ایک نئی دنیا اس پہ ظاہر ہوتی ہے جو عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے، لگتا ہے کہ فیض نے یہ شعر اسی مقام کیلئے کہا
یہی کنارٍ فلک کا سیہ تریں گوشہ
یہی ہے مطلعء ماہٍ تمام کہتے ہیں۔
اس کیفیت کو اگر فکری مشاہدے کا نام دیا جائے تو بالکل درست ہوگا، کاہن اسی فکری مشاہدے میں غرق ہے، موت کے خوف سے آزاد ہے، پُرسکون ہے اور خود کو بلند ترین مقام پہ پاتا ہے کہ ادراک کا بیکراں آئینہ بھر چکا ہے، فکری مشاہدے سے مراد عظیم ترین اور آخری حقیقت کے عکس کو خود میں دیکھنا ہے۔ کاہن اگر اس فکری مشاہدے سے باہر آکر اپنی روداد بیان کرنے کی کوشش کرے تو اسے اساطیر کہتے ہیں، قصہ کہانی کی ابتداء یہیں سے ہوئی جب کاہن مشاہدے سے فراغت کے بعد اپنا احساس لوگوں کو بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی، اس وقت جب ہندوستان میں کاہن اپنے عروج پہ بیٹھا ہے اور دوسری طرف انبیائے یہود وہاں کے فراعین کو زیر کر چکے ہیں تو چھ صدی قبلِ مسیح کے یونان میں Thales of Miletus نامی ایک معزز بزرگ نعرہ مستانہ لگاتے ہیں کہ
” سب کچھ پانی ہے ”
یہ اور بات کہ ان کے شاگرد آگے بڑھ کر دعویٰ کرتے ہیں کہ سب پانی نہیں ہے بلکہ سب آگ ہے، ان کا یہ دعویٰ درحقیقت سیاہ اور سرد کو سمجھنے کی کوشش ہے جو آگ کے دو پر اسرار پہلو ہیں ، یہ جدوجہد آج تک جاری ہے، وہ دو متضاد پہلو سیاہ حرارت اور روشن ٹھنڈ ہیں، جہاں سیاہ حرارت وہ دنیا ہے جو ہماری آنکھوں سے اوجھل ہے اور روشن ٹھنڈ یہ مادی دنیا ہے جن کے درمیان ہمیشہ ایک جدوجہد جاری رہتی ہے، اسی موضوع پر گیم آف تھرونز کے مصنف نے A song of ice and fire کے نام سے قلم اٹھایا ہے۔ یہ بہرحال ایک علیحدہ بحث ہے ۔
لیکن تھیلز نے سب کچھ پانی کہہ کر دعوے کی ابتداء کر ڈالی، یہ اس قدر معصوم اور سادہ سا نعرہ ہے کہ ان کی معصومیت پہ پیار آتا ہے، مگر وہ کہنا کیا چاہتے ہیں؟ یہ بات تو طے ہے کہ وہ مادی دنیا کی بات نہیں کر رہے کہ ہم اپنے سامنے پتھر درخت اور پہاڑ صحرا کو دیکھتے ہوئے ان کے دعوے کو آسانی سے جھٹلا سکتے ہیں، وہ کچھ اور بات کر رہے ہیں، یہ راز تھیلز کی طرف سے وہ عظیم چھلانگ ہے جو آگے جا کر انسانی تاریخ میں سائنس، فلسفہ، منطق اور نفسیات کے ارتقاء میں حرفِ آخر ثابت ہوگی، گویا کہ ہر اکیڈمک علم کی ابتداء اسی دعوے کی مرہونِ منت ہے، وہ یہاں اس حیرت کدے کو باقاعدہ ایک نام دینے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی بدولت ادراک کا بیکراں آئینہ آخری کونے تک سیراب ہو سکتا ہے، یعنی starless sky کو وہ بے نام نہیں رکھنا چاہتے ، ہر وہ چیز، ہر وہ موضوعٍ مشاہدہ جو ادراک کو کامل طور پر سیراب کر دے وہ اسے پانی کا نام دے رہے ہیں، یہاں تھیلز اور کاہن بالکل مختلف مقام پر ہیں، کاہن مشاہدے کی اس کیفیت سے ایک سیڑھی نیچے اتر کر، گویا کہ مشاہدے سے غافل ہوکر اساطیر ، قصے اور کہانی کی بنیاد رکھتا ہے، جبکہ تھیلز اس کیفیت کو ایک نام دے کر ایک سیڑھی اوپر کو چلے جاتے ہیں تاکہ اکیڈمک علوم کا آغاز کیا جا سکے، ایسے میں اکبر الہ آبادی کے اس شعر پہ قدغن لگائی جا سکتی ہے کہ
” فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں
ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں ”
یہاں وہ فلسفی کو سطحی علم کا حامل تو کہہ ہی رہے ہیں لیکن اصل میں کاہن کے مشاہدے کو آخری منزل بتانا چاہ رہے ہیں ۔
لیکن بظاہر نظر یہ آتا ہے کہ کاہن وحدت الوجود پہ اکتفا کرتے ہوئے اسے آخری منزل سمجھ بیٹھا ہے اور ادراک کے آئینے کی سیرابی سے مطمئن ہے، جبکہ فلسفی کہتا ہے کہ یہ سیرابی ایک دھوکا اس لئے ہے کہ اس کو نام نہیں دیا گیا، نام دیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ستاروں کے بغیر اس اندھیرے آسمان کے اوپر کوئی بلیک ہول، کوئی سیاہ تارہ موجود ہے جو نظر نہیں آ رہا مگر وہ ان سب کا مآخذ ہے، طب کی زبان میں انسان، اس کا دل اور دل کی دھڑکن یک جان بھی ہو جائیں تو جان لینا چاہئے کہ ان تینوں کی ڈور دماغ کے پاس ہے جو ہمیں نظر نہیں آ رہا لیکن اسی کے افعال کی بدولت ہی یہ سارا حیرت کدہ محوٍ رقص ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply